اماں کو یاد کروں تو ذہن میں بچپن کے بڑے واضح نقوش ابھرتے ہیں. صحت مند, گوری چٹی, پیٹ فربہ, ہمہ وقت ہاتھوں اور ناخنوں پہ مہندی, ناک میں منقش لونگ, کانوں میں سادہ گول سونے کی بالیاں, صاف ستھری, چاق و چوبند عورت جس کی دنیا گھر سے شروع ہو کے گھر پہ ختم ہو جاتی تھی.
مزاج کی نخریلی, لاڈلی اور صفائی پسند. نخریلی ایسی کہ نوے کی دہائی میں جب رکسونا اور لکس صابن کافی مہنگے برانڈز تھے تو اماں ان کے بغیر نہا نہیں سکتی تھیں. لاڈلی ایسی کہ ساری زندگی اپنے ناخن ابا سے کٹواتی رہیں. اگر کبھی ابا نے کہا کہ ناخن بڑھے ہیں تو آگے سے کہتیں کہ آپ نے کاٹے کیوں نہیں؟ اور صفائی پسندی تو بس ختم تھی. صبح, شام دن میں دو دفعہ لازمی نہانا. رات سونے سے پہلے ہاتھ, پاؤں اور چہرے کا کولڈ کریم سے مساج اور خوشبو کی دلدادہ. ماشاء اللہ سات اولادوں کی ماں تھیں لیکن جہاں جہاں رہیں ہمیشہ اپنی اولاد کو خوش لباس اور صاف ستھرا رکھنے پر قابل تحسین ٹھہریں.
تعلیم کی بالکل کوری. ایک لفظ تک نہ پڑھ سکتی تھیں. ٹائم نہ دیکھ سکتیں. پھر بھی اپنی ساری اولاد کو نظم و ضبط کا پابند رکھا اور بہترین تعلیم دلوائی. بے حد سادہ پکایا لیکن خوب پکایا. میرا بچپن اور جوانی تو ذائقے سے بھرے رہے. اماں جب تک پکانے کے قابل رہیں, بھرے ٹینڈے, شوربے والے نئے آلو, ساگ, مکئی کی روٹی, کڑھی, کریلے, دیسی گھی میں بھنی مرغی, nuts اور دیسی گھی والا دودھ, میٹھی ٹکیاں, حلوے مانڈے, قلفیاں.. غرض بے حد ایسی چیزیں جو قلم کی حدود میں نہیں. ہمیشہ تازہ, مزے دار کھانا.
ان کی سب اولادوں میں, میں واحد تھی جو FSC کے بعد جو گھر سے نکلی تو پھر تا حیات ان کے پاس بہت کم رہ سکی. زندگی کی دوڑ نے واپسی کے سارے راستے اوکھے کر دیئے. جس سے ساری زندگی انھیں یہ نہ کہنے کا شکوہ رہا کہ "اماں! میں بہت اداس ہوں”. جس نے کم لاڈ اٹھاے, کم خدمت کی لیکن محبت بہت سمیٹی.
میرا بڑا بیٹا 3-4 ماہ کا ہو گا کہ اماں مفلوج ہو گئیں. ایک بہت متحرک خاتون غیر متحرک ہو گئیں . پھر بس انھیں چین نہ پڑتا تھا. کبھی کچھ, کبھی کچھ کہ کسی طرح ٹھیک ہو جاؤں. کافی حد تک آٹھ سال بہتر رہیں نہ fully dependent نہ complete independent. اور اب اتنے سال گزرنے کے بعد تو وہ مجھے بیمار ہی نہ لگتیں کیونکہ انکو ایسے ہی دیکھنے کی عادت ہو گئی تھی. لیکن بیماری میں بھی انکے لاڈلےپن اورنفاست میں کوئی فرق نہیں آیا. میں تو انھیں demanding patient کہتی تھی. جو درد ہو تو کہے علاج کرواؤ, بھوک لگے تو وقت پر کھانا کھانے کا تقاضا کرے, نہائے تو خوشبو لگوائے بغیر چھٹی نہ دے.
لیکن پھر وہ زندگی کے آخری دنوں میں ہر چیز سے کنارہ کرگئیں. دوماہ تک پانی کے ایک گھونٹ کےعلاوہ ہر کھانےسے منہ موڑ گئیں. ہر فرمائش ختم, ہر نخرہ غائب. آخری دفعہ آنکھیں بند کرنے, حواس کھونے, پہچان گنوانے سے پہلے بھی صرف یہ کہا کہ مجھے نہلا دو. پندرہ دن تقریباً critical care میں رہیں لیکن نہ آنکھ کھولی, نہ بات کی, نہ کوئی بات سنی اور نہ کچھ محسوس کیا. اتنےدن ہم انھیں جاتا دیکھتے رہے, کوششیں کرتے رہے, ٹکریں مارتے رہے. اس سب کے باوجود ہم سب مطمئن تھے کہ بھلے hospital میں ہی, پر اماں ہیں. سارا دن کی ایک activity, ایک محسوس کیا جانے والا دعا کا آسرا, ایک چھو لینے والا تعلق.
بھلے باتیں اور فرمائشیں نہ تھیں. کوئی انکی طرح یہ پوچھنے کو نہ تھا کہ کھانا کھایا؟ کوئی یہ کہنے کو نہ تھا کہ کب آؤ گی؟ کوئی زبردستی ایک دن اور رکنے کو کہنے والا نہ تھا. کوئی یہ بولنے والا نہ تھا کہ مولا خوش رکھے. لیکن پھر بھی اماں تھیں, جنہیں ہم چھو سکتے تھے, پکڑ سکتے تھے, چوم سکتے تھے, دبا اور نہلا سکتے تھے. لیکن پھر اماں چلی گئیں اور اپنے ساتھ ہمارے سارے بہانے بھی لے گئیں. ہمارے میکے کا مان, احساس کا منبع اور دعاؤں کا در.

