میرے فون کی انڈکس میں امجد اسلام امجد کے بیٹے علی ذیشان کا نمبر موجود ہے۔لیکن اب تک مجھ میں علی ذیشان کا نمبر ڈائل کرنے کا حوصلہ نہیں ہے کہ مَیں نے کبھی علی ذیشان سے بات نہیں کی۔البتہ امجد اسلام امجد سے ہر ملاقات میں علی ذیشان کی خیریت دریافت کیا کرتا تھا۔کہ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ آج سے سترہ سال پہلے علی ذیشان میرا کئی ہفتے ملتان میں مہمان رہا۔ معاملہ کچھ یوں تھا کہ علی ذیشان بی اے کا امتحان دینے ملتان آیا تو امجد صاحب نے مجھے وزیر مہمان داری مقرر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا چھوٹا بھائی ہے۔اس کا خیال رکھنا۔ یوں علی ذیشان نے امتحانات کے بہانے کئی ہفتے ملتان کی آوارہ گردی کی ۔کبھی ہم دونوں ملتان کے روایتی دال مونگ کھانے پاک چوک پر ناصر سے ڈولی روٹی ،چنے اور دال مونگ کھانے جاتے تو کبھی ہم بوہڑ گیٹ کے سری پائے نوش کرتے۔
ایک دن امجد صاحب کا فون آیا کہ برادر علی کو پیپرز کی اچھی طرح تیاری کرنے دیں۔اور اسے ابن بطوطہ بنانے کی بجائے میرا جانشین بنائیں۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا آپ کا جانشین بننا تو بہت مشکل کام ہے۔البتہ یہ پڑھائی کے معاملے میں آپ کو شرمندہ نہیں کرے گا۔قصہ مختصر علی ذیشان کے تمام پیپرز بہت اچھے ہوئے۔اور آخری پیپر سے ایک دن پہلے علی ذیشان نے کہا کل ڈنر میری طرف سے ہوگا۔میں نے کہا کل جب آئے گی تو دیکھا جائے گا۔فی الحال آپ توجہ سے آخری پیپر دیں۔پھر ہم دونوں مل کر جشن فراغت امتحان منائیں گے۔اگلے دن صبح سویرے ا۔امجد اسلام امجد کا فون آیا۔کہنے لگے برادر آج آپ کی شام کی کیا مصروفیت ہے؟ مَیں نے کہا امجد صاحب آج علی ذیشان کا آخری پیپر ہے۔اس کے بعد ہم نے آپ کے پسندیدہ ہوٹل شنگریلا میں ڈنر ہو گا۔کیا اس ڈنر میں ہم شریک ہو سکتے ہیں؟
یہ سنتے ہی میں نے کہا
نیکی اور پوچھ پوچھ
پھر امجد صاحب نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ آج شام کو ملاقات ہوگی۔معلوم ہوا کہ اس وقت امجد اسلام امجد اپنی اہلیہ کے ہمراہ لاہور سے ملتان کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ملتان آتے ہی ہم شنگریلا میں اکٹھے ہوئے۔ڈنر میں ہم پانچ لوگ تھے۔میں اور میری اہلیہ نے امجد اسلام امجد اور ان کی بیگم کو خوش آمدید کہا۔تو بھابھی محترمہ نے کہا شاکر بھائی آپ نے جس طرح میرے بیٹے کا خیال رکھا۔ہمیں پوری زندگی یاد رہے گا۔
وقت گزرتا گیا۔ایک دن امجد صاحب کا فون آیا کہ میں نے آپ کو علی ذیشان کی شادی کا کارڈ بجھوایا ہے۔آپ نے فیملی سمیت آنا ہے۔میں نے بیگم اور بچوں سے کہا علی ذیشان کی شادی پر لازمی جانا ہے۔تیاری کریں۔شادی سے ایک ہفتہ قبل مجھے بخار نے آن لیا۔ بخار کا حملہ اتنا شدید تھا کہ میں چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔قمر رضا شہزاد کے ذریعے معذرت کی تو شادی کے اگلے دن امجد صاحب کا تفکر بھرا فون آیا ۔کہنے لگے کہ مجھے قمر رضا شہزاد نے بیماری کا بتایا۔تو سوچا اپنے بیٹے کی دعاؤں کے ساتھ عیادت کروں۔
میں نے ان کا شکریہ کہا تو کہنے لگے آپ کی بیمار ہونے کی عمر نہیں ہے۔اپنا خیال رکھیں اور جلد ملاقات ہو گی۔
امجد اسلام امجد نے آخری جملہ اتنی وارفتگی سے کہا کہ پھر ماہ کسی نہ کسی پروگرام میں ملاقات ہونے لگی۔ کبھی ہم خالد مسعود خان، محمد افضل شیخ، زاہد سلیم گوندل، قمر رضا شہزاد، رضی الدین رضی اور ڈاکٹر شاہدہ رسول کے گپ شپ لگا رہے ہوتے تو کبھی ان محافل میں اسرار احمد چوہدری، اظہر مجوکہ، آصف کھیتران، محسن شاہین، افضل سپرا، ممتاز بابر ڈاکٹر عصمت ناز اور دیگر شریک ہوتے۔گزشتہ دس سال سے وہ محمد افضل شیخ کے ترتیب دئیے ہوئے مشاعروں میں شامل ہوتے۔اس کے علاوہ امجد صاحب نے اگر مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، لودھراں، بہاولپور اور دیگر نواحی علاقوں میں جانا ہوتا تو ملتان میں افضل شیخ ان کے ساتھ دوستوں کی منڈلی سجاتے۔ملتان میں آخری بار ڈاکٹر شاہدہ رسول کی کتاب کی تعارفی تقریب میں خواتین یونیورسٹی میں آئے۔انتقال سے پہلے انہوں نے ملتان فروری کے آخری ہفتے میں فادیہ کاشف کی دعوت پر آنا تھا۔لیکن موت نے انہیں ملتان آنے کی مہلت نہ دی۔ان کی جگہ پر اصغر ندیم سید آئے۔اور اس تقریب میں انھیں خوب یاد کیا۔
اس کالم کے آغاز میں بات ہو رہی تھی علی ذیشان امجد سے رابطے کی۔کہ میں اب تک اس سے تعزیت نہیں کر سکا کہ اتنے دن گزرنے کے بعد ابھی تک میں ہمت نہیں کر سکا کہ ان سے کیسے تعزیت کروں؟ہم نے ہمیشہ امجد صاحب سے فرمائش کر کے علی ذیشان پر لکھی ہوئی خوبصورت نظم سنی کہ وہ نظم کچھ یوں ہے۔
مرے بیٹے نے آنکھیں اک نئی دُنیا میں کھولی ہیں
اُسے وہ خواب کیسے دوں
جنہیں تعبیر کرنے میں مری یہ عمر گزری ہے
مری تعظیم کی خاطر وہ ان کو لے تو لے شاید
مگر جو زندگی اُس کو ملی ہے، اُس کے دامن میں
ہمارے عہد کی قدریں تو کیا یادیں بھی کم کم ہیں
انوکھے پھول ہیں اُس کے نرالے اُس کے موسم ہیں
خود اپنی موج کی مستی میں بہنا چاہتا ہے وہ!
نئی دُنیا ، نئے منظر میں رہنا چاہتا ہے وہ
سمجھ میں کچھ نہیں آتا اُسے کیسے بتاؤں میں
زمیں پر آج تک جتنے بھی آدم زاد آئے ہیں
اسی مشکل سے گزرے ہیں
انہی رستوں میں اُلجھے ہیں
اسی منزل سے گزرے ہیں
ازل سے آج تک جتنے محبت کرنے والے ہیں
سبھی کی اک کہانی ہے
نئی لگتی تو ہے لیکن حقیقت میں پُرانی ہے
اُسے کیسے بتاؤں کہ میرے باپ کی باتیں
مجھے بھی ایک ایسے وقت کا احوال لگتی تھیں
جو اک بھولا فسانہ تھا
میں اُس کی جیب کے متروک سکوں کو کہاں رکھتا
کہ یہ میرا زمانہ تھا
نئے بازار تھے میرے ، کرنسی اور تھی میری
وہ بستی اور تھی میری
مگر پھر یہ کھُلا مجھ پر نیا کچھ بھی نہیں شاید
ازل سے ایک منظر ہے فقط آنکھیں بدلتی ہیں
مری نظروں کا دھوکہ تھا کہ یہ چیزیں بدلتی ہیں
اُسے کیسے بتاؤں میں
کہ یہ عرفان کا لمحہ ابھی تک اُس تک نہیں پہنچا
مگر جس وقت پہنچے گا
اُسے بھی اپنے بیٹے کو یہی قصہ سُنانے میں
یہی دُشواریاں ہوں گی
کہ وہ بھی تو کچھ اپنی بات کہنا چاہتا ہو گا
نئی دُنیا نئے منظر میں رہنا چاہتا ہو گا
بس اپنی ذات کی مستی میں بہنا چاہتا ہو گا۔
تو علی بیٹا میری طرف سے اور اہل ملتان کی طرف سے اس کالم کے ذریعے تعزیت قبول کریں کہ ابھی آپ سے فون پر بات کا حوصلہ نہیں۔جب امجد صاحب کی دائمی جدائی کے صدمے کی لو کم ہونے لگے تو ہم دونوں مل کر اپنے پیارے کی یاد میں آنسو بہائیں گے کہ یہ ایک دن کا رونا نہیں۔ہمشیہ کا دکھ ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ

