لیبر قوانین کے تحت مزدور کو مفاد دینے سے بچنے کیلئے سرمایہ داروں نے حکومتوں کے ساتھ مل کر ٹھیکیدار ی نظام متعارف کرایا ٹھیکیدار مزدور سپلائی کرتا ہے اور وہی انتظامیہ سے سودابازی بھی کرتا ہے ۔دلال بنا محنت کئے کثیر رقم کماتا ہے اور حکومتیں اور سرمایہ دار لیبر قوانین کی زد میں بھی نہیں آتے۔ ان قوانین میں اہم لیبر سازی کا قانون ہے۔۔مزے کی بات ہے ایسا کرنے سے عموما ًحکومتی اخراجات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔لیبر قوانین کے تحت جو پیسہ لیبر کے مفاد میں منتقل ہونا تھا کم و بیشتر وہی رقم دلال اور حکومتی ایجںنٹ ہتھیا لے جاتے ہیں۔۔پرائیویٹ اداروں میں بھی مزدور کی فلاح کے اخراجات ٹھیکیدار ی نظام کے بعد دلال اور حکومتی عہدیداروں کی رشوت میں بدل جاتے ہیں۔۔۔۔سوال یہ کہ ٹھیکیدار ی نظام کا پھر حکومتوں اور سرمایہ دار کو کیا فائدہ ہے ؟
جواب ۔۔۔یونین سازی کا اختیار
یاد رہے کہ مزدوروں یا غریبوں کو اپنی مرضی سے خیرات دینا یا انہیں ترس کھا کر کھانا کھلانا اور مسجد میں برابر کھڑے کرکے نماز پڑھنا نیکی ضرور ہے مگر مزدور کو خود داری اور شعور نہیں دیتی جو ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔۔یونین سازی مزدور کو اپنے حق کا شعور دیتی ہے اور اپنے حق کے لئے لڑنے کا ذریعہ فراہم کرتی ہے۔۔
یونین اگر با شعور ہو تو وہ دنیا بھر کے مزدوروں کو بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب ایک طبقے کے طور پر دیکھتی ہے۔محدود سطح پر مزدوروں کے معاشی مفاد اور حقوق کے لئے جدوجہد کرتی ہے اور بڑی سطح پر پرائیویٹائزیشن ، ٹھیکیدار ی سسٹم، یونین سازی پر پابندی ، ا داروں کی مضبوطی ، اداروں کی معاشی افادیت یعنی منافع بخشی اور بڑھوتری پر نظر رکھتی ہے اور ہر اس عمل کا دفاع کرتی ہے جس سے مزدور کا مفاد اور ادارے کی چلت برقرار رہے۔۔
یہ دوسرا عمل یونین بارگیننگ کی اصطلاح کے تحت کرتی ہے۔۔پرائیوٹائزیشن کی سب سے بڑی وجہ اداروں کی غیر منافع بخشی، یونین کی بارگیننگ کی بجائے ہٹ دھرمی اور مزدور کے حقوق کی بجائے مزدور کی بنا کام کئے مفاد حصولی بتائی جاتی ہے ۔۔دوسرے لفظوں میں اداروں میں انتشار اور اداروں کی تباہی کا بہانہ بنا کر پرائیویٹائزیشن کی جاتی ہے حکومتیں اداروں کو منافع بخش اور بحال رکھنے سے زیادہ پرائیوٹائزیشن پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے ادارے اس عمل کے لئے نہ صرف دباؤ دیتے ہیں بلکہ فنڈ بھی مہیا کرتے ہیں۔۔۔۔کیونکہ بین الاقوامی سطح پر سرمایہ دار ایک اتحاد کا نام ہے اور موجودہ معاشی سسٹم انہیں کے مفاد میں کام کررہا ہے۔۔
یونین کو چاہئے کہ جہاں وہ مزدور کے مفاد کا خیال رکھتی ہے انتظامیہ کے ساتھ مل کر ادارے کے مفاد اور ہر طریقے سے ادارے کو قائم رکھنے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہے اور ان اقدامات اور لوگوں پر بھی نظر رکھے جو ادارے کو تباہ کرنے پر تلے ہوں۔۔۔۔۔ادارے کو تباہ کرنے میں ناقص کارکردگی یعنی یونین کی ہٹ دھرمی، عہدیداروں کی مجموعی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد پر نظر، مزدور یونینوں کی باہمی لڑائی ، انتشار اور نتیجتا ًانتظامیہ کی ہر سطح پر ناکامی ۔۔۔۔جیسے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔
یونین اگر ان اوامر کا شعور رکھتی ہے تو ایک شمع اور مزدور کی راہنما اور اداروں کی ترجمان۔۔۔نہیں تو یونین ٹھیکیداروں کی طرح ایک دلال کا رول ادا کرتی ہے جس کے نمائندگان اپنے ذاتی مفاد سے آگے بڑھ کر نہیں سوچتے اور وقت ٹپاؤ سوچ کے تحت اپنا وقت پورا کرتے ہیں۔۔۔
فیس بک کمینٹ

