تجزیےعلی نقویلکھاری

ایمپائر کی حمایت میں ۔۔ بھٹو صاحب سے عمران خان تک ۔۔ علی نقوی

پاکستان میں فوج کو بُرا سمجھنا اور ان کے خلاف بات کرنا سیاسی شعور کی علامت سمجھا جاتا ہے، میری اپنی شہرت بھی فوج کے ایک ناقد کی ہے اور مجھے بھی ان کے سیاسی کردار، جوڑ توڑ حکومتیں گرانا، بنانا، بنا کے گرانا سب بہت بُرا لگتا ہے، مجھے بھی فوج کے مختلف کاروبار چبھتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود آج دل کر رہا ہے کہ کچھ دوسری طرف کی بات بھی کی جائے، یہ بات سچ ہے کہ ملکی معاملات پر کنٹرول اسٹیبلشمنٹ اور خصوصاً ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہے…. عموماً اس کی وجہ انکی طاقت بتائی جاتی ہے لیکن کیا اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ فوج ایک طاقتور اور حاملِ بندوق ادارہ ہے اور صرف بندوق کے زور پر وہ اپنی من مانی کرتی ہے یا اس کی اور بھی کچھ وجوہات ہیں، آئیے اس سب کو ذرا تفصیل سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں..
کہتے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح ایوب خان پر کسی وجہ سے برہم ہوئے اور اتنا برہم ہوئے کہ ان کو ڈھاکہ بھیج دیا گیا، لیکن واقفانِ حال کہتے ہیں کہ جناح صاحب کی زیارت منتقلی کے فوراً بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزدہ لیاقت علی خان نے ان کو واپس بلا لیا، افواہ تو لیاقت علی خان کے دورہ زیارت کے بارے میں بھی ہے جس کے بارے میں فاطمہ جناح نے اپنی کتاب My Brother میں لکھا کہ جب لیاقت علی خان بھائی کو مل کر واپس چلے گئے تو بھائی نے کہا کہ یہ میری طبیعت کے بارے میں پوچھنے نہیں آیا تھا بلکہ یہ دیکھنے آیا تھا کہ میں اور کتنے دن کا مہمان ہوں، کہا جاتا ہے کہ یہ دورہ بھی ایوب خان کی مشاورت سے کیا گیا تھا، تقسیم کے بعد انڈیا نے ریشین کیمپ جوائن کیا اور ہم نے امریکن اور سنا تو یہ بھی ہے کہ یہ فیصلہ بھی ایوب اور انکے آرمی میں موجود کچھ برٹش باسز نے کیا اور لیاقت علی خان نے اس پر بغیر کسی چوں چرا کے عمل کیا، اس وقت کے نامور رہنما وہی لوگ تھے کہ جنہوں نے تحریکِ پاکستان کے سرگرم ترین افراد کے طور پر جناح صاحب کے شانہ بشانہ کام کیا تھا لیکن انہی لوگوں کی موجودگی میں قرار دادِ مقاصد منظور ہوئی تو یہ لوگ نا جانے کیوں مزاحمت نہ کر سکے؟؟ یہاں تک کہ معاملہ جنرل اسکندر مرزا اور ایوب خان تک پہنچا اور اسکندر مرزا وہ ہیں کہ جو پاکستان کے سب سے معروف و مشہور جمہوری لیڈر قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو ایوانوں تک لے کر آئے اور بالآخر بھٹو ایوب خان سے متعارف ہوئے۔
قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامے میں لکھا کہ بھٹو میں بلا کی ذہانت تھی انہوں نے چند ہی دنوں میں ایوان صدر میں موجود چھوٹی سی لائبریری کو کھنگال کر رکھ دیا تھا ایک دن وہ میرے پاس بیٹھ کر کسی کتاب سے اقتباسات ٹائپ کرا رہے تھے کہ دن ایک بجے صدر اسکندر مرزا نے میرے دفتر میں آکر بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا I have a good news for you اور وہ گڈ نیوز یہ تھی کہ بھٹو کا نام اقوام متحدہ جانے والے وفد میں شامل کر لیا گیا تھا، قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ صدر مرزا کے جانے کے بعد بھٹو نے انگریزی ڈانس کی طرز پر رقص کرتے ہوئے میرے کمرے کے دو چکر لگائے اور اپنی مخصوص اردو میں کہا کہ میں اس راہ پر آیا ہوں تو تم دیکھنا کہ میں اب فارن منسٹری تک کی دوڑ لگاؤں گا، اور ایک سال کے بعد جو وفد اقوام متحدہ گیا بھٹو اس کے سربراہ بنے اس میں جہاں بھٹو کی چمکدار ذہانت، شاندار شخصیت اور خاندانی عظمت کا عمل دخل تھا وہیں دوسری طرف اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے بن چکے تھے، اس کا ثبوت وہ خط ہے جو امریکہ میں بیٹھ کر بھٹو نے اسکندر مرزا کے نام لکھا اور کہا کہ پاکستان کے لیے آپ کی خدمات گراں قدر ہیں اور تاریخ میں آپ کا نام قائداعظم سے بھی اوپر لکھا جائے گا، اسی طرح آپ کبھی ایوب کو کمال اتاترک اور کبھی جمال عبد الناصر سے ملا دیتے تھے تو کبھی کچھ لیکن خوشامد کی ایک واضح جھلک نظر آتی تھی ۔
میرا ماننا یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی اس ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے، باقی جو جو بھی ہے وہ کسی نہ کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کو گرانے یا کمزور کرنے کے لیے ہی سیاست میں لایا گیا لیکن اس سب کے باوجود کیا کوئی پیپلزپارٹی کا بڑے سے بڑے جیالا اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ صدارتی انتخابات کے موقع پر فاطمہ جناح کے خلاف جو مہم ایوب خان نے چلائی اس میں بھٹو صاحب کا کوئی کردار نہیں تھا؟؟ شاید اس سے انکار وہی کرے گا کہ جس نے یک رخی تاریخ پڑھی ہو یا پھر اس کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی چڑھی ہوئی ہو کیونکہ یہ بات اسٹینلے والپرٹ نے Zulfi Bhuto of pakistan میں لکھی کہ فاطمہ جناح نے بھٹو کو اسی وزرات پر موجود رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی کہ جس پر وہ کام کر رہے تھے لیکن شاید بھٹو صاحب کو یہ بات زیادہ پُر کشش نہ لگی، میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان توڑنے میں بھٹو نہ تو دلچسپی رکھتے تھے نہ ہی یہ انکا پلان تھا، لیکن جس رات ڈھاکہ میں جنرل یحییٰ نے شیخ مجیب پر شدید غصے کے بعد جنرل ٹکا خان کو “Sort them Out” کا آرڈر دیا اور خود کراچی روانہ ہوگئے… جس وقت صدر یحییٰ کا طیارہ سری لنکا کے اوپر سے گزر رہا تو پاکستانی فوج کے ٹینکوں نے پیش قدمی شروع کر دی تھی، انتظار اس بات کا کیا جا رہا تھا کہ صدر کا طیارہ جیسے ہی کراچی لینڈ کرے گا آپریشن “سرچ لائٹ” شروع کر دیا جائے گا، یہ ساری پیش قدمی بھٹو انٹر کاٹینینل ڈھاکہ کے سوئٹ کی کھڑکی میں کھڑے خاموشی سےدیکھ رہے تھے، جنرل ٹکا خان کی سربراہی میں ہونے والے اس آپریشن میں جنرل ٹکا خان کے اپنے بقول تیس ہزار اور بنگالیوں کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد افراد جان سے گئے آج بنگلہ دیش کے پرچم پر موجود سرخ دھبہ اسی رات کی یاد ہے، اس آپریشن نے جنرل ٹکا خان کو ہلاکو، چنگیز اور جنرل ڈائر جیسے سفاک لوگوں کے فہرست میں لا کھڑا کیا تھا، لیکن ہوا یہ کہ جس جنرل کو بنگالیوں نے بنگال کا قصاب کہا اسکو پاکستان میں شیر پاکستان کا لقب ملا، جب بھٹو صاحب کی حکومت تھی تو ان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مصطفی کھر نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل گُل حسن سے بھٹو صاحب کے حکم کے مطابق گن پوائنٹ پر استعفیٰ لے لیا تھا اور اس کے فوراً بعد جنرل ٹکا خان کو نیا آرمی چیف لگایا گیا اور وہ سن 1972 سے سن 1976 تک بھٹو کے آرمی چیف رہے اور بعد میں پیپلز پارٹی کے گورنر بھی بنے… وہ اپنی سروس کے دوران بھٹو کے یس مین رہے، اسی یس مین کی تلاش ان کو ضیاء الحق تک لے آئی کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک بار ضیا الحق نے ان کے احترام میں جلتی ہوئی سگریٹ پینٹ کی جیب میں ڈالی اور ایک بار جب ضیا الحق نے ان کے بوٹ صاف کرنے کی کوشش کی تو بھٹو کو لگا کہ یہ ٹکا خان کا صحیح جانشین ہو سکتا ہے، اسی لیے کبھی بھٹو ضیا کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کرتے “Where is my monkey general” تو کبھی کچھ اور جہاں بھٹو صاحب کی پھانسی کی اور کئی وجوہات ہیں مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ضیا الحق کو بھٹو سے ذاتی عناد بھی بے پناہ تھا جس کی وجہ بھٹو کا ضیا کے ساتھ روا رکھا جانے والا وہ رویہ بھی ہو سکتا ہے جو انہوں نے اس کے ساتھ روا رکھاتھا…
اسی طرح اگر قلم و قرطاس مجھے اجازت دے تو کئی کتابیں بنیں کہ جو میاں نواز شریف کی فوج کے ساتھ تعلقات کو واضح کر سکیں بچہ بچہ جانتا ہے کہ آپ کی سیاسی پیدائش صرف اور صرف جنرلوں کی چاپلوسی اور غیر مشروط حمایت کی مرہونِ منت ہے، ضیا کی خوشنودی کی خاطر جس جس طرح کی گھٹیا بات میاں نواز شریف اور انکے ساتھیوں نے بھٹو اور اسکی بیٹی کے متعلق کیں آج وہ باتیں سننا بھی شاید میاں صاحب کے لیے محال ہو، یہ تو آج ہم سوشل میڈیا دیکھ رہے ہیں اس وقت بینظیر بھٹو کی کردار کشی کے لیے جہاز سے بینظیر کی جعلی تصاویر پاکستان کے شہروں اور دیہاتوں میں گرائی جاتیں تھی اور اسکی کراد کُشی کی جاتی تھی اور اسی پمفلٹ پر آئی جے آئی کے لیے ووٹ بھی مانگا جاتا تھا اور یہ سب کام میاں صاحبان نے فوج کی حمایت میں کیے، الطاف حسین کو سندھ میں اور نواز شریف کو پنجاب میں پیپلز پارٹی توڑنے اور کمزور کرنے کے لیے ضیا الحق نے لانچ کیا…
بینظیر بھٹو پہلا الیکشن تو ووٹوں سے جیتیں اسی لیے ڈیڑ ھ سال میں انکو چلتا کیا گیا دوسری حکومت فوج کی حمایت سے ملی اس لیے وہ ڈھائی پونے تین سال نکال گئی لیکن جیسے ہی وہ اس ایجنڈے کے خلاف ہوئیں جو کہ ریاستی ایجنڈا تھا تو انہی کی پارٹی کے صدر نے انکو چلتا کیا، ان پر اور انکے شوہر پر کیسز بننے شروع ہوگئے اور آخر کار بینظیر کو جلا وطنی اختیار کرنی پڑی…
ستانوے میں نواز شریف کو فوج ہی نے ہیوی مینڈیٹ دلوایا اور جیسے ہی میاں صاحب نے فوج پر اپنا قابو بڑھانے کی کوشش کی تو ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا اور پرویز مشرف نے ان کو نشانِ عبرت بنا ڈالا، دو ہزار سات میں بینظیر شہید ہوئیں تو آصف علی زرداری نے ق لیگ کو قاتل لیگ کہا لیکن ہم نے دیکھا کہ اسی قاتل لیگ کے سربراہ پرویز الٰہی کو اسُی آصف علی زرداری نے ڈپٹی پرائم منسٹر بنا دیا یہ عہدہ ایجاد کیا گیا نہ اس سے پہلے یہ موجود تھا نہ اس کے بعد کوئی ڈپٹی پرائم منسٹر بنا، باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ مشرف کے خلاف جو وکلا مہم چلی اس کے پیچھے جنرل کیانی کا ہاتھ تھا اور پرویز مشرف سے جان چھڑانے کے عوض ہی ان کو انعام میں چھ سال کی سپہ سالاری آصف علی زرداری سے ملی…
باخبر لوگوں کا عمران خان کی سیاست کے بارے میں بھی یہی کہنا ہے کہ وہ بھی جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار کی پیدائش ہیں لوگ ان صاحب کو بھی ضیا الحق کی باقیات کہتے ہیں کیونکہ انکا دور کپتانی 1982 میں تب شروع ہوتا ہے کہ جب ضیا اپنی پوری قوت سے حکومت کر رہے تھے، عمران خان نیازی اس وقت کپتان بنا کہ جب اس سے سنئیر کئی کھلاڑی ٹیم میں موجود تھے، یہ محض اتفاق ہو سکتا کہ انکے کپتان بننے کے بعد ضیا نے خود کو کرکٹ بورڈ کا پیٹرن ان چیف مقرر کر دیا اور کرکٹ ڈپلومیسی کی ایک نئی اصطلاح استعمال تب ہوئی جب ضیا کرکٹ کا ایک میچ دیکھنے کلکتہ پہنچ گئے، عمران خان ریٹائرمنٹ لیتے ہیں تو ضیا انہیں روک لیتے ہیں، ضیا کے بعد وہ منظور نظر بنتے ہیں تو جنرل حمید گُل کے، اور اسکے بعد جنرل پاشا کے، نواز شریف کی گورنمنٹ کے خلاف دئیے گئے دھرنے میں بھی عمران خان کو عوام سے زیادہ بھروسہ امپائر کی انگلی پر تھا، اور 2018 کے انتخابات کا تو کیا ہی کہنا کہ آج تک کی تاریخ میں اس سے زیادہ مشکوک انتخابات نہیں ہوئے کہ جس میں فوج اور جوڈیشری نے کھل کر عمران خان کی حمایت کی، اور آج صرف دو سال میں عمران خان کی حکومت کا حال یہ ہے کہ اب گئی کہ تب گئی….
یہ ساری روداد لکھنے کا مقصد کسی کی توہین اور اہانت نہیں ہے بلکہ یہ بات باور کرانے کی کوشش ہے کہ جب سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کو عوام سے زیادہ بھروسہ خفیہ ہاتھ پر ہو، جب اقتدار کی راہ وہ پولنگ بوتھ کی بجائے GHQ سے تلاشنے لگیں تو عوام بھی اپنا نجات دہندہ فوج کو ہی سمجھیں گے، کس طرح عوام آپ پر بھروسہ کرے کہ جب عوام یہ دیکھ رہی ہے کہ میں جس کی حمایت میں اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کرتا ہوں وہ کبھی رات کے اندھیرے میں تو کبھی دن کی اجالے میں اسُی گیٹ کے باہر لائن میں کھڑا ہے تو وہ کس طرح آپ پر اعتبار کرے؟؟ حاصل بزنجو سینٹ کا الیکشن ہارتے ہیں باہر نکلنے پر رپورٹر پوچھتا ہے کہ یہ کون لوگ تھے جنہوں نے آپ کو ووٹ نہیں دیا تو فرماتے ہیں کہ یہ جنرل فیض کے لوگ تھے، سوال یہ ہے کہ حضرت آپ نے یہ تو بتا دیا کہ کس جنرل کے کہنے پر انہیں ووٹ نہیں پڑے لیکن ان کالی بھیڑوں کے نام آپ نے پھر چھپا لیے جو اب بھی سینیٹ میں موجود ہیں؟؟ ان باتوں سے عوام کا اعتماد سیاسی نظام پر سے اٹھ جاتا ہے، آج بھی ایک عام تاثر ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے کہ کون نہ جانے کب اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ کا کھلونا بن کر دوسرے کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دے، عوام پاکستان میں موجود ہر سیاسی جماعت کو اور ہر سیاست دان کو فوج کا پٹھو سمجھتی ہے چاہے وہ مذہبی جماعتوں کے سیاسی رہنما ہوں یا سیکولر، ہر سیاست دان اور ہر سیاسی جماعت یہ جانتی ہے کہ حکومتوں کو بہت سے کام فوج نہیں کرنے دیتی لیکن گالیاں وہ پھر بھی اپنی مخالف سیاسی جماعت کو ہی نکالتے ہیں نہ کہ فوج کو، اگر بلاول بھٹو اور شہباز شریف عمران خان کو مانتے ہی سلیکٹڈ ہیں تو پھر انکو کس بات پر برا بھلا کہتے ہیں اگر سلیکٹڈ کو گالی پڑنی چاہیے تو سلیکشن بورڈ کے بارے میں اپوزیشن کا کیا حکم ہے؟؟ لیکن عوام محسوس یہی کرتی ہے کہ ان میں سے ہر کوئی سلیکشن بورڈ کے بلاؤے کے انتظار میں ہے، وہ سلیکشن بورڈ کو برا بھلا اس لیے نہیں کہتے کیونکہ وہ خود لائن میں کھڑے ہیں اور نہ جانے کب کوئی سلیکٹر انکی باری لگوا دے، ایک دن ٹی وی بیٹھ کر عمران خان کہہ رہے تھے کہ نواز شریف سے فوج نے آئی جے آئی بنوائی اور اسی طرح آئی ایس آئی نے اسکو فلاں کام کے اتنے پیسے دئیے لہذا نواز شریف کرپٹ ہے…. مان لیا، عمران خان یہ بتائیں کہ نواز شریف تو اس لیے کرپٹ ہے کہ اس نے آئی ایس آئی سے پیسے لے کر کوئی کام کیا لیکن کیا عمران خان یہ جرات رکھتے ہیں کہ وہ پیسے دینے والی آئی ایس آئی کو بھی غلط کہیں؟؟ نہیں کیونکہ عمران خان جانتے ہیں کہ وہ بھی لائن میں کھڑے ہیں اور کسی بھی وقت انکا نمبر لگ سکتا ہے جیسے کہ لگ گیا ہے….
آج بلاول کہتے ہیں کہ احسان اللہ احسان چھوٹ گیا عمران خان کی گورنمنٹ کرپٹ ہے مان لیا لیکن بلاول یہ بتائیں کہ وہ تھا کس کی تحویل میں؟؟ یہ بات کرنے کی جرات شاید وہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ خود بھی شاید اسی لائن میں کسی پوزیشن پر کھڑے ہیں، ابھی شہباز شریف واپس آئے تو خبریں یہی تھیں کہ انکو وزارت عظمیٰ کا یقیں دلایا گیا تھا لیکن بات شاید معطل یا موخر ہوگئی….
آخر میں یہ کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں یہ ایکا کریں کہ ہم میں سے کوئی ایگریشن کی حمایت نہیں کرے گا چاہے وہ کسی کے بھی خلاف ہو تو شاید سیاسی نظام بہتر ہوجائے، جب تھوڑی سی عوامی حمایت حاصل کرنے کے بعد آپ یہ سوچنے لگیں کہ جنرل کا تو میں حشر نشر کر دوں گا، ریاست اپنے کسی بھی دو اداروں کے تصادم کے نتیجے میں مستحکم نہیں رہ سکتی اس بات کو سمجھنا اب ریاستی اداروں کے لیے بہت اہم ہو گیا ہے، کیا ملک ایسے بھی چل سکتا ہے کہ ہر وقت پارلیمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ اس طاق میں رہیں کہ کب ایک دوسرے پر کاری ضرب لگائی جا سکتی ہے، کب ایک دوسرے کو نیچا دکھایا جا سکتا ہے، کیا یہ ضروری ہے کہ ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے کہ جو دوسرے کی سبکی کا باعث بن سکتا ہو؟؟ اگر ملک کے اہم ترین افراد کی ساری توانائیاں اس طرح کی باتوں پر صرف ہو رہی ہوں تو نتائج یہی نکلتے ہیں جو مندرجہ بالا سطور میں درج کیے گئے ہیں، شاید اس ملک کے حالات کی ستم ظریفی نے اس ملک کے سیاسی لوگوں کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ اقتدار صرف فوج کی خوشنودی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، اس کی سب سے بڑی دلیل ہماری تمام سیاسی جماعتوں کی کارکردگی ہے وہ عوام کو اس لیے ڈلیور نہیں کرتے کیونکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ عوام کی اس ملک میں کوئی حیثیت نہیں ہے، عمران خان کو KPK کی گورنمنٹ ملتی ہے وہ اس پر توجہ نہیں کرتے لیکن اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر دھرنا ضرور دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ ووٹ سے نہیں بلکہ امپائرز کی انگلیوں کے اشارے سے ہی پرائم منسٹر بن سکتے ہیں،
کیوں بلاول سندھ کی چیف منسٹری نہیں سنبھالتے کہ پانچ سال وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے طور پر ڈیلیور کریں اگر پرفارمنس دکھا دی تو کون ہے جو انکو پرائم منسٹر بننے سے روک سکتا ہو؟؟ لیکن نہیں وہ ہر روز پریس کانفرنس کرنے اور عمران خان جیسے معذور اور بے بس وزیراعظم کو چیلنجز کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں..
کیوں مریم نواز کا ٹوئٹر خاموش ہے؟؟ کہاں ہیں وہ میاں نواز شریف کہ جو کل تک پنجاب سے تابوت نکال کر فخر کر رہے تھے اور آج لندن میں کافیاں پی رہے ہیں…
فوج اس ملک کا ایک ادارہ ہے جو بندوق کے ساتھ ساتھ شدید ڈیسپلن کا حامل ہے، جو اپنے لوگوں کی حفاظت کرتا ہے، جس کے اپنے اندر ایک سخت نظام انصاف موجود ہے، کوئی جنرل کبھی اپنے گندے کپڑے بیچ چوک میں بیٹھ کر نہیں دھوتا، جتنے مرضی اختلافات ہوں کبھی میڈیا کو کوئی بیان جاری نہیں کرتا، یہی وجہ ہے کہ وہ ملک کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں جن جن ملکوں میں فوج اپنی آئینی حدود میں رہتی ہے وہاں سب سے پہلے پارلیمنٹ آئین کی پاسداری کرتی ہے ان ملکوں کے ہر ادارے میں وہی ڈیسپلن دیکھنے کو ملتا ہے جو ہمارے ملک میں صرف فوج میں دیکھا جا سکتا ہے، آپ کے سول اداروں سے بھل صفائی تک نہیں ہوتی، آپکا تعلیمی نظام اتنا فرسودہ ہے کہ آپ آج تک قوم کو پولیو کے قطروں کی اہمیت و افادیت نہیں سمجھا سکے کہ آپ کی پولیو مہم کے ورکرز فوج کی حفاظت کے بغیر پولیو مہم مکمل کر پائیں.. آپکی مردم شماری فوج کے تعاون کے بغیر نہیں ہو پاتی، سیلاب یا زلزلے کسی سے بھی آپ کے سول ادارے نمٹ نہیں پاتے، یہ کام سیاسی و جمہوری طاقتوں کے کرنے کے تھے جو نہیں کیے گئے، ہر ادارے میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں، ہر ادارہ کرپٹ کیا گیا تو یہ تو ایک آفاقی اصول ہے کہ جو بھی اپنے طرز عمل میں زیادہ ڈیسپلن دکھائے گا وہ ہی حکمران ہوگا… اور جب تک سیاسی جماعتوں کو امپائرز سے زیادہ بھروسہ اپنی پرفارمنس اور عوامی حمایت پر نہیں ہوگا، یہ تسلط اور کنٹرول قائم رہے گا…..

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker