بابا آ ج آ پ واپس کب آ ئیں گے جب شام کو آ نا تو میرے لیے گڑیا لے کر آ نا یہ ہے وہ سوال جو ان سانحہ مارچ کا میں شہید ہونے والے پولیس کے جوانوں کے بچوں نے ان سے کیا ہوگا جب وہ اپنی شفٹ تبدیل ہونے کے بعد ڈیوٹی پر جا رہے ہوں گے۔
یہ ہمارے ملک کے 11 روشن ستارے ملک کی حفاظت پر قربان ہو گئے اور ایک ایسے علاقے میں یہ متعین تھے جہاں جانتے تھے کہ ان کے ارد گرد صرف موت ہی ناچتی ہے زندگی تو ہے ہی نہیں ہاں البتہ وہ بہت سے معصوم لوگوں کی زندگیاں بچانے پر مامور تھے اپنی زندگی داؤ پر لگا کر اپنے خاندانوں سے دور اپنی فیملیوں سے دور کچھ شاید اپنی نزدیکی آ بادیوں سے بھی ہوں گے جو کچھ وقت پہلے اپنے خاندان کے ساتھ تھے ۔
وہ خوبصورت موسم جس خوبصورت موسم میں ہمارے خاندان کے لوگ پکوڑے اور جلیبیوں کی فرمائش کرتے ہیں وہ اس خوبصورت موسم میں اپنے بچوں کو اور اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر ہماری حفاظت پر مامور تھے اور اپنی ڈیوٹی پر جا رہے تھے جب انہیں موت نے ان کی خیر موت ایسی نہیں تھی ۔ شہید کی موت تھی لیکن شہادت کی موت ایک لمحے کے لیے چھوٹے بچوں سے ان کا والد بہت سی بہنوں سے ان کے بھائی بہت سی ماؤں کی گود کو اجاڑ دیتی ہیں اور بہت سی خواتین کے سہاگ چھین لیتی ہے لیکن قوم کو یہ بتا دیتی ہے کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے لیکن حقیقت میں اگر ہم ارد گرد دیکھیں تو بدقسمتی سے جب میں سوشل میڈیا پر بھی دیکھ رہا ہوں اور دیگر بھی کچھ ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں جو شدید قسم کی افسوسناک ہیں حالانکہ میرا ہمیشہ سے نظریہ یہ رہا ہے کہ سکیورٹی کی ڈیوٹی پر متعین کوئی بھی شخص کسی بھی قوم و ملک کے بڑے سے بڑے لیڈر یا بڑے سے بڑے بزنس مین سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ اپنے آ پ کو پیش کر رہا ہے گولی کھانے کے لیے کیونکہ چھوٹے سے چھوٹا ڈاکو چھوٹے سے چھوٹا چور یا گھٹیا سے گھٹیا دہشت گرد جب بھی کہیں پہ حملہ آ ور ہوتا ہے تو سب سے پہلا اس کا ٹارگٹ سکیورٹی پر متعین لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آ پ کو پیش کرتے ہیں اس کی گولی کے سامنے یا کوشش کرتے ہیں کہ ان کی گولیوں کا نشانہ وہ دہشت گرد بن جائے باقیوں کی باری بعد میں آتی ہے لیکن ایسے سنہرے جسموں اور خوبصورت ذہنوں کے متعلق جب اس طرح کی عجیب و غریب باتیں میں دیکھتا ہوں تو مجھے بڑا شدید افسوس ہوتا ہے۔
مجھے حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے وہ ایسا سوچ کیسے لیتے ہیں کہ وہ جوان وہ خوبصورت جوان جو ہمارے حفاظت کے لیے جا رہے تھے کچے کے علاقے میں جہاں پہ ڈاکو راج ہے اور اللہ جانے یہاں ڈاکو اتنے مضبوط کیسے ہو گئے مگر خیر یہ گفتگو بعد کی ہے لیکن اصل گفتگو ان لوگوں کی اس باتوں پہ ماتم ہے کہ سوشل میڈیا پر کی جا رہی ہیں میرے بھائی جس نے مارا ہے اس نے یہ نہیں دیکھا کہ مرنے والے کا نام کیا تھا ان شہداء میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن کا تعلق میرے مذہب سے نہیں ہے لیکن میری مٹی سے ضرور ہے میرے دیس سے ضرور ہے میرے ملک پاکستان سے ضرور ہے انہوں نے جب ان پر راکٹ برسائے ہیں تو انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ مرنے والے کا نام محمد منیر ہے یا اجے رام ہے بس اس نے تو راکٹ اس لیے برسائے ہیں یہ ملک کی حفاظت متعین جوان ہیں اور ان کو ہم نے زندہ نہیں چھوڑنا ۔لیکن ہمارے ہاں طنز کرنے والے اللہ جانے یہ قوم خدا نے کہاں سے پیدا کی یا ہماری غلطیوں کی پیداوار ہے یا ہمارے صبر کا نتیجہ ہے کہ ہم انہیں برداشت کیے چلے جا رہے ہیں لیکن ان کو شرم نہیں آ تی کہ ایک شہید ان کی ایک لاکھ لوگوں سے بلکہ ان کے تمام لوگوں کی سوچ سے بہتر ہے جو اپنے آ پ کو اس قوم و ملک کے لیے پیش کر رہا ہے چاہے وہ پولیس کا سپاہی ہو چاہے وہ بینک کا گارڈ ہو یا ہماری پاک آ رمی کا سپاہی ہو اگر آ پ ان شہداء کے چہرے دیکھیں چمکتے چہرے ہیں خوبصورت آ نکھیں ہیں اور ان کے ماتھوں پر لکھا ہوا ہے کہ ہم عام لوگ نہیں تھے ۔ اگر عام لوگ ہوتے تو شاید سانحہ نو مئی جیسی شرم ناک حرکت کی تاویلات پیش کر رہے ہوتے اگر ہم عام لوگ ہوتے تو سوشل میڈیا پر بیٹھ کر جرائم پیشہ افراد کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں اگر ہم عام لوگ ہوتے تو سیاسی تقسیم میں بٹ کر ملک کی عظیم اور مقدس ترین اداروں پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں ہم تو وہ لوگ تھے جن کو ہماری ماؤں نے جنا ہی اس ملک کی حفاظت کے لیے تھا ہماری ماں کی گود تربیت گاہ تھی اس عظیم مقصد کا جس کے مقصد میں اس دیس کی حفاظت اس ملک کی بہنوں کی عظمتوں کی حفاظت اس ملک کے بچوں کو اغوا ہونے سے بچانا ہمارے راستوں کو حفاظت سے سفر کرنے کے قابل بنانا اور ہماری سرحدوں پر موجود وہ دہشت گرد جو اس بات پر ہر وقت لمحہ تیار ہیں کہ کب اپنے علاقوں سے سب ہلالی پرچم کو ہٹا دیں یہ وہاں پر متعین ہیں ہمارے سبز لالی پرچم کی حفاظت کرتے ہیں یہ لوگ عام لوگ نہیں ہوتے نہ ہی انہیں عام لوگ سمجھا جائے بلکہ یہ تو خدا کے منتخب کردہ خاص لوگ ہوتے ہیں اللہ تعالی جن کو اس خاص مقصد کے لیے پیدا کرتا ہے اور وہ ان کو خاص ماؤں سے جنم دیتا ہے خاص ماؤں کی گود ہے جو ان کے تربیت کرتی ہے اور پھر یہ ہم اور پھر یہ قوم پر جانثار ہو جاتے ہیں لیکن کچھ ایسے شیطان صفت غیر ملکی پیسے پر پلے ہوئے ملک کے دشمن موجود ہیں جو ان کو اپنا مذاق بناتے ہیں لیکن یہ یاد رکھیے گا کہ یہ ملک ہمیشہ قائم رہنے کے لیے ہے جب تک ہمارے ہاں ایسے حلالی بچے موجود ہیں یہ ملک تا قیامت قائم رہے گا اور نیست و نابود ہوں گے ان کے گھٹیا ارادے اور نیست و نابود ہوں گے ان کی غلیظ اور اخلاقیات سے گری ہوئی سوچ کبھی کامیاب نہیں ہوگی ۔
فیس بک کمینٹ

