افسانےلکھاری

صائمہ صادق کا افسانہ : لاوارث

ہم روند ڈالتے ہیں ۔خوابوں کو اپنوں کی بے بسی اور مجبوری میں ۔بعض اوقعات ہم اس قدر بے بس ہوتے ہیں کہ اپنے ہی وجود کے حصہ کو خون میں لت پت چیتھڑوں میں بٹا دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر پاتے ۔اتنے بے بس کیوں کہ آسمان سے نگاہیں دوچار ہی نہ کر سکیں ۔
یہ کہانی ہے ایسے والدین کی جو اپنی اولاد کو سفاک درندگی کا نشانہ بنا دیکھ کر بھی انصاف نہ دلا سکے۔دو بیماریوں میں جکڑے بوسیدہ جسم طاقت ہی کہا ں رکھتے تھے دنیا سے لڑنے کی ۔وہ تو مشکل سے اپنی زندگی سے لڑ رہے تھے۔بس بے سدھ جیے جا رہے تھے۔
یہ کہانی ہے اس عائشہ کی جو بے گناہ ہوتے ہوۓ آج بھی سوالیہ نشان ہے؟ عائشہ جس کا غریب گھر میں پیدا ہونا سزا بنا ۔غربت کی وجہ سے والدین نے اس کو بوجھ سمجھ کر اتار پھینکا تھا ۔ہاۓ ۓ!!! غربت بھی کیسا عفریت ہے ۔جو بیٹی رب نے رحمت بنا کر بھیجی وہی ایک غریب اور کمزور انسان کے لیے ایسا بوجھ بن جاتی ہے جس کو جتنا جلدی اتار دیا جاۓ۔تھکان سے چور جسم کو سکون ملتا۔
اسی کی نذر ہوئی ایک معصوم جس پر زندگی قہر بن کے برسی ۔چیتھڑے سمیٹنے سے پہلے ہی درندوں نے نوچ کھایا ۔آخری سانسوں میں پانی کی چند بوندوں کے لیے بلکتی ہوئی عائشہ۔۔۔۔۔۔۔۔
احمر ایک انتہائی اوباش لڑکا تھا ۔گھر والوں نے اس کو راہ راست پر لانے کا یہ حل نکالا کہ اس کو کسی کے کھونٹے سے باندھ لیا جاۓ کہ سدھر جاۓ ۔لیکن بری عادتیں تو اپنی یا کسی اور کی جان لے کر ہی چھوٹتی ہیں۔
احمر کا رشتہ آیا تو گھر والوں نے فوراًہاں کردی۔بگڑا ہوا ہے تو کیا ہواسدھر جاۓ گا ۔جب ذمہ داری کا بوجھ پڑے گا ۔۔۔۔
شادی کو عرصہ بیت گیا۔احمر نے اپنی فطرت بدلی نہ ہی وہ اس کوکسی خاطر میں لاتا۔رات گئے گھر آتا اور کبھی کبھی تو کئی دن گزر جاتے وہ نشے سے چور خراب حالت میں جب واپس لوٹتا تو وہ اس کو سنبھالتی اسے سنبھالنے میں اس کے تشدد کا نشانہ بنتی ۔سب کچھ سہتی اپنے معصوم بچوں کے لیے کہ ان کا باپ ہے اور میرا سہاگ بھی جیسا بھی ہے چھت تو دے رکھی ۔
خود دن بھر بیلوں کی طرح ایک سے دوسرے گھر میں برتن مانجھتی جھاڑو لگاتی ۔ اگرچہ وہ غربت کے آثار میں رہی تھی لیکن کھلتاہوا گلابی چہرہ موٹی موٹی کالی آنکھیں ۔کوئی دیکھے تو کسی بڑے گھرکی لاڈو معلوم پڑتی۔آج وقت اور حالات نے اس کو بدصورت بنا دیا ۔نہ وہ رنگ رہا نہ روپ ،چہرے کی لالی اب سیاہی میں بدل گئی ۔زندگی اس کے لیے کوئلوں کی کان بنی جس میں دہکتے دہکتے آج اس کی زد میں روح اور رنگ سب جھلس گیا۔
ماں باپ بیٹی کی حالت دیکھ کے کڑہتے تو رہتے لیکن غربت نے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے تھے۔جہاں خود کھانے کے لالے پڑے ہوں ۔وہاں دو بچوں کے ساتھ بیٹی کو گھر لانے کی جسارت نہ تھی۔وہ ناتواں بوڑھے دعا اور صبر کے سوا کر ہی کیا سکتے تھے۔
آج وہ کام سے لوٹی تو احمر پہلے سے ہی اس کا منتظر تھا ۔اس کے دوپٹے کے پلو سے بندھے پیسے کھول کر کہنے لگا ۔میں نے شادی کر لی ہے اور آج بیوی کو لینے جا رہا ہوں ۔
میرے آنے سے پہلے کمرہ خالی کر دینا اور اپنا سامان اور بچوں کو لے کر اباکے جانوروں کے باڑے میں چلی جانا ۔گرمیاں ہیں تو جانور وہاں نہیں باندھے جاتے خالی پڑا ہے ۔وہ اس کا تو کبھی سگا نہ تھا ۔پر بچوں کا سگا ہوتے ہوۓ بھی نہ بن سکا ۔
شام میں وہ اک عورت کے ساتھ گھر لوٹا ۔اس کے بعد گھروں میں کام سے واپس لوٹتی تو شوہر کی بیوی کے نخرے اٹھاتی ۔وہ محنت سے کماکے لاتی وہ اپنی بیوی کی نذر کر دیتا۔کہ بناؤسنگھار برقرار رہے۔
اتنی محنت کے بعد کچھ شام میں پاس بچتا تو دوسروں کا جوٹھا اور روکھی سوکھی روٹی مقدر ماں بچوں کا۔یہ گھر اب اس کے لیے جہنم سے بھی بدتر ٹھکانہ بن گیا۔اس کے باوجود وہ اس کا احسان سمجھتی تھی کہ اپنے گھر میں باڑے میں ہی سہی لیکن جگہ تو دے رکھی ہے۔وہ مرد ہے جو چاہے کر سکتا ہے ۔وہ دیہات کی معصوم سادہ عورت کہ مجھے ابھی تک اپنا نام تو دے رکھا ۔دوسری عورت کے آنے پہ یہ حق تو نہیں چھینا۔پگلی یہ کبھی سمجھ ہی نہ سکی کہ کیا قہر برپا ہو سکتا۔اک بے کار اور فالتو سا مان کے علاوہ کوئی وقعت نہ تھی ۔پھر بھی اس معصوم سے ایسا کیا بیر پال لیا کہ اس کا وجود کھٹکنے لگا ۔
احمر گھر لوٹا تو شادو (اس کی دوسری بیوی کا نام ) نے خداجانے ایسا کیا بولا کہ وہ آگ بگولا ہوگیا۔ایسا آپے سے باہر ہوا کہ اک وحشی درندے کی طرح اس کی راہ تکنے لگا ۔گھر قدم رکھا ہی تھا کہ !!!!
گرمیوں کے دن ۔۔۔۔آگ برساتا سورج ۔۔بدن کو جھلسا دینے والی لو۔جس سے بچنے کے لیے ہر ذی روح سایے کی تلاش میں مدہوش تھا ۔لوگ سایے میں بیٹھے سستا رہے تھے۔
اس کڑکتی دھوپ میں عائشہ بے سدھ پڑی تھی ۔خون کے فوارے بہہ رہے تھے اس کے بدن سے ۔۔بے حسی ایسی کہ احمر کو گھر سے بھاگ جانے کا بولا جارہا تھا۔
کیسا المیہ ہے ہمارے معاشرے کا گولیوں کی گونج سے یہاں جمع ہوا مجمع اس کے جسد کے پاس پڑے چیتھڑے دیکھ کر بھی اس پر رحم کھانے کی بجاۓ لبوں پہ کئی سوال لیے کھڑا تھا ۔جس نے بے دردی سے مار ڈالااور ڈھٹائی کے ساتھ سر اٹھا کر چلا گیا
اس کے لیے کوئی سوال کوئی لفظ نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اگر کچھ تھا تو اس کے لیے ہمدردی کے جملے کے بیچارہ کہا ں جاۓ گا ۔دربدر ہوگا پولیس سے چھپے گا مارا مارا پھرے گا کسی نے بھی ظلم کی تصویر بنی عائشہ کی طرف دیکھ کر یہ نہ کہا کہ ۔۔
یہ مظلوم جو ظلم سہنے کے باوجود ا س کا سہارا بنی رہی ۔اس کا ایسا بھیانک انجام کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
پولیس آئی اور چلی گئی ۔وقت ر کتا نہیں تھمتا نہیں ۔۔۔۔۔بس قہر ڈھاکے گزر جاتا ہے ۔اس کو کبھی زمیندار نے پناہ دی تو کبھی حاکمِ وقت نے ۔۔۔۔۔۔۔واہ ہ کیسا انصاف ہے زمانے کا مجرم باعزت بری ہوا ۔گھر لوٹ آیا مگر عائشہ تو آج بھی نہ لوٹی تھی بے گناہ ہو کے بھی ۔
کھنڈر آنکھیں ۔۔۔۔۔۔اسے آج بھی تلاش کررہی تھیں کہ ظالم لوٹا ہے ۔۔۔تو شاید ان کی آس بھی لوٹ آئی ہو ۔۔۔۔۔پرکہاں وہ جیسے لاوارث زندہ رہی ویسے ہی لاورث دفن ہوگئی ۔قیامت تو یہ تھی کہ وہ لوگ جہنوں نے اپنے سامنے سسک سسک کر مرتےدیکھا تھا اسے مٹھا ئیاں لے آۓ تھے ۔جشن کا سماں تھا ۔کہ سپوت لوٹا ہے ۔
ماتم ۔۔۔۔۔۔۔۔سکوت تھا تو آج بھی ان دو ناتواں بوڑھوں میں ان پر ٹوٹا قہر کم ہوانہ بیتی قیامت ۔۔۔۔۔۔
کیا عجیب المیہ ہے ۔۔۔جس پر ظلم ہوا وہ جس پر قیامت ٹوٹی وہ آج بھی سوالیہ نشان کیوں۔۔۔۔؟
کتنا عجیب ہے بولنے کی طاقت رکھتے ہوۓبھی لوگ زنگ آلود تالے لگا لیتے ۔اک بے گناہ بھٹی میں جھلس جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر جیت ہمیشہ ظالم کی ہوتی ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker