ملتان۔3اگست :قومی اسمبلی کے حلقہ این اے157کے ضمنی الیکشن میں دلچسپ صورتحال پیداہوگئی ہے اور ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمودقریشی نے اس حلقے میں اپنے داماد یا صاحبزادی مہربانو کو امیدواربنانے پر غور شروع کردیا ہے۔ یہ نشست ان کے صاحبزادے زین حسین قریشی نے خالی کی ہے۔ مہر بانو کے لیے بدھ کے روز کاغذات نامزدگی بھی حاصل کر لیے گئے جو کل جمع کرائے جانے کا امکان ہے ۔
پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے اس حلقے میں سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئرر ہنماءسید یوسف رضاگیلانی کے صاحبزادے علی موسی گیلانی کو ٹکٹ دیئے جانے کاامکان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اسی حلقے میں سابق صوبائی وزیر اور مخدوم شاہ محمودقریشی کے قریبی عزیز معین ریاض قریشی کوبھی ٹکٹ کی پیشکش کی تھی لیکن معین قریشی الیکشن میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
حلقے میں ایک اور اہم امیدوار مسلم لیگ (ن) کے عبدالغفارڈوگر ہیں جو پیپلزپارٹی کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ان کی جانب سے ن لیگ کے ٹکٹ کی کوشش کی گئی لیکن پی ڈی ایم نے یہ فارمولا طے کیاہے کہ 2018ءکے الیکشن میں اس حلقے میں دوسرے نمبر پرآنے والی جماعت کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ سو یہ ٹکٹ پیپلزپارٹی کودینے کافیصلہ کیاگیا۔غفار ڈوگر نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کی بھی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہ ہوسکی۔سینئر تجزیہ نگار اورکالم نگار شاکر حسین شاکر نے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ این اے157میں علی موسی گیلانی کے مقابلے کے لیے پی ٹی آئی کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت یہاں ایسے ناموں پرغور کررہی ہے جو کامیابی کی ضمانت بن سکیں۔ یہ نشست بنیادی طورپر قریشی خاندان کی ہے اوراسی لیے شاہ محمودقریشی کی کوشش ہے کہ انہی کے خاندان کا کوئی امیدوارمیدان میں آئے ۔جو بھی صورت ہو یہ الیکشن ملتان کے دلچسپ انتخابی معرکوں میں شمارہوگا۔
فیس بک کمینٹ

