طلعت جاویدکالملکھاری

شکست(3 ) آخری قسط ۔۔طلعت جاوید

( گزشتہ سے پیوستہ )
دھان پان سی نبیلہ جب اکھاڑے کے پاس پہنچی تو خلیفہ منہا پہلوان کے سپاٹ سر پر تیل گرا کر چمپی کر رہا تھا اور وہ دنیا و مافہیا سے بے خبر آنکھیں موندے پڑا تھا۔ نبیلہ کے سلام کی مترنم اور انگلش لہجے میں گھلی گھلی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی مگر وہ متوجہ نہ ہوا۔ پیپل والے احاطے کے اطراف میں ایسی آوازیں ناپید تھیں لہٰذا وہ بدستور آنکھیں موندے رہا تاآنکہ خلیفہ کی ایک ردھم میں ہونے والی چمپی زور دار چپت میں تبدیل ہو گئی خلیفہ گھگھیا کر بولا ”پہلوان صیب اٹھیں مہمان آئے ہیں۔“ منہا پہلوان نے آنکھیں کھولیں تو لمحہ بھر کو دم بخود رہ گیا آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ نبیلہ کی طرف دیکھا اور دل میں لاحول ولا پڑھنے لگا۔ گورا چٹا شہابی رنگ، سنہری بال، گوگلز ناک کے سرے پر ٹکائے ہاتھ میں بیگ تھامے نبیلہ حیرت سے منہا پہلوان کی ہیت کذائی دیکھ رہی تھی۔ پیپل والے احاطے میں بھی لڑکیاں رہتی تھیں مگر چادریں اور برقعے اوڑھے ہوئے نگاہیں جھکائے شرماتی اور لجاتی۔ اکھاڑے کی طرف لڑکیوں کا آنا ویسے بھی ممنوع تھا۔ منہا پہلوان ابھی دم بخود تھا کہ خلیفہ نے اسے جھنجھوڑ کر کہا ”پہلوان جی ہوش میں آ جائیں مہمان آئے ہیں۔“ منہا پہلوان ہڑبڑا کر چارپائی سے اٹھا مگر پھر اسے احساس ہوا کہ وہ ابھی اکھاڑے سے نکلا ہے اور نہایت مختصر لباس میں ہے وہ اسی سرعت سے بیٹھ گیا اور فلک شگاف آواز میں بولا ”اوئے“۔
نبیلہ کے اکھاڑے کے قریب آتے ہی گویا سب ساکت ہو گئے تھے۔ منہا پہلوان کی آواز سے درخت پر پہلے ہی خاموشی چھا گئی تھی پرندوں نے چہچہانا بند کر دیا تھا اکھاڑے میں بھی پہلوان کھسیانے سے ہو کر اکھاڑے سے باہر بیٹھ گئے تھے ۔ ڈنڈ پیلتے، بیٹھکیں لگاتے اور کسرت کرتے پہلوان اپنے اپنے ستر چھپانے لگے۔
نبیلہ نے صورت حال بھانپتے ہوئے خود ہی اکھاڑے کی طرف پشت کر لی اور زیر لب مسکرانے لگی خلیفہ بھاگ کر ایک لوہے کی فولڈنگ کرسی لے آیا اور نبیلہ کو بیٹھنے کی دعوت دی۔ ایک عقلمند شاگرد پہلوان نے دوپٹہ نما گلابی چادر منہا پہلوان کے اوپر ڈال دی تب منہا پہلوان نے نگاہیں اٹھائیں اور نبیلہ کے سلام کا جواب دیا ”وعلیکم السلام موتیاں والی سرکار آپ مجھے حکم دیتے تو میں حاضر ہو جاتا ادھر دراصل بی بیوں کا داخلہ منع ہے۔“ منہا پہلوان بولا۔
”وہ جی آپ سے کارپوریشن کے دفتر میں ملاقات ہوئی تھی نا آپ نے کہا تھا کہ انٹرویو کے لیے آ جانا اس لیے میں آ گئی۔“ نبیلہ نے مسکرا کر کہا۔ ”ست بسم ﷲ ست بسم ﷲ“ منہا پہلوان بولا۔ ”آپ کی کیا خدمت کریں“ لسی دودھ سوڈا یا گولی والی بوتل؟ بڑی خالص سوغات ہے پیپل والے احاطے کی“ پہلوان بولا اور جواب کا انتظار کئے بغیر ہی دودھ دہی والی دکان کی طرف رخ کر کے آواز دی ”اوئے دودھ سوڈا بھیجو مہمان آئے ہیں۔“ منہا پہلوان بڑی کشتیاں لڑ چکا تھا بڑے مشکل مقابلے کر چکا تھا مگر نبیلہ کے سامنے ذرا گھبرایا ہوا سا لگ رہا تھا۔ صنف نازک سے دوبدو وہ زندگی میں پہلی بار کلام کر رہا تھا۔ ”وہ جی میں ذرا نہا کر کپڑے پہن لوں پھر بات کرتے ہیں۔“ پہلوان بولا۔ نبیلہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”اوئے خلیفہ تیرا گھر قریب ہے ذرا بھابھی کو لے آ اتنی دیر بی بی کے ساتھ گپ شپ لگائے“ خلیفہ کا خیال تھا کہ جتنی دیر منہا پہلوان غسل کر کے کپڑے پہن کر آئے گا وہ نبیلہ کے ساتھ خوش گپیاں کر لے گا۔ وہ بہت بے مزہ ہوا اور بوجھل دل سے ”اچھا جی“ کہہ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
منہا پہلوان کی آمد سے قبل ہی اس کے شاگردوں نے آس پاس کے گھروں سے چند کرسیوں کا انتظام کر لیا تھا چنانچہ نبیلہ نے چھوٹا سا ٹیپ ریکارڈر آن کر لیا اور منہا پہلوان کے بچپن اور نوجوانی کے واقعات اور کشتی میں اس کی مہارت شوق اور مقابلوں کے بارے میں سوال کرنے لگی اس دوران نبیلہ کی ”دودھ سوڈے“ سے تواضع بھی کی گئی۔ منہا پہلوان نے دوپہر کے کھانے کی دعوت بھی دی اور اپنی دودھ دہی والی دکان میں نصب ٹیلیفون کا نمبر بھی ایک پرچی پر لکھ کر دیا تاکہ جس روز اخبار میں اس کا فیچر چھپے وہ مطلع کر دے انٹرویو کے دوران نبیلہ نے اپنے کیمرے سے منہا پہلوان کی تصویریں بنائیں اور چند یادگار تصاویر کے پرنٹ بھی لیے تاکہ اخبار میں فیچر کے ساتھ چھاپ سکے۔
وہ دن منہا پہلوان کے لیے ایک خواب سا تھا۔ اب تک اس نے نہایت خشک مجرد اور جدوجہد والی زندگی گزاری تھی صبح سویرے اٹھنا نماز، اکھاڑہ، کسرت، صحت بخش غذا، آرام اور کشتی کے مقابلے۔ اس کی زندگی انہی کاموں میں گزری تھی۔ وہ بنیادی طور پر بھلا مانس تھا پیپل والے احاطے میں رہائش پذیر سب خواتین کو بہن اور ماں کا درجہ دیتا تھا۔ اس نے آج تک کسی خاتون سے کلام تک نہ کیا تھا اس کی نگاہیں خواتین کی موجودگی میں اٹھتی نہ تھیں صرف کبھی کبھار دیکھے ہوئے ڈرامے اور سینما میں ہیروئنوں کو کانی آنکھ سے دیکھا کرتا تھا جو اسے کوئی آسمانی مخلوق لگتی تھیں مگر وہ لمحہ بھر سکرین کے پردے پر اپنے جلوے دکھا کر غائب ہو جاتی تھیں۔ منہا پہلوان کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی کہ کوئی ایسی ہستی کبھی اس کی زندگی میں بھی آ جائے مگر یہ سب کچھ پہلوانوں کے لیے شجر ممنوعہ تھا اس کا خیال تھا کہ وہ جب پہلوانی کا عروج دیکھ لے گا تو ایک روز ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے شادی کر لے گا اور آرام سے زندگی گزارے گا۔ نبیلہ کو دیکھ کر اسے یوں لگا تھا کہ پردہ سکرین سے کوئی ہیروئن نکل کر راستہ بھول کر اکھاڑے کی طرف آگئی ہے۔
اس سے پہلے وہ شادی کا خیال دل سے جھٹک دیتا تھا کہ جس پہلوان کی شادی ہوئی وہ اکھاڑے سے نکل گیا۔ آج صبح تک منہا پہلوان نے کبھی شادی کا سوچا بھی نہ تھا مگر نبیلہ سے ملاقات کے بعد نجانے کیوں اس کا دل چاہنے لگا کہ اب وہ بھی شادی کر لے، کشتی چھوڑ کر کوئی اور کسب کر لے اس روز منہا پہلوان دوپہر کے کھانے اور قیلولہ کے لیے گھر گیا تو شام کو اکھاڑے میں آنے کے لیے اسے دل کو بہت سمجھانا پڑا۔
اگلے روز سے ہی منہا پہلوان نے دودھ دہی والی دکان سے بڑے تواتر سے پوچھنا شروع کر دیا کہ ”میرا کوئی ٹیلیفون تو نہیں آیا؟“ ایک ہفتے کے بعد جب منہا پہلوان ابھی اکھاڑے میں تھا تو دودھ دہی والی دکان سے اس کا ملازم پکارنے لگا ”استاد جی آپ کا ٹیلیفون آگیا ہے۔“ منہا پہلوان کشتی ادھوری چھوڑ کر دکان کی طرف بھاگا اس کا خیال تھا کہ دوسری طرف نبیلہ ہو گی اور اسے فیچر چھپنے کی اطلاع دے گی۔ مگر اسے بیحد مایوسی ہوئی۔ اخبار کے دفتر سے ایک بابو نے اسے اطلاع دی کہ پہلوان صاحب آج کا اخبار خرید لیں آپ کا فیچر چھپا ہے۔ منہا پہلوان نے پوچھا بھی کہ ”خود نبیلہ بی بی کہاں ہیں؟“ مگر فون بند ہو گیا۔ منہا پہلوان نے ایک شاگرد کو بھیج کر بازار سے اخبار کے تمام دستیاب پرچے خرید لیے اور پیپل والے احاطے میں تقسیم کر دیئے۔ ایڈیشن کی خوبصورت رنگین کاپی کے سرورق پر انٹرویو لیتے ہوئے نبیلہ کی تصویر بھی تھی منہا پہلوان نے اسے خصوصی طور پر سنبھال کر رکھ لیا۔ منہا پہلوان کو احساس ہوا کہ نبیلہ کی اکھاڑے میں آمد اس کے لیے ایک بھونچال ثابت ہوئی ہے جس نے اس کی زندگی کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ اسے انٹرویو کے دوران نبیلہ کی اس کی ذات میں دلچسپی سے یوں لگا تھا کہ جیسے وہ اس سے بیحد متاثر ہو شاید یہی غلط فہمی تھی کہ نادانستہ طور پر منہا پہلوان نے اسے اپنی زندگی میں شامل کر لیا تھا۔ مگر نبیلہ کی طرف سے دوبارہ کسی رابطے کے نہ ہونے پر وہ بیحد مایوس تھا۔ وہ ہر وقت نبیلہ کے بارے میں سوچتا رہتا، اسے خواب میں دیکھتا، کُشتی میں اب اس کا دل نہ لگتا تھا وہ کھویا کھویا سا رہنے لگا اب اس کے شاگرد اسے پچھاڑنے لگے تھے۔ کام سے اس کی بے اعتنائی ہر کوئی محسوس کر رہا تھا وہ فجر کی نماز کے لیے اکثر تاخیر سے آتا۔ اب اس نے اکھاڑے سے ناغہ بھی کرنا شروع کر دیا تھا۔
ایک روز اس نے اپنے حالات پر غور کرنا شروع کر دیا کہ اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی وہ اپنے فن میں یکتا تھا پھر اچانک کہیں سے نبیلہ اس سے انٹرویو کرنے آ گئی …. وہ تو اس کا کام تھا اس نے کوئی آس تو نہیں دلائی تھی …. وعدہ تو نہیں کیا تھا پھر آخر وہ کیوں اسے یاد کرنے لگا ہے وہ تو بہت مضبوط پہلوان تھا پھر یہ کیا ہو گیا ہے وہ خود کو اس قدر کمزور محسوس کرتا ہے۔ اس نے اس روز تہیہ کر لیا کہ وہ خود پر قابو پائے گا اور کبھی نبیلہ کو یاد نہیں کرے گا وہ آخر تھی کون جو اس کی زندگی اور پیشہ تباہ کرنے آ گئی تھی۔ اس نے نبیلہ کو فراموش کرنے کا تہیہ کر لیا۔
ایک روز منہا پہلوان ابھی اکھاڑے میں تھا کہ دودھ دہی والی دکان سے ملازم پکارا ”استاد جی آپ کا فون آیا ہے“۔ منہا پہلوان نہ چاہتے ہوئے بھی دکان کی جانب بھاگا اسے قطعی یقین نہ تھا کہ یہ فون نبیلہ کا ہو گا۔ مگر یہ نبیلہ کا فون تھا ”بسم ﷲ بسم ﷲ ستے خیراں“ منہا پہلوان نے کہا۔ ”پہلوان صاحب آپ نے میری خبر ہی نہیں لی نہ فیچر کا شکریہ ادا کیا میں تو انتظار ہی کرتی رہی۔“ نبیلہ نے کہا ”اوہو …. واقعی بھئی میں تو بڑا بیوقوف ہوں“ منہا پہلوان نے سوچا ”میں نے خود نبیلہ کو ملنے کی کوشش ہی نہیں کی۔“ منہا پہلوان سے فون پر بات نہ ہو پا رہی تھی۔ …. ”معاف کرنا بی بی جی غلطی ہو گئی میں دراصل بہت مصروف رہا مجھے آپ کا خیال ہی نہ آیا۔“ منہا پہلوان نے جھوٹ بولا۔ ”وہ جی آپ کو اپنے گھر دعوت دینا تھی۔ آج رات ہمارے گھر میں ایک فنکشن ہے ابا آپ سے ملنا چاہ رہے ہیں شام کو ڈرائیور آپ کو لے جائے گا …. ضرور آئیے گا۔“ نبیلہ نے فون بند کر دیا۔ دکان میں سب مسکرا رہے تھے۔ اس نے رسیور رکھ کر زور سے دایاں ہاتھ بائیں ہتھیلی پر مارا اور بولا ”لو جی گل بن گئی اے“۔ منہا پہلوان کو یقین نہ آ رہا تھا کہ نبیلہ نے اسے اپنے گھر دعوت پر بلایا ہے اور اپنے باپ سے ملانا ہے اس نے دکان سے باہر نکلتے ہیں آواز لگائی ”اوئے خلیفہ جلدی آ“۔ خلیفہ آیا تو منہا پہلوان نے کہا آج استرا نہیں پھروانا بس بال سیٹ کر دے۔ خلیفہ نے بے یقینی سے دیکھتے ہوئے کہا ”استاد یہاں ہے کیا جو سیٹ کر دوں ابھی پچھلے ہفتے تو استرا پھرایا تھا“۔ ”اچھا تو پھر داڑھی مونڈ دے اور قلمیں لمبی رکھنا۔“ منہا پہلوان نے کہا۔ خلیفہ نے استاد کو یوں دیکھا جیسے اس کی دماغی صحت پر شبہ کر رہا ہو۔
کار جیسے ہی گلبرگ کی ایک عالیشان کوٹھی میں داخل ہوئی منہا پہلوان کی آنکھیں چکا چوند روشنی میں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں پورچ میں نبیلہ کے ابا اور امی نے پرتپاک انداز میں اس کا استقبال کیا اور لان کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ منہا پہلوان سفید براق لباس میں ملبوس تھا۔ وہ اپنے ساتھ مٹھائی کا بڑا ٹوکرا اور پھول لایا تھا جو میزبانوں کے حوالے کر دیئے گئے۔ بہت سے مہمانوں نے اسے پہچان لیا اور فرداً فرداً آ کر ملنے لگے۔ نبیلہ کے ابا کچھ شناسا لگ رہے تھے مہمانوں کے استقبال سے فراغت پا کر وہ منہا پہلوان کے ساتھ آن کر بیٹھ گئے اور گفتگو کرنے لگے۔ اخبار میں اس کا فیچر پڑھ کر انہیں منہا پہلوان سے ملنے کا اشتیاق ہوا تھا دراصل ان کا بچپن بھی پیپل والے احاطے میں گزرا تھا اس لیے انہوں نے نبیلہ کو تاکید کی کہ پہلوان صاحب کو ضرور مدعو کرنا یہ سن کر منہا پہلوان کی امیدوں پر کچھ اوس پڑ گئی …. وہ تو اس دعوت کا نجانے کیا مطلب لے رہا تھا۔ اس کی نگاہیں نبیلہ کو تلاش کر رہی تھیں۔ اس کے ابا سے پوچھنا مناسب نہ تھا بلاآخر نبیلہ پنڈال میں آ گئی …. ایک سمارٹ نوجوان کے ہمراہ جو اس کا منگیتر تھا اور اس روز ان کی منگنی کی تقریب تھی۔ نبیلہ کے منگیتر کو دیکھ کر منہا پہلوان کو اس قسم کا ابدی سکون آ گیا جیسے مدت سے گمشدہ کسی عزیز کی میت کو دیکھ کر آتا ہے اس نے بڑھ کر نبیلہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے منگیتر کا کاندھا تھپتھپایا نبیلہ نے اپنے منگیتر سے تعارف کراتے ہوئے منہا پہلوان کی بے حد تعریف کی اور سٹیج پر بیٹھنے سے پہلے مڑ کر بطور خاص کہا ”انکل آپ ہمارے گھر آتے رہیے گا۔“
شادی کی پہلی رات منہا پہلوان کا دم گھٹ رہا تھا ایک تو کھڑکیاں دروازے بند تھے دوسرا پھولوں کی لڑیوں سے بند حجلہ عروسی،اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ جیل کے اندر ایک اور جیل میں بند ہو گیا ہو رات کے پچھلے پہر وہ تکیہ اٹھا کر چھت پر سونے چلا گیا منہا پہلوان کی دلہن رشیدہ خلیفہ کی بے اولاد بہن تھی اور پچھلے برس ہی اسے طلاق ہوئی تھی یہ شادی نہایت عجلت میں ہوئی تھی۔ نبیلہ کی منگنی کی تقریب سے سیدھا منہا پہلوان خلیفہ کے گھر گیا اور اس کی مطلقہ بہن کا ہاتھ مانگ لیا۔ خلیفہ نے بے یقینی سے منہا پہلوان کو دیکھا کیونکہ ان دنوں منہا پہلوان عجیب عجیب حرکتیں کر رہا تھا مگر چونکہ اس کی بہن کی آئندہ زندگی کا معاملہ تھا اس نے رات بھر کی مہلت مانگی اور اگلی شام دونوں کا نکاح ہو گیا۔
منہ دکھائی میں منہا پہلوان نے رشیدہ کو جو تحائف دیئے ان میں اس قسم کے گوگلز بھی تھے جو نبیلہ نے منہا پہلوان سے پہلی ملاقات کے وقت پہن رکھے تھے۔ ان گوگلز کو دیکھ کر رشیدہ بہت جزبُز ہوئی اور کہنے لگے ” منہے! تو نے مجھے محتاج اندھا حافظ سمجھ رکھا ہے جو ایسی عینکیں لے آیا ہے؟“ رشیدہ ہیلتھ وزیٹر تھی اور مقامی ہسپتال کے زچہ بچہ وارڈ میں کام کرتی تھی۔ شادی کی پہلی رات ہی اس نے منہا پہلوان کو خبردار کر دیا تھا کہ گھر میں تمہارے جتنے ”کن ٹٹے“ شاگرد رہتے ہیں صبح سے انہیں دفعان کر دو اور جتنے کمرے ورزش کے سامان سے بھرے ہیں انہیں خالی کر دو یہ گھر ہے ہسپتال نہیں ہے۔ منہا پہلوان کا میڈیکل چیک اپ کرایا گیا اس کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہلے ہوئے تھے اور کولیسٹرول لیول دوگنا تھا۔ اس کی تمام مرغن غذائیں بند کر دی گئیں اس روز سے اس کی کشتی اور ورزش بھی بند کر دی گئی۔ منہا پہلوان نے پہلوانی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا۔ آخری کشتی کے بعد اس کا خیال تھا کہ رہٹ والے کنویں کی بجائے گھر جا کر غسل کرے کیونکہ اب وہ شادی شدہ تھا اور اسے گھر سے باہر زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہیے۔ وہ چونکہ منہا پہلوان کی آخری کشتی تھی لہٰذا اس کے شاگردوں نے خوب تیل کی مالش کی ہوئی تھی اور ڈھیروں اکھاڑے کی مٹی ملی ہوئی تھی گھر کا سفید ٹائیلوں والا غسلخانہ اتنا آلودہ ہو گیا کہ وائپر اور جھاڑو سے میل چھٹتے نہیں چھٹ رہی تھی۔ رشیدہ نے کہا ”منہے گھر کے غسل خانے انسانوں کے نہانے کے لیے ہوتے ہیں بھینسوں کے نہیں۔ آئندہ تو نے غسلخانہ اتنا گندہ کیا تو گھر سے کھڑے کھڑے نکال دوں گی۔“
منہا پہلوان خوش تھا کہ یہ بات رشیدہ نے کی وگرنہ اگر یہی بات نبیلہ کرتی تو اسے کس قدر دکھ ہوتا اور بالاآخر ایک روز نبیلہ نے بھی یہ بات کر دینا تھی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker