قیصر عباس صابرکالملکھاری

گلگت کا آدم خور راجہ شری بدد۔۔صدائے عدل/قیصرعباس صابر

گلگت کے اطراف میں پھیلے جنت کدے سیکڑوں برس پہلے کی تاریخ کو دہرانے سے ہمیشہ روکتے رہے۔سفر نامہ تاریخ کی کتاب نہیں ہوتا کیونکہ روداد سفر کو تاریخ کے جھوٹ سے آلودہ نہیں ہونا چاہئیے کہ مورخین نے مخصوص عہد اور خاص حالات میں تاریخ مرتب کی ہوتی ہے جبکہ سفر نامہ جذبات اور احساسات سے بھرپور ہوتا ہے۔جہاں آج امن ہے اور ایسا احساس تحفظ کہ رات کے تیسرے پہر بھی دریائے گلگت کے کنارے سفر کرتے ہوئے خوف مسلط نہیں ہوتا۔کئی تھانوں میں برس ہا برس سے کوئی سائل مقدمہ درج کرانے نہیں پہنچا کہ جرم سر زد ہوتو الزام کی نوبت آتی ہے۔اسی دریا کے کنارے راجہ شری بدد کے باورچی خانے میں روزانہ دو نوجوانوں کے گوشت کی کڑاہی بنتی تھی اور یہی خوراک سالوں سال چلی،انسانی نسل ختم ہونے کو تھی کہ پھر کہیں سے ظالم راجہ شری بدد کا توڑ شہزادہ آذر جمشید آ پہنچا۔
ہم نگر اور ہنزہ جانے کےلئے، گلگت سے پہلے مڑ کر قراقرم پر ،دریائے گلگت کے پل کو عبور کرتے ہیں وہیں سونیکوٹ کا موضع ہے جہاں پر شاہی محل اور قلعے کے آثار اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں ۔
قصہ یوں ہے کہ راجہ شری بدد اپنے والد راجہ اگر تھم کے بے جا پیار میں پلا بڑھا تھا اور اسے ایک بڑی سلطنت وراثت میں ملی تھی۔چودہ سو سال قبل چترال تا پامیر کی سلطنت پر ایک ہی خاندان کی حکومت ہوتی تھی اور حکمران خاندان کو “ طرہ خان گلگت” کے نام سے پکارا جاتا تھا۔اس بڑی جاگیر پر راجہ شری بدد من مرضیاں کرتا تھا اور اس کے حکم پر روزانہ دو بکرے پکوان میں شامل ہوتے تھے ایک دن معمول سے بہت زیادہ لذیذ گوشت پر راجہ بدد چونک اٹھا اور تحقیقات کروائی گئیں تو معلوم ہوا کہ موضع دنیور کی رہائشی ایک بیوہ عورت کے ہاتھوں پلا ہوا بکرا بہت زیادہ لذیذ تھا،بیوہ طلب ہوئی تو حیرانی کے در وا ہوتے گئے،بوڑھی عورت نے بتایا کہ میمنا پیدا ہوا تو اس کی ماں مرگئی ،بیوہ نے اپنی بہو کا دودھ پلا کر بکرا پالا تھا۔
بیوہ کو رخصت دے دی گئی ، راجہ شری بدد نے وزرا کو بلایا اور کہا کہ “ اگر انسانی دودھ پینے سے بکرا اس قدر لذت دیتا ہے تو انسانی گوشت کس قدر لذیذ ہوگا” آئیندہ روزانہ کی بنیاد پر دو جوان راجہ کے پکوان کےلئے ذبح ہونے لگے۔رعایا کی نفرت بڑھتی گئی اور بے بسی کے سائے تلے انسانی آبادی کم ہونے لگی۔راجہ کی بیٹی نور بخت خاتون جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی رحم دل بھی مگر وہ اپنے باپ کے ظلم کے سامنے بول نہیں سکتی تھی۔پھر ایران سے شکست خوردہ شہزادہ آذر جمشید جان بچا کر اپنے لشکر کے ساتھ استور روڈ پر بونجی کے قریب خیمہ زن ہوا، بالکل اسی مقام پر جہاں دریائے استور دریائے سندھ کا حصہ بنتا ہے۔شہزادے کا تعلق نوشیروان عادل سے تھا اور حکمرانی اس کے خون میں بسی تھی۔راجہ شری بدد کے وزیر اس سے نجات چاہتے تھے اس لئے انہوں نے آذر جمشید اور نور بخت کی ملاقات کروا دی ۔پہلی نظر شادی تک جا پہنچی اور پھر شری بدد کی بیٹی نور بخت نے اپنے شوہر آذر جمشید سے مل کر باپ کو جلا کر مارڈالا اور گلگت کو ایک ظالم راجہ سے نجات ملی۔یہ وہی شہزادی تھی جس نے اپنا اور جمشید کا نومولود بچہ ظالم باپ کے ڈر سے دریائے گلگت میں ایک صندوق میں ڈال کر بہا دیا تھا وہ بچہ کہاں گیا اس بارے راوی خاموش ہے۔
آذر جمشید 643 عیسوی سے 659 عیسوی تک گلگت کا حکمران رہا اور ان کے بعد ان کی ملکہ نور بخت 668 عیسوی تک حکمران رہی اور ریاست میں ایک پرامن ماحول نے جنم لیا۔725 عیسوی میں گلگت میں اسلام کی پہلی کرن شاہ فاضل کی تبلیغ کے سبب پھیلی اور اسلام نے اس وادی کو روشن کردیا۔ہم ہر بار ہزاروں سالہ ریاستی تاریخ کا حصہ بنتے تھے اور چلے جاتے تھے ۔سفرنامہ لکھتے ہوئے ایسے واقعات سے بچ کر نکلنا پڑتا ہے جو قاری کو برفیلی بلندیوں سے اتار کر کسی راجہ کے سامنے کھڑا کردے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker