پروفیسر عرش صدیقی مرحوم سے اس درویش کی نیازمندی زمانہ ء طالبعلمی سے رہی ۔ جب میں بی اے کا طالب علم تھا پروفیسر صاحب گورنمنٹ کالج بوسن روذ (مرحوم )میں انگریزی زبان و ادب کے نامور استاد تھے لیکن وہ اردو زبان کے جدید شاعر اور افسانہ نگار کے طور پر برصغیر کی اردو دنیا میں کہیں زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ انگریزی کے دو اور استاد پروفیسر فرخ درانی اور پروفیسر عابد عمیق بھی اردو کے جدید شاعر کے طور پر اپنی پہچان رکھتے تھے لیکن ان دونوں کے انداز اپنے ہی تھے۔ فرخ درانی کا قد درمیانہ تھا کھلتا ہوا رنگ سرخ رنگ کے سکوٹر پر اور عمومی طور پر سرخ شرٹ پہن کر کالج آتے اور کلاس میں تیز قدموں سے چل کر جاتے ہوئے خود دائیں طرف کو چلتے ہوئے طالب علموں کو بھی دھیمی مگر پر رعب آواز میں
Keep to the left کی تلقین کرتے جاتے ان سے ہم کلام ہونے کی جرات ہم جیسے پینڈو طالب علموں کو تو ہوتی نہیں تھی یہ تو بہت بعد میں پتہ چلا کہ موصوف بھی جماندرو دیہاتی اور تونسوی تھے اور اپنے خاص سٹائل کے باوجود اہل تونسہ کے تمام معروف اوصاف اپنے اندر رکھتے تھے۔
پروفیسر عابد عمیق نوجوان تھے کچھ دبلے سے لیکن دراز قد ہمہ وقت سوچ میں ڈوبی بڑی بڑی آنکھیں۔ کم گو لگتے تھے لیکن عموما کسی پلاٹ میں یا کینٹین پر کبھی نوجوان اساتذہ اور عام طور پر چند ایک سینئر طالب علموں کے ساتھ بیٹھے خوب تندہی سے گفتگو میں مصروف نظر آتے، ان کی اس دور میں عام شہرت یہ تھی کہ نوعمر طالب علموں کو ذہنی طور پر بگاڑ دیتے ہیں۔ ہم ان کی طرف کھنچتے بہت تھے لیکن وہ ہماری سیکشن کو پڑھاتے نہیں تھے کہ براہ راست تعارف کا موقع ملتا اس لئے ہمارا پینڈوپنا آڑے آتا رہا اور ان سے تعارف ان سے نیازمندی کا موقع کئی برس بعد اس وقت ملا جب یہ درویش خود تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو چکا تھا ۔
یہ جنرل ضیاء الحق کا دور جبر تھا جس کی خوفناک دہشت گردی کا تھوڑا مزہ یہ فقیر بھی اٹھا چکا تھا اور عابد عمیق تو ملتان بدر کردیئے جانے کے بعد جیل یاترا بھی کر آئے تھے اور اب ضلع اٹک کے دور دراز علاقے نرڑہ کنجور (شاید یہی نام تھا) کالج میں گھربدری کی سزا بھگت رہے تھے ان سے چند ملاقاتوں اور مکالموں کے بعد پتہ چلا کہ ان کا نوجوانوں کو سماجی شعور کے حصول کی طرف راغب کرناان کو بگاڑنا قرار دیا جاتا تھا۔
پروفیسر عرش صدیقی کا انداز ان سے بلکہ باقی سب سے بھی الگ اور منفرد تھا درمیانے سے معمولی چھوٹا قد کھلی ہوئی رنگت نظر کے چشمے سے جھانکتی بڑی ذہین آنکھیں چہرے پر عموما خوشگوار سی سنجیدگی لیکن کسی پر لطف بات پر کھل کر قہقہے بھی لگاتے لیکن اس میں ہمیں کجھ رکھ رکھا سا محسوس ہوتا تھا بہت خوش وضع اور جدید لباس زیب تن کرتے گرمیوں میں پینٹ شرٹ سفاری سوٹ اور سردیوں میں گرم سوٹ ان پر خوب جچتا تھا ۔ اپنے شاگردوں میں بے حد مقبول تھے ہمارے دو ایک ہم جماعت ان سے قربت کا دعوٰی رکھتے تھے اور ان کی خوب تعریف کیا کرتے تھے لیکن ہماری جھجک آڑے آتی رہی اور ان سے ملنے خواہش بس دل ہی میں رہی۔۔۔
یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہمیں انگریزی پروفیسر خالد ناصر مرحوم پڑھایا کرتے تھے کیا نفیس اور وضعدار انسان تھے اردو اہل زبان خانوادے سے تعلق رکھتے تھے انتہائی شستہ اور مہذب انداز گفتگو اطوار میں تہذیب کے اعلی میعار کے پاسدار ۔۔۔ انگریزی کی تدریس کا ہنر بھی ان کو خوب آتا تھا۔۔۔ انگریزی میں اپنی کمزوری کو کم کرنے کیلئے ان سے ٹیوشن پڑھانے کی درخواست کی ۔۔۔ وہ طالب علموں کے گروپس کو ٹیوشن پڑھاتے تھے لیکن اس درویش کےلئے ان کے پاس وقت نہیں تھا بڑی منت سماجت کے بعد صبح نماز فجر کے فورا بعد آنے کا وقت دیا نمازی دوستوں سے صبح جگانے کیلئے منت کی اور استاد مکرم کے مقرر گردہ وقت پر حاضر ہوگیا باہر لان میں پانی کی ٹیوب سے چھڑکاؤ کرتے ہوئے ملے خوشگوار موڈ میں خیرمقدم کیا اور ان سے خصوصی فیض یابی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔مہینے کے اختتام پر ان سے ٹیوشن پڑھنے والے کچھ لوگوں سے ان کی فیس کا پوچھ پاچھ (کیونکہ خود انھوں نے میرے پرجھجک اصرار کے باوجودفیس بتائی نہیں تھی) کر رقم جیب میں ڈالی اور حاضر خدمت ہوا وہ پڑھاتے رہے اور میں یہ سوچتا رہا کی ان کی فیس کیسے پیش کروں؟ خدشہ تھا کہ فیس کم نہ ہو کیونکہ اساتذہ گروپس کو گھنٹہ بھر پڑھانے اور سب سے یکساں فیس وصول کیا کرتے تھے۔۔۔ پڑھائی ختم ہوئی لیکن یہ مسمی طالب علم خاموش بیٹھا رہا بولے کیا بات ہے میاں ؟ لرزتے ہاتھوں سے فیس پیش کی ماتھے پر تیوری آگئی پوچھا یہ کیا ہے ؟ اپنی تو جان نکل گئی ہڑبڑا کر عرض کیا سر۔۔۔ وہ وہ۔۔ فی ی ی س۔
سامنے والی کرسی پر دوبارہ آرام سے بیٹھ گئے اور دھیمے پر شفقت لہجے میں بولے۔۔ دیکھو عزیز من میں نے تمہیں ٹیوشن فیس لینے کیلئے تو نہیں پڑھایا۔۔۔ تم اچھے طالب علم ہو تمہیں اپنا چھوٹا بھائی جان کر پڑھا رہا ہوں ۔ چھوٹے بھائی سے کون فیس لیتا ہے بھلا ؟۔۔۔ ان کے اس پرشفقت انداز سے حواس کچھ بحال ہوئے تھوڑی ہمت بھی پیدا ہوئی اور سر جھکائے ہوئے عرض کیا۔۔۔ سر ابا حضور سے تو ٹیوشن فیس کے نام پر پیسے لئے تھے آپ نہیں لیتے تو ۔۔۔ فضول کاموں پر خرچ کر دوں گا۔۔ ہلکا سا قہقہہ لگایا اور میرے ہاتھ سے پیسے لے لئے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اپنے ابا کو بھی بتا دینا اور آئندہ میں فیس نہیں لوں گا اگر پڑھنا ہے تو آ جانا۔۔۔ میں اس کے بعد کچھ عرصہ ان سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی شفقت سے فیضیاب ہوتا رہا اور انھوں نے پھر نہ فیس لی نہ کوئی تحفہ قبول کیا۔ اللہ غریق رحمت فرمائے کیا خوب انسان تھے۔
لیکن صاحبو بات تو عرش صاحب کی ہو رہی تھی مگر کیسے کیسے اچھے اور مہربان لوگ یادوں کی دنیا میں چلتے پھرتے نظر آنے لگے۔۔۔ پروفیسر عرش صدیقی سے باقاعدہ تعارف اس وقت ہوا جب میں نے ملتان یونیورسٹی (مرحومہ) کے شعبہ اردو میں داخلہ لیا۔ عرش صاحب یونیورسٹی کے انگریزی شعبہ میں پہلے صدر شعبہ اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز تھے۔ اور اس نومولود یونیورسٹی کی روح رواں تھے سٹوڈنٹس یونینز کا دور ا بھی باقی تھا ہم نے عرش صاحب کو سیاسی طالبعلموں اور ان کے گروہوں سے پر شفقت انداز میں نمٹتے ہوئے دیکھا ان کی شخصیت کا کمال تھا کہ وہ بوقت ضرورت نوجوانوں کو ڈانٹ بھی دیتے تو وہ نہ صرف چپ رہتے بلکہ ان کی بات مان بھی لیتے۔
کچھ ہی عرصہ بعد وہ ملتان یونیورسٹی کے باقاعدہ رجسٹرار منتخب و مقرر ہوگئے اور ایک لمبے عرصے تک اس عہدے پر فائز رہے۔۔۔ عرش صدیقی کی ملتان کیلئے ایک اہم ادبی خدمت اردو اکادمی ملتان کا قیام و استحکام بھی تھا جس کے لگ بھگ نصف صدی سے زائد عرصہ تک ہفتہ وار تنقیدی اجلاس منعقد ہوتے رہے یہ درویش بھی نوے 90 کی دہائی میں کئی برس تک (بزعم خویش کامیاب ) اردو اکادمی کا سیکریٹری رہا ۔۔۔ آج کل اکادی کا کیا احوال ہے اس کی خبر نہیں۔۔۔پروفیسر عرش صدیقی مرحوم نصف صدی سے زائد عرصہ تک ملتان میں سرخوں کے گرو ۔۔قرار دیئے جاتے رہے اور ہم نے دیکھاکہ دائیں باز وکے سبھی حلقوں کے ساتھ ساتھ ان کے مخالفین حتی کہ اس وقت کی جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلباء کے اخواص و عام بھی خود کو ان کی عزت کرنے پر مجبورپاتے۔ (جاری ہے۔۔۔۔)
فیس بک کمینٹ

