لاہور : پنجاب میں اجلاس کا انعقاد ہوگا یا نہیں معاملہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا ہے۔ قائد ایوان کا انتخاب کب ہوگا یہ معاملہ بھی مشکوک ہوگیا صورتحال پر سپیکر اور ڈپٹی سپیکر میں اختلاف سامنے آگیاہے۔
پنجاب میں وزیر اعلی کا انتخاب کرانے کے لیے گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوا کہ اجلاس 6اپریل کی بجائے 16اپریل کو ہوگا۔اس کے بعد سریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کی یقین دھانی پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے رات گئے ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا کہ اسمبلی اجلاس آج 6 اپریل کو ہی ہوگا۔
اس نوٹیفکیشن کے بعد اسمبلی سیکرٹریٹ نے اپنے ڈپٹی سپیکر کے نوٹیفکیشن کے خلاف ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن اسمبلی گزٹ میں درج نہیں اس لیے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق 6اپریل کی بجائے 16اپریل کو ہی ہوگا۔
ن لیگی رہنما عطاء تارڈ کے بقول اجلاس ڈپٹی سپیکر کے نوٹیفکیشن کے مطابق آج چھ اپریل کو شام ساڑھے سات بجے ہی ہوگا اور وزیر اعلی کا انتخاب بھی آج ہی ہونا ہے اپوزیشن ایوان میں ضرور جائے گی کیونکہ سپیکر خود وزیر اعلی کے امیدوار ہیں اور انتخاب ڈپٹی سپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں ہونا ہے لہذا ان کی ہدایت کے مطابق آئینی طور اجلاس ہونا لازمی ہے۔
دوست محمد مزاری نے بھی صحافیوں کو بتایاکہ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر ان سے بات ہوئی تو پنجاب کا اجلاس مقررہ شیڈول کے مطابق 6اپریل یعنی آج ہی ہوگا اور ایجنڈے کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کا انتخابات بھی آج ہوگا۔
لاہور میں انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار ارشد چوہدری کے مطابق پنجاب اسمبلی سیکریٹیریٹ میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔
’سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی ہدایت پر پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے داخلے پر پابندی لگادی گئی ہے۔سکیورٹی کے عملے کا کہنا ہے کہ سپیکر کی ہدایت کی روشنی میں میڈیا اسمبلی کے اندر نہیں جاسکتا۔ اسمبلی سکیورٹی نے میڈیا کو اسمبلی کے مین گیٹ پر ہی روک لیا۔ اسمبلی سیکریٹیریٹ کے اندر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ اسمبلی سیکریٹیریٹ میں کیا ہو رہا ہے عوام اور میڈیا لاعلم ہے۔
فیس بک کمینٹ

