وقت اک ایسا خود سر اور بے لگام گھوڑا ہے جس میں زندگی کے لمحے ہاتھ سے ریت کے ذروں کی طرح سرکتے جا رہے ہیں ۔
بچپن کا اک دھندلا عکس گرمیوں کی دوپہر اور پگڈنڈیوں پہ بیٹھے پرندے کی چہچہاہٹ اور درختوں کے ٹھنڈے سایے میں دن تمام کرتے گاٶں کے سادہ لوح لوگ ۔
گاٶں کی زندگی اس کا کھرا پن اک نیا جہاں تھا ۔جو کئی جہات کھول دیتا ۔ قدرت کو قریب سے دیکھنا اور ہر روز بدلتے موسموں کے دل فریب مناظر ۔
آموں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بالٹیوں میں نلکے کا تازہ پانی نکال کے رکھ دیا جاتا اور پھر رات کے کام سے فارغ ہو کے سب خاندان کا ایک ساتھ بیٹھنا اور اپنوں کے ساتھ آموں سے لطف اندوز ہونا ۔بچوں کا آپس میں گٹھلی پہ ضد کرنا اور ماوں کا چا لاکی سے گٹھلی سے چھری کو رگڑ کر کاٹنا ۔
سرسوں کے کھیت اور اس میں لگے پھول توڑنے جب لڑکیوں کی ٹولیاں آتیں ان نازک کلاٸیوں میں چوڑیوں کی چھنچھنانٹ تازگی کا احساس جگا دیتی ۔
وہ صبح صبح نیم بیدار آنکھیں اور کانوں میں رس گھولتی مدھانی کی چھل چھل خوبصورت جہاں میں لے جاتی تھی۔
راتوں کو بیٹھک میں گھر کے چھوٹے بڑوں کا گھنٹوں بیٹھنا اور چاۓ کا خاص اہتمام ہونا ۔گاٶں کے احوال یا دن بھر کے گزرے لمحوں میں اچھے برے لمحے پہ بات کرنا ۔
خوشی اور دکھ میں بزرگوں کے فیصلوں کو مقدم جاننا ۔
کچی بستیوں میں پکے اور کھرے دل کے لوگوں کا رہنا ۔بارش میں بھیگی زمین کی خوشبو اک سکون تھا اس میں ۔
لیکن وقت نے ایسی دوڑ لگائی کہ سب بدل گیا ۔لوگ اپنے فیصلے بزرگوں کی راۓ بنا کرکرنے لگے ۔۔۔۔یہ کچی بستیاں پکے مکان بن گئے گھر جو خاندان سے تھا وہ گھر گھر نہیں مکان بن گئے ۔ان مکانوں میں بزرگ رہ گیے اور بچے وقت کی دوڑ میں اتنا آگے نکل گیے کہ ان کے لیے اپنائیت ضروریات زندگی پوری کرنی کے لیے چند سکے دیارِ یار سے بھیج دینے کا نام ٹھہری۔
اک زمانہ تھا خط لکھے جاتے تھے اور پڑھنے والا بڑے اہتمام سے اس کو پڑھتا سنبھال کے رکھتا ۔لمس کا احساس ہوتا تھا جب جب کھول کے پڑھا جاتا یوں لگتا وہ پیارا سامنے بیٹھا مخاطب ہو ۔
لیکن رفتہ رفتہ یہ روایت بھی دم توڑ گئی ۔فون پہ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے اپنوں سے بات کر سکتے ان کو دیکھ سکتے ۔لیکن وہ انتظار جو خط کا تھا اور لمس کی خوشبو کا احساس وہ ماند پڑ گیا ۔
ہم آگے نکلنے کی دھن میں ایسے مگن ہوۓ کے اپنے لمس کے بھوکے بزرگوں کی آنکھوں میں وحشت زدہ اداسی دیکھ ہی نہیں پا رہے ۔چند ٹکے اور کبھی دومنٹ کی کال کر کے سمجھتے کے فرض ادا کر رہے ۔زندگی بہت مختصر ہے ۔لیکن یہ مختصر زندگی اپنوں کی قربت سے ہر لمحے کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔
لیکن یہی اپنوں کی دوری ہر لمحے کو حسرت سے بھر کر اذیت ناک بنا دیتی۔
اور پھر دیارِیار سے آتے ہیں زمین بوس ہوۓ اپنوں سے ملنے ۔ہاہاہا
زندگی میں قدر کرنا سیکھیے اس ترقی کی بھیڑ میں اتنا گم ہوں کے اپنے جیتے جی مرا ہوا نہ سمجھیں ۔بس لوگ وقت کے بے لگام گھوڑے پہ سوار اپنی صفات کو کہیں دفن کر چکے ہیں جن سے کبھی ان کو محبت تھی ۔
فیس بک کمینٹ

