ماں کا جانا صرف ایک رشتہ ٹوٹنے کا نام نہیں، یہ ایسی دھڑکن کا رک جانا ہے جو پوری زندگی کے تال میل کو بکھیر دیتی ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کے ہوتے گھر دیواروں کا ڈھانچہ نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ، سانس لیتا ہوا آشیانہ بن جاتا ہے۔ اس کی مسکراہٹ گھر کی روشنی ہوتی ہے، اس کی آواز صبح کی پہلی اذان جیسی سکون بخش، اور اس کی دعائیں زندگی کے سفر کی سب سے مضبوط ڈھال۔ مگر جب یہی ماں رخصت ہو جائے تو گھر کی دیواریں وہی رہتی ہیں، مگر ان میں بستا ہوا چین، طمانیت اور زندگی جیسا کچھ اندر ہی اندر مر جاتا ہے۔
میری اور رضی الدین رضی صاحب کی زندگیوں میں ایک عجیب مماثلت ہے، دونوں نے اپنے بچپن میں باپ جیسی سایہ دار شخصیت کو کھو دیا۔ یوں ہماری ماؤں نے نہ صرف ماں کا روپ نبھایا بلکہ باپ بن کر بھی ہمیں زندگی کی سختیوں سے بچایا۔ وہی ماں کبھی ڈانٹ میں محبت چھپا کر راستہ دکھاتی، کبھی باپ بن کر کندھا فراہم کرتی، کبھی دوست بن کر دل کا بوجھ سنتی، اور کبھی عبادت بن کر سجدوں میں ہماری زندگیوں کے لیے روشنی مانگتی۔ ماں کا وجود انسان کو یتیمی کے اندھیروں سے بچانے والی وہ شمع ہے جو خود پگھلتی ہے مگر اولاد کے لیے اجالا رکھتی ہے۔
میری والدہ کئی برسوں سے کینسر جیسے بے رحم مرض سے لڑ رہی تھیں، مگر ان کے چہرے پر کبھی کمزوری نہیں دیکھی۔ محبت اور حوصلہ جیسے ان کے اندر گھڑا ہوا تھا۔ میں گھر میں اپنی ماں اور مرحومہ بہن کے ساتھ رہتا تھا۔ ماں کی بیماری کے باوجود ہمارا گھر ان کی موجودگی سے بھرا ہوا رہتا تھا۔ ان کی سانسیں بھی رحمت معلوم ہوتی تھیں۔
ماں جی کی آخری رات… یہ وہ لمحہ ہے جسے الفاظ کبھی قید نہیں کر سکتے۔ رات کے تین بجے ماں نے کمزور مگر پیار بھری آواز میں مجھے پکارا:
’’ بیٹا… سوپ بنا دو، تمہاری بہن نمک ذرا تیز کر دیتی ہے۔‘‘
میں ان کی بات پر مسکرا دیا، جیسے کسی بچّے کی خواہش پوری کرنے جا رہا ہوں۔ کچن میں جا کر سوپ تیار کیا—اپنے ہاتھوں سے، پوری محبت سے—اور ماں کو پلایا۔ ان کی آنکھوں میں خوشی کی ایک روشنی تھی، جیسے ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔ وہ بار بار دعائیں دیتی رہیں، اور میں ان کی ہر دعا کو دل کے اندر کہیں گہری جگہ چنتا جاتا تھا۔
پھر ایک روز میں ماں کا سر دبا رہا تھا۔ وہ آہستہ سے بولیں:
’’ تم میری بیٹیوں والے سارے کام کر لیتے ہو… مگر ایک کام نہیں کرتے۔‘‘
میں نے حیرانی سے پوچھا:
’’ ماں جی، کون سا؟ ‘‘
انہوں نے شرماتے ہوئے کہا:
’’لگتا ہے میرے سر میں جُوئیں ہو گئی ہیں، وہ دیکھ دو۔‘‘
اس جملے میں ماں کی محبت، بھروسہ اور قربت کا جو رنگ تھا، اسے بیان کرنے کے لیے شاید دنیا کی کوئی زبان کافی نہ ہو۔ میں نے فوراً ان کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ ایک جوں ملی تو اٹھا کر ماں کی ہتھیلی پر رکھ دی۔ ماں نے مجھے اتنی شدت سے گلے لگایا کہ لگتا تھا جیسے دنیا کا سارا پیار اس ایک پل میں سمیٹ کر مجھے دے دیا ہو۔ پھر انہوں نے میرا ماتھا چوما اور ایسی دعائیں دیں جنہوں نے میری زندگی کے طوفانوں میں ہمیشہ ڈھال کا کام کیا۔
یہ سب یادیں آج بھی دل کے نہاں خانوں میں زندہ ہیں—بغیر کسی شور کے مگر بے حد گونجتی ہوئی۔
رضی صاحب کی والدہ نے بھی اپنی زندگی کا بڑا حصہ بیماری میں گزارا۔ مگر رضی نے جس وفا، محبت اور استقامت سے ان کی تیمارداری کی، وہ کسی بیٹے کے لیے باعثِ فخر مثال ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جس طرح میں اپنی ماں کے گرد پگھلتا رہتا تھا، اسی طرح رضی بھی اپنی والدہ کی تکلیفوں کے آس پاس گردش کرتا رہا۔ ماں اور بیٹے کا رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے—درد ایک دوسرے کے وجود میں منتقل ہو جاتا ہے۔
جس رات رضی صاحب کی والدہ رخصت ہوئیں، وہ رات بھی عجیب کیفیت لیے ہوئے تھی۔ ہم دونوں محمد علی واسطی صاحب کے جنازے سے واپس آرہے تھے۔ راستے بھر رضی کے چہرے پر ایک بے چینی رقص کرتی رہی۔ قدم تیز، آنکھیں بار بار گھڑی کی طرف، جیسے دل کسی خاموش صدا کو سن رہا ہو:
’’جلدی آؤ… شاید ماں آخری سانسوں میں بیٹے کو دیکھنے کا انتظار کر رہی ہو۔‘‘
یہ وہ اضطراب ہے جو صرف وہی بیٹا محسوس کر سکتا ہے جس کی ماں زندگی کے آخری کنارے پر کھڑی ہو۔
میری ماں جب رخصت ہوئی تو صحن میں رکھا ہوا ان کا جنازہ میری نظروں میں ایک ایسی تصویر بن گیا جسے وقت کے کسی پردے نے ماند نہیں کیا۔ میں اس جنازے کو بھیگی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ سوچتا تھا کہ وہ چہرہ جو برسوں میری زندگی کی روشنی رہا، اب مٹی کی ٹھنڈک اوڑھ کر سو جائے گا۔ وہ ہاتھ جن سے میں نے دنیا کی سب سے نرم دعا سنی تھی، اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گے۔ دل میں ایک ایسا خلا اُترا جو آج تک آباد نہیں ہوا۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے غم نے دو گھروں کو ایک ہی لمحے میں اپنے حصار میں لے لیا ہو۔ میری ماں کی خاموش قبر اور رضی صاحب کی والدہ کا رخصت ہو جانا… دونوں دکھ ایک دوسرے میں یوں مل گئے جیسے دو ندیوں کا پانی ایک ہی دھار میں بہنے لگے۔ دو گھروں کے اندر ایک ہی قسم کا سناٹا، ایک ہی قسم کی ٹھنڈک، ایک ہی قسم کی تکلیف بیٹھ گئی ہے۔
ماں کے جانے کے بعد انسان فقط یتیم نہیں ہوتا، وہ اپنے اندر کہیں گہرائی میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں دنیا کو پہلے جیسا نہیں دیکھتیں۔ اس کی دعائیں پہلے جیسی نہیں رہتیں۔ اس کے دنوں سے روشنی کم ہو جاتی ہے، اور راتوں میں خاموشی بڑھ جاتی ہے۔ جنت واقعی ماں کے قدموں تلے ہے، مگر افسوس کہ ہم اس جنت کی اصل حرارت تب محسوس کرتے ہیں جب وہ جنت ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی ہوتی ہے۔
فیس بک کمینٹ

