ادبگلگت بلتستان

کیلا شی پائلٹ لڑکی اقلاس اور جاپانی ایکو ۔۔سلمیٰ اعوان

صبح کی آنکھ میں بانکپن تھا۔ ایک جادوئی کیفیت تھی جو کشاں کشاں کھینچ کر مجھے سحر زدہ انسان کی طرح دریائے ریمبور کے پار لے گئی جہاں درختوں کے جھنڈ وں میں دو منزلہ سہ منزلہ چوبی گھر تھے۔ بوڑھی عورتیں بچے کھیت کھلیان اور وادی کا اکلوتا بجلی گھر تھا۔سورج کی چڑھائی کے ساتھ ساتھ میری چلنے کی رفتار بھی جاری تھی۔ تھوڑا سا آگے بڑھتی تو خود کو ایک نئے منظر کے حسین حصار میں پاتی۔ ایسے میں مجھے وہ لازوال شاعر یاد آیا تھا۔ ”ورڈزورتھ“ جسکی حُسن فطرت پر بے مثال نظمیں اسکی میلوں لمبی پیدل سیروں کے تجربات ومشاہدات کا نتیجہ تھیں۔ دریائے ریمبور کی روانیاں شاید Derwent کی روانیوں سے لگانہ کھاتی ہوں اور Grasmere کے پہاڑوں کی شان بان ریمبور کے پہاڑوں جیسی نہ ہو۔ پر یہ سرسبز چراگاہیں یہ پھیلے جنگل بھیڑ بکریاں چراتے چرواہے۔ آسمان کی وسعتوں میں مقید یہ دلربا منظر کاش میں شاعر ہوتی۔
اور جب میں واپس آ رہی تھی میں نے اُسے دیکھاتھا اور دیکھ کر ٹھٹھکی تھی۔ ورڈزورتھ نے یہ شعر ایسی ہی کسی نازنین کے لیے کہا ہو گا۔
She was a phantom of delight
When she gleamed upon my sight
مقامی تھی پر سر تا پامنفرد۔ اسکے انداز دیدمیں خود نمائی اور اپنے ہونے کا بھرپور اظہار تھا۔
یہ اقلاس تھی۔ کافرستان کی پہلی میٹرک پاس لڑکی جو بعد میں پائلٹ کے طور پر بھی مشہور ہوئی۔ اسکے لباس پر نہ بوسیدگی تھی اور نہ پرانا پن۔ سر کے بالوں کی مینڈھیاں خوبصورت اور تازہ گندھی ہوئی تھیں۔ ٹوپی میں مُرغ زریں کے نئے نکور پر چمکتے تھے۔
پھر اُس نے مجھے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے گھر لے گئی۔ اُسکا دو منزلہ گھر بولتا تھاکہ اس کا سربراہ بالائی چراگاہوں کی زمینوں جنگلوں کے قیمتی درختوں اور بے شمار بھیڑ بکریوں کا مالک ہے پربشٹارہ خان یہ سب نہیں بولتا تھا۔ یوں ڈھائی پسلی کی بشٹارہ خان کو جسکی اندر کو دھنسی آنکھیں گال اور سانولی رنگت دیکھ کر یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ مہکتے تروتازہ گلاب جیسے چہرے والی طرحدار لڑکی ایسے بے سرے آدمی کی بیٹی ہے۔ وہ اوپر سے تھوڑی دیر قبل آیا تھا۔ شہری ناشتہ۔ بسکٹ اور چائے پیش ہوئی پھر وہ مجھے ایکو سے ملانے لے گئی۔
ایکو جلانے کے لیے لکڑیاں جنگل سے کاٹ کر لاتی ہے۔ فصلوں کی بوائی اور کٹائی میں حصہ لیتی ہے۔ بھیڑ بکریاں چراتی اور کھانا پکاتی ہے۔ ایکو کو ہمارے رسم ورواج اور کلچر سے عشق ہے۔ اور وہ انکی ادائیگی جذب سے کرتی ہے۔ وادی گروم کی سڑک پر چلتے اور اس مہ لقا کی باتیں سنتے ہوئے مجھے موپساں کی کہانیاں یاد آئی تھیں جنکے کردار متنوع بڑے منفرد اور انسانی نفسیات کے گُنجلک رویوں کے بہترین عکاس ہوتے ہیں۔
کیا ایکو بھی ایک ایسا ہی کردار ہے؟ میرا اپنے آپ سے استفسار تھا۔
نچلی منزل کے مویشی خانے اور گودام سے گزر کر دوسری منزل کی چند چوبی سیڑھیاں چڑھ کر میں صحن میں آ کھڑی ہوئی۔ کھلی انگنائی سے بڑے کمرے میں داخلہ ہوا۔ وہی مانوس سے منظر دھوئیں سے سیاہ دیواریں اور چھت چارپائیوں پر بکھرے جُلھے گھودیلے۔ گندے مندے برتن بھانڈے جلتی آگ اور راکھ کا ڈھیر۔ دُنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ملک جاپان کی ایکو کالاشی لباس کے سب لوازمات سے سجی سنوری کہیں نقطہ آغاز کی پر اسرار غاروں والے زمانے کے دہانے پر کھڑی اپنے طباق سے چہرے پر بکھری مسکراہٹ لیے بندے کو سوچوں اور حیرتوں کی گھمن گھیریوں میں ڈالتی تھی۔ دو دنیاؤں کا تضاد ذہن پر ضربیں لگاتا تھا۔ اسکا شوہر عام سا کالاشی جوان اور عمر میں اس سے چھوٹا تھا۔
ایکو میری ذہنی دیواروں پر چمٹ گئی تھی۔ ”پُکھ نہ ویکھے سالنا تے عشق نہ پُچھے ذات تے نیند نے ستھرملیا جتھے پہ گئی رات“ والی مثالیں سب ٹھیک۔ پر بھوک نیند اور عشق لوازمات کے بغیر کتنے دن چلتی ہے؟

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker