قیصر عباس صابرکالملکھاری

وزیر اعظم کے دل کا موسم ؟ یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

موسم بدل رہا ہے ، درخت نئی کونپلیں نکال رہے ہیں، ہر سو پھولوں کی مہک ہے جو سانسوں میں مہکنے لگی ہے ، جشن بہاراں کی تقریبات اور پھولوں کی نمائش شہر شہر سج رہی ہیں جن کی بہاریں کسی خاص شخص کے نام سے منسوب ہیں وہ بھی ترانہ عشق گنگنانے لگے ہیں ۔ پروین شاکر نے کہا تھا
وہ آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لئے
موسم گل میرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
بدلتے موسم کے ساتھ گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں رنگ ہی رنگ بکھرے پڑے ہیں جیسے قوس قزح کا پیرہن پورے ماحول نے اوڑھ رکھا ہو۔ گیزر اور ہیٹر بند ہوچکے ، پنکھوں پر لگے اخبارات اتارلیے گئے اور ائیر کنڈیشنرز کی سروس کرنے والے اپنے اوزار سنبھال چکے ۔ ہم وفاﺅں میں رس گھولتے اس موسم میں ”اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاﺅ گے“ کا ورد کرتے ہیں۔ بقول احمد فراز
ہوا میں نشہ ہی نشہ ، فضا میں رنگ ہی رنگ
یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے
بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے
فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی
یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے
ان موسموں کا مزاج کے موسم کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے ۔ اسی موسم میں جذبات اور احساسات اپنے نقطہ عروج پر ہوتے ہیں اسی لئے تو پوری دنیا میں خودکشیاں بڑھ جاتی ہیں اور ایسے موسم کی صبح فطرت پر ، قدرت پر ایمان لانے کے لئے کافی ہوتی ہے
ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لئے
اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی
فطرت کے ان رنگو ں اور گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار کے ساتھ سیاسی موسم بھی تو تبدیلی کا اشارہ دے رہے ہیں ۔ کسی دشمن نے خبر دی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے اندر کے موسم بھی بدل چکے ہیں اور وہ اپنی تیسری بیوی اور پہلی روحانی دوست بشری بی بی سے علیحدگی کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔ ایک ٹی وی پروگرام میں نجم سیٹھی نے تو علیحدگی کی تصدیق بھی کردی ہے۔ خدا کرے ایسا نہ ہو کہ، بڑھاپے میں کسی دشمن کا گھر بھی نہ ٹوٹے مگر زبان خلق تو ہمیشہ سے نقارہ خدا ہوا کرتی ہے۔ دل سے دعا ہے کہ یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو۔
بات سیاسی موسم کی بھی تو ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں بار بار اضافے اور ایک بار پھر اضافے کے بعد تو تحریک انصاف کی محبت میں گرفتار کھلاڑی بھی چیخنے ، چلانے لگے ہیں
حکومت میں شامل کابینہ پر تو اعتراض کیا جاسکتا ہے مگر خود کپتان تو بذات خود محنت اور ایمانداری سے بھرپور ایک ”ادارہ“ ہیں اور ہمیں افسوس ہے کہ ان کی بائیس سالہ محنت پر پانی پھیرنے والے اور غیر جمہوری پوچا لگانے والے اسی شاخ کو کاٹنے پر لگے ہیں جس پر وہ بیٹھے تھے یا بٹھائے گئے تھے۔
سابقہ نا اہل حکومت کے منصوبوں پر جو نوے فیصد مکمل ہوچکے تھے ، دوسری اور تیسر ی بارافتتاحی تختیوں کی نقاب کشائی کرنے والے اہل وزیر خود کو خوش گمانی میں مبتلا کرکے کپتان کو ”سب اچھا “ کی رپورٹ دیتے رہیں کہ شائد عوام بھی پرانی قبروں پر لگنے والے نئے کتبوں کی وجہ سے آئندہ الیکشن میں پھر سے چادریں چڑھا دیں گے ، مگر ایسا نہیں ہے، عوام تو وہ خاموش آندھی ہوا کرتی ہے جو سب کچھ بہا لے جانے کا فیصلہ کرلے تو پھر پرانی قبروں کے ساتھ ساتھ نئی درگاہیں بھی اکھاڑ لیتی ہے۔
بدلتے موسم بھی عوا م کے اندر پھیلی ہوئی مایوسی کو ختم نہ کرسکے تو پھر پت جھڑ کی رتیں لوٹتے دیر نہیں لگے گی ، بے حسی جس قد ر اپنے عروج پر ہو مگر سیاسی حبس ناقابل برداشت ہوتا ہے اور ایسے حبس میں ہر دوسری کفیت کو خوش آمدید کہا جاتا ہے
حبس موسم کا ہو، ذہن کا ہو، اس عالم میں
لُو بھی چلتی ہو تو انداز صبا ہے اس میں
اقتدار آتا جاتا رہتا ہے خدا کرے کہ عمران خان کا گھر نہ ٹوٹے کہ بڑھاپے میں ٹوٹنے والے گھر اقبال کے اس شعر کی تفسیر ہوتے ہیں
ڈالی گئی جو فصل خزاں میں شجر سے ٹوٹ
ممکن نہیں ہری ہو سحاب بہار سے
ان موسموں میں وطن عزیز مہکتا رہے ، جمہوریت کا تسلسل ہر رنگ میں قائم رہے اور دشمن ایسی خبروں کو ترستارہے جو اس کو خوشی سے سرشار کردیں۔ آخر میں محسن نقوی کے خوبصورت اشعار
توغزل اوڑھ کر نکلے کہ دھنک اوٹ چھپے
لوگ جس روپ میں دیکھیں تجھے پہچانتے ہیں
یار تو یار ہیں ، اغیار بھی اب محفل میں
میں تیرا ذکر نہ چھیڑوں تو برا مانتے ہیں
فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker