عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی پریس کانفرنس کے ایک روز بعد اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت کی طرف سے بات چیت پر مثبت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ علیمہ خان نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کی قیادت اور خاص طور سے وکلا پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں عمران خان کی صحت کے حوالے سے لاعلم رکھا جاتا ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت اور علاج کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار ان کے اہل خاندان کے پاس ہے اور کوئی دوسرا اس میں دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ اس دھؤاں دار پریس کانفرنس میں علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر شدید بداعتمادی کا اظہار کیا۔ اگرچہ ان کی پریس کانفرنس اور شکایات کا محور عمران خان کی صحت تک محدود تھاتاہم اس سے اگلے ہی روز اپوزیشن اتحاد کی طرف سے حکومت کے ساتھ نرم اور مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کا اعلان کیا سامنے آیاہے۔ نہ جانے علیمہ خان ایسی اپوزیشن قیادت کے بارے میں اب کیا مؤقف اختیار کریں گی جو ان کے بھائی اور تحریک انصاف کی سیاسی قوت ہی کی وجہ سے اس پوزیشن پر موجود ہیں۔ مفاہمت پر آمادگی کا اعلان بظاہر علیمہ خان کی حکمت عملی اور عمران خان کے طریقہ کار سے برعکس ہے۔
ان دونوں پریس کانفرنسوں کو ملاکر دیکھنے اور حالات کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ تحریک انصاف کے اندر معاملات طے کرنے اور سیاسی لائحہ کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ علیمہ خان کی پریس کانفرنس کا مقصد پارٹی قیادت سے محض عمران خان کی صحت کے بارے میں گلے شکوے کرنا نہیں تھا بلکہ ان کے لب و لہجہ، تمکنت اور للکار سے یہ واضح ہورہا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی کی حراست کے دوران وہ خود کو ہی عمران خان کی سیاست کا ’وارث‘ سمجھتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ تمام فیصلے ان کی صوابدید سے ہوں لیکن تحریک انصاف کے لیڈر ہر معاملے میں علیمہ خان سے متفق نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی ان کی قیادت کو تسلیم کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان ، تحریک انصاف کی کوششوں اور عمران خان کی خواہش پر ہی قائم کی گئی تھی۔ تاکہ متعدد سیاسی پارٹیاں مل کر حکومت پر دباؤ میں اضافہ کریں۔ تحریک انصاف چونکہ حکومت میں شامل اور دیگر مین اسٹریم پارٹیوں کے ساتھ بات چیت پر آمادہ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ ہٹ دھرمی احتجاج کے ذریعے حکومت کو جھکانے کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے لیکن اسے عام طور سے حکمران جماعتوں کی کرپشن سے منسلک کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عمران خان جیسا اصول پسند لیڈر قید برداشت کرلے گا لیکن بدعنوان لوگوں سے بات نہیں کرے گا۔
اس پس منظر میں اب یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ ٹی ٹی اے پی نے حکومت سے تقریباً ’غیر مشروط‘ بات چیت کی جو پیش کش کی ہے، اس پر علیمہ خان کیا مؤقف اختیار کرتی ہیں۔ کیوں کہ حکومت سے مصالحت علیمہ خان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے، وہ حکومت کو چیلنج کرکے دباؤ میں لانا چاہتی ہیں۔ گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں بھی ان کا پارٹی قیادت سے اصل شکوہ یہی تھا کہ وہ کوئی ملک گیر احتجاج منظم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اب یہی قیادت عمران خان ہی کے نامزد کیے ہوئے دو لیڈروں کے جلو میں جب معاملات طے کرنے کے لیے حکومت سے حکومت کی شرائط پر آمادگی ظاہر کررہی ہے تو علیمہ خان کی مایوسی میں ضرور اضافہ ہونا چاہئے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے علاوہ تحریک انصاف کے متعدد لیڈر بھی درپردہ تصادم کی بجائے مفاہمت کی بات کرتے رہے ہیں تاہم انہیں اس سلسلہ میں رکاوٹوں کا سامنا رہاہے جن میں سے ایک رکاوٹ علیمہ خان بھی ہیں۔ اس کا حوالہ گزشتہ دنوں عمران خان کے علاج کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی دیاتھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان عمران خان کے طبی معائنے اور علاج میں تاخیر کا سبب بنی تھیں۔
تحریک انصاف کے علاوہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور علیمہ خان اب یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ اختلاف کی واحد وجہ اہل خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی اور ان کے علاج کے سلسلہ میں کوتاہی ہے۔ حالانکہ دسمبر 2024 میں تحریک انصاف نے یہ کہتے ہوئے حکومت سے مذاکرات ختم کردئے تھے کہ سانحہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ بین السطور تحریک انصاف کا اصل مطالبہ تھا کہ عمران خان کو رہا کیاجائے ورنہ پارٹی حکومت کے ساتھ معاملات طے نہیں کرے گی۔ تحریک انصاف اپنی غلط اور نامناسب سیاسی ہتھکنڈوں کی وجہ سے اب عمران خان کی رہائی کی بجائے صرف ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا ’مطالبہ‘ کررہی ہے جبکہ حکومت نے نہایت ڈھٹائی سے ہر قسم کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ اب اپوزیشن اتحاد نے مصالحت کا دروازہ کھول کر درحقیقت ملک میں ایک مشکل سیاسی تعطل دور کرنے کی دانشمندانہ کوشش کی ہے لیکن اگر علیمہ خان جیسے عناصر ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو ایک بار پھر سیاسی مفاہمت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ کیوں کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت میں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس شامل ہیں جنہیں عمران خان ہی کی ہدایت پر بالترتیب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوایا گیا ہے۔
اس لیے علیمہ خان یا عمران خان کے دیگر وفادار کسی بھی وقت ان دونوں لیڈروں کی پالیسی اور نیک نیتی پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ حکومت نے متعدد بار تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی ہے ۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران بھی رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ 2006 کے میثاق جمہوریت جیسے کسی معاہدے ہر اتفاق کرلے، پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں واپس آجائے اور سیاسی عمل میں اپنا کردار ادا کرے تو معاملات طے ہوسکتے ہیں ۔ تاہم معاملات کے حوالے سے حکومت کی توقعات اور تحریک انصاف کی خواہشات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حکومت احتجاجی سیاست ختم کرنے اور پارلیمانی نظام میں مل کر کام کرنے کی بات کرتی ہے جبکہ تحریک انصاف عمران خان اور پارٹی کے لیے مراعات کا وعدہ مانگتی ہے۔
تحریک انصاف ا یک طویل عرصہ تک اس امید پر حکومت سے دوری اختیار کیے ہوئے تھی کہ اسٹبلشمنٹ سے براہ راست بات چیت میں معاملات طے کیے جائیں۔ البتہ عسکری قیادت نے تحریک انصاف کے ساتھ معاملات طے کرنے سے انکار کیا اور واضح کیا گیا کہ پی ٹی آئی سیاسی معاملات میں حکومت سے رجوع کرے۔ اسٹبلشمنٹ کو شاید حکومت اور تحریک انصاف میں سیاسی مصالحت پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ اس عمل میں کسی قسم کی ضمانت دینے پر آمادہ نہیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لیڈروں کو بھی شاید اب اس صورت حال کا اندازہ ہوچکا ہے۔ اگرچہ آج ہونے والے اجلاس کے بعد یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اپوزیشن مفاہمت پر آمادہ ہے۔
اس کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے مسلم لیگ (ن) کے کسی لیڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہبازشریف معاملات طے کرنا چاہتے ہیں اور یہ ضمانت دی جارہی ہے کہ جن معاملات پر اتفاق رائے ہوگا، ان سے انحراف نہیں کیاجائے گا۔ حالانکہ مذاکرات کے لیے علامہ صاحب کو کسی ’نامعلوم‘ ذریعے کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ وزیر اعظم خود پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے چکے ہیں۔ تاہم تحریک تحفظ آئین پاکستان کی پیش کش اور کوشش اسی صورت میں نتیجہ خیز ہوسکے گی اگر فریقین نے قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے معاملات طے کرنے کی کوشش کی۔ حکومت کو بھی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کے لیے رعایات دینی چاہئیں۔
ملک کو اس وقت اندرونی دہشت گردی اور سرحدوں پر تصادم کا سامنا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ کی پالیسی سے براہ راست پاکستان کے مفادات متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان حالات میں تمام قومی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ باہمی سر پھٹول کی بجائے اصولی نکات پر اتفاق کرکے ملکی مفاد کے لیے کام کریں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

