اختصارئےظفر آہیرظفر آہیرلکھاری

ظفر آہیر کا اختصاریہ : منا بھائی ، بساط اور مہرے

اس ملک میں جب جب بھی ” ناچ نچانے والے “ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے بے نقاب ہوۓ ہیں تب تب چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والی کٹھ پتلیاں انہیں بچانے کے لئے میدان میں اتری ہیں ۔ان کو اپنی” پیٹھ “پیش کرتے ہیں اور پھر اس کے بدلے میں خوب لوٹ مار کرتے ہیں۔لوگوں کا خون چوستے ہیں قرضے لیتے ہیں ،منی لانڈرنگ کرتے ہیں ،دنیا بھرکے مہنگے ملکوں میں محلات کھڑے کرتے ہیں “مالکوں “کو بھی حصہ بقدر جثہ ملتا رہتا ہے اور پھر جب اچانک ان سے “مالکوں “کا مطلب پورا ہوجاتا ہے اور ”مالک “ان کی ڈیش پر لتر مارکر انہی نکال باہر کرتے ہیں یہ تو روتے دھوتے عوام کے پاس آجاتے ہیں کوئی کہتا ہے ”مجھے کیوں نکالا“
کبھی کہتے ہیں ”ووٹ کو عزت دو “
کوئی کہتا ہے
”میں شہیدوں کے قبرستان کا وارث ہوں“
تو کبھی خون سے لتھڑے دوپٹّے لہراۓ جاتے ہیں
کوئی کہتا ہے کہ ”میرے خلاف سازش ہوئی ہے ،امریکہ میرا دشمن ہے “
کسی کو ”اسلام” یاد آجاتا ہے تو کسی کو لسانیت ،
کسی کو پاکستان بنانے کے لئے اپنے آباؤاجداد کی قربانیاں یاد آتی ہیں
کوئی” صوبہ کارڈ “کھیلنا شروع کردیتا ہے ،تو کوئی صوبائی خود مختاری کا رونا روتا نظر آتا ہے
کسی کو سرائیکی صوبہ کی یاد ستانے لگتی ہے تو کسی کو عوام کی محرومیاں یاد آتی ہیں ۔
کوئی عوام کا” غم مٹانے “لندن جا بیٹھتا ہے تو کوئی امریکہ یاترا کو نکل جاتا
اور پھر جب انہیں دوبارہ اقتدار کی ہڈی دکھائی جاتی ہے تو یہ دور سے ہی دم ہلاتے نظر آتے ہیں
تب ان کو نہ تو ”ووٹ کی عزت “نظر آتی ہے اور نہ ہی ”شہدا کے قبرستان “
کوئی ایمپائر کی انگلی کے ایک اشارے پر الٹا لیٹا ہوتا ہے تو کوئی جالب کے شعر بھول کر ،خودداری کے نعرے کو لات مار کے کشکول اٹھا لیتا ہے
ملک برباد
معیشت تباہ
نہ روٹی ہے اور نہ ہی پانی
رہ گئی عوام تو ان کہ حیثیت بھی مداری کی ڈگڈگی پر ناچتے بندر کی سی ہی ہے۔تہتر سالوں میں اگر کسی کو عقل نہیں آئی تو وہ پاکستانی عوام ہے
انہوں نے ہر اس ”عطار کے لونڈے “سے دوالی ہے جس نے ان کے ”کھنے “ٹھوکے ہیں
زندہ باد ،مردہ باد
لگے رہو منا بھائی ۔۔۔۔چال چلنے والے کی اپنی بساط ہے اور اپنے مہرے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker