اختصارئےرفیعہ سرفرازلکھاری

خرد افروزی : ایک تحریک ایک نظریہ ۔۔ رفیعہ سرفراز

یہ سترھویں صدی کی خرد افروزی کی تحریک ہے ۔ جو پاپائیت کے فرسودہ اور پامال نظریات کا رد عمل تھا ۔۔اس سے پہلے عیسائیت کے بخشش کے سرٹیفکیٹ، پاپائت کے عروج کی یادگار ہیں۔ بادشاہت اور مذہب کے اشتراک نے انسانی اذہان پہ بے جا و ناروا پابندیاں لگا رکھی تھیں ۔۔ کسی کو سوال اُٹھانے کی اجازت نہ تھی جو بولتا اور اظہار کرتا پایا جاتا یا مار دیا جاتا یا سخت سزائیں اس کا مقدر ہوتیں۔ گلیلیو وغیرہ اسی دور میں ٹارچر ہوئے ، کوئی جان سے گیا اور کسی نے معافی نامہ دے کر جان بچائی۔ لیکن اپنے سوال اُٹھانے کے حق پہ پابندی قبول نہ کی۔



یہ وہ حالات تھے جن میں خرد افروزی کی تحریک پنپ رہی تھی۔ لوگ لگاتار سوال اُٹھا رہے تھے، مذہب و مذہبی معتقدات پہ ۔ سیاسی و مزہبی اشرافیہ کے کردار کو بھی زیر بحث لایا جا رہا تھا ۔ رد عمل میں پاپائیت کا باؤلا پن سامنے آیا قدامت پہ جبر کی حد تک اصرار اور عقل کو سوچنے سے روک دینا انسانی سماج میں کبھی ممکن نہیں رہا۔۔ مغربی معاشرے میں بھی اس کا رد عمل آیا ، اور پوری شدت سے آیا۔



مغربی سماج پاپائیت کے زیر اثر ہر نئے سوال ہر عقلی کاوش پہ سیخ پا ہونے لگا تھا لیکن یہ عقلی تحریک جن مفکرین کے ہاتھوں میں تھی ان کے جارحانہ ردعمل سے یورپ بھر میں خرد افروزی کی رو چل پڑی ۔۔۔ امانویل کانٹ، جان لاک اور والٹیئر نے اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچایا، آج کی جدید سائنسی ترقی ان کی مرہون منت ہے ۔ ان کی کاوشوں نے انسانی سماج کو توہمات و خرافات سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پہ گامزن کیا ۔ خرد افروزی کی اس تحریک کے اثرات دنیا بھر میں دیکھے گئے لیکن مغربی سماج اس سے زیادہ فیض یاب ہوا۔۔۔
ہمارے ہاں خرد افروزی کی انقلابی کوششیں کچھ زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارا معاشرہ قحط الرجال کا شکار تھا ، اور جو اہلِ عقل و دانش تھے انھیں ہمارے سماج اور ریاستوں نے سر اُٹھانے نہ دیا۔ جامد مذہبی فکر اور فیوڈل ازم اس کے سامنے بڑی رکاوٹ رہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی سر سید اور اس کے رفقاء اس جمود کے خلاف میدان میں اُترے اور عقل و دانش کے لیے کچھ راہیں ہموار کر گئے ۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker