ریاض : امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل اور فلسطین میں دو دن گزارنے کے بعد آج سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔دورہ سعودی عرب کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت اعلیٰ سعودی حکام سے ملاقات کریں گے۔شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ جدہ پہنچنے پر گورنر مکہ شہزادہ خالد الفیصل نے مہمان صدر کا استقبال کیا۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر جو بائیڈن کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی تھی۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات میں جو بائیڈن امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ صدر بائیڈن اس موقع پر امریکی عرب مشترکہ سربراہ کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے جس کا اہتمام خادم حرمین شریفین شاہ سلمان نے کیا ہے۔دورۂ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب روانگی سے قبل جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’فلسطینی عوام کو اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے سیاسی راہ کی ضرورت ہے، چاہے وہ راستہ دو ریاستی حل ہی کی صورت میں ہو۔‘
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ’فلسطینی عوام تکلیف میں ہیں جسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ دو ریاستی حل کا امریکی عزم اب بھی قائم ہے اور یہ تبدیل نہیں ہوا۔‘
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ فلسطینی صحافی شیریں ابوعاقلہ کے قتل کے مکمل احتساب کا مطالبہ جاری رکھے گا۔‘
اپنی تقریر میں امریکی صدر نے فلسطینی اداروں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
مشرق وسطیٰ کا دورہ کرتے امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کو فلسطین کے علاقے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں کسی بڑی سفارتی کامیابی کے بغیر فلسطین کے لیے معاشی اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی جس کے بعد وہ سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوئے۔
بی بی سی کے مطابق اس دورے کا ایک بڑا مقصد سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے میں مدد کرنا ہے، جس میں اسرائیل کے عرب دنیا کے ساتھ قریبی سکیورٹی تعلقات پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ایران اور اس کے اتحادیوں کے میزائلوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو مربوط کرنا ہے۔
فیس بک کمینٹ

