( بیک گراؤنڈ میں ٹھمری موہے پیا مِلن کی آس فیڈ ان ،فیڈ آؤٹ ہوتی رہے گی)
منظر 1:
ساس پین میں ابلتی ہوئی چائے اس کو ہیروئن کپس میں اُنڈیلتی ہے۔ دو کپوں میں ڈال کر انہیں لا کے میز پر رکھتی ہے میز کے ارد گرد دو کرسیاں رکھی ہوئی ہیں ایک کرسی پر خود بیٹھ جاتی ہے ایک کرسی خالی ہے.
موسم ابر آلود ہے اس اثناء میں بادلوں کی شدید گڑگڑاہٹ پیدا ہوتی ہے ہیروئن مضطرب ہو کر کھڑکی کا پردہ ہٹاتی ہے اور بجلی کی گرج چمک دیکھ کر پردہ بند کر کے واپس کیمرے کی طرف رخ کر کے کھڑی ہو جاتی ہے) ۔
منظر 2:
بے چینی کے عالم میں سیڑھیاں چڑھ کر بھاگتی ہوئی چھت پر جاتی ہے بارش برس رہی ہے وہ بارش میں نہانا شروع کرتی ہے۔
منظر 3:
ہیروئن اسی کرسی پر بیٹھی ہے جہاں وہ دو کپ چائے رکھ کر گئی تھی خود کلامی کے انداز میں کہتی ہے
آہ چائے ٹھنڈی ہو گئی اور اپنا رنگ بھی بدل چکی ہے.
(شعوری وجود اور ہیروئن ان دونوں کے بیچ مقالمہ شروع ہوتا ہے)
جو کرسی پہلے خالی دکھائی گئی ہے وہاں پر ایک سایہ نظر آئے گا وہ سایہ شعوری وجود کا ہے۔
ہیروئن کے دماغ میں ایک نظم چل رہی ہے۔
اداس موسم کے رتجگوں میں
ہر ایک لمحہ بکھر گیا تھا
ہر ایک رستہ بدل گیا تھا
پھر ایسے موسم میں کون آئے
کوئی تو جائے
ترے نگر کی مسافتوں کو سمیٹ لائے
تری گلی میں ہماری سوچیں بکھیر آئے
تجھے بتائے کہ کون کیسے
اچھالتا ہے وفا کے موتی
تمہاری جانب کوئی تو جائے
مری زباں میں تجھے بلائے تجھے منائے
ہماری حالت تجھے بتائے تجھے رلائے
تو اپنے دل کو بھی چین آئے
مکالمہ:
شعوری وجود: کیا سیراب ہو گئی ہو؟
ہیروئن : بھیگ گئی ہوں اپنے ہی جزبات کی پھوہار میں برسوں سے جیسی صحرا تھی اب بھی ویسی ہی صحرا ہوں۔
شعوری وجود: تم کہہ رہی تھی تم نے کچھ پا لیا ہے وہ کیا ہے
ہیروئن: ایک سچ… میرا نہیں کسی اور کا سچ!
میں دو کپ چائے بنا لائی اور دونوں کپ میز پر رکھ دیے۔ آج تو میں نے بھی ٹھان رکھا تھا، اپنی بندگی کا صلہ مانگوں کی۔ میری ہاتھ کی خوش بو دار چائے پیے گا ۔میں لمس کی ترسی، اسے اپنے سامنے بٹھاؤں گی۔ محسوس تو کئی بار کیا تھا، مگر آج چھو کے دیکھوں گی۔(نیم دیوانگی کے عالم میں )دیکھو دیکھو دو پیالی چائے بنا کر لائی تھی۔ پیالی میں چائے کا رنگ بدل چکا ہے ۔ کہاں ہے وہ؟۔
شعوری وجود: بیچارگی کی تصویر ہا ہا ہا ۔۔۔اور تمہارا سچ؟
ہیروئن: لمس کی چاہت، دید کی آس، ہم کلامی، اپنے نفسانی جزبات کی تسکین
شعوری وجود: (طنزیہ سی مسکراہٹ کا تاثر دیتے ہوئے)
تو کیا عبادت سے ہو گئی تمہاری یہ خواہشات پوری؟
ہیروئن : دھوکہ سب دھوکہ!
ایک فریب بڑے دل فریب انداز سے میرے دل میں اتارا گیا کہ اس سے لو لگاؤ، سب مل جائے گا۔
شعوری وجود: میں کہتی تھی اس جال سے نکلو ۔تم مگر تم نے دنیا والوں کی بات رکھی اور میری عرضی نہ سنی۔
ہیروئن: لیکن میں آج جان گئی ہوں ہم دونوں کا کوئی میل نہیں.
شعوری وجود : وہ کیسے؟
ہیروئن: بس ایسے ہی میں اکیلی بھیگتی رہی اور سیراب نہ ہوئی اور وہ میرے ساتھ ایک کپ چائے تک نہیں پی سکا۔ وہ ارشِ بریں کا مالک ہے اور میں۔۔۔
شعوری وجود: ہاں تم سدا کی مجبور بشر، خواہشوں کی اسیر، کسی کی سرگوشی کرتی چھوئن کی پیاسی۔ کردی نا آج ایک اضافی چائی کی پیالی اور موسم نے تمام حقیقت آشکار کہ تم دونوں کی دنیائیں الگ ہیں آخر چاہتی کیا ہو تم؟ کیوں دے رہی ہو خود کو دھوکہ؟ نکلو اس بھرم سے۔
تمہاری دولت اور جائداد تمہارے پیروں کی زنجیر ہے جس کا دوسرا سرا تمہارے گھر کے مردوں نے مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے ۔ اللہ سے لو لگوا کر تمہیں جکڑ دیا گیا ہے ۔ کنواری بیوہ ۔۔۔ نہیں کنواری لاش ہو تم ۔ ایک چلتی پھرتی لاش۔ جس کے حصے کا رزق اس کے بھائی کھا رہے ہیں ۔قرآن کے ساتھ شادی ہو یا ترک دنیا کے بعد اللہ سے لو لگانا ۔ سب کچھ مردوں نے اپنے فائدے کے لیے ایجاد کر رکھا ہے اور عورت کو کھا جاتی ہے تنہائی کی دیمک ۔ ابھی بھی دیر نئی ہوئی ۔تم میں تمہارا بہت کچھ باقی ہے ۔
ہیروئن: ہاں ٹھیک کہتی ہو تم وہ تنہا ہے اور تنہائی اسی کو ہی زیبا ہے،. وہ ہر خواہش سے بے نیاز ہے مگر میں وجودیت میں لپٹی خواہشات کی اسیر، جزبات سے مغلوب… میرا اور اس کا کوئی جوڑ نہیں میں خاک سے بنے انسان کو ٹھکرا کر کیسے اس وجود تک پہنچ سکتی ہوں جو ہر قسم کی خواہش سے ماورا ہے۔ میں انسان ہوں میں خاکی ہوں مجھے خاکی چاہیے جو میرے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر میرا ہم سفر بن سکے۔
آج اپنے انسان ہونے پر ایمان لے آئی ہوں ۔
سایہ غائب ہو جاتا ہے ۔
ہیروئن: ( فون اٹھاتی ہے نمبر ملاتی ہے)
جاوید تم نے کہاتھا کہ میرے ساتھ کافی پینا چاہتے ہو تو آ جاؤ کافی پینے چلتے ہیں۔
دوسری جانب سے آواز:بہت مصروف ہوں آج ۔ پھر کبھی ۔
آخری منظر :
ہیروئن وضو کر کے ہار سنگھار کر رہی ہے
اور جائے نماز بچھا رہی ہے
بیک گراؤنڈ میں گیت بجتا ہے۔۔۔کاگا سب تن کھایو۔۔۔
فیس بک کمینٹ

