ادبسلمیٰ اعوانلکھاری

سری پاڈا کی مہم جوئی(سفر نامہ ) ۔2 ۔۔سلمیٰ اعوان

( گزشتہ سے پیوستہ )
مجھے اپنی ٹانگیں منوں وزنی پتھروں کی لگ رہی تھیں۔ پر اُس سمے نہ تو میں پل بھر کے لیے سستانے اور نہ ہی نظروں کے زاویوں کو ادھر اُدھر کرنے کی روادار تھی کہ ڈر لگتا تھا کہیں ظالم وقت اُس شہزادی کی طرح ہمارے ساتھ ہاتھ نہ کر جائے جو ساری رات شہزادے کے جسم سے سوئیاں نکالتی رہی تھی۔ صبح دم پل بھر کے لیے اُٹھی اور اپنی منزل کھوٹی کر بیٹھی۔
پھر چوٹی کے عقب میں روپہلی تلوار کی تیز چمک دار دھار جیسے منظر نے آنکھوں کے سامنے لشکارا مارا۔ گہرا نارنجی جیسے آگ کا شعلہ پہاڑ کی پیشانی پر لپکا۔ پہاڑ کا دامن دھند میں ملفوف اور پیشانی نےلگوں سبزے میں لپٹی ہوئی تھی۔ دوربہت دور اس پیشانی پر یہ آگ کا شعلہ ۔ نصف سورج کی روپہلی دھاریں چند بار مشرق کی پہنائیوں میں ڈوب ڈوب کر اُبھریں جیسے آسمان کے سینے پر آنے سے قبل مقدس نشان کو تعظیم دیتی ہوں۔
اچانک جیسے محو تماشا لوگوں میں کھلبلی سی مچ گئی۔ تیزی سے بے شمار سروں کے رُخ مغرب کی جانب مُڑے ۔برقی انداز میں ہم نے بھی گردنوں کو گھُمایا۔
”میرے خدایا! کس قدر عجیب و غریب منظر مجسم ہوکر آنکھوں کے سامنے تھا۔
پہاڑ کا گہرا مخروطی سایہ عمودی ہو کر سر سبز زمین سے چوٹی تک پھیلا ہوا تھا۔ اور چند ساعتوں بعد غائب بھی ہو گیا۔ میرا سانس سینے میں کہیں اٹکا ہوا تھا۔ میرے وجود کی ساری حسیاّت اس جادوئی اظہار پر عجیب سی سنسناہٹ کا شکار تھیں۔
پھر جیسے کسی جذب کے عالم میں میں نے اوپر دیکھا۔ رعب حسن سے آنسو رخساروں پر بہہ گئے اور جیسے میں نے سر گوشی میں کہا ہو۔
”اِس درجہ کمال کی فنکاریوں اور شعبدہ بازیوں کا اظہار تیرے علاوہ کون کرسکتا ہے۔یہ توفیق تجھے ہی نصیب ہے۔“
فضا میں گھنٹیاں بج اٹھیں۔ سدھو سدھو۔ سدھو ۔ سےنکڑوں کیا ہزاروں زائرین کی آوازیں اپنے اُس خدا کے حضور مقدس گیت گانے لگیں۔ جو تخلیق کائنات کے وقت سے ہر روز، ہر صبح، یہ معجزہ زمین کے باسیوں کو دکھاتا اور اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے۔
قدرے آرام دہ جگہ دےکھ کر ہم بیٹھ گئیں۔ اپنی ٹانگوں کو باری باری پسار کر ان کی مُٹھی چاپی شروع کی۔ آدھ گھنٹہ کی اس مارو ماری سے پتھر کےطرح اُن کے اکڑاﺅ میں قدرے نرمی پیدا ہوئی۔
پھر سری لنکا کے جنوب مشرقی ساحلوں کے شہر پٹوول(Pottuvil )کی سیام نکایا(بدھ مذہب میں اُونچی ذات) کا ایک خاندان ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ دو بچے اور دو بڑے۔ بڑوں کے چہروں پر چھائی گھٹا توی کی کالک جیسی گہری تھی۔ چھوٹوں پر سرسوں کے پھولوں جیسی آمیزش نے سیاہی کا ہاتھ ہولا کر دیا تھا۔ دونوں بچے اور ان کی ماں ڈاکٹر تھے۔ باپ تاریخ میں پی ایچ ڈی تھا اور یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا۔ Mr. T.B Galpothawela اُف کس قدر مشکل نام تھا۔ میں نے اُن کی طرف سے دئیے گئے کارڈ کو چند بار پڑھتے ہوئے سوچا۔
دفعتاً مرد نے بڑی متانت اور حلیمی سے کہا۔
”پاکستان دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا حامل ملک ہے۔ آپ لوگ بدھ مت کی گندھارا تہذیب کے بھی امین ہیں۔“
پر جب بیٹا بولا تو مجھے یوں لگا جیسے کسی نے سڑاکے سے میری پشت پر چابک ماری ہو۔
”مسلمان اتنے متعصب ، تنگ نظر اور ضدی کیوں ہیں ؟ طالبان نے بامیان میں ہمارے بُدھا کے مجسمے کے ساتھ کیا کیا۔ پوری دنیا چیخ اُٹھی۔ پر انہوں نے کسی کی سُنی؟ “
”دنیا کی سُپر طاقتوں کے مفادات کی کشمکش نے اُنہیں بھوک، ناداری، معذوری، دربدری، بدامنی اور بیرونی و اندرونی جنگ کے تحفے دئیے۔اسوقت دُنیا کی آنکھیں بند تھیں جب انکے کٹے پھٹے اعظاءوالے بچے بھوک اور دوائیوں کے لیے بلبلاتے تھے۔ پر جب انہوں نے مجسمے توڑنا شروع کیے تو دنیا کو تہذیبی ورثے کی تباہی نظر آگئی۔“
شاید میرے لہجے میں تلخی تھی اور یقیناً چہرہ بھی سُرخ ہو گا۔ مرد نے فوراً ” سوری“ کہتے ہوئے مجھے خاموش کروا دیا اور خود بولنے لگا۔
”میں متفق ہوں آپ سے۔ تاریخ میرا مضمون ہے اور میں نے اس کی مبادیات کا مطالعہ ہمیشہ غیر جانبداری سے کیا ہے۔ مسلمانوں نے غیر مسلم لوگوں کی مذہبی املاک کو نقصان پہنچانے کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ افغانستان مسلمان خلیفہ عمر کے زمانے میں فتح ہوا تھا۔ تب گوتم بدھ کے کسی مجسمے کو ہر گز نہیں چھیڑا گیا تھا اور کسی خانقاہ کو ہر گز نقصان نہیں
پہنچایا گیا۔ لیکن اسے بھی تسلیم کریں کہ مسلمان فطرتاً جنگجو اور تشدد پسند ہیں۔“
”اسوقت تو پوری دنیا میں مسلمان مظلوم ہیں۔ امریکہ عراق میں کیا کر رہا ہے۔ اسکا چھ ہزار سالہ علمی تاریخی اور تہذیبی ورثہ بھسم کر دیا گیا ۔ میوزیم اور لائبریریوں کو آگ لگا دی گئی۔اس کے پھول سے بچے کِس بربریت اور ظلم کا شکار ہوئے اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
آپ برطانوی صحافی رابرٹ فسک کی رپورٹ پڑھیں تو انسان کی آنکھوں سے آنسو نہیں خون ٹپکتا ہے۔ بدھا کے مجسمے پر واویلا کرنے والا امریکہ کتنا بڑا فراڈ ہے؟اس کے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے۔ اس کے کتنے چہرے ہیں؟
مجھے بھی یقیناً دل کے پھپھولے پھوڑنے کا موقع ملا تھا۔
بڑی دلچسپ، بہت معلوماتی اورہنسوڑ قسم کی نشست تھی۔ لطف آیا۔ بقیہ پروگرام ہم نے ان کے ساتھ نتھی کیا کہ علم دوست گھرانہ تھا۔ کچھ ہمارے ہاتھ پلے آ سکتا تھا۔
مقدس عمارت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مہرالنساءبڑبڑائے بغیر نہ رہ سکی۔
” لگتا ہے یہ تو گٹے گوڈوں میں بیٹھ جائیں گی۔ “
دروازے کی کشادگی بس گزارہ تھی۔ خلقت زیادہ تھی۔ ابھی مقام شکر تھا کہ نظم و ضبط والے لوگوں کے درمیان تھے وگرنہ پاﺅں کا کچلا جانا تو یقینی تھا۔ میں احاطے کی دیوار کے ساتھ ٹک گئی تھی کہ میرے سامنے مقدس جگہ تک پہنچنے کے لیے پھر سیڑھیاں تھیں۔ دیوار پہاڑی سٹائل اینٹوں سے بنی ہوئی تھی۔ ذرا سا سانس درست ہوا تو سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ پھر ٹرن آئی۔ سیڑھیوں کا رُخ بدلا۔ وقت کا تو پتہ نہیں پر ہجوم ضرور چیونٹی کی سی رفتار سے بڑھ رہا تھا۔ ماحول ہی اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ اسی طرح کی زور آزمائی کروں کہنیاں ماروں، دھکے دوں اور وہ سب حربے آزماﺅں جو میں نے حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے جائز کیے تھے اور نتےجیمیں افرےکن حبشنوں سے جواب بھی موصول کیے تھے۔
اب کھڑے ہیں اور بے قراری عروج پر ہے۔ بارے خدا تھوڑی سی جگہ ملی ۔ تانکا جھانکی نے تھوڑا سا منظر آشکارا کیا۔ چھوٹا سا حجرہ نما کمرہ، دا ہنی سمت لمبی سی کھڑکی ، خاکستری سلیب کے ساتھ پیلی جھالروں والا قدرے شوخ گلابی رنگ کا ریشمی غلاف جس پر کڑھائی سے پیر کڑھا ہوا تھا۔ لوگ جھکتے سلیب پر سر رکھتے ، غلاف کو چھوتے اور ہٹ جاتے۔
یہ تو سرا سر تشنگی والا کام تھا۔ کنوئیں پر پہنچ کر پیاسا رہنے والی بات تھی۔ اتنی تکلیف اتنا کشٹ ضائع کرنے والا معاملہ تھا جو بہر حال قبول نہیں تھا۔ جی داری سے میں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور آواز بلند کی۔
” بہت دور سے آئے ہیں اس غلاف کےنیچے جو کچھ ہے اسکا دیدار کروائیں وگرنہ سفر اور محنت ضائع ہو جا ئے گی۔ “
کیسری چادر میں لپٹا بدھ راہب ذرا فاصلے پر بےٹھا اُٹھا۔ سجدے کرنے کے عمل میں تعطل پیدا ہو گیا تھا۔ لائن کی حرکت جامد ہو گئی اور بدھ مونک مجھے دیکھتا تھا کہ میں کیا کہتی ہوں کہ اس کے لئیے زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم والا معاملہ تھا۔
پھر شایدمسٹر ٹی۔بی ویلا کی تامل چلی یا سنہالی۔ مونک نے سمجھا ۔ پہاڑی اینٹوں سے بنی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر اُس نے دھیرے سے غلاف ہٹا دیا۔ ایک بڑے سے پیر کانشان جس کے گردا گرد ڈیڑھ دو انچ پتھر کے حاشیے نے اُسے نمایاں اور محفوظ کر رکھا تھا۔ گہرا خاکستری نقش۔ جیسے بارش سے گیلی زمین میں دھنسا ہوا کسی کے پاﺅں کا نشان۔ لوگ دیوانہ وار جھکے ہاتھ پھیرنے، مٹی کے لمس سے انگلےوں کی پوروں کو مس کرنے اور انہیں ہونٹوں اور ماتھے پر لگانے کے لیے۔
باقی سب لوگوں کی طرح ویلا نے بھی وہی کچھ کیا تھا۔ اُس حجرہ نما دروازے کی چوکھٹ کے ایک طرف کھڑی جب میں اُس سے سُنتی تھی کہ زیارت کے موسم کے آغاز کی بہت سی رسومات میں سے ایک اہم اس مقدس نقش کا غسل بھی ہے۔ بدھ راہب کانسی کی گاگر میں عطر بیز پانیوں سے اسے دھوتے اور اس پر غلاف چڑھاتے ہیں۔
تب ایسے ہی یہ سوچ در آئی تھی ۔ دنیا کے مذاہب کی کتنی باتیں مشترک ہیں۔ اور انسان بھی کیسے کیسے اعتقادات میں جکڑے قلبی سکون اور اغراض کے لیے یہاں وہاں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ اوپر والا تو یونہی محبتوں کے اظہار میں فیاضیوں کا دعوےدار ہے۔ نیچے والے کتنے بے بس ،مجبور و محکوم، تیرے لکھے ہوئے کو بھوگتے ہوئے تیری یاد میں کرلاتے پھرتے ہیں ۔اور تو جب چاہے جس کی چاہے رسی دراز کر دے اور جسے چاہے نتھ ڈال دے اور جسے چاہے نواز دے۔ بڑے رنگ ہیں تیرے مولا۔
تبرکات کا کمرہ بدھا کی مورتیوں، رقص کرتی دیوتا کے حضور جُھکی گوپیوں اور سےمن دیوتا کی تصویروں سے سجا ہوا تھا۔ باہر خنکی تھی پر کمرے میں گھٹن تھی۔ سب سے خوبصورت ترین چیز وہ پنجرہ نما ڈبہ یا صندوقچہ قسم کی چیز تھی جس کے گردا گرد لگی سفید خوبصورت ڈیزائن دار جالی میں سے بُدھا کا متبرک آبنوسی جسمانی ڈھانچہ، بدھا کی یادگار اور سےمن دیوتا کا سفید صندل کا تقریباًایک فٹ اونچا مجسمہ فوراً توجہ کھیننچتا تھا۔
ویلا سے ہی یہ جاننے کا موقع ملا تھا کہ زیارت کا موسم شروع ہونے سے ایک دن قبل باقاعدہ تقریب کی صورت میں اسے پورے مذہبی لوازمات کے ساتھ انتہائی ادب و احترام سے چیف مونک اسے چوٹی پر لاتا اور یہاں سجاتا ہے۔زیارتی سےزن کے اختتام پراسے سری پاڈا کے ٹمپل میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس مجسمے کے بارے میں روایت ہے کہ اسے شہنشاہ پراکرا نے بنوایاتھا۔
پتہ نہیں کمرے میں آکسیجن کم ہو گئی تھی یا میرے خون کی سرکولیشن کا سارا رُخ میرے سر کی طرف مڑ گیا تھا۔ گھبراہٹ سی طاری تھی جس نے تھوڑا سا خوف زدہ بھی کر دیا تھا۔ حیاتی کا بھلا کیا بھروسہ۔ اس سانس کی آﺅنی جاﺅنی پر ہی تو سب کچھ کھڑا ہے۔
چوٹی پر فی الوقع جنگل میں منگل والا محاورہ کسقدر سچا لگ رہا تھا۔ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی میں اس حصے میں آ کر کونے میں بنی سیڑھیوں کے پوڈوں میں سے ایک پر بیٹھی تھی۔ اُسکے داہنے ہاتھ سنگل راڈ کی ریلنگ سے جگہ کی حد بندی کی ہوئی تھی۔ سامنے بڑی پہاڑی کی اینٹ کی دیوار اور بائیں ہاتھ چپاتی کی طرح گول ایک بڑے سے پتھر پر لوہے کی تاروں سے گولائی میں بنا ہوا دائرہ نما جنگلا دھرا تھا جس میں اگر آگ کے شعلے لپکتے تھے تو کچے کوئلے سے اُٹھتا دھواں اور لوبان و اگر بتیوں کی خوشبو بھی سارے میں پھیلی تھی۔
سونا لٹاتی دھوپ میں نہاتے ہوئے یکسر خالی الذہن ہو کر دائرے میں کھڑے دھوتیوں اور پینٹوں میں جکڑے مردوں اور سکرٹوں کے نیچے ننگی آبنوسی ٹانگوں ،چہروں اور انکی حرکات کا مشاہدہ کرنا کس قدر دلچسپ شغل تھا۔ شعلوں کے جھلملاتے عکس کے پیچھے میں نے کچھ متحرک لب بھی دےکھے۔ شاید دعاﺅں یا مناجاتوں کا ورد ہو رہا ہو۔
دفعتاً ایک بے حد سریلی چہکار کسی راکٹ کے چھوڑے ہوئے دھوئیں کی لمبی لکیر کی طرح میرے سر پر تنے آسمان کے سینے پر پھیلتی ہوئی کہیں دور جا رہی تھی۔ اس اجنبی آسمان پر blue bird کی مانوس سی چہکار نے مجھے نہال سا کر دیا۔
چند لمحوں تک میں مُنہ کھولے آسمان کو ہی تکتی رہی تھی۔ پھر نظروں کو نےچیترائیوں میں لے گئی ۔ وہاں سے پلٹی تو مہر النساءکہہ رہی تھی۔
”کیا گندی عادت ہے۔ بغیر بتائے بھاگی پھرتی ہو۔ “
اُسوقت انسانی زندگی کے ساتھ لپٹی ہوئی بے حد اہم ضرورتیں تنگ کر رہی تھیں۔پر میں ڈھیٹ بنی بیٹھی فطرت سے دل لُبھا رہی تھی۔ اُسکے پیدا کیے انسانوں کا مشاہدہ کر رہی تھی۔ پھر پتہ نہیں کہاں سے یہ سوچ در آئی تھی۔
دنیاکتنے رنگا رنگ مذاہب کے گرد گھوم رہی ہے۔ لوگوں نے کیسے زندگیوں کو عقیدوں اور اعتقادات کی سانوں پر چڑھا رکھا ہے۔
مذاہب کے نام پر کیسی کیسی خوفناک لڑائیاں اور جنگ و جدل ہوئے۔ انسانوں نے انسانوں کو کیسے کیسے تہ تیغ کیا اور کر رہے ہیں۔ ہر مذہب کے لوگ کہیں نہ کہیں دوسرے مذہب والے لوگوں کو Paganism کا طعنہ مارنے اور انہیں مارنا مذہبی فریضہ سمجھتے رہے اورابھی بھی سمجھ رہے ہیں بلکہ ا س پر شدّد و مدّ سے عمل پیرا بھی ہیں۔
صلیبی جنگوں کے منظر، مسلمانوں میں مذہب بمقابلہ مذہب کے خوفناک سلسلے، یہودیت اور عیسائیت کے خون ریز معرکے، کمیونزم کی سفاکانہ تباہ کاریاں انسانیت کے نام پر وہ بد نما دھبے ہیں جن سے کوئی سبق اور عبرت حاصل نہیں کرتا۔ بے چارے سادہ لوح مسلمان تو اسی زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ اُنکا دین ہی خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔
سچی بات ہے مجھے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے خدا کے نزدیک سبھی مذاہب بہترین ہیں۔ پسندیدہ ہیں اوراس کی منشا اِن سب کو قائم دائم رکھنے کی ہے۔
مولانا رومی جب یہ کہتے ہیں کہ اے مسلمانوں میں کیا کروں ۔ میں نہ ہندو ہوں نہ یہودی اور نہ ہی تمہاری طرح مسلمان۔ میں محبت کا عاشق ہوں میری محبت ہر عقیدے پر غالب ہے۔
مشہور ہندو فلسفی دیوےکانند خدا کی عالمگیریت کا درس دیتا ہے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سب لوگ اپنے اپنے برتن لے کر کسی جھیل میں پانی بھرنے جاتے ہیں۔ کسی کے پاس لُٹیا ہے تو کسی کے پاس جگ ہے کسی کے پاس بالٹی ہے ۔جب ہم اپنے اپنے برتن بھر لیتے ہیں تو پانی قدرتی طور پر اسی برتن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح مذہب ہے۔ خدا بھی اسی پانی کی طرح ہے جو مختلف برتنوں میں بھر کر اسکی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن وہ ایک ہے۔ سکھ مذہب میں گورو گوبند کا بھی یہی درس ہے کہ خدا اسی طرح مندر میں موجود ہے جس طرح وہ مسجد میں موجود ہے۔
پھر میں اپنی ان بے تُکی سی سوچوں کو مہرالنساءکے سامنے اُگل بیٹھی۔ جس نے میری پُشت پر ایک زوردار جھانپڑ مارتے ہوئے کہا۔
”بند کرو یہ بکواس۔ اُٹھو،وہ کام کرو جن کی اسوقت ضرورت ہے۔ “
( مکمل )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker