کسی کی فتح کا اس واسطے ساماں نہیں ہوتے
کہ ہم برباد ہوتے ہیں مگر ویراں نہیں ہوتے
مری آنکھوں میں اکثر جھانکتا ہے اس کو بتلاؤ
جو آنسو دل میں گرتے ہیں سرِمژگاں نہیں ہوتے
تری دھرتی پہ ہر دکھ کیلئے تیار رہتے ہیں
کسی بھی حادثے پر لوگ اب حیراں نہیں ہوتے
وہاں کلیاں نہیں کھلتیں وہاں خوشبو نہیں ہوتی
جہاں مقتل نہیں سجتے جہاں زنداں نہیں ہوتے
ہمیں چہرے سے اس کی کیفیت کو بھانپنا ہوگا
وہ لب اقرار کرتے ہیں مگر لرزاں نہیں ہوتے
غریبِ شہر کے در پر تو اک دستک ہی کافی ہے
جہاں دہلیز ہوتی ہے وہاں درباں نہیں ہوتے
جب اتنی ریڑیاں رگڑیں کوئی چشمہ نہیں پھوٹا
تو پھر کس کیلئے ہوجائیں ہم قرباں؟ نہیں ہوتے
( ستارے مل نہیں سکتے ۔۔ مطبوعہ نومبر 1999 ء )
فیس بک کمینٹ

