تجزیےشاہ ولی اللہ جنیدیلکھاری

شاہ ولی اللہ جنیدی کی تحقیق : سندھ پولیس تاریخ و واقعات

سندھ پر تالپورخاندان کی 1784سے1843 تک تقریبا 60 سال حکومت رہی اور انھوں نے اپنے دوراقتدار میں سندھ کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے کراچی سمیت مختلف شہروں میں باقاعدہ محکمہ پولیس کو فعال کیا ۔ تالپور حکمران نے اپنا نظم و نسق احسن طریقے سے چلانے کے لئے گورنرز نامزد کئے تھے جبکہ کراچی واحد شہر تھا جہاں سول اور فوجی معاملات کو چلانے کے لئے علیحدہ علیحدہ گورنرز مقرر کئے گئے تھے جنھیں نواب بھی کہا جاتا تھا ۔ کراچی تاریخ کے آئینہ میں نامی کتاب کے مصنف عثمان دموہی کے مطابق تالپور دورحکومت میں کراچی میں کئی گورنریا نواب مقرر کئے گئے تھے جن میں آغا زین العابدین، آغا کاظم پاشا، آغا تقی شاہ، سید غلام علی شاہ،حاجی علی ریکھا، احمد خان بھرگرا، حسن بن بجوشامل تھے ،پیر حسام الدین راشدی تذکرہ مقالات شعراٗ میں لکھتے ہیں تالپور دور نواب آغا زین العابدین چھ سال تک کراچی کے نواب رہے وہ اس سے قبل شکار پور میں صوبیدار رہ چکے تھے آغا زین العابدین نہ صرف بہترین منتظم تھے بلکہ بلند پایہ شاعر اور علم طب کے ماہر تھے جبکہ حسن اور خیر محمد کو آخری نواب کہا جاتا ہے ۔ سول گورنر کے فرائض میں شہر میں امن وامان قائم کرنا اور حکومت کی طرف سے نافذ کئے گئے قوانین پر سختی سےعمل درآمد کرانا ،شہریوں سے ٹیکس کی وصولی اور سزائیں تجویز کرنا تھا ۔ گورنر کے بعد دوسرااہم سول عہدہ کاردار کا تھا جس کے فرائض میں انتظامیہ، عدلیہ ، پولیس سے متعلق معاملات کو دیکھنا تھا کاردار بڑے شہروں میں مقرر کئے گئے تھے جبکہ گاوں میں یہ کام نائب کاردار انجام دیا کرتے تھے ۔
تالپور دور میں قائم کئے جانے والےمحکمہ پولیس میں کاردار،سپاہی اور چوکیدار مقرر کئے گئے تھے کاردار کا کام ان کی نگرانی کرنا تھا ،پولیس کے فرائض میں ہر قسم کے جرائم کی روک تھام اور ان کا سدباب کرنا تھا یہ چوری ،ڈکیتی، قتل، اسمگلنگ، کے مجرموں کو گرفتار کرکے کاردار اور قاضی کی عدالتوں میں پیش کرتے تھے جہان ان پر مقدمات چلائے جاتے تھے اسی طرح چوکیدار شہر کی فصیل کھارادر، اور میٹھادر کے دروازوں پر پہرہ دیتے تھے اور رات کو اندورن شہر گشت کیا کرتے تھے چوکیدار تلواروں سے مسلح ہوتے تھے اور ہرماہ انھیں سرکاری خزانے سے تنخواہ ادا کی جاتی تھی اس زمانے میں نجی طور پربھی کچھ لوگ جاسوسی کا کام کرتے تھے انھیں عرف عام میں کھوجی کہا جاتا تھا یہ لوگ چوری کا سراغ لگانے اور اور مجر موں کو پکڑنے میں مہارت رکھتے تھے،کھوجی پیروں کے نشانات سے مجرموں کو شناخت کرکے پولیس کے حوالے کرتے تھے اور اس کے عوض انھیں معاوضہ دیا جاتا تھا پولیس کا محکمہ چونکہ بہت محدود تھا لہذا بڑے شہروں میں پولیس کے اہلکار متعین کئے گئے تھے ان میں کوتوال شہر، نائب کارداراور کاردارشامل تھے جو جرائم کی روک تھام کے لئے اہم کردار ادا کرتے تھے جبکہ گاوں دیہات میں جرائم کی روک تھام کے لئے چوکیدار مقررکئے گئے تھے یہاں چوکیدار نمبر دار کی زیر نگرانی کام کرتے تھے تالپور دور میں کراچی کی بندرگاہ سے اندورن سندھ جانے والے والے قافلوں کے مال اور مسافروں کی بحفاظت ان کی منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے بلوچ محافظ ہوا کرتے تھے انھیں سرکار کی طرف سے مال اور مسافروں کو پہنچانے کا معاوضہ دیا جاتا تھا ، 17فروری1839 کوکراچی پر میروں کی چالیس سالہ حکمرانی کے خاتمے اور برطانوی تسلط قائم ہونے کے بعد کراچی برصغیر کا پہلا اور اور دنیا کا دوسرا شہر تھا جس کو ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں سلطنت برطانیہ میں شامل کیا گیا تھا۔
انگریزوں نے کراچی پر مکمل قبضے کے بعد تالپور دور کے گورنرز کو ہٹاکر فوری طور پر برطانوی فوج کے جنرل چارلس نیپئیرکو سندھ فتح کرنے کے صلے میں گورنر نامزد کیا تھا اور انھیں کراچی کا انتظامی کنٹرول سونپا تھا ۔چارلس نیپئیرچار سال تک سندھ کے گورنر رہا 25اگست 1847کو اس کے مستعفی ہونے کے بعد سندھ کی ایک علیحدہ صوبہ کی حیثیت کرکے اسے بمبئی میں ضم کردیا گیا تھا چارلس نیئیر کے بعد سندھ کا جو بھی سربراہ مقرر ہوا وہ گورنر کے بجائے کمشنر سندھ کہلایا سر چارلس نیپئیر نے اپنے دور اقتدار میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے 1847 میں یورپی طرز پر اسر نو پولیس کا محکمہ قائم کیا اورلفظ پولیس کو متعارف کرایا تھا Pfor Politeنرم خو)Ofor Obedient فرما بردار) L for Loyal (وفادار) Ifor intelligent(ذہین) C for Courageous(باہمت)اورE for Efficient (مستعد)کا مخفف ہے ۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق بنگال، مدراس اور ممبئی کے بعد سندھ پولیس برطانوی راج کی چوتهی پولیس سروس تهی۔ اسے رائل آئرش کانسٹیبلری کی طرز پر اس ریجن میں پہلی ماڈرن پولیس فورس کہا جاتا تھا۔
سندھ پولیس کا پہلا سربراہ کیپٹن براون تھا جو کیپٹن آف پولیس کہلاتا تھااس کے ماتحت تین لیفٹنٹ آف پولیس تھے جو سندھ کے دیگر اضلاع میں تعینات کئے گئے ۔ جنگلوں کے لئے ایک علیحدہ فورس بنائی جس کا نام ریورن پولیس رکھا جس کو1947 میں ختم کردیا گیا ۔ برطانوی دور میں پولیس کا ہیڈ کوارٹر میشام لی روڈ موجودہ گارڈن ہیڈ کوارٹر کراچی میں بنایاگیا تھا جو اب تک قائم ہے ۔ 1847 میں سندھ پولیس کے کل عملے کی تعداد 2210 افراد پر مشتعمل تھی اس میں 838 گھڑ سوار سپاہی تھے چارلس نیپئیر نے اونٹ سوار دستہ بھی ترتیب دیا تھا جو شاہراہوں پر تجارتی قافلوں کی نگرانی کیا کرتا تھا جبکہ دریائے سندھ میں پولیس کے کشتی دستے بھی گشت کرکے تجارتی جہازوں کی حفاظت کرتے تھے ۔ ۔ انگریزوں نے اس ادارے کی باقاعدہ تنظیم و تربیت کا انتظام کیا تھا ۔ برطانوی راج کے دوران سندھ پولیس میں فوج سے افسران تعینات کئے جاتے تھے، مظاہروں اور فسادات پر قابو پانے کیلئے ڈیڈلی اسکواڈ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ چارلس نیپئیر نے اپنے دور میں کراچی پولیس کا پہلا سربراہ برطانوی فوج کی 25 ویں رجمنٹ کےلیفٹنٹ مارسٹن کو بنایا تھا ۔ لیفٹنٹ مارسٹن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو نوازنے کی وجہ میانی کی جنگ میں چارلس نیپئیر کی جان بچانا تھی۔ نیپئیر نے صرف اسی بنا پر مارسٹن کو کراچی پولیس کا سربراہ بنایاتھا ۔ لیفٹنٹ مارسٹن جب کراچی پولیس کےسربراہ بنائے گئے تھے اس وقت انکی عمر18 سال تھی وہ ان دنوں کراچی کے کلکٹر اور مجسٹریٹ کیپٹن پریڈی کےماتحت خدمات انجام دے رہے تھے ۔ بعد میں لیفٹنٹ مارسٹن کو انکی بہترین کارکردگی کی وجہ سے مزید ترقی دیکر سندھ پولیس کا سربراہ بنایا گیا تھا مارسٹن نے سندھ پولیس کی تشکیل ایک الگ انداز سے انہوں نے سندھ پولیس کو تین برانچوں میں تقسیم کیا جس میں ماونٹڈ پولیس، رورل پولیس اور سٹی پولیس شامل ہیں جبکہ ایک مسلمان سندھی شخص غلام حسین کو کراچی پولیس کا چیف کانسٹیبل مقرر کیا گیا ۔غلام حسین کا تعلق بھی برطانوی فوج کی 25 ویں رجمنٹ سے تھا
کراچی پولیس کا محکمہ ان دنوں کراچی میونسپلٹی کے ماتحت ہوا کرتا تھا ۔ کراچی پولیس اپنے قیام کے دنوں میں ایک انسپکٹر، دو سب انسپکٹر اور کچھ کانسٹیبل پر مشتعمل تھی۔ تاہم کراچی کی آبادی میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ساتھ پولیس نفری میں بھی اضافہ ہوتا گیا ۔ کراچی پولیس میں زیادہ تر تعداد ان دنوں بلوچ سپاہیوں کی تھی ۔1867 میں کمشنر سندھ مسٹر ہیولاک W,H,Havlock کے دور میں پولیس کے عملے کے فارسی القاب جو تالپور دور سے چلے آرہے تھے انھیں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ تالپور دور میں پولیس اہلکاروں کو صوبیدار، رسالدار، حوالدار،جمعدار، سپاہی اور سوار کے ناموں سے پکارا جاتا تھا جبکہ نئے انتظام کے تحت عہدیداروں کو انسپکٹر، سب انسپکٹر، چیف کانسٹیبل ،ہیڈ کانسٹیبل، اور کانسٹیبل کے ناموں سے پکاراجانے لگا 1887,88 میں کراچی پولیس کے عملے کی تعداد 298 پر مشتعمل تھی جس میں 1 انسپکٹر اور 9کانسٹبل یورپی باشندے تھے کراچی میں سب سے پہلا پولیس تھانہ بولٹن مارکیٹ کے سامنے اس جگہ پر قائم تھا جہان اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی پرانی عمارت واقع ہے ,,برطانوی قبضہ کے وقت کراچی اور سندھ میں عورتوں کی خود کشیوں کے واقعات عام تھے اکثر عورتوں کی لاشیں مشتبہ حالت میں پائی جاتی تھیں چارلس نیپئیر نے گورنر کا عہدہ سنبھالتے ہی اس پر خصوصی توجہ دی اور وجوہات معلوم کرنے کے لئے کچھ افسران کو مقرر کیا جنھوں نے اصل وجوہات پر مبنی اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ اس خطے میں عورتوں کے ساتھ ان کے شوہروں کا رویہ ظالمانہ وحشیانہ ہے شوہر زرا سی غلطی پر اپنی بیویوں کا پھانسی دے دیتے ہیں نیپئیر نے اس ظلم و زیادتی کو روکنے کے لئے سخت رویہ اختیار کیا ہر طرف اعلان کروادیا کہ اگر آئیندہ کسی علاقے میں کوئی عورت قتل ہوئی تو اس گاوں کی پوری آبادی پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اگرکہیں کسی عورت کی خودکشی کا واقعہ پیش آیا تو حکومت مقتول عورت کے خاندان کواکھٹا کرکے سخت سزا دے گی اس اعلان کے بعد عورتوں کی خودکشی اور قتل کے واقعات کا سلسلہ بند ہوگیا تھا جبکہ برطانوی دور میں پہلا قتل 1839 میں سیکنڈ رجمنٹ کے ایک فوجی جوان ہینڈز کا ہوا تھا وہ سیرو تفریح کے لئے گھوڑے پر سوار ہوکرمنگھوپیر کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں گلشن اقبال ڈالمیا سیمنٹ فیکٹری موجودہ شانتی نگر کے مقام پر قتل کردیا گیا تھا اس قتل کا سراغ لگانے کے لئے انگریزوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی انھوں نے ہندو ناومل ہوت چند کی خدمات حاصل کی تھی جس کے ذریعے انگریز قاتل تک پہنچنے میں کا میاب ہوئے اس وقت اگرچہ کراچی پر انگریزوں کا قبضہ ہوچکا تھا تاہم کراچی کا شہری نظم و نسق ایک معاہدے کے تحت میران حیدرآباد کے زیر انتظام تھا اس بنا پر انگریزوں نے قاتل کو براہ راست گرفتار کرنے کے بجائے دربار حیدرآباد میں درخواست کی کہ وہ خلیفہ چاکر کو گرفتار کرکے ان کے حوالے کردیا جائے میران حیدرآباد کے حکم پر تالپور سپاہیوں نے خلیفہ چاکر کو گرفتار کرکے انگریزوں کے حوالے کردیا تھا انگریزوں نے خلیفہ چاکر پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلایا ملٹری کورٹ نے سرسری سماعت کے بعد خلیفہ چاکر کو برطانوی فوجی ہینڈز کے قتل کی پاداش میں پھانسی کی سزا تجویز کی اور دوسرے روز خلیفہ چاکر کو موجودہ ڈالمیا سیمنٹ فیکٹری شانتی نگر گلشن اقبال کے مقام پر جہاں ہینڈز کو قتل کیا گیا پھانسی دے دی گئی
پاکستان کے قیام کے دوران انڈین پولیس سروس کے سینئر آفیسر جے جے رائے انسپکٹر جنرل آف پولیس تعینات تھے جنھوں نے 28 فروری 1947 تک خدمات انجام دی ان کے بعد اے ڈبلیو پرائڈ کو انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کیا گیا جو قیام پاکستان کے وقت آئی جی پولیس تعینات تھے۔ اے ڈبلیو پرائڈ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ نو تشکیل مملکت پاکستان کے پہلے انسپکٹر جنرل آف پولیس ہیں ۔اے ڈبلیو پرائڈ 13جولائی 1951 تک اس منصب پر فائز رہے انکے بعد پاکستان پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے سینئر پولیس آفیسر محمد شریف خان کو تعیانت کیا گیا۔ سندھ پولیس کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح کو گارڈ آف آنربھی پیش کیا گیا تھا ۔ پاکستان بننے کے بعد انڈین پولیس سے تقریبا ایک درجن سے زائد سینئر پولیس افسران پاکستان چلے آئے تھے اور یہان پاکستان پولیس سروس میں شامل ہوگئے تھے 1955میں محکمہ پولیس کو انتطامی بنیادوں پرایسٹ پاکستان اور ویسٹ پاکستان دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ چونکہ سندھ اور کراچی ویسٹ پاکسان کا حصہ تھا ۔ لہذا پاکستان پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے سینئر پولیس آفیسر محمد انور علی انسپکٹر جنرل ویسٹ پاکستان تعینات کئے گئے انکے بعد اے بی اعوان،محمد شریف خان، شاہ نظیر عالم، ایس ڈی قریشی، میان بشیر احمد، میاں انور آفریدی آئی جی ویسٹ پاکستان کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے تاہم جولائی 1970میں پولیس کے محکمے کومزید چار صوبوں میں تقسیم کردیا گیا ، انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والوں میں پاکستان پولیس سروس کے خواجہ مسرور حسن ، محمد یوسف اورکزئی،چوہدری فضل حق، میان محمد اسلم حیات، حبیب الرحمان خان، ارباب ہدائت اللہ، دلشاد نجم الدین، بشیر احمد خان، سید سعادت علی شاہ، سید سلمان خالق، محمد نواز ملک، محمد عباس خان،خاور زمان، محسن منظور، جی معین الدین، قمر عالم،افضل علی شکری، محمد سعیدخان، سید محب اسد، اسد جہانگیر خان، آفتاب نبی، سید کمال شاہ شامل تھے۔ ملک کے دسویں صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے 12اکتوبر1999کو بطور مسلح افواج کے سربراہ فوجی قانون نافذ کرنے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف کو معزول کردیا اور پھر20جون 2001کو ایک صدارتی استصواب رائے کے ذریعے صدر اک عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی فرسودہ پولیس نظام کو بدلنے کے نعرے کے ساتھ 2002میں نیا پولیس آرڈر نافذ کردیا تھا ۔ مشرف کے متعارف کردہ پولیس نظام کے بعد انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدہ کو پراونشل پولیس آفیسر کا نام دیا گیا اور سید کمال شاہ پہلے پراوینشل پولیس آفیسر سندھ تعینات کئے گئے ۔ صوبائی پولیس سربراہ سید کمال شاہ کے بعد بلترتیب اسد جہانگیر، جہانگیر مرزا، نیاز احمد صدیقی، ضیاٗ الحسن خان، اظہر علی فاروقی،ڈاکٹر محمد شعیب سڈل، ایس ایس بابر خٹک، فیاض احمدلغاری،واجد علی خان درانی، مشتاق احمد شاہ، غلام شبیر شیخ، شاہد ندیم بلوچ، اسکوارڈن لیڈر اقبال محمود، غلام حیدر جمالی ، اللہ ڈینو خواجہ، امجد جاوید سلیمی، سید کیلم امام اور پولیس گروپ کے سینئر آفیسرمشتاق مہر آئی جی پولیس کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے جبکہ ان دنوں پولیس گروپ کے سینئر آفیسر کامران فضل کو قائمقام آئی جی سندھ بنایا گیاتھا ان دنوں غلام نبی میمن آئی جی سندھ تعینات ہیں
سندھ پولیس کی فیلڈ فارمیشنز کو تین کٹیگری میں تقسیم کیا گیاہے جن میں کراچی ریجن، حیدرآباد ریجن اور سکھر ریجن شامل ہیں، کراچی ریجن سی آئی اے، ٹریفک پولیس، سیکیورٹی، فارنرز سیکیورٹی سیل اور کورٹس سیکیورٹی اور اسپیشل برانچ پر مشتمل ہے۔ ہر زون، سی آئی اے اور ٹریفک پولیس کا سربراہ ایک ڈی آئی جی ہوتا ہے جبکہ اضلاع اور سیکیورٹی یونٹس کی سربراہی ایس ایس پی اور ایس ایس پی کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ، انسداد دہشت گردی کا محکمہ، تفتیشی برانچ، اور خصوصی برانچ موجود ہے۔ ان میں سے کچھ یونٹ براہ راست آئی جی پی کو رپورٹ کرتے ہیں جبکہ دیگر پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے ذریعے اسے رپورٹ کرتے ہیں
الغرض مشرف کے پولیس آرڈر میں محکمہ پولیس کواختیارات کے نا جا ئز استعمال، رشوت خوری اور دیگر بد عنوانیوں سے پاک کر نے کے لئے سیکشن 155شامل کی گئی ۔جس کے تحت اختیارات سے تجاوز کرنے والے پولیس افسران و اہلکاروں کے خلا ف سیکشن 155 کے تحت مقدمات درج کر کے مقدمے میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروںکو تین سا ل قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جا سکتی تھی لیکن یہ نظام بھی جنرل مشرف کے اقتدار سے الگ ہونے کے ساتھ ہی غیر موثر ہوکر رہ گیا ۔ حکومت سندھ پولیس قوانین میں تبدیلی اور نئی اصلاحات لا کر پولیس آرڈر 2002ءکی جگہ نیا پولیس آرڈر لانا چاہتی ہے جبکہ گذشتہ سال 18 ریٹائرڈ آئی جیز نے بھی محکمہ پولیس میں اصلاحات اورتھانہ کلچر میں تبدیلی اور محکمہ پولیس کا تاثر بہتر بنانے کے حوالے سے حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں۔ تاہم سندھ پولیس میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت سے حقیقی معنوں میں تھانہ کلچر میں تبدیلی ممکن نظر نہیں آتی۔ ۔دیکھتے ہیں کہ حکومت کا تھانہ کلچر میں تبدیلی کا یہ خواب اب بھی شرمندہ تعبیرہوتا ہے یا نہیں ؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker