آج وہ رات ہے جو میں نے آخری بار امی جان کے ساتھ گزاری تھی۔ آج ان کی جدائی کی رات ہے۔ انہیں ہم سے جدا ہوئے ایک ہفتہ بیت گیا کہ وہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اس جہان فانی سے رخصت ہوئیں اور ان تمام دکھوں سے آزاد ہو گئیں جو وہ ہماری پیدائش کے بعد سے مسلسل جھیل رہی تھیں۔
1968 میں میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تھا اور اس کے بعد سے ستاون برس پر محیط ایک طویل، صبر آزما اور کٹھن راستہ ہے جو انہوں نے تنہا گزارا۔ ان کی عمر اس وقت سترہ اٹھارہ برس ہو گی کہ اس زمانے میں بچیوں کی شادیاں بھی کم عمری میں کر دی جاتی تھیں۔ وہ شادی کے ساڑھے پانچ برس بعد بیوہ ہوئیں اور پھر انہوں نے اپنی ساری زندگی ہم تین بہن بھائیوں کے لیے وقف کر دی۔ ہم بہن بھائیوں میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ وقت میرا گزرا تھا کہ سب سے بڑا میں ہی تھا۔ انہوں نے محنت مشقت کی اور پوری زندگی ہمارے لیے وقف کر دی۔ ان کے ساتھ میری زندگی کے بہت سے معمولات تھے جو ختم ہو گئے۔ بہت سی مصروفیات تھیں جو انہی کے دم سے تھیں۔ ان کا دم غنیمت تھا میرے لیے اور ہم سب اہلِ خانہ کے لیے۔ (دم غنیمت کیوں کہا جاتا ہے، یہ بھی تو مجھے ان کے جانے کے بعد ہی سمجھ آیا ہے)۔
میرا معمول تھا کہ میں رات کو جب بھی گھر آتا تھا میں سب سے پہلے ان کو سلام کرتا تھا۔ وہ میرے سلام کا جواب دیتیں اور اس کے بعد ان کا مخصوص جملہ ہوتا تھا کہ تم آ گئے اب میں سو جاؤں گی۔ میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی اور پھر وہ سو جاتی تھیں۔ کبھی میں تاخیر کا شکار ہو جاتا تو مجھے معلوم ہوتا تھا کہ امی میرا انتظار کر رہی ہوں گی پھر میں انہیں آفس سے یا دوستوں کی محفل سے فون کر کے کہہ دیتا تھا کہ امی آج میں گھر دیر سے آؤں گا۔ آپ سو جائیں اور جواب ملتا میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔ ٹھیک اے جیوندا رہو، میں ہنڑ سوں جانی آں (ٹھیک ہے جیتے رہو، میں اب سو جاتی ہوں۔) گزشتہ تین برسوں اور خاص طور پر پچھلے ایک سال کے دوران ان کی جو ذہنی کیفیت رہی اس نے کچھ اور معمولات میری زندگی میں شامل کر دیے جو صرف ان کے ساتھ ہی وابستہ تھے۔ انہیں کتنے بجے دوا دینی ہے۔ انہیں کتنے بجے سونے کے لیے کہنا ہے، کتنی دیر تک ان کے ساتھ بیٹھنا ہے، ان کے ساتھ کتنی دیر تک گفتگو کرنی ہے، یہ میرا ایک شیڈول تھا جو یک دم ختم ہو گیا۔ میں رات کو ان کا ہاتھ تھام لیتا تھا، ان کے پاس بیٹھتا تھا، ان کے ساتھ باتیں کرتا تھا اور وہ میری باتیں سنتی رہتی تھیں۔ ان کی یادداشت ختم ہو چکی تھی۔ وہ جو مجھے ایک ہجوم میں پہچان لیا کرتی تھیں، کتنا اذیت ناک تھا میرے لیے کہ اب وہ مجھے ہی نہیں پہچانتی تھیں۔ لیکن میں ان کا ہاتھ تھام کر ان سے باتیں کرتا تھا۔ کبھی وہ مجھے عامر سمجھتی تھیں اور کبھی خالی نظروں سے مجھے دیکھتی رہتی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک آواز تو تھی جو ہمیں سنائی دیتی تھی۔ ایک آواز تو تھی جو مسلسل اس گھر میں گونجتی تھی جہاں وہ میرے ساتھ 1983 سے رہ رہی تھیں۔
یہی نہیں اور بھی بہت سی یادیں اور باتیں ہیں۔ اور بھی بہت کچھ ہے جو اس وقت میری نظروں کے سامنے ہے۔ اور بھی بہت سے معمولات تھے جو ختم ہوئے۔ امی جب جاگ رہی ہوتی تھیں، رات کے دو بجے یا رات کے تین بجے اور وہ تکلیف میں ہوتی تھیں۔ تکلیف بھی ایسی جو وہ بتانے سے بھی قاصر تھیں تو پھر ان کی تکلیف کو مجھے ان کی کیفیت سے سمجھنا ہوتا تھا۔ میں دبے پاؤں ان کے کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھتا۔ یا دعا مجھے فون کر کے کہتی با با دیکھیں دادو کی آواز آ رہی ہے۔ پھر میں امی کے پاس جاتا، انہیں کہتا امی رات کے تین بج چکے ہیں۔ اب آپ سو جائیں۔ میں ان کا ماتھا چومتا، ان کا ہاتھ تھامتا، انہیں پیار کرتا اور پھر وہ سو جاتیں۔ پھر میں باہر کی لائٹ بند کر دیتا تاکہ امی کو یہ احساس ہو کہ اندھیرا ہو چکا ہے اور اب مجھے سونا ہے۔ اب وہ لائٹ بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ اب ان کا کمرہ ہے ان کی یادیں ہیں اور ان کی باتیں ہیں۔ انہیں دوا کتنے بجے دینی ہے، کس ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ہے، کون سی دوا انہیں موافق آئے گی اور کون سی دوا ان کے لیے مناسب نہیں، یہ معلوم کرنے کے لیے میں مختلف ڈاکٹروں سے رابطے میں رہتا تھا۔
تین سال قبل تک وہ تندرست تھیں۔ ان کا چلنا پھرنا تو ایک طویل عرصہ سے موقوف تھا لیکن وہ اپنے بیڈ پر بیٹھی آوازیں دیتی رہتی تھیں۔ کوئی نہ کوئی کام کہتی رہتی تھیں۔ وہ دعا فاطمہ کو آوازیں دیتی تھیں۔ دعا سے باتیں کرتی تھیں۔ دعا مجھے پانی دے دو۔ دعا مجھے کھانا دے دو۔ دعا برتن لے جاؤ۔ پھر کبھی رات کو دعا مجھے بتاتی کہ دادو کھانا نہیں کھا رہیں، اب آپ جائیں بابا۔ آپ انہیں کچھ کھلائیں تو پھر رات کا کوئی بھی پہر ہوتا میں ان کے پاس جاتا۔ اور وہ میرے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ کھا لیتیں۔ اب وہ مفلوج ہو چکی تھیں۔ واش روم تک نہیں جا سکتی تھیں۔ انہیں صاف ستھرا کرنا انہیں نہلانا یہ دعا، شبانہ اور میری ہمشیرہ رضوانہ کا کام تھا۔ ہمارے دن کا آغاز اسی مصروفیت سے ہوتا تھا۔ پچھلے برس امی روزانہ اپنا بیگ تیار کرتیں اور کہتیں مجھے جلیل آباد جانا ہے۔ ہم انہیں سمجھاتے یہ جلیل آباد ہی تو ہے۔ پھر کئی روز وہ اپنے بچپن کے گھر میں جانے کی ضد کرتی رہیں۔ ’محلہ مروچاں، گلی پتراں والی، وارڈ نمبر چھے‘ ان کی گردان تھی۔ پوچھتی تھیں وہاں نانی اماں کس حال میں ہیں۔ انہیں بتایا کہ امی وہاں اب کوئی نہیں رہتا۔ اس مکان کو تالا لگا ہوا ہے۔ لیکن وہ یقین نہیں کرتی تھیں۔ آ خری ایک ماہ خاص طور پر آخری تین دن تو میری زندگی کے سب سے اذیت ناک دنوں میں سے ایک تھے کہ جب مجھے معلوم تھا کہ اب میری والدہ شاید بہت مشکل میں ہیں اور میں بے بس ہو چکا تھا۔ آج ایک ہفتہ ہو گیا، میری ہر مصروفیت ختم ہو گئی ہے۔ ایک آواز جو میرے کانوں میں گونجتی تھی اور جس کا میں منتظر رہتا تھا۔ اب صرف میری سماعتوں میں محفوظ ہے۔ میرے والد شیخ ذکاء الدین اوپل کا 1968 میں انتقال ہوا تھا۔ جمعہ اٹھائیس نومبر کو امی جان ہجر اور تنہائی کے 57 برس جھیل کر ان کے پاس پہنچ گئیں۔

