رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

جب یہاں آرٹ ہی نہیں تو آرٹس کونسلوں کی کیا ضرورت ہے : زوار حسین سے مکالمہ ۔۔ رضی الدین رضی

زوار صاحب کا یہ انٹرویو ہم نے 2003 ء میں کیا تھا ۔ یہ انٹرویو اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ انہوں نے اس میں دو ٹوک گفتگو کی۔ یہ ایک بڑے آدمی کی گفتگو ہے ، وہ آج سے پندرہ برس قبل فنون لطیفہ کی زبوں حالی کا ذکر کرتے تھے اور پاکستان میں آرٹ کے مستقبل سے مایوس دکھائی دیتے تھے ۔ یہ انٹرویو ہماری زیر طبع کتاب کا حصہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔
زوار حسین کے فن کی کئی جہتیں ہیں ۔ وہ بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور، مجسمہ ساز، شاعر اور آرٹ کے نقاد ہیں ۔ مختلف موضوعات پر ان کے 200 سے زیادہ مضامین مختلف جرائد میں شائع ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے سیکڑوں تصاویر بنائیں اور اپنی تصویروں کے ذریعے مناظر سے سچائی کو تلاش کیا۔ زوار حسین 1929 ء۔۔ میں پیدا ہوئے ۔ بچپن ہی سے مصوری کا شوق تھا ۔ میو سکول آف آرٹ اور سر جے جے سکول آف آرٹس سے فن مصوری کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی ۔ ان کی تصاویر لاہور کے عجائب گھر ، پنجاب یونیورسٹی سمیت پاکستان کی مختلف آرٹ گیلریوں میں موجود ہیں ۔ زوار حسین نے جنگ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں آرٹ کے مختلف پہلوﺅں پر تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا ۔
جنگ: آپ نے رنگوں کی شاعری بھی کی اور لفظوں کو بھی شعر کے قالب میں ڈھالا ۔ زیادہ آسانی کہاں محسوس ہوئی ؟
زوار حسین: میں دونوں میں آسانی سے کام کر سکتا ہوں ۔۔۔۔ ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت دشوار ہے کہ ان میں مشکل چیز کون سی ہے اور آسان چیز کون سی ہے ہمارے ذہن میں ایک آئیڈیل ہوتا ہے ۔ ہم اس کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ مجھ میں یہ خوبیاں کہاں سے پیدا ہوئیں تو اس کے بارے میں یہ کہوں گا یہ فن مصوری جو میرا پیشہ ہے اس کا ظہور بعد میں ہوا ۔ فن مصوری میں بہت سے فنون ہیں ۔۔۔۔ جو آرٹ مجھے پسند ہے وہ تصویر بنانا ہے ۔ اسے ایک علامت کی دنیا بھی کہا جاتا ہے ۔
جنگ: آپ نے کس سے متاثر ہو کر مصوری شروع کی ۔
زوار حسین : مجھے بچپن سے ہی مناظر کو دیکھنے کا شوق تھا ۔ قدرت کے جو خوبصورت مناظر ہیں یہ مجھے متاثر کرتے ہیں کیونکہ اصل دنیا فطرت ہے ۔۔۔۔ ہم تو اس کا مشاہدہ کرنے والے ہیں اگر دیکھا جائے اور اس کی قدردانی کی جائے تو ۔۔۔۔۔ فنکار بن جاتا ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں گھر میں جو صحن تھا اس میں مختلف پودے تھے ۔۔۔۔۔ میں ان پودوں کا بڑے غور سے مشاہدہ کرتا پودا خاک سے نکلتا تو میں بڑے غور سے اس کو دیکھتا ۔ حیران ہوتا کہ اس بے رنگ خاک سے یہ سرخ رنگ کا پھول کیسے نکلا۔ میں اکثر پھولوں کو توڑ کر سرخ رنگ نکالنے کی کوشش کرتا تھا میری شروع سے ہی فطرت سے بے پناہ دلچسپی تھی ۔ میں چڑیا کو بھی بہت غور سے دیکھا کرتا ۔ خصوصاً اس کی چھاتی کا ۔۔۔۔۔ چونچ کا رنگ اور اس کا بہت غور سے مشاہدہ کرتا ۔ اکثر میرے شوق کی انتہا اس قدر ہو جاتی کہ میں چڑیا کا شکار کرتا ۔ جب وہ مر کر گر جاتی تو میں اس کا بڑی تسلی کے ساتھ مشاہدہ کرتا ۔ ایک دفعہ میں نے لاہور سے رنگ منگوائے ۔ ان کو ٹیسٹ کرنے کے لیے مری ہوئی چڑیا کو ماڈل بنایا ۔ مجھے فطرت سے بے پناہ دلچسپی تھی اور میں نے فطرت سے متاثر ہو کر فن مصوری کا کام شروع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی مناظر میری مصوری کی علامت بن گئے ۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے جیسے جمیل نقش اپنی تصویروں میں کبوتر استعمال کرتے ہیں صادقین کیکٹس سے متاثر تھے ۔ میں درختوں سے بہت متاثر ہوں ۔ درختوں کا وجود اور اس کی صفات مجھے متاثر کرتی ہیں ۔ نشوونما درخت کی ایک نمایاں صفت ہے ۔ میں محسوس کرتا ہوں اگر میری نشوونما ہو رہی ہے تو میں زندہ ہوں اور خوش بھی ہوں ۔ جس دن میری نشوونما نہ ہوئی میں ذہنی طور پر مر جاﺅں گا ۔
جنگ: درخت آپ کے فن سے غائب بھی ہوا؟
زوار حسین: کبھی نہیں ، درخت میرے فن سے کبھی بھی غائب نہیں ہوا اگر شاعری میں غائب ہوا تو فن مصوری میں ظاہر ہو گیا لیکن وہ غائب نہیں ہوا ۔ یہ موضوع بڑا گہرا تھا ۔ درختوں کا تعلق دنیا بھر کی شاعری مابعد الطبیعات اور دیو مالا سے ہے ۔ کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں درخت موجود نہ ہوں ۔ شاعری نے درختوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے ۔ میرے لیے جو چیز زیادہ دلچسپی کا باعث بنی وہ یہ کہ اس کی اشکال بہت خوبصورت ہوتی ہیں اور ان میں ایک اشاریت بھی پائی جاتی ہے ۔ جیسے شاخیں اشارہ کرتی ہیں ، ان میں جھکنے اور اٹھنے کی ، سفر کرنے کی کیفیت موجود ہے۔ جاپان والے بھی درختوں کے بڑے قدردان ہیں ۔ انہوں نے قومی سطح پر فن مصوری میں جتنا کام کیا ہے اس میں درخت کو بنیادی اہمیت دی ہے ۔ ایک جاپانی نقاد نے بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ جب درخت کی شاخ خم کھاتی ہے تو اس میں پیچ و خم آتا ہے یہ اس کا اپنا نہیں بلکہ فطرت کا پیچ و خم ہوتا ہے ۔ یہ فطرت کی اپنی حرکات ہیں ۔ اگر ہم اس کا مشاہدہ کریں ، اس کے ساتھ چلیں تو ہم شاخ کا نہیں فطرت کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں ، ہم فطرت کا تعاقب کر رہے ہوتے ہیں اور شاخ کے جو محاصل ہوں گے وہ بھی ایک طرح کے شعر ہیں ۔ درخت خود بھی شعر ہے ، شاعر بالذات ہے ۔ یہ ایک صوفی بھی ہے ۔ میں درخت کو ایک نظریہ کے طور پر استعمال کرتا ہوں ۔ میرا زیادہ تعلق فلسفہ سے رہا ہے ۔ مصوری بھی پیچھے چلی گئی ہے ۔ اس پر میرے مختلف کام جلد سامنے آئیں گے ۔ ہمارے ماحول میں درخت کو ماحولیات نے بڑی اہمیت دی ہے۔ انسان نے فطرت کو آلودہ کر دیا ہے ۔ ہم پرندے بھون کر کھا گئے ہیں ۔آسمان کو پرندوں سے خالی کر دیا ہے۔ زندگی کو نہایت تلخ اور زہر ناک بنا دیا ہے ۔ میں اسے بہت زیادہ محسوس کرتا ہوں درخت ماحول کے تحفظ اور اس کی خوبصورت اور توانائی کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ان وجوہات کی بنا پر بھی میں درخت کی بڑی قدر کرتا ہوں ۔
جنگ: کیا آپ نے فن مصوری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے ؟
زوار حسین: جی ہاں۔ میں نے باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی ہے لیکن زیادہ کام میں نے اپنی ذاتی کوشش سے سیکھا ۔ میں نے 24 گھنٹے دن رات کام کیا ہے اس میں مطالعہ کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے ۔ ہمارے ہاں اکثر آرٹسٹ علم کے قریب بھی نہیں جاتے اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ میرا معاملہ بالکل الٹ رہا ہے ۔ میں نے پہلے کتاب کو اہمیت دی ۔ ایک انڈسٹری کے ڈائریکٹر میرے کام سے بہت متاثر تھے ۔ وہ اس وقت میو سکول آف آرٹ کے سربراہ تھے لیکن ان دنوں این سی اے نہیں تھا لیکن میو سکول آف آرٹ این سی اے سے بہت بڑا ادارہ تھا ۔ ایک سر جے جے سکول آف آرٹ تھا ۔ ان اداروں میں بڑے بڑے استاد زندہ تھے جن کا سایہ ان اداروں پر تھا جیسے عبدالرحمن چغتائی جنہیں ہم مصور ایشیاءبھی کہتے ہیں ۔ استاد اللہ بخش، ماسٹر میراں بخش یہ ان دنوں زندہ تھے اور باقاعدہ ان اداروں کا دورہ کیا کرتے تھے ۔ ماسٹر اللہ بخش میری پینٹنگ سے متاثر ہوئے انہوں نے اپنی جیب خاص سے مجھے رقم بھی دی ۔ پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس میں سب سے پہلی جو نمائندہ نمائش ہوئی ان میں میری پینٹنگز عبدالرحمن چغتائی اور ماسٹر اللہ بخش کی پینٹنگز کے ساتھ رکھی گئیں جنہیں دیکھ کر انہوں نے بہت تعریف کی اور میری حوصلہ افزائی بھی کی ۔
میو سکول آف آرٹ میں جو استاد تھے ان کا نام شیخ احمد تھا ۔ میں ان کی کلاس میں ڈیڑھ برس تک جاتا رہا ۔ مجھے ڈائریکٹر آف انڈسٹریز نے خصوصاً ان کے پاس بھیجا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ یہ آرٹسٹ پہلے ہے ۔ اس لحاظ سے آپ مجھے پیدائشی فنکار بھی کہہ سکتے ہیں لیکن میں نے اکتساب کو زیادہ اہمیت دی ۔ میرا شروع سے نظریہ تھا کہ کوشش اور محنت وجدان پر فضیلت رکھتی ہے ۔ وجدان کا ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ اگر ہم پر الہام بھی اترے تو ہم منتظر رہیں گے لیکن محنت میں آپ کسی کے پابند نہیں ہیں آپ ہر وقت محنت کر سکتے ہیں میں محنت کا بہت قائل ہوں ۔
جنگ: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اگر آپ لاہور یا کراچی میں ہوتے تو آپ کو ترقی کے زیادہ مواقع نہ ملتے ۔
زوار حسین : اگر میں لاہور، کراچی، پیرس یا لندن میں ہوتا تو کروڑ پتی ہوتا ۔ وہاں مارکیٹ کا ماحول ہے جو ہمارے ہاں نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں ملتان ، مظفر گڑھ یا علی پور آرٹ کی مارکیٹ نہیں بنا سکتے ۔ بڑے شہر میں ترقی کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ملتان میں رہنے سے مجھے بہت سے فائدے حاصل ہوئے مثلاً ملتان میں آرٹ کو نظرانداز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے آرٹسٹ تنہائی میں چلا جاتا ہے ۔ اگر انسان تنہائی میں چلا جائے تو محقق بن جاتا ہے ۔ بڑے شہروں میں آرٹسٹ کے پاس پیسہ آتا ہے تو وہ مختلف خصوصیات میں وقت ضائع کرنا شروع کر دیتا ہے ان کے فن میں گہرائی نہیں آتی ۔ میں نے اس صحرائی علاقہ میں رہ کر پچاس برس تک محنت کی ہے ۔ اگر میں اتنا وقت تعلیم پر لگاتا تو میرے پاس ڈاکٹریٹ کی دس ڈگریاں ہوتیں لیکن اپنے فن میں جو مقام حاصل کیا ہے وہ کوئی اور فرد حاصل نہیں کر سکتا۔
اگر میں آپ سے پوچھوں کہ فنون لطیفہ کے کسی بڑے نقاد کا نام بتا دیں تو آپ جتنا بھی زور لگا لیں آپ کسی بڑے نقاد کا نام لینے میں ناکام ہو جائیں گے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فن مصوری انسان کی پوری زندگی چاہتا ہے کہ انسان خود کو مکمل طور پر اس کے سپرد کر دے ۔ یہ ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ یہ فن بہت توجہ چاہتا ہے اس لیے میں بڑے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہمارے جو نقاد ہیں وہ سرسری سطح کے ہیں ۔ میں نے آج تک کوئی ایسا مضمون نہیں پڑھا جو تکنیکی طور پر صحیح ہو۔ جس میں TERMS کو درست استعمال کیا گیا ہو ۔ میں نے فن پر 50 برس محنت کی ہے ۔
جنگ: صادقین نے وقت کے ساتھ ساتھ خود کو تبدیل کیا وہ مصوری سے خطاطی کی طرف چلے گئے ہیں ۔آپ کا کیا خیال ہے کہ خطاطی کی طرف جانے سے صادقین اپنے فن میں موجود ہے ؟
زوار حسین: انہوں نے اچھا کام کیا ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اعلیٰ درجے کا کام کیا ۔
جنگ: ملتان میں مصوری کے فروغ کے لیے آرٹس کونسل نے کوئی کردار ادا کیا ۔
زوار حسین: کردار تو ضرور ادا کیا ہے لیکن یہ کردار مثبت نہیں منفی ہے ۔ آرٹس کونسل کی فضا تعلیمی ہونی چاہیے ۔ یہ فضا کسی ادارے میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس ادارے میں کچھ اہلِ علم حضرات موجود ہوں جو آرٹ کو سمجھتے ہوں ۔ یہاں ایسا نہیں ہے ۔ آرٹس کونسل کی جو فضا ہے وہ تھیٹر کی فضا ہے ، جیسے یہ کوئی سینماہو۔ فرض کریں اگر باہر سے کوئی آدمی آتا ہے جو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ملتان میں کون کون سے آرٹسٹ موجود ہیں تو کیا آپ اسے یہ کہیں گے کہ ہمارے پاس یہ 4 کروڑ کی آرٹس کونسل ہے ۔ اگر وہ کہتا ہے کہ مجھے ایک تصویر دکھا دیں جو صحیح بنی ہوئی ہے ہمارے پاس ایک بھی ایسی تصویر نہیں ہے جو فنی طور پر صحیح بنی ہوئی ہو ۔ آرٹس کونسل کے عملے میں ایک بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو آرٹ کے بارے میں ایک فیصد بھی جانتا ہو ۔ جب ایک آدمی کو خود ہی معلوم نہ ہو کہ آرٹ کیا ہے تو وہ کسی دوسرے آدمی کو کیا سمجھائے گا ۔ آرٹس کونسل میں مستقل کوئی آرٹ گیلری ہی نہیں کہ آدمی وہاں جائے پتہ چلے کہ کون کون کیا کرتا ہے ۔آرٹس کونسل میں جو کلاسیں شروع کی گئی ہیں وہ ہر مرتبہ بند ہو گئیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں ہے کہ آرٹس کلاس کیسے چلائی جاتی ہے ۔ آرٹ ٹیچنگ ایک علیحدہ مہارت چاہتی ہے ۔ ایسی ہزاروں باتیں ہیں ۔ آپ آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے وہاں جاتے ہیں جہاں آپ کو معلومات فراہم کی جاتی ہیں ۔ مختلف نمائشوں کا انعقاد کرایا جاتا ہے ۔ تو ایسی جگہ جہاں سرے سے کوئی معلومات ہی فراہم نہ کی جاتی ہوتو اس کا کیا فائدہ ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ جب ملتان میں آرٹ ہے ہی نہیں تو آرٹس کونسل کی کیا ضرورت ، ہمیں دارالترجمہ کی ضرورت ہے ۔ لائبریری کی ضرورت ہے تا کہ ہم پہلے یہ معلوم کریں کہ آرٹ کیا ہے ۔
جنگ: آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ ملتان میں آرٹ ہی نہیں ۔
زوار حسین : کام کرنے والے تو بہت ہیں لیکن وہ فنی طور پر صحیح کام نہیں کر رہے ۔ ملتان میں ایسا ایک بھی آرٹسٹ نہیں ہے جس کی تصویر کو معیاری قرار دیا جا سکے۔ مجھے آج تک کوئی ایسی تصویر دیکھنے کو نہیں ملی جسے میں پرفیکٹ قرار دے سکوں ۔ آپ اسے میری ذاتی پسند اور نا پسند مت سمجھئے گا ۔ میں صرف اپنے علم کی بنیاد پر ایسا کہہ رہا ہوں ۔
جنگ: یہاں بہت سے آرٹسٹ کافی عرصہ سے کام کر رہے ہیں ۔ استاد فدا علی نے کام کیا ، علی اعجاز نظامی نے کام کیا ۔
زوار حسین : یہ سینما پینٹرز تھے ۔ ان کی ایک علیحدہ کلاس ہے ۔
جنگ: جو لوگ خطاطی کر رہے ہیں ان میں ابن کلیم شامل ہیں ۔ راشد سیال ہیں ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟
زوار حسین: کیلیگرافی ایک علیحدہ موضوع ہے اس میں مصوری کی آمیزش بھی شامل ہے ۔ اس میں دوسرے لوگوں نے اوسط درجے کا کام کیا ہے لیکن اس شعبے میں جس شخص نے دلچسپی اور علم و عرفان کے ساتھ اعلیٰ درجے کا کام کیا ہے وہ ابن کلیم ہے ۔ اس نے ایک کتاب لکھ کر فن مصوری کی بڑی خدمت کی ہے ۔ ابن کلیم کا اس شعبے میں بہت ٹھوس کام موجود ہے لیکن آپ دیکھیں گے کہ آرٹس کونسل میں اس کی بھی نمائندگی نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں آرٹسٹ کی مدد کا تصور ہی موجود نہیں ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ آرٹسٹ خود معاشرے کی مدد کرے نہ کہ معاشرہ اس کی مدد کرے ۔
جنگ: آپ نے شاعری کے حوالے سے کہا تھا کہ جو غزل نہیں کہتا وہ شاعر نہیں ہے تو ن م راشد کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟
زوار حسین : ہم نے جتنا بھی اعلیٰ کلاسیکل کام کیا ہے وہ نظم میں نہیں غزل میں کیا ہے ۔ مثلاً ہم غالب سے کوئی نظم نہیں حاصل کر سکتے ان کا بہترین کام ان کی غزل ہے ۔ اسی طرح میر تقی میر نے بھی غزل میں بہترین کام کیا ہے ۔ غزل میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اسے زیادہ تر لوگ لکھ رہے ہیں ۔ آپ کہیں گے یہ خوبی نہیں ہے میں کہوں گا یہ خوبی اس لیے ہے کہ جب بہت سارے لوگ ایک جیسا کام کر رہے ہوں تو اس میں امتیاز حاصل کرنا اعزاز اور چیلنج کی بات ہوتی ہے ۔
جنگ: آپ کا کہنا ہے کہ شاعری کا تعلق فکر کی بجائے جذبات سے ہوتا ہے ۔ آپ اقبال اور فیض کی شاعری کے متعلق کیا کہیں گے کہ ان کی شاعری میں فکر کو استعمال کیا گیا تھا یا جذبات کو؟
زوار حسین : آپ اگر افلاطون سے ایلیٹ تک آئیں تو یہ ایک روایت رہی ہے کہ شاعری کو استعمال کیا گیا اپنے نظریات کے اظہار کے لیے ۔ شاعری کو نظریات کی تشہیر کے لیے آلہ کار بنایا گیا اس سے اس کی قدر و قیمت گر گئی ۔ فکر کا کام یہ ہوتا ہے کہ یہ ہدایت دیتی ہے اور جب یہ ہدایت دیتی ہے تو انسان محکوم ہو جاتا ہے ۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ انسان کسی کے تابع ہو کر شاعری نہیں کر سکتا ۔ فیض اور اقبال کے ہاں فکر کا عنصر بہت گہرا تھا ۔ فکر انسان کو منطق کی طرف لے جاتی ہے شاعری کا منطق سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
جنگ: کیا مصوری کا تعلق فکر کی بجائے جذبات سے ہے ؟
زوار حسین : ہمارا ذہن وحدت کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اس کے الگ الگ شعبے نہیں ہوتے کہ یہ عقل کا شعبہ ہے یہ فطرت ہے ۔ یہ تو ہم نے تقسیم کار کر رکھی ہے ۔ ذہنی عمل میں شعبہ کار کی تقسیم نہیں ہوتی ۔ جب ہم ایک کام کرتے ہیں تو ہمارا ذہن متاثر ہوتا ہے ۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ شاعر پر ان چیزوں میں سے زیادہ اثر کس چیز نے کیا ہے فیض نے شاعری میں خیالات کو آگے بڑھایا ۔ اقبال نے ایک متکلم کی حیثیت سے اسلامی خیالات کو بڑھایا ۔
جنگ : مستقبل میں آپ کی کونسی کتابیں منظر عام پر آ رہی ہیں ؟
زوار حسین : میں چلا تو کسی اور تلاش میں تھا، پہنچ گیا ہوں کسی اور ملک میں ۔ میں نے ایک سیکولر کے مفہوم پر خصوصی تحقیقی کام کیا ہے ۔ میں جو لکھا وہ دور جدید کی پہچان ہے اگر کہیں کوئی سیلاب آ جاتا ہے تو یہ جزوی خطرہ ہوتا ہے لیکن اس وقت دنیا کو کلی خطرہ لاحق ہے مثلاً یہ جو ایٹمی جنگیں ہوئیں جن میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے یہ ایک کلی خطرہ کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ جنگوں میں جب ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جائے گا تو پورا حیاتیاتی ماحول تباہ ہو جائے گا ۔ یہ ایک کلی خطرہ ہے ۔ کلی خطرے کو جو چیز آگے بڑھا رہی ہے کہ انسان کو ختم کیا جائے زندگی کو خطرناک بنا رہی ہے۔
جنگ: پاکستان میں فن مصوری کا مستقبل کیا ہے؟
زورا حسین : میری نظر سے دیکھیں تو پوری دنیا کا کوئی سرے سے کوئی مستقبل ہی نہیں ہے ۔ میں آرٹ کو آرٹ کی نظر سے دیکھتا ہوں ۔ مجھ سے جھوٹ نہیں بولا جاتا ۔ اگر کوئی آرٹسٹ جھوٹ بولتا ہے تو یہ اس کے لیے بڑی بدقسمتی کی بات ہے ۔ نپولین سے کسی نے سوال کیا تھا کہ فلاں فلاں لوگ کرپشن کرتے ہیں تو اس نے کہا یہ تو سب ہی کرتے ہیں اور اس طرح کی کرپشن ہر جگہ ہو سکتی ہے لیکن آرٹ میں نہیں ہو سکتی ۔ آرٹ کی اساس ہی سچائی پر قائم ہے ۔ ہمارے ہاں آرٹ کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ مثلاً 15 کروڑ کی عوام کے لیے کتنے میوزیم ہیں ، کتنے آرٹ کالج ہیں ۔ کیا ہمارے پاس اپنی زبان میں آرٹ کے متعلق کوئی کتاب ہے ۔ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہو گا ۔ اگر آپ پیرس میں جائیں تو ہر محلے میں آپ کو دو تین میوزیم ملیں گے اور اتنی لابرئریاں اور کتابیں ہوں گی کہ آپ کو کمپیوٹر کی ضرورت ہی نہیں ہو گی ۔ وہاں علم ہے ، ذرائع ابلاغ موجود ہے ۔ ہمارے ملک میں ایسا کچھ موجود ہی نہیں ۔ یہاں تو آرٹ ہے ہی نہیں ۔ اگر آرٹ موجود ہو تو ہم اس کے مستقبل کی بات کریں ۔ اگر آرٹ نہ ہونے کے برابر ہو تو اس پر گفتگو بے کار ہے ۔

روزنامہ جنگ 26 جون 2003 ء

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker