افسانےطلعت جاویدلکھاری

شکست(2)۔۔طلعت جاوید

( گزشتہ سے پیوستہ )
احاطے کے گرد محلے میں منہا پہلوان نے تین مکان اور دو کٹڑیاں کرایہ پر اٹھا رکھی تھیں۔ شہر بھر میں ہونے والی کشتیوں، سرکاری وظیفے، عمائدین شہر کے انعام و اکرام اور کرایہ جات سے اسے وافر آمدنی ہو جاتی تھی۔ پیپل کے درخت پر سینکڑوں طوطے منہا پہلوان کی ملکیت تھے۔ اسے طوطے پالنے کا شوق تھا اس نے چند طوطے پالے تھے جو کچھ سالوں میں بڑھتے بڑھتے ایک کثیر تعداد تک پہنچ گئے۔ یہ ایسی سرمایہ کاری تھی جس میں منہا پہلوان کی محنت کے بغیر ہی دن بدن اضافہ ہو رہا تھا۔ پیپل کے درخت پر کبھی پرندوں کے بولنے کا اس قدر شور ہوتا کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی۔ درخت کے نیچے درجن بھر تنکوں کے بنے ہوئے پنجرے رکھے رہتے تھے جو طوطوں کے خریداروں کے کام آتے ۔ کشتی میں مہارت کے علاوہ طوطوں کا کاروبار بھی منہا پہلوان کی وجہ شہرت تھا۔ پیپل کے درخت پر چڑیوں کوؤں اور طوطوں کی آوازیں جب ناقابل برداشت ہو جاتیں تو منہا پہلوان بلند آواز میں ”اوئے“ کہتا اور یکلخت خاموشی چھا جاتی تھی۔
ڈھول تاشے اور باجوں کی آواز پیپل والے احاطے میں آئی تو وہاں کے مکین استقبال کی تیاری کرنے لگے۔ جلوس اب گھٹ کر دو اڑھائی سو افراد پر مشتمل رہ گیا تھا۔ اب اس کے شرکاءصرف وہی لوگ تھے جو منہا پہلوان کے مداح تھے۔ منہا پہلوان اور اس کے ساتھی اب تھکی تھکی سی چال چل رہے تھے کہیں جب جلوس کے شرکاءجوش میں آتے تو بے ڈھب سا رقص پھر شروع ہو جاتا مگر چند ساعتوں کے لیے۔ منہا پہلوان کے شراکت دار نے برفی اور پیڑوں کے تھال باہر نکال رکھے تھے۔ دینے حلوائی نے مٹھائی کی طشتریاں تھڑے پر سجا دی تھیں محلے بھر سے درجنوں چارپائیاں مستعار لے کر احاطے میں رکھ دی گئی تھیں۔ مسجد کی صفوں پر شرفاءکو بٹھانے کا انتظام ہونے لگا اور آس پاس کے پھول والوں سے استقبال کے لیے گلاب اور گیندے کے ہار اور پھول پتیاں خرید لی گئیں۔ منہا پہلوان کی کامیابی کو وہ اپنے محلے بلکہ شہر کے لیے باعث فخر گردان رہے تھے۔ منہا پہلوان کی بدولت پیپل والا احاطہ شہر بھر میں موضوع بحث بن گیا تھا اور منہا پہلوان ان کی پہچان بن گیا تھا۔
چوڑی گلی سے جلوس جب پیپل والے احاطے میں داخل ہوا تو ایک بارات کی طرح اس کا سواگت کیا گیا۔ منہا پہلوان کو پھولوں سے لاد دیا گیا۔ اس کے شاگرد اس کے گرد ناچ ناچ کر پاگل ہو رہے تھے۔ جلوس کے شرکاءکی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ آس پاس کی کھڑکیوں چھتوں اور بالکونیوں سے پردہ دار خواتین منہا پہلوان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب ہو رہی تھیں اور ہاتھ ہلا ہلا کر اور آنچل لہرا کر اس کا استقبال کر رہی تھیں محلے کے نوجوان منہا پہلوان سے فخریہ انداز میں مصافحہ کر رہے تھے اور بغلگیر ہو رہے تھے۔ بزرگ اس کی پگڑی پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دے رہے تھے رات گئے تک یہ ہنگامہ برپا رہا۔ منہا پہلوان نے اپنے چند چیلوں کے ساتھ جب گھر میں قدم رکھا تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔
احاطے کے شمال میں گلی کا تیسرا مکان فضل حسین کے والد نے بیس برس قبل خریدا تھا۔ وہ لوگ قصور کے قریب کسی گاؤں کے رہنے والے تھے فضل حسین کے والد کی اپنے بھائیوں کے ساتھ جب ناچاقی ہو گئی پھر اس کی بیوی انتقال کر گئی تو وہ اپنی زرعی اراضی اور دیہی مکان بیچ کر شہر میں آگیا اور فضل حسین کو اسکول میں داخل کرا دیا۔ پہلوانی ان کے خاندان کا آبائی پیشہ تھا فضل حسین کا دادا قصور کا معروف پہلوان تھا۔ اس کا باپ فضل حسین کو ہمیشہ دادا کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دیتا۔ پیپل والے احاطے میں مسجد کے ساتھ اکھاڑا ویران پڑا تھا محلے بھر میں کسی کو پہلوانی کا شوق نہ تھا کیونکہ اس دور میں جب دو وقت کی روٹی میسر نہ تھی کشتی کے لیے درکار غذائی ضروریات کی فراہمی بیحد مشکل کام تھا۔ فضل حسین کے باپ نے اہلِ محلہ کو آمادہ کر لیا کہ اکھاڑے کو آباد کیا جائے۔ شام کو جب فضل حسین مولوی صاحب سے مسجد میں قرآن پڑھنے آتا تو ہم جولیوں کے ساتھ کچھ وقت اکھاڑے کی مرمت اور تدوین میں صرف کرنے لگا۔ فضل حسین کو اپنے والد کی سرپرستی حاصل تھی رفتہ رفتہ نہ صرف اس نے اکھاڑے کو قابل استعمال کر لیا بلکہ ہلکی ہلکی ورزش اور کشتی بھی شروع کر دی۔ پیپل والے احاطے اور آس پاس کے محلوں میں کوئی صحت مند تفریح موجود نہ تھی لہٰذا تمام نوجوان اکھاڑے کی طرف کھنچے چلے آئے۔ فضل حسین اپنے شوق کے باعث بہت جلد کشتی کے داؤ پیچ سیکھ گیا۔ شہر کے دوسرے اکھاڑوں کے ساتھ مقابلے منعقد کئے جاتے۔ جز وقتی استاد پہلوانوں کی خدمات حاصل کی جاتیں اور یوں دس پندرہ برسوں میں پیپل والے اکھاڑے نے شہر میں اپنی ایک الگ پہچان حاصل کر لی۔ فضل حسین کا کوئی اور مشغلہ نہ تھا لہٰذا اس نے کل وقتی پہلوانی کا پیشہ اختیار کر لیا اور رفتہ رفتہ پیپل والے اکھاڑے کا استاد بن گیا۔
فضل حسین کے والد کا انتقال ہوا تو وہ ساری جائیداد کا کلی وارث بن گیا تھا۔ جس مکان میں اس کی رہائش تھی اس کے علاوہ تین مکانات اور کٹڑیاں بھی اس کی ملکیت تھیں۔ دودھ دہی کی دکان میں اس کا برابر کا سانجھا کامیابی سے چل رہا تھا۔ فضل حسین کا مکان فن پہلوانی کے شائقین کے لیے ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتا تھا۔ ایک کمرے کے علاوہ جو اس کے ذاتی استعمال میں تھا پورا گھر اس کے چیلوں اور شاگردوں کے تصرف میں تھا جہاں ورزش کے لیے مگدر، ڈمبل، ویٹ اور دیگر آلات میسر تھے۔ قوت بخش غذا کی فراہمی اور آرام کرنے کی سہولت بھی موجود تھی۔ گھر میں کسی خاتون کے نہ ہونے کی وجہ سے فضل حسین، اس کے شاگرد اور ساتھیوں کو کوئی دشواری نہ ہوتی اور وہ پوری آزادی سے اپنے مشاغل جاری رکھے ہوئے تھے۔ اسی دوران فضل حسین نجانے کیسے ”منہا پہلوان“ کے نام سے پہچانا جانے لگا اور یہ نام اس قدر معروف ہوا کہ اس کا اصل نام ذہنوں سے محو ہو گیا۔
منہا پہلوان فجر کی اذان سے قبل ہی مسجد میں پہنچ جاتا تھا گرمی ہو یا جاڑا مسجد کے سقاوے سے غسل کرتا اور مولوی صاحب کے آنے سے قبل مسجد کی جھاڑ پونچھ اور صفائی کرتا صفیں درست کرتا اور پہلی اذان دیتا تھا۔ نماز کے بعد وہ لنگوٹ پہن کر اکھاڑے میں اتر جاتا اس کے اکھاڑے کے تمام ساتھی عام طور پر اس کے ساتھ ہی فجر کی نماز ادا کرتے اور اکھاڑے میں آ جاتے تھے۔ روزانہ سرسوں کے تیل کی مالش کراتا کسرت کرتا اور اکھاڑے کی مٹی میں خود کو خوب رگیدتا تھا۔ منہا پہلوان بلکہ اکثر پہلوانوں کا ایمان تھا کہ اکھاڑے کی مٹی جسم میں طاقت بھر دیتی ہے ۔باری باری تمام دوستوں کے ساتھ زور آزمائی کرتا ڈنڈ پیلتا بیٹھکیں لگاتا اور بالاآخر تھک کر اکھاڑے کے باہر زمین پر چت لیٹ جاتا تھا۔ منہا پہلوان کے شاگرد باری باری رہٹ چلاتے اور تازہ پانی سے غسل کرتے اپنے اپنے لنگوٹ دھو کر پیپل کے درخت کی شاخوں کے ساتھ لٹکاتے لباس زیب تن کرتے اور روز مرہ کے اپنے کام کاج میں لگ جاتے تھے۔ منہا پہلوان اپنی دکان سے ایک کلو دہی کی پیڑوں والی لسی بنوا کر پیتا اہل محلہ کے ساتھ گپ شپ کرتا اور اپنے گھر روانہ ہو جاتا تھا۔ گھر میں ناشتہ تیار ملتا تھا پاؤ بھر بادام پستہ اور کاجو تین چار پراٹھے ، پانچ انڈوں کا آملیٹ کلو بھر دودھ جس میں شہد اور ایک پاؤ دیسی گھی ملا ہوتا تھا پی کر منہا پہلوان گہری نیند سو جاتا۔ دوپہر کو دو ڈھائی کلو بکرے کا گوشت یا قیمہ اور نصف درجن روٹیاں نمکین لسی کے ساتھ تناول کر کے ظہر کی نماز ادا کرتا اور پھر قیلولہ کیلئے اپنے کمرے میں چلا جاتا تھا۔ عصر کی نماز مسجد میں ادا کر کے وہ پھر اکھاڑے میں اتر جاتا تھا۔ مغرب سے پہلے اس کے شاگرد سردائی تیار کرنے لگتے تھے۔ مغرب کی نماز کے بعد عشاءتک وہ اپنے شاگردوں کے ہمراہ پارک میں سیر کرتا عشاءکی نماز کے بعد مرغن غذا کاایک اور دور چلتا اور پھر وہ تھوڑی سی چہل قدمی کر کے چھت پر گہری نیند سو جاتا تھا۔
منہا پہلوان پیپل والے احاطے میں ایک معتبر شخصیت تھا یکے بعد دیگرے کامیابیوں نے اسے ایک نامور ہستی بنا دیا تھا۔ وہ محلے کی تمام کمیٹیوں کا ناظم تھا اور شہر میں اس کی اچھی ساکھ تھی۔ عمائدین شہر اسے اپنی تقریبات میں شرکت کی خصوصی دعوت دیتے تھے اور اس کی شرکت اپنے لیے باعث تکریم سمجھتے تھے۔ آمد و رفت کے لیے ایک آرام دہ تانگہ خرید لیا تھا اور دو گھوڑے پال رکھے تھے۔ سادہ رہن سہن تھا مگر نہایت خوب گزر بسر ہو رہی تھی موٹر گاڑی ریڈیو ٹیلیفون کا کوئی روگ اس نے نہیں پالا تھا۔ اس کے بقول اسے ان پر تعیش اشیاءکے استعمال کی نہ ضرورت تھی نہ شوق۔ سردیوں میں اپنے کمرے میں لحاف اوڑھ کر سوتا اور گرمیوں میں چھت پر بغیر پنکھا چلائے گہری نیند سو جاتا تھا اور ایک پرسکون زندگی گزار رہا تھا۔
1964ءکا ذکر ہے گرمیوں کے دن تھے منہا پہلوان اکھاڑے سے نکلا اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے حجام کو آواز دی ”اوئے خلیفہ“ دور ایک دکان کے اندر سے جواب آیا ”آیا جی“ ۔ منہا پہلوان نے بدن سے مٹی جھاڑی اور پیر گامن شاہ کی قبر کے ساتھ رکھی چارپائی پر بیٹھ گیا منہا پہلوان کی آواز سن کر لمحہ بھر کو پیپل کے درخت پر خاموشی چھا گئی تھی۔ خلیفہ حجامت کا سامان لے کر آ گیا ”پہلوان جی اس بار دیر نہیں ہو گئی؟“
”ہاں خلیفہ بال بہت بڑھ گئے ہیں“۔ منہا پہلوان نے برش جیسے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا جن میں سے اکھاڑے کی مٹی اُڑ رہی تھی۔ خلیفہ کو علم تھا کہ اس نے کس سٹائل کی حجامت کرنا ہے اس نے بغیر سوال جواب کئے منہا پہلوان کے سر کو تازہ پانی سے بھگویا اور برش سے جھاگ بنانے لگا۔ ”خلیفہ خیال کریں پچھلی بار تو نے بڑے بڑ ے ٹک لگا دیئے تھے“ منہا پہلوان نے تنبیہ کی۔
”ستے خیراں پہلوان بادشاہ اس بار مال روڈ جیسی حجامت کروں گا نیا استرا لایا ہوں۔“ خلیفہ نے یقین دہانی کرائی اور استرے کو ہتھیلی پر تیز کرنے لگا۔ ”اس بار کشتی کس کے ساتھ ہو رہی ہے؟“ خلیفہ نے بات بڑھاتے ہوئے کہا۔ منہا پہلوان سر پر لگے جھاگ کی طراوت سے آنکھیں بند کئے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ ”پہلوان جی اس بار بی ڈی ممبر کا الیکشن ضرور لڑنا کوئی تمہارے مقابلے میں نہیں آئے گا بھلا ہڈیاں تڑوانی ہیں …. بھلا کوئی مقابلہ ہے شیر کے ساتھ بکریوں کا …. منہا پہلوان تو رستم پہلوان ہے۔“ خلیفہ خوشامدانہ انداز میں ہنستے ہوئے باتیں کئے جا رہا تھا اور منہا پہلوان گہری نیند سو رہا تھا۔
نبیلہ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسی سال ایم اے جرنلزم کیا تھا اور ایک اخبار کے ساتھ وابستہ ہو گئی تھی۔ نبیلہ کے والد کی مال روڈ پر کتابوں کی ایک دکان اور ٹمپل روڈ پر آفسٹ پرنٹنگ پریس تھا۔ وہ کھاتے پیتے لوگ تھے اسی سال سمن آباد سے گلبرگ اپنی کوٹھی میں منتقل ہوئے تھے۔ نبیلہ کے باپ کی خواہش تھی کہ وہ ایم بی اے کر کے کاروبار میں اس کی مدد کرے مگر وہ آزاد پنچھی صحافت کے پیشے سے وابستہ ہونا چاہتی تھی نبیلہ نے مشاہیر سے انٹرویو پر مشتمل ایک نئی کتاب پڑھ رکھی تھی اور وہ مصنفہ سے بیحد متاثر تھی ایک معروف اخبار سے منسلک نبیلہ کو کھیلوں اور تفریح کا شعبہ سونپا گیا تھا۔ ان دنوں وہ کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور سکواش کے نامور کھلاڑیوں کے حالات زندگی پر فیچر مرتب کر رہی تھی۔
نبیلہ کا ڈرائیور بادل نخواستہ اندرون شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گاڑی چلا رہا تھا اور بار بار سر مارتے ہوئے اس بات کا اظہار کر رہا تھا کہ یہ گندے راستے اس بیش قیمت کار کے لائق نہیں تھے تو نبیلہ بی بی یہاں کیوں آ گئی ہے۔ مگر نبیلہ کو قطعی اس بات کا افسوس نہ تھا۔ وہ تو حویلی نما گھر کئی منزلہ رہائشی عمارتیں قلعہ نما صدر دروازے خوبصورت محرابیں اور ممٹیاں دیکھ کر حیران ہو رہی تھی کہ اپنے شہر میں اس قدر خوبصورت گھر اس نے پہلے کیوں نہیں دیکھے ۔ خود نبیلہ کا خاندان بھی اندرون شہر میں آباد تھا مگر گنجان آبادی کے مسائل کے پیش نظر وہ لوگ نبیلہ کی پیدائش سے پہلے ہی سمن آباد منتقل ہو گئے تھے۔ چوڑی گلی جہاں پیپل والے احاطے میں اترتی ہے وہاں ڈرائیور کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا تو اس نے کار ایک طرف کھڑی کر دی۔ سامنے ہی پیپل کا درخت، اکھاڑہ، رہٹ والا کنواں ، مسجد اور پیر گامن شاہ کی قبر تھی۔
( جاری ـ)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker