اختصارئےسرائیکی وسیب

صلاح الدین کیسے واردات کرتا تھا ؟۔۔۔تصویر کا دوسرا رخ ۔۔ ملک حیدر

یہ ATM حبیب بنک وحدت روڈ لاہور کی ہے 7 :15 منٹ پر داخل ہونے والے شخص کی رہائش بھی ساتھ وارث کالونی میں ہے اور ساتھ کھڑا شخص صلاح الدین ہے جو پولیس تشدد سے ہلاک ہوچکا ہے یہ نہ تو ذہنی مریض تھا نا ہی گونگا یا اللہ لوک ۔ یہ گونگا بننے کی اور اشاروں سے بات کرنے کی اداکاری کر رہا تھا۔



طریقہ واردات یہ تھا کہ سب سے پہلےوہ جہاں سے پیسے نکالے جاتے ہیں وہاں پر سلپ کی پرچیاں گھسا دیتا ہے تاکہ پیسے باہر نہ آسکیں اور اس کے بعد مشین کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کے اندر وائس ڈیوائس رکھے وہ نہیں ٹوٹتی تو مشین کی بیک سائیڈ پر ایک ڈیوائس چھپا دیتا ہے اور اسکا ریموٹ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور ایک کارنر میں کھڑا ہوجاتا ہے اور پاسورڈ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ریموٹ دباتا ہے تو وائس ڈیوائس سے آواز آتی ہے ” آپ کا کارڈ کیپچر ہوگیا ہے برانچ سے رابطہ کریں“



اس وقت برانچ بھی بند ہوتی ہے وہ بندہ باہر جاتا ہے تو یہ فوراً کارڈ نکالتا ہے اور باہر نکل جاتا ہے ۔ پاس ورڈ بھی اس کے پاس ہوتا ہے کارڈ بھی اس کے پاس ہوتا ہے کسی بھی دوسری برانچ سے جا کے پیسے نکلوالیتا ہے یہ بندہ جو 7:15 پر داخل ہوتا ہے اس کے اکاؤنٹ سے اس بندے نے کریم بلاک برانچ الائیڈ بنک سے 7:35 منٹ پر 25000 ہزار کی 2 ٹرانزکشن کیں اور 50 ہزار نکلوا کر لے گیا صرف 20 منٹ میں۔



لیکن پولیس تشدد کی اجازت پھر بھی نیں دی جاسکتی نہ ہی ماورائے عدالت قتل کی ۔ میرا اعتراض ایسے شخص کو ہیرو بنا کر تحریک میں زور لگانے پر ہے ہیرو درست چنتے تو شائد پولیس ریفارمز ممکن ہوتیں اب اس کی متنازعہ شخصیت تحریک کوختم کرنےکے لیے کافی ہے

یہ ویڈیو 2017 کی ہے اور اس وقت سے تا حال مسلسل ہزاروں لوگوں کو ان کی حق حلال کی کمائی سے محروم کر دینے والا اور نہ جانے کتنے تنخواہ دار لوگوں کی پورے ماہ کی تنخواہ نکال کر ان کو اور ان کی پوری فیملی کو بھوک اور افلاس میں جھونک دینے والا انسان غلط رپورٹنگ اور جھوٹے پراپیگنڈے کی وجہ سے قوم کا ہیرو بن گیا بالکل اسی طرح جس طرح ہم ہمیشہ ملک لوٹنے والے چور ٹھگ لوگوں کو ووٹ دیکر اعلیٰ ایوانوں تک پہنچا دیتے ہیں اور اللّہ سے شکایت کرتے ہیں کہ وہ آخر کیوں ہمارے ملک پر رحم نہیں فرماتا۔ کیونکہ ہم رحم کھانے کے لائق ہی نہیں اسی وجہ سے اس ملک میں چور ٹھگ اور لٹیرے زندہ رہ کر بھی معزز رہتے ھیں اور مرنے کے بعد بھی معزز اور قوم کے محسن بنا دیئے جاتے ہیں

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker