میری نظر سے ایک تحریر گزری کہ سائنسدانوں نے ہو شربا انکشافات کر دیئے کہ زمین بہت جلد تباہ ہونا شروع ہو جائے گی اور گویا قیامت کی پیش گوئی کر دی ہے ۔ مگر میں سوچ رہی ہو ں کہ جس تباہی سے ہم نبرد آزما ہیں وہ قیامت ہی تو ہے کہ جہاں لوگ پوچھنے لگیں کہ اللہ پاک نے ہمیں پاکستان میں پیدا کیا ہے تو کیا اب بھی روز قیامت سزا بنتی ہے۔
چلیں اسے مزاح کے طور پر لیں مگر کس قدر سنگین رُلا دینے والا مزاح ہے ایسے جان لیوا حالات کا کبھی سامنا نہیں ہوا۔ جو پچھتر 75سالوں میں یہ سال گزرا پارٹیاں ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست میں مصروف ہیں اور غریب کی ہر رات سوچتے بسر ہو رہی ہے کہ بچوں کو بھوک تو صبح بھی لگے گی ۔تب کیا کروں گا ۔مگر ہم ابھی تک ہوش میں نہیں آنا چاہتے کسی نہ کسی سیاستدان کا عشق ہماری ہڈیوں تک میں سرایت کر چکا ہے ہم کیوں سوچیں کہ یہ لوگ مل جُل کر میری ماں دھرتی کی بربادی میں اپنا اپنا حصہ ڈال چکے ہیں ۔
میرے وطن کے باسیو اب آنکھ کھولو ورنہ ہم بیٹیاں نیلام کرنے کی نوبت کو پہنچ جائیں گے ،جانتی ہوں یہ بہت سخت جملہ ہے مگریہی حقیقت ہے۔ بس کردیں کرپٹ سیاستدانوں کی غلامی، چند کرپٹ جرنیلوں کے عشق میں مبتلا نہ ہوں حقائق آپ بھی جان چکے اورمیں بھی یقین کیجئے صرف چندلوگ ہیں جواپنے اپنے مفادات کی خاطر دنیا کی منڈیوں میں میرے آپ کے بچوں کے مستقبل کو نیلام کرتے ہیں ا وران کے چند حواری اپنے ماہانہ وظیفوں کے لیے آپ کوغلط کہانیاں سناتے ہیں۔
جب بھی کوئی کھلواڑ کا منصوبہ بنتا ہے پہلے میڈیا کو بیانیہ بنانے کے لیے خریدوفروخت ہوتی ہے۔ اس لیے ایک بزرگ نے کہاکہ موجودہ دور کادجال میڈیا ہے جو سیاہ کو سفید بناسکتا ہے۔ کوئی ناحق قتل بھی ہو جائے اس کوغلط رنگ دے سکتا ہے۔یہ مرے ہوئے لوگ ہیں جوزومبی بن چکے ہیں ان میں جذبات توہیں نہیں اس کے دماغوں میں صرف نوٹ دکھائی دینے والی چپ لگی ہے۔ مت سنیں ان کوحالات کااندازہ خود کریں۔ ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ ہمارے علماءاربوں پتی ہیں جس پستی میں ہمیں دھکیلا جائے ان کے دماغوں میں بھی نوٹوں والی چپ لگی ۔وہ غربت کو آپ کی قسمت بتاتا ہے اور گھر جا کر ڈیڑھ لاکھ کے بیڈ پر استراحت فرماتا ہے ۔
چلیں اس بات پہ آجاتے ہیں کہ بزرگوں نے کہا ہے کہ تمہارے اعمال تم پر حکومت کرتے ہیں ۔ہم خود کو بدلتے ہیں تو پھر بھی مرتے ہیں بجلی ،گیس ،پانی ہر بل پر سُود دینے کے لیے مجبور ہیں ہسپتال میں جان بچانے والی ادویات نہیں شوگر ،بلڈپریشر کے مریض کو ڈاکٹر کہتا ہے روٹی کھانا بھول سکتے ہو مگر دوائیاں نہیں ۔مگرغریب کیسے خریدے ۔پاکستان میں کچھ بھی نہیں بنتا جہاں موبائل کارڈ تک باہر کے لوگ مہیا کرتے ہوں کیا آپ ان سیاستدانوں سے سوال کریں گے جن کے آگے بھنگڑے ڈال کر ناچتے ہو۔ کہ یہاں انڈسٹری کیوں نہ لگی اور نوبت تم لوگ یہاں تک لے آئے کہ جن لوگوں کی گنی چُنی فیکٹریاں تھیں وہ بھی اُکھیڑ کر بنگلہ دیش جیسے مُلک لے گئے کہ ان کے دو ٹکے آپ کی کرنسی پر بھاری پڑ گئے اور ہم دو ٹکے کے ہو گئے ۔خُدارا صرف ایک کام کر لیں ہر شخص اپنے گھر کو دیکھے کہ میرے گھر کی حالت کے ذمہ دار کون لوگ ہیں ۔اپنے بیٹوں کو دیکھیں جو تعلیم کے باوجود بے روزگار اور سیستدانوں جرنیلوں افسروں کے بیٹے پیدا ہوتے ہی اربوں کی جائیدادوں کے حصے دار ۔بس کر دیں اب واقعتاَ بس کر دیں اپنے اوپر نہیں اپنی اولاد پر رحم کریں اپنی طاقت کا ادراک کریں پاور آپ لوگوں کے پاس ہے کتنی دھاند لی کر لیں گے ۔درست لوگوں کی شناخت کریں تقدیر بھی آپ کو نہیں ہرا سکتی یقین رکھیں ۔لیکن تا حال یہ بہت مشکل ہے کیونکہ ہم خود کو بدلنا نہیں چاہتے ۔
ہم وہ قوم بن چکے ہیں کہ ہمیں بے شک جوتے مارو مگر جوتے مارنے والے بڑھا دو ،اپنے حق کے لیے کھڑے ہونا ہماری سرشت میں نہیں ہے یوں ہر حکومتی طبقے کو ہم وارے آتے ہیں ہمیں میرٹ پہ کام کرنے والا جج سُوٹ نہیں کرتا اس لیے وکلاءہی اس سے جان چھڑانا چھتے ہیں ۔ہم اسے افسر ہی نہیں مانتے جس کے پیچھے پروٹوکول کا کارواں نہ ہو ،گاڑی سے اترے تو ایک نوکر بھاگ کر دروازہ کھولے دوسرا چھتری سر پہ لیے کھڑا ہو ۔ ہم انگریزوں کے غلام صرف آقاﺅں کے آگے ناچنا پسند کرتے ہیں ملک میں بھوک ننگ کا رقص جاری ہے اور حکمران کبھی وڈیو وڈیو کھیلتے ہیں اور کبھی آڈیو آڈیو ،بد حالی اس نہج کو پہنچ چکی کہ لوگ اب ایک کلو آٹے پر ووٹ دیں گے اور یہی ہے حکمران طبقے کی منشا۔
فیس بک کمینٹ

