کالملکھاری

قسور عباس کی خصوصی رپورٹ : جہانگیر ترین کی نئی سیاسی جماعت ۔۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

جنوبی پنجاب کے اضلاع لودھرا ں اور رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں جہانگیر خان ترین اور مخدم احمد محمود کی جانب سے نئی سیاسی جماعت بنانے کی چہ میگوئیاں گزشتہ دنوں سے سنائی دے رہی ہیں یہ کوئی پہلی بار نہیں بلکہ اس سے قبل بھی جہانگیر ترین کی طرف سے عوامی تحریک انصاف کے نام سیاسی جماعت بنانے کی باتیں بڑی زور و شور سے گردش کرتی رہی ہیں مگر وہ وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوئیں اب ایک بار پھر مخدوم احمد محمود کی سالگرہ اور عشائیے میں شرکت کے موقع پرجہاں دس سالہ رنجشیں محبتوں میں بدلیں وہاں نئی سیاسی جماعت بنانے کی افواہیں بھی سرگرم ہیں اگر یہ حقائق پر مبنی ہیں تو یقیناً پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی قیادت کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں کیونکہ جنوبی پنجاب کے یہ دونوں سیاستدان اپنی اپنی جماعتوں میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں اگر یہ دونوں مل کر نئی سیاسی جماعت کا وجود عمل میں لاتے ہیں تو نہ صرف خطہ کے بڑے سیاستدان ان کے ساتھ شامل ہوں گے بلکہ پہلے سے موجود سیاسی جماعتوں کیلئے مشکلات بھی بڑھ جائیں گی کیونکہ جہانگیر خان ترین نے پی ٹی آئی کی حکومت سازی اور خاتمے میں جس طرح کاکردار ادا کیا ہے وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں رہنماؤں کی طرف سے جو نئی سیاسی جماعت بنانے کی افواہیں سرگرم ہیں وہ کب پوری ہوتی ہیں اور ان کا یہ اتحاد کتنی دیر تک برقرار رہتا ہے کیونکہ مخدوم احمد محمود کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا سمجھا جارہا ہے اگر فرض کریں وہ چھوڑبھی گئے تو پھر جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی صرف اور صرف گیلانی خاندان تک محدو د ہوکر رہ جائے گی۔
ادھر ملتان کے حلقہ این اے 157کا ضمنی انتخاب جو کہ 9اکتوبر کو متوقع عید میلاد النبی ؐکی وجہ سے ایک بار پھر ملتوی ہوکر 16اکتوبر کو ہونا قرار پایا ہے۔تاریخ پہ تاریخ ملنے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کی الیکشن کمپین سست روی کا شکار ہے اورامیدوار مہر بانو قریشی کے حوالے سے بھی یہ افواہیں سرگرم ہیں کہ وہ واپس کراچی چلی گئی ہیں اور اس حوالے سے گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی قاسم گیلانی نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ان کی کراچی کی ٹکٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ امپورٹڈ امیدوار کراچی واپس چلی گئی ہیں جبکہ ان کے امیدوار موسیٰ گیلانی حلقے میں عوام کی خدمت کیلئے موجود ہیں۔این اے 157کے ضمنی انتخاب کا معرکہ دو بار ملتوی ہوچکا ہے اس میں جیت کا حتمی فیصلہ تو عوام نے ہی کرنا ہے مگر پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار کی پوزیشن مستحکم قرار دی جارہی ہے مگر اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ پی پی 217میں بھی ن لیگ کے امیدوار شیخ سلمان نعیم کے بارے میں یہی کچھ کہا جارہا تھا مگر جب رزلٹ آیا تو زین قریشی کے حق میں تھا تاہم جیت کے حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا مگر شاہ محمود قریشی کو بیٹی کی جیت کیلئے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر آگے بڑھنے ہوگا اگرموصوف اسی طرح روایتی سیاست کے بل بوتے پر آگے بڑھتے رہے تو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس وقت سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے تمام بیٹے الیکشن کمپین اور مختلف برادریوں کی حمایت میں مصروف ہیں جبکہ اس کے برعکس شاہ محمود قریشی کا اکلوتا بیٹا زین قریشی کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
وسیب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں آباد کار ی کیلئے حکومت پنجاب نے فلاحی تنظیموں کے تعاؤن سے ماڈل ویلیج قائم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔اس حوالے سے ضلع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے 6علاقوں میں سرکاری رقبوں کی نشاندہی کیلئے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں جوکہ خوش آئند امر ہے کیونکہ ان دونوں اضلاع کے جو علاقوں سیلاب سے متاثرہوئے وہاں کے مکینوں کا معاشی حالت اس قابل نہیں ہے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت مکانات تعمیر کرکے وہاں دوبارہ آباد ہوسکیں۔اب حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ کرہی لیا تو اسے چاہیے کہ وہ سروے کے عمل کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرتے ہوئے ماڈل ویلیج پروجیکٹ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرائے اور مکانات کی تقسیم میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے کیونکہ اس حوالے سے2010ء کے سیلاب کے بعد مظفر گڑھ میں اسلامی برادر ملک ترکی کے تعاؤن سے بنائی جانے والی کالونی جس میں 1272گھر سیلاب متاثرین کیلئے بنائے گئے تھے مگر وہاں پر اصل حق داروں کو اُن کا حق نہیں مل سکا بلکہ آج بھی وہاں پر اشرافیہ قابض ہے اور سینکڑوں مکانات فروخت اور کرائے پر چڑھے ہوئے ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیرہ اور راجن پور کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بنائے جانے والے ماڈل ویلیج میں میرٹ پر سیلاب زدگان کو مکانات الاٹ کئے جائیں وگرنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور ایک بار پھر وہی لوگ نوازے جائیں گے جو پہلے ہی خوشحال ہیں۔
ٹرانس جینڈر ایکٹ کیخلاف درخواست کی سماعت میں وفاقی شرعی عدالت نے سینیٹر مشتاق احمد خان،فرحت اللہ بابر اور الماس بوبی سمیت دیگر افراد کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کرلی ہیں اور عدالت نے فریقین کو اپنی گزارشات تحریری طور پر جمع کروانے کی بھی ہدایت کی ہے جوکہ انتہائی خوش آئند امر ہے کیونکہ اس حوالے سے ملک بھر سمیت جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویژنزملتان،ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کی مذہبی،سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت عام افراد میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور وہ ا س ایکٹ کو غیر اسلامی و غیر شرعی قرار دیتے ہوئے ہم جنسی پرستی کو فروغ ملنے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔خواجہ سراؤں کے حقوق کے نام پر بننے والے ٹرانس جینڈر ایکٹ کیخلاف خود خواجہ سراء بھی سراپا احتجاج ہیں اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس حوالے سے گزشتہ روزتحریک تحفظ خواجہ سراء آل پاکستان ایسوسی ایشن نے چوک نواں شہر ملتان میں احتجاجی مظاہرہ اور پریس کلب تک تک واک کی جس کی قیادت مرکزی صدر شاہانہ عباس شانی کی۔مظاہرین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ خواجہ سراؤں کے نام پر فنڈنگ لے کر ہم جنس پرستی کو فروغ دیا جارہا ہے،ٹرانس جینڈر بل ایک دھوکہ ہے جو مخصوص طبقے کو تحفظ فراہم کرے گا،ہم بھی مسلمان ہیں پھر ہمیں ایکس کار ڈ بنا کر حج اور عمرے کی سعادت سے کیو ں محروم کیا جارہا ہے،واک میں خواجہ سراؤں نے ٹرانس جینڈر بل نامنظور کے نعرے بھی لگائے اورمرکزی صدر شاہانہ عباس شانی نے کہنا تھا کہ ٹرانس جینڈر بل صرف اور صرف خواجہ سراؤں کیلئے ہونا چاہیے تھا لیکن کسی کو خوش کرنے کی حد کردی گئی ہے اس بل میں عورتوں اور مردوں کو ہم جنس پرستی میں تحفظ فراہم کرتی ہیں وہ واپس لیاجائے، ہمیں معذور افراد کی طرح شناختی کارڈ پر نشان الاٹ کیا جائے اور حج و عمرہ کی زیارت میں ریلیف دیا جائے، ہم خواجہ سراء کسی بھی غیر شرعی حیثیت کے حامل نہیں ہوسکتے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker