پاکستانی سیاست کے خدوخال کبھی واضح نہیں رہے ،اس سے جڑی ہر خبر کے پیچھے ایک اور خبر ہوتی ہے ،اس کے ہر کردار کا چہرہ وہ نہیں ہوتا جو عوام کے سامنے ہوتا ہے اور اس کے ہر واقعے کے عقب میں کوئی اور واقعہ پنہاں ہوتا ہے ۔سیاست ویسے بھی شطرنج کی ایک بساط ہے مگر ہمارے ہاں سیاست شطرنج تو ہے پر اس کے مہرے دوغلی چالیں چلتے ہیں۔مراد یہ ہے کہ اس کا ہر مہرہ اپنے اپنے کھلاڑی کی چال کی بجائے اسی وقت کسی اور کی چال بھی چل رہا ہوتا ہے ۔یہ سیاسی مہرے انسان کو چکرا دیتے ہیں اور انسان سچ اور جھوٹ میں کوئی فرق کر ہی نہیں سکتا۔اس سیاسی شطرنجی کھیل میں سب کچھ الجھ کر رہ گیا ہے ۔
پاکستانی سیاست میں ہی عمران خان ایک مخصماتی کردار کے طور ہمارے سامنے آ یا ہے ۔کل یہ جن کا لاڈلا تھا آ ج انہی کے عتاب کا شکار ہے ۔اسے چند برسوں میں ہی ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کا راہنما بنا کر حکومت سونپ دی گئی اس نے پاکستان کے داخلہ امور کو ایسا بگاڑا کہ "انارکی”عام ہوگئی،خارجہ امور میں ایسا بگاڑ پیدا کیا کہ دنیا میں پاکستان تنہا ہو کر رہ گیا۔سوچ و فکر رکھنے والے سیاستدانوں نے فیصلہ کیا کہ سیاست کی بجائے ریاست کو بچایا جائے اور یہ کام عمران خان کی حکومت سے علحیدگی ہی سے ممکن تھا،عدم اعتماد کی تحریک کا پس منظر یہی فیصلہ تھا مگر کچھ ایسی صورتحال نے جنم لیا کہ بدنام،رسوا اور غیر مقبول عمرانی سیاسی جماعت کی مقبولیت کا گراف دھیرے دھیرے بلند ہونا شروع ہوگیا اور بعض اداروں اور اہل سیاست کے لیے عمران خان ایک خوف کی علامت بننے لگا۔
عمران خان کی موجودہ مقبولیت کے پیچھے بعض اداروں نے عمران خان اور اس کی جماعت کے خلاف کچھ ایسے بے جا اور ناروا قسم کے اقدامات کیے کہ عام آ دمی عمران خان کو مظلوم سمجھنے لگا ہے بلکہ اسے ہی اپنا صحیح اور کھرا راہنما سمجھنے لگا ہے ۔وہ عمران خان جو اپنی حکومت کے آ خری دنوں میں ایک گالی بن کر رہ گیا تھا اب وہ عوام میں پوتر اور حق سچ کا بندہ بن چکا ہے ۔اس کی اسیری اس کے لیے ایک اکسیر بنتی جارہی ہے ۔ اب بڑی سیاسی جماعتوں کے ووٹ بنک کو لاتعداد خطرات کا سامنا ہے ۔یہ جماعتیں اپنی بقا کے لیے مقتدرہ کے ہر سیاہ سفید پر "یس ار”بنتی جا رہی ہیں۔ان کی فہم میں یا حقیقت میں ان کے آ ئینی اور معاشی فیصلے شاید صحیح ہوں،آنے والے دنوں میں ممکن ہے ان فیصلوں کے باطن میں عوام کے لیے کچھ اچھائیاں بھی سامنے آ جائیں مگر عوام کو ان ممکنہ اچھائیوں سے دلاسے نہیں دیے جاسکتے۔عمران خان ایک فوبیا بن چکا ہے اور طاقت کے مراکز اس فوبیا کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے اور بھی بڑھا رہے ہیں۔یوں دکھائی دیتا ہے جیسے حکومت اور مقتدرہ کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا کوئی منصوبہ ہی نہیں۔ہر اقدام عمران خان کو کمزور کرنے یا اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے اٹھتا نظر آ تا ہے ، اب دیکھنایہ ہے کہ یہ اقدامات حکومت خود اٹھا رہی ہے یا کوئی اور طاقت انھیں غیر سیاسی اقدامات اٹھانے کے لیے عمران فوبیا کا ماحول پیدا کر رہی ہے کیونکہ عمران خان کی اسیری یا اس کی مظلومیت کے حالات و واقعات مقتدرہ کو زیادہ بااختیاراور مضبوط بنا رہی ہے اور سیاسی جماعتیں کمزور اور غیر مقبول ہو رہی ہیں،اس لیے یہ سمجھنا ہو گا کہ عمران خان کی اسیری،فقیری اور مظلومیت سے کون مضبوط ہوا ہے اور کون عوام کی نظروں میں کمزور ہوا ہے ۔اس لیے اہل نظر اب یہ سوچنے لگے ہیں کہ کہیں عمران خان "انہی”کا مہرہ تو نہیں۔ جو عمران فوبیا کی آ ڑ میں اپنے مقاصد پورے کیے جا رہے ہیں؟
فیس بک کمینٹ

