قمر رضا شہزادکالملکھاری

لیکچرر شپ کے لئے انٹرویو اور آغا سہیل کے دلچسپ سوالات : گزر گیا جو زمانہ / قمر رضا شہزاد

1989 ء میں مجھے اردو کے لیکچرر کے لئے پنجاب لیکچرز سلیکشن بورڈ کی طرف سے انٹرویو کی کال آگئ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حکومت پنجاب نے لیکچرز کی تقرری کا اختیار پنجاب پبلک سروس کمیشن سے لے لیا تھا۔ اس کی وجہ کوئی بھی ہو لیکن اس دور میں دیگر مضامین کی طرح شعبہ اردو میں بہت سے نالائق ترین لوگ بھی کسی نہ کسی خفیہ راستے سے لیکچرر منتخب ہوگئے۔ میری بد قسمتی کہ مرے پاس سوائے اپنی شاعری کے کوئی ایسی سفارش نہیں تھی کہ جو میرےکام آسکتی ۔ البتہ بیدل صاحب کے چہیتے شاگرد اور میرے ایک دوست خوبصورت شاعر اطہر ناسک مرحوم اس سے پہلے سلیکشن بورڈ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کر چکے تھے اور بقول ان کے انہوں نے وہاں رزلٹ میں ردوبدل کرکے کسی نہ کسی طریقے سے اپنے ایک دو دوستوں کو لیکچرر منتخب کروایا تھا۔ اور اس سلسلے میں اختر شمار کا حوالہ بھی دیتے تھے جو کہ ان کا استاد بھائی اور عزیز ترین دوست بھی تھا۔ لیکن ہم اس کی بات کا اس لئے بھی یقین نہیں کرتے تھے کہ مر حوم کو بہت بہت لمبی چھوڑنے کی عادت تھی۔۔ ایک مرتبہ مرحوم نے اپنے استاد بیدل حیدری کے بارے میں کہا کہ لوگ میرے استاد کو غریب آدمی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ میرے استاد تو ہر ماہ 25ہزار روپے کی شراب پیتے ہیں۔جس پر بیدل صاحب نے ان کی خوب کھچائی کی۔ اسی طرح ایک بار بیدل صاحب نے انہیں اپنی ایک نظم سنائی تو وہ بے ساختہ کہنے لگے کمال ہوگیا استاد جی آپ کی یہ نظم تو میں نے پچھلے ہفتے ریڈیو ماسکو سے سنی ہے ۔۔ جس پر بیدل نے انہیں خوب ڈانٹ پلائی اور کہا۔۔شرم کرو کل ہی تو میں نے یہ نظم کہی ہے۔۔جس پر مرحوم شرمندہ ہونے کی بجائے نہایت ڈھٹائی سے ہنسنے لگے۔ لہٰذہ ہم سب دوست رضی الدین رضی اور شاکر حسین شاکر سمیت اس کی ایسی باتوں پر ناراض ہونے کی بجائے لطف اندوز ہوتے تھے۔۔۔ اسے جب میرے سلیکشن بورڈ میں انٹرویو کا پتہ چلا تو اس نے حسب سابق مجھے بھی اسی طریقے سے لیکچرر منتخب کروانے کی ذ مہ داری لے لی۔ وہ تو خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میری سلیکشن ہی نہیں ہوسکی۔ میرا انٹرویو لینے والی کمیٹی میں ڈاکٹر آغا سہیل صاحب تھے ۔ جنہوں نے اردو ادب پر میری کمانڈ دیکھنے کی بجائے اس طرح کے سوال کرنے شروع کر دئیے
میر کی والدہ کا نام کیا تھا؟ غالب عموما ناشتہ کس وقت فرماتے تھے۔ سودا اور میر کی عمروں میں کتنا فرق تھا۔۔ اب ان کے جوابات میرے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں تھے جب میں نے انہیں اپنی شاعری کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہا کہ میری غزلیں احمد ندیم قاسمی صاحب کے مجلے فنون میں شائع ہوتی ہیں تو انہوں نے فر مایا یہ کسی اردو کے لیکچرر کی سلیکشن کے لئے اتنا اہم نہیں ہے۔ پھر میں نے انہیں انٹرویو کے آخر میں یہ بھی کہا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سرکاری محکمے میں بطور آفسیر گریڈ 17 میں میری سلیکشن ہوچکی ہے۔ لیکن مجھے افسری سے زیادہ اردو پڑھانا اچھا لگتا ہے۔ اور میں اس میدان میں اپنے شوق کی وجہ سے آنا چاہتا ہوں۔۔ لیکن اس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔۔ اور جب رزلٹ آیا تو میں نے دیکھاکہ مجھے ناکام قرار دے دیا گیا تھا اور ایسے ایسے لوگ اردو کے لیکچرر منتخب ہو چکے تھے جنہیں شعر تک وزن میں پڑھنے نہیں آتے تھے۔ اردو ادب کے بارے میں ان کی معلومات صفر تھیں۔ بدقسمتی سے آج بھی کالجز کا شعبہ اردو اسی طرح کے لیکچرز اور پرفیسرز سے بھرا پڑا ہے۔ ایک اچھی پوسٹ پر ملازم ہونے کے باوجود مجھے اپنے اردو کے لیکچرر منتخب نہ ہونے کا بہت صدمہ ہوا۔ اور میں کافی دنوں تک اس کی زد میں رہا۔ ادھر میرے محکمے لوکل گورنمنٹ نے مجھے دیگر نو منتخب افسران کے ہمراہ آٹھ ہفتوں کی محکمانہ ٹریننگ کے لیے لوکل گورنمنٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ لالہ موسیٰ پہچننے کے احکامات صادر کر دئے۔۔ میری ان دنوں لالہ موسیٰ سے صرف اتنی ہی آشنائی تھی کہ ایک تو یہاں چراغ روشنائی بنتی ہے اور دوسرے یہ شہر ملکہ روشن آرا بیگم، عالم لوہار اور کاوش بٹ کا ہے۔ ۔۔ ٹریننگ کے آرڈر میں یہ بھی تحریر تھا کہ موسم کے مطابق بستر ہمراہ لے کر جائیں۔ یہ شدید سردی کا موسم یعنی دسمبر کا مہینہ تھا۔ لہٰذہ والدہ نے دیگر سامان کے ہمراہ ایک نئی ریشمی رضائی بھی ہمراہ کردی ۔مجھے اچھی طرح یادہے میں سامان سے لدا پھندا خانیوال سے ٹرین کے ذریعے لالہ موسی روانہ ہوا اور تقریبا آٹھ نو گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد لالہ موسی جنکشن پر اترا اور بذریعہ ٹانگہ لوکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پہنچا جو کہ شہر سے تقریبا دو کلومیٹر دور جی ٹی روڈ پر واقع تھا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker