اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا اختصاریہ : لاہور جلسے میں ‌نواز شریف کی تقریر ، اگر قسور رضی زندہ ہوتے ؟

آج پی ڈی ایم کا جلسہ دیکھتے ہوئے مجھے قسور رضی یاد آ رہے ہیں میرا ان کا تعلق بہت پرانا تھا لیکن ان کے ساتھ زیادہ قربت گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران رہی۔ وہ ادبی بیٹھک بننے کے بعد مجھے بہت تواتر کے ساتھ ملے اور ایسے والہانہ اندازمیں ملے کہ جیسے ہم برسوں سے اسی طرح ملتے ہوں۔ شاہ جی خود شعر نہیں کہتے تھے، خود افسانے یا کہانیاں نہیں لکھتے تھے لیکن وہ قاری بھی بہت اچھے تھے اورسامع بھی۔ بعض معاملات میں وہ بہت جذباتی تھے مذہب اورعقیدے سے ان کی وابستگی بہت شدید تھی اورپیپلز پارٹی کو بھی وہ عقیدہ ہی سمجھتے تھے۔ قسور رضی کی محبت بے لوث تھی۔ خوشی اوردکھ کے لمحوں میں شاہ جی ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ ادبی بیٹھک میں وہ بہت باقاعدگی سے آتے رہے اور کبھی جب ان تک میرا پیغام نہیں پہنچتا تھا توشکوہ بھی کرتے تھے۔ اس محبت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا کوئی غرض شامل نہیں تھی ہم دونوں ایک دوسرے کا احترام صرف اس لئے نہیں کرتے تھے کہ ہمارا کوئی مفاد وابستہ تھا۔ بس یہ ایک محبت تھی ایک کشش تھی جوشاہ جی کو ہمارے ساتھ اور ہمیں شاہ جی کے ساتھ جوڑ کر رکھتی تھی
ان کی زندگی کا پہلا دکھ ان کے بھائی کی موت کا تھا۔قسورضی کا بھائی شکیل شاہ پی ایس ایف کا سرگرم رکن تھا۔ یہ 1990 کی بات ہے جب مرکز میں بے نظیر بھٹو اور پنجاب میں نواز شریف کی حکومت تھی۔ آج جمہوریت کی بات کرنے اور اسٹبلشمنٹ کو برا بھلا کہنے والے نواز شریف ان دنوں اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر بے نظیر حکومت کے خاتمے کے لئے سرگرم تھے۔ قسور رضی کا بھائی اس زمانے میں پی ایس ایف کا سرگرم کارکن تھا۔ کالجوں میں پی ایس ایف اورایم ایس ایف کی باہمی کشیدگی عروج پرتھی۔ شکیل ایک جذباتی اور متحرک کارکن تھا اور جمیعت اور ایم ایس ایف کی نظروں میں بری طرح کھٹکتا تھا۔ پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی کے سرگرم رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون شروع کر رکھا تھا۔ ان کارکنوں کی پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی جاری رہتی تھی۔اسی دوران ملتان میں جمیعت کے دو کارکن بہرام اور رندھاوا قتل ہو گئے۔ مقدمہ درج ہوا تو مرکزی ملزمان میں اس وقت کے وفاقی وزیر ملک مختار احمد اعوان، سینئر رہنما اور ماہر قانون حبیب اللہ شاکر اور پی ایس ایف ملتان کے رہنماؤں خواجہ رضوان عالم، حیدر شاہ اور شکیل شاہ کا نام بھی شامل کر دیا گیا۔ گرفتاریاں ہوئیں تو قسور رضی کا بھائی شکیل جیل پہنچ گیا۔
شاہ جی کا امتحان شروع ہوا۔ پہلا دکھ ان کی جھولی میں آن گرا۔ قسور رضی بھائی کو بچانے کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف ہو گئے۔ اس قسم کے سیاسی مقدموں کا جو انجام ہوتا ہے وہی اس مقدمے کا ہو ا۔ سب بے گناہ ثابت ہوئے، شکیل شاہ جیل سے گھر واپس آ گیا۔ لیکن وہ اپنے ساتھ جیل سے نشہ لے کر آیا تھا۔ قسور رضی نے بہت کوشش کی کہ شکیل نشہ چھوڑ دے مگر شکیل اسی حالت میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ ایک نوجوان سیاسی کارکن کے جیون کی کہانی کا یہ درد ناک انجام تھا۔ قسور شاہ نے اپنے جواں سال بھائی کاجنازہ اٹھایا اس دکھ کو برداشت کیااوررفتہ رفتہ پھر زندگی میں واپس آ گیا۔ لیکن ابھی تو اس کی اپنی کہانی بھی درد ناک انجام کو پہنچنا تھی ابھی ایک اور صدمہ اس کا منتظر تھا۔
وفات سے تین برس پہلے ایک ایسا دکھ قسور رضی کی جھولی میں آن گرا کہ جسے سنبھالنے کی اس میں ہمت ہی نہیں تھی۔ شاہ جی کا جواں سال بیٹاعلی مشہد یونیورسٹی سے واپسی پر موٹرسائیکل حادثے میں جان کی بازی ہار گیا۔پھرشاہ جی نے گلگشت والامکان ہی چھوڑ دیا۔ وہ مکان کہ جہاں ان کے بیٹے اوربھائی کی یاد تھی۔
وفات سے تین برس قبل شاہ جی کے ساتھ ہماری ملاقاتیں نہ ہونے کے برابررہ گئی تھیں ہم جو انہیں تقریبات میں ملا کرتے تھے ہم جو انہیں ان کے ساتھ مشاعروں میں جاتے تھے یا کسی شادی کی تقریب میں ان سے ملاقات ہوتی تھی شاہ جی اب کہیں بھی نظر نہیں آتے تھے۔انہوں نے نوکری کو خیرباد کہا اور خود کو صرف اپنے بیٹے کی یاد کے لئے وقف کر دیا۔ شاہ جی سے اب تقریبات میں نہیں صرف جنازوں میں ملاقات ہوتی تھی ۔
پھر دو سال قبل جنوری کی ایک سرد رات میں وہ دکھوں سے آزاد ہو گئے لوگوں کے دکھ بانٹنے والا لوگوں کے دکھوں میں شریک ہونے والا مزدوروں اور محنت کشوں کی جنگ لڑنے والا بھٹو اور بے نظیر کا جیالا قسور رضی رخصت ہو گیا۔آج جلسہ دیکھ کر سوچ رہا ہوں کہ قسور شاہ زندہ ہوتے تو کیا اس جلسے میں جاتے اور نواز شریف کی تقریر پر کیا اسی طرح تالیاں بجاتے جیسے سب نے بجائیں ؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker