آنچلخیبر پختونخواہسبط حسن گیلانیلکھاری

جنت میں گھر ؟ شہید کی بیوہ اور شہید کی ماں کی سچی کہانی ۔۔ سبط حسن گیلانی

میں ابھی سترہ کی بھی نہیں ہوئی تھی کہ بیاہ دی گئی ۔ایسے علاقے اور سماج سے تعلق تھا ،جہاں عورت کو راے دینے کا کوئی حق نہیں ہوتا ،بے شک وہ معاملہ اس کی اپنی زندگی سے براہ راست ہی جڑا ہوا کیوں نہ ہو ۔میں نے پانچ جماعتیں پاس کی تھیں مزید پڑھنے کا شوق تھا مگر اس سے آگے نہ قریب کوئی سکول تھا اور نہ ہی اس کی اجازت ۔گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانا چولہے چوکے کا انتظام کرنا یہی ہماری زندگی تھی جو صدیوں سے رائج تھی ۔شکل صورت اچھی تھی اس لیے جلد ہی رشتے آنے شروع ہوے ۔ایک دن محلے کے مولوی سے سنا وہ ہماری بیٹھک میں بیٹھا مسئلہ بیان کر رہا تھا ،کہ خوش قسمت ہے وہ باپ جس کی بیٹی ماہواری اگلے گھر جا کر دیکھے ۔مگر میرے ابا ایسے خوش قسمت تو ثابت نہ ہو سکے پر انہیں اس بوجھ سے خود کو ہلکا کرنے کی فکر صبح شام ستایا کرتی تھی ۔وہ میرے سامنے کہا کرتے یہ بوجھ اتر جاے تو رب کے گھر کی زیارت کر آؤں ۔میری منگنی قبیلے کے جس نوجوان سے طے پائی وہ کسی مدرسے کا پڑھا ہوا تھا اور کسی مذہبی جماعت سے وابستہ تھا ۔بڑی سی داڑھی پر بڑی سی پگڑی باندھا کرتا ۔میں کسی ایسے بندے سے شادی کی خواہش مند تھی جو مذ ہبی تو ہو مگر کوئی ڈھنگ کا کام کرتا ہو ،کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کوئی ملازمت ۔مگر میری مرضی کسی نے پوچھ کر اپنی غیرت کو بٹا لگانا تھا ۔یہ غیرت بھی عجیب شے ہے ۔میں سوچتی کہ یہ کوئی جذ بہ ہے؟ کوئی رویہ ہے؟ کوئی عقیدہ ہے ؟ مگر بہت کم لکھی پڑھی تھی کبھی صحیح طریقے سے سمجھ نہ پائی ۔بس اتنا سمجھ پائی کہ جو بھی ہے بس مردوں کے فائدے کی کوئی شے ہے۔ کیونکہ یہ جب بھی جاگتی کوئی نہ کوئی عورت اس کا نشانہ بنتی ۔میری شادی ہوئی تو نہ ڈھول نہ باجا نہ کوئی گیت نہ سمی ۔مجھے بتایا گیا کہ میرے ہونے والے شوہر نے اس سے سختی سے منع کیا ہے ۔شادی کے مکلاوے پر میرے ابا اور میری بڑی بہن مجھے لینے آئے تو ساتھ میری خالہ کا بیٹا بھی تھا جو صرف بارہ سال کا تھا وہ مجھے بہت پیارا تھا با لکل میرے چھوٹے بھائی جیسا مگر اسے اندر آنے کی اجازت نہیں ملی کیونکہ وہ نامحرم تھا ۔میرا شوہر میرے ساتھ صرف ایک ہفتہ رہا ،نہ ہم کہیں سیر کو گئے نہ شہر کا کوئی چکر لگایا ۔پہلے ابا مجھے شہر لے کر جاتے تھے تو دہی بھلے کھلایا کرتے تھے ۔میرے شوہر نے مجھے بتایا کہ وہ بے غیرت مرد ہوتے ہیں جو اپنی عورتوں کو بازاروں میں لے کر گھومتے ہیں ۔ ایک ہفتے بعد وہ مجھے چھوڑ کر اپنے دینی کام پر چلا گیا ۔ ایک دن مجھے چلتے چلتے چکر آیا تو میری ساس دائی کو بلا کر لے آئی اس نے بتایا کہ میں ماں بننے والی ہوں ۔میرا شوہر تین ماہ بعد گھر آیا تو وہ خالی ہاتھ تھا ۔مجھے ابا یاد آ ئے وہ جب بھی ہر مہینے گھر چھٹی پر آتے تو ہمارے لیے کوئی نہ کوئی شے ضرور لایا کرتے ۔میرے شوہر نے تو مجھے منہ دکھلائی پر بھی کچھ نہیں دیا تھا اس نے خود ہی بتایا یہ ہندوؤں کی رسمیں ہیں ۔ایک مرتبہ کسی بات پر مجھے زور کی ہنسی آئی تو اس نے ڈانٹا کہ اونچی آواز میں ہنسنا یہودو نصاریٰ کی عورتوں کا شیوہ ہے ۔اس مرتبہ بھی وہ ایک ہفتہ ہی گھر رہا اسے اس بات کی کوئی خاص خوشی نہ ہوئی جب اس نے سنا کہ وہ باپ بننے والا ہے ۔صرف ایک مرتبہ اس نے کہا کہ میری دعا ہے وہ لڑکا ہو اور میری طرح مجاہد بنے ، یہ سن کر کسی انجان سے خوف سے میں گھبرا گئی تھی ۔وہ انجان سا خوف حقیقت بن کر میرے سامنے اس وقت آ کھڑا ہوا جب اطلاع آئی کہ میرا شوہر افغانستان میں شہید ہو گیا ہے ۔ دوسرے دن شام کو ایسے ہی حلیے والوں نے ایک تابوت ہمارے گھر کے سامنے لا رکھا ۔وہ اونچی آواز میں رونے والوں کو منع کر رہے تھے ۔میرے سسر کو کہا جا رہا تھا تمہیں مبارک ہو تم ایک شہید کے والد ہو ۔میرا بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی یتیم ہو چکا تھا ۔میری دنیا اندھیر ہو گئی تھی ۔مجھے تابوت میں اس کا منہ دیکھنے اور تابوت کو چھونے کی اجازت تک نہیں تھی اور نہ ہی کسی اور عورت کو ۔مولوی صاحب نے مسئلہ بتایا تھا کہ عورت معلوم نہیں کس حال میں ہو ،پاک ہو ناپاک ہو ۔اس طرح اس کے چھونے سے مردے کا اجر کم ہو جاتا ہے ۔اور ایک شہید کا اجر تو بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ میں اندر عورتوں کے ہجوم میں رو رہی تھی تو مولوی کی بیوی نے مجھے کہا تم خوش قسمت ہو کہ ایک شہید کی بیوہ ہو تمہارا گھر اجڑا نہیں بلکہ جنت میں تعمیر ہوا ہے ۔ سارے رشتے دار دور دور سے آ ئے وہ سب صبح انڈوں اور پراٹھوں کا ناشتا کرتے بیٹھک میں حقے گڑگڑاتے قہوے اور چائے پیتے اور دوپہر شام بھیڑ کے گوشت سے اپنے بڑے بڑے پیٹ بھرتے داڑھیوں پر ہاتھ پھیرتے ۔میں سوچتی ایک یتیم کا مال اس طرح ڈکارتے انہیں شریعت منع نہیں کرتی ۔ایک ہفتہ تک ہمارا گھر مہمانوں سے بھرا رہا ۔پھر آخری رسم ہوئی اور ہماری بیس بکریوں میں سے دس باقی بچیں ۔گندم والا ذخیرہ بھی تقریباً ختم ہو گیا تھا ۔سب شہید کی بہادری اور اس کے رتبے کی تعریفیں کرتے رخصت ہوئے۔کہ کس طرح شہید مجاہد نے پورے دس کافروں کو جہنم رسید کیا اور پھر جام شہادت نوش کیا ۔جب دو ماہ بعد میرا بیٹا پیدا ہوا تو ہم لوگ شدید مالی پریشانیوں کا شکار تھے ۔ میرا چاند سا بیٹا پیدا ہوا تو دائی کو خوش کرنے کے لیے بھی میری مٹھی میں نقد روپے نہیں تھے ۔میں نے اسے اپنی شادی کا ایک جوڑا دے کر رخصت کیا ۔میرا شہروز ابھی دو سال کا تھا جب اس کا دادا فوت ہوا ۔پھر اسی طرح رشتہ دار اکھٹے ہوئے اور یتیم کے بچے کھچے مال پر ٹوٹ پڑے ۔کسی نے نہ پوچھا کہ تم لوگوں کا گزارا کیسے ہوتا ہے ۔ میں نے اب ایک فیصلہ کر لیا تھا کہ میں اپنے یتیم بیٹے کو اس ماحول میں پلنے بڑھنے نہیں دوں گی ۔چنانچہ تین سال کے شہروز کو میں کندھے سے لگا کر شہر جانے والی بس پر بیٹھ گئی ۔میرے باپ نے میرا ساتھ دیا ۔ان کے ایک دوست کی وساطت سے میں نے ایک گھر کی بیٹھک کرائے پر لی اور لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پالنے لگی ۔اسی دوران میں نے سلائی کڑھائی کا کام سیکھ لیا ۔ایک تنظیم کی طرف سے مجھے بیوہ عورتوں کے کوٹے سے ایک سلائی مشین بھی مل گئی ۔میرے ہاتھ میں صفائی تھی اور اجرت بھی مناسب لیا کرتی اس لیے مجھے ضرورت بھر کام مل جاتا ۔شہروز پانچ سال کا ہوا تو میں نے ایک کمرے کا کوارٹر کرایہ پر لے لیا اور اسے سکول داخل کروا دیا ۔میں اس دوران جنس وہوس کے پجاریوں سے کس کس طرح بچی یہ سنانے لگوں تو پوری کتاب بن جائے ۔ایک صاحب تو نکاح ثانی کے لیے ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے تھے ۔میرے مسلسل انکار سے دھمکیوں پر اتر آئے ۔ایک گھر میں صفائی کا کام کرنے جاتی تھی ایک دن میرا بازو پکڑ لیا کہ تم جیسی تو مالکن ہی اچھی لگتی ہے ہم تمہیں اس گھر کی مالکن بنا دیتے ہیں ۔بڑی مشکل سے وہاں سے عزت بچا کر نکلی ۔کسی نے بھی شہید کی بیوہ سمجھ کر کوئی عزت نہیں دی ۔میری ایک ہی خواہش اور ایک ہی خواب تھا کہ کسی طور میرا شہروز لکھ پڑھ جائے اور ایک کامیاب زندگی گزارے ۔ وہ لکھنے پڑھنے میں تھا بھی بہت ہوشیار ۔کبھی اس نے دوسرے بچوں کی طرح فرمائشیں نہیں کیں ۔جو کچھ لے دیا چپ چاپ لے لیا ۔ اس نے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کر لیا تو میں نے کمیٹی سے نکلی ہوئی رقم سے اسے کالج میں داخل کروا دیا ۔وہ پہلا دن تھا جو ہمارے گھر خوشیاں لایا ۔میں نے اس دن نیا جوڑا پہنا شہروز کو بڑی دکان سے پینٹ اور شرٹ خرید کر دی اور محلے میں شکر پارے بانٹے ۔اب میں پینتیس سال کی بیوہ تھی مگر نظر کی عینک لگ چکی تھی اور آدھے بال بھی سفید ہو چکے تھے ۔میں چاہتی تھی یہ باقی والے بھی جلدی جلدی سفید ہو جائیں ۔اکیلی عورت کے کالے بال کیا کیا مصیبتیں لاتے ہیں یہ کوئی مجھ سے پوچھے ۔شہزور کا ابھی ایف اے کا رزلٹ بھی نہیں نکلا تھا کہ ہم پر ایک اور مصیبت ٹوٹی ۔وہ یوں کہ دکان سے گھر کا سودا سلف خرید کر گھر واپس آ رہی تھی کی ایک گاڑی ٹکر مارتے ہوئے گزر گئی ۔میں گر کر بے ہوش ہو گئ ۔محلے والوں نے ہسپتال پہنچایا ۔مگر بازو ٹوٹ گیا تھا ۔وہ ایسا ٹوٹا کہ جڑ تو گیا مگر مجھے کسی کام کے قابل نہ چھوڑا ۔ سارا بوجھ شہروز کے کندھوں پر آ پڑا ۔وہ دن کو کالج جاتا اور شام کو ٹیوشن پڑھاتا جس سے دو وقت کی روٹی تو چل جاتی مگر تین ہزار کرایہ اور بجلی گیس کا بل ہمارے لیے پہاڑ بن گئے ۔میں سلائی کا کام کر کے چار پانچ سوکما لیتی تھی جس سے گزارا چل رہا تھا ۔پھر شہروز نے صبع کالج جانے سے پہلے اخباریں پھینکنے کاکام بھی شروع کر دیا ۔اسی طرح زندگی کی صلیب کندھے پر اٹھائے اٹھائے ہم زندگی کی شکر دوپہر میں قدم قدم چلتے رہے کہ ایک دن تو چھاؤں نصیب ہو گی ۔اسی طرح شہروز یونیورسٹی میں پہنچ گیا ۔وہ اب بتایا کرتا اماں فکر نہ کرو بس دو چار سال کی بات ہے ہمارے اچھے دن بھی آئیں گے ۔اچھے دن ہم غریبوں کے گھر کب آنے تھے بس ایک دن سیاہ رات جس کی کوئی سحر نہیں ہوتی میرے گھر پر چھا گئ ۔شہروز یونیورسٹی سے اکثر گھر نہیں لوٹتا تھا وہیں سے کام پر چلا جاتا تھا ۔آنے جانے میں سہولت ہو اور روز کا کرایہ بھی بچے اس نے پچھلے مہینے ہی قسطوں پر سائکل خریدی تھی ۔میں نے کہا تھا کہ موٹر سائیکل خرید لو میں پڑوس والوں سے کہہ کر ضمانت کا بندوبست کروا دوں گی ۔مگر وہ کہنے لگا اماں اس میں پٹرول ڈلتا ہے جو بہت مہنگا ہے ۔ایسا تھا میرے کلیجے کا ٹکڑا ۔جب شام ڈھلنے لگی تو میرا دل بھی بیٹھنے لگا ۔اتنے میں پڑوسن نے بتایا آج جس یونیورسٹی میں دہشت گرد گھس آئے تھے وہ شہروز کی یونیورسٹی تو نہیں تھی ؟ اسے نام معلوم نہیں تھا فون کر کے اپنے بیٹے سے پوچھاتو اس نے بتایا وہی یونیورسٹی تھی جہاں شہروز پڑھتا تھا ،یہ سن کر میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ۔اتنی دیر میں باہر سڑک پر ایک ایمبولینس کا سائرن سنائی دیا ۔جب ہوش سنبھالا تو گھر میں ایک تابوت پڑا تھا ۔فرق بس یہ تھا کہ اس سے لپٹ کر رونے سے روکنے والا اب یہاں کوئی نہیں تھا ۔لوگ ۔مجھے بتا رہے تھے تمہارے بیٹے نے کتنے لڑکوں کی جان بچائی ۔وہ بہت بہادر تھا ۔وہ شہید ہے ۔اس نے جنت میں گھر بنا لیا ہے ۔ اسی طرح جنہیں ہم دہشت گرد قاتل کہہ رہے تھے کوئی ان کے گھر بھی کہہ رہا ہوگا کہ تمہارے بیٹوں نے اتنے کافر جہنم رسید کیے ،وہ شہید ہیں انہوں نے اپنے لیے اور تم سب گھر والوں کے لیے جنت میں گھر بنا لیے ہیں ۔پہلے ایک نوجوان شہید کی نوجوان بیوہ تھی جس کا جنت میں ایک گھر تھا اب ایک بوڑھی معزور بیوہ ہوں اور ایک نوجوان شہید کی ماں ہوں جسے جنت میں ایک اور گھر کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے ۔میں پوچھتی ہوں مجھ جیسی اجڑی ہوئی عورت کا جنت والا ایک گھر تم لے لو مجھ نصیبوں جلی دکھیاری کواس دنیا میں باقی بچے ہوئے دن گزارنے کے لیے ایک چھوٹا سا ہی گھر دے دو۔ اس مرتبے کا کیا فائدہ جو جنت میں گھر بنانے کا وعدہ تو کرے مگر اس دنیا کا گھر چھین لے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker