کبیروالا ( امین وارثی کی رپورٹ ) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن ( اپٹما ) کے کاٹن ایڈوائزر نوجوان زرعی سائنسدان ڈاکٹر چوہدری جاوید حسن نے کہا ہے کہ ہماری ٹیم گزشتہ دو سال سے کوشش کر رہی تھی کہ کسانوں کی ترقی کی ضامن سمجھی جانیوالی فصل کپاس کو حکومتی سطح پر سرپرستی ملے تاکہ کاشت کا ایریا بڑھا کر پیداوار بڑھائی جا سکے ، اس سال اپٹما کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں پنجاب حکومت نے ہماری درخواست پر "زیادہ کپاس اگاؤ” مہم چلائی ۔
کسانوں کو بیج کے انتخاب سے لیکر پیداواری ٹیکنالوجی کی مکمل معلومات تک محکمہ زراعت کسانوں کاشتکاروں کی مسلسل رہنمائی میں مصروف ہے رواں سیزن میں اب تک اپٹما کی کوششوں کاوشوں سے مجموعی طور پر 45لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت ہو چکی ہے جس سے 8ملین بیلز حاصل ہونے کا امکان ہے اگر موسمی حالات کپاس کے حق میں رہے تو اس سال کپاس کی پیداوار سے ٹیکسٹائل سیکڑ کو اٹھان ملے گی اور گارمنٹس انڈسٹری کی ایکسپورٹ بڑھے گی۔
ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ ہماری کل ایکسپورٹ میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ گزشتہ برس 67فیصد تھا ہم اپٹما کے پلیٹ فارم پر کپاس کی پیداوار بڑھا کر اس میں اضافہ کر سکتے ہیں انہوں نے بتایا اپٹما کارپوریٹ فارمنگ کلچر کو بھی فروغ دے رہی ہے کیونکہ بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایگریکلچر کے روایتی طور طریقے کلائمنٹ چینج کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے پیداوار کم ہو رہی ہے
انہوں نے بتایا کہ بھکر،ملتان اور ساہیوال اضلاع میں وسیع رقبے پر کارپوریٹ ایگریکلچرل فارمنگ کیلئے کام جاری ہے ۔
ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ موجودہ حکومت کی سمت بالکل ٹھیک ہے اگرتسلسل کے ساتھ ہم کپاس کی پیداوار بڑھاتے رہے تو آنیوالے دو تین سالوں میں ہماری معاشی حالت پہلے سے بہتر ہو جائیگی ہمارا کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا .
فیس بک کمینٹ

