تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنرل ندیم انجم کا نوٹی فیکیشن اور حکومت کے مستقبل کے بارے میں شبہات

بعد از خرابی بسیار وزیر اعظم نے آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کا اعلان کردیا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے نوٹی فیکیشن میں لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو20 نومبر سے اس عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ یوں وزیر اعظم نے اسی نام کی توثیق کی ہے جس کا اعلان 6 اکتوبر کو آئی ایس پی آر کے اعلامیہ میں سامنے آیاتھا۔ تاہم وزیراعظم نے اس عمل سے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آئی کا ڈائیریکٹر جنرل مقرر کرنے کا اختیار انہیں حاصل ہے اور وہ اپنی ’مرضی‘ کے مطابق ہی کسی نام اور عہدہ سنبھالنے کے وقت کا اعلان کریں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تقرری کا اعلان ہونے سے پہلے آرمی چیف نے ایک بار پھر وزیر اعظم سے ملاقات کی ۔ وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق اس ملاقات میں نئی تقرری کے بارے میں مشاورت مکمل کی گئی اور تقرری کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔ وزیر اعظم ہاؤس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں اس حوالہ سے مشاورت اور تقرری کے عمل کی تفصیلات عام کی گئی ہیں ۔ ان پیغامات میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے تمام ممکنہ امیدواروں کے انٹرویو کئے اور بالآخر ایک نام پر اتفاق کے بعد اس کا اعلان کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس معاملہ میں وزیر اعظم نے آرمی چیف کا تجویز کردہ نام منظور کیا لیکن اس کے بدلے یہ تسلیم کروایا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے اور اس کا اعلان بھی وزیر اعظم ہاؤس سے ہی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح آئی ایس آئی کے نئے سربراہ 20 نومبر سے اپنے عہدے کا چارج لیں گے۔ یوں عمران خان نے یہ اصول بھی تسلیم کروایا ہے کہ اس بات کا اختیار بھی وزیر اعظم ہی کرے گا کہ کوئی نیاافسر کب نئے عہدے پر کام شروع کرے گا۔
تاہم تبصرہ نگار اس دلچسپ تنازعہ کے اس پہلو کا ذکر بھی کررہے ہیں کہ آئی ایس آئی کی سربراہی سے سبکدوش ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو آئیندہ برس درحقیقت جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ پر آرمی چیف کے طور پر مضبوط امید وار بنانے کے لئے کور کمانڈر تعینات کیا گیاہے۔ فوجی روایت کے مطابق کسی نئے آرمی چیف کو عہدہ سنبھالنے سے فوری پہلے کم از کم ایک سال تک کورکمانڈر رہنا ضروری ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی توسیعی مدت پوری کرنے کے بعد 28 نومبر 2022 کو ریٹائر ہوں گے ۔ اس لئے جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف بننے کے لئے اس سال نومبر کے آخر تک لازمی کسی کور کی کمان سنبھالنا تھی۔ اب وہ 19 نومبر کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے سبکدوش ہوکر اعلان کے مطابق پشار کور کی کمان سنبھال لیں گے۔ اس طرح وزیر اعظم آئیندہ برس نومبر میں نئے آرمی چیف کے طور پر ان کی تقرری کرسکیں گے۔ تاہم یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ جنرل فیض حمید پر عائد اپوزیشن کے الزامات اور ان کے ساتھ عمران خان کی شیفتگی کے کھلم کھلا اظہار کے بعد اگر واقعی انہیں نیا آرمی چیف بنانے کا اعلان ہؤا تو ملکی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس صورت میں ملک میں ہونے والے انتخابات کی غیر جانبداری کے بارے میں بھی نت نئے سوالات سامنے آئیں گے۔ تاہم فی الوقت عمران خان شاید اتنی دور کے معاملات پر غور کے لئے تیار نہیں ہیں۔
وزیر اعظم نے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کے حوالے سے جو ’سٹینڈ‘ لیا ہے، اگر وہ منتخب وزیر اعظم کی اتھارٹی منوانے اور ملک میں جمہوری روایت راسخ کرنے کی کوشش ہے تو بلاشبہ اس کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ تاہم اس عمل کو جیسے لگ بھگ تین ہفتوں تک قیاس آرائیوں کا سبب بنایا گیا ، وہ وزیر اعظم کی خود مختاری اور اتھارٹی سے زیادہ ان کی ضد اور فوجی قیادت کے ساتھ جاری اختلاف رائے کا اظہار تھا۔ اس دوران وزیر اعظم اور ان کے نمائیندے یہ اعلان کرنا بھی ضروری سمجھتے رہے ہیں کہ عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔ یہ یقین دہانی بھی درحقیقت وزیر اعظم کی کمزور پوزیشن کا اظہار ہی ہے۔ عمران خان ایک ہائیبرڈ سیاسی انتظام کے ذریعے فوج کے تعاون اور سرپرستی میں وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے فوج کی اعانت ہی کی وجہ سے مسلسل ملکی سیاسی اپوزیشن کو زیر رکھا ہے۔ اس پس منظر میں یہ ملک و قوم اور جمہوری نظام کے تسلسل کے حوالے سے یہ زیادہ خوش آئیند ہوتا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے معاملہ پر عام مباحث کا آغاز کروانے کی بجائے باہمی ملاقاتوں میں اس اختلاف کو ختم کرلیا جاتا۔ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ فوج اور سول حکومت اس حد تک ایک پیج پر نہیں ہیں جس کا تاثر وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس دوران یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ ملک میں آئی ایس آئی جیسے اہم ادارے کے سربراہ کی تقرری کے لئے کوئی باقاعدہ قانونی یا آئینی رہنمائی موجود نہیں ہے۔ بلکہ ایک روایت کے تحت وزیر اعظم آرمی چیف کے فراہم کردہ تین ناموں میں سے ایک کا انتخاب کرلیتے ہیں اور آئی ایس پی آر اس کا اعلان کرتا ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی ماضی میں اسی طریقہ پر عمل کیا تھا۔ تاہم اس بار عمران خان کو اپنے اختیار کی فکر لاحق ہوئی تھی۔ آئی ایس پی آر کے اعلان پر عمل درآمد روک لیا گیا۔ پھر وزیر اعظم اور آرمی چیف میں متعدد ملاقاتوں اور انٹرویوز کے بعد پہلے سے اعلان شدہ نام کی توثیق کی گئی۔ اس صورت حال میں یہ سمجھ لینا سادہ لوحی ہوگی کہ فوج اور حکومت کے درمیان اعتماد اور ورکنگ ریلشن شپ پہلے جیسی ہی ہے اور فریقین میں بداعتمادی پیدا نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم اگر واقعی یہ یقین دہانی حاصل کرنا چاہتے تھے کہ کسی اہم تقرری کے حوالے سے فوج اپنی ’حدود‘ سے تجاوز نہ کرے تو وزیروں کے ذریعے اس معاملہ کو پریس کانفرنسوں یا ٹاک شوز کا موضوع بنانے کی بجائے قانونی سقم دور کیا جاتا اور وزارت دفاع کے ذریعے یہ واضح ہدایت فوجی قیادت تک پہنچائی جاتی کہ موجودہ حکومت اس معاملہ میں کیسے پیش رفت کرنا چاہتی ہے۔
عمران خان کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ سیاسی اقتدار کے لئے فوج کی اعانت لینے والے سیاست دان کو کسی نہ کسی طور سے اس کی ’قیمت‘ تو ادا کرنا پڑتی ہے۔ اختیار اور مجبوری کے اس حصار کو توڑنے کے لئے وزیر اعظم کو دو کام کرنے کی ضرورت تھی۔ ایک: سول ملٹری تعاون کو دوافراد کا معاملہ بنانے کی بجائے، عسکری قیادت کو پارلیمانی اختیار کے ذریعے کنٹرول کرنے کی روایت کا آغاز کیا جاتا۔ دوئم: اس مقصد کے لئے پارلیمنٹ کو فیصلہ سازی کے باقاعدہ پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاتا اور اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ اعتماد سازی کی جاتی۔ تاکہ منتخب سیاسی قیادت کی بالادستی پر اتفاق رائے پیدا ہوسکتا۔ موجودہ سیاسی صورت حال میں اپوزیشن وزیر اعظم کو سلیکٹڈ قرار دیتی ہے اور حکومت یہ دعوے کرتی ہے کہ اپوزیشن اپنی کرپشن چھپانے اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے عسکری قیادت سے ڈیل کرنا چاہتی ہے۔
بدقسمتی سے عمران خان نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے جان بوجھ کر اسٹبلشمنٹ کی کٹھ پتلی بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ امپائر کی انگلی کے اشارے کے انتظار سے شروع ہونے والا یہ سفر اقتدار سنبھالنے کے بعد تک جاری رہا۔ ملک کے اہم ترین فیصلوں میں عسکری قیادت کی مرضی و منشا کی چھاپ دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے ۔ اس دوران پارلیمنٹ کو جزو معطل کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ عمران خان نے اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی ہی کے لئے کرپشن کے نعرے کو قبول عام دلوانے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کی ہیں تاکہ ملک کو ایسے سیاسی عناصر سے پاک کیا جاسکے جو سول ملٹری تعلقات میں سول اختیار کو نمایاں کرنے کی بات کرتے ہیں۔ یہ حقیقت کوئی قومی راز نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلز پارٹی، سب نے اقتدار میں آنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے کسی نہ کسی وقت فوج کی مدد حاصل کی تاہم حکومتی معاملات طے کرتے ہوئے فیصلہ سازی میں دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سابقہ دونوں حکومتوں کو سول اختیار کی خواہش ہی کی وجہ سے اقتدار سے بھی محروم ہونا پڑا ۔ ان کے خلاف کردار کشی کی مہم جوئی کی بنیاد بھی سول بالادستی کے لئے ان کی کوششیں ہی بنی ہیں۔
اب عمران خان اس راستے پر چلتے ہوئے اگر اسی انجام کا سامنا کررہے ہیں تو اس مشکل سے نکلنے کے لئے اتھارٹی کا راگ الاپنے اور آئی ایس آئی جیسے اہم ادارے کو عوامی مباحث کا موضوع بنانے کی بجائے بہتر ہوتا کہ سول اتھارٹی کے سوال پر قومی ڈائیلاگ کا آغاز کیا جاتا اور پارلیمنٹ اس بحث کا مرکز ہوتی۔ اس طرح سب سیاسی قوتیں کم از کم اس ایک نکتہ پر متفق ہوسکتی تھیں کہ سیاسی معاملات میں منتخب حکومت خود مختار ہو اور اس کی طاقت کا محور پارلیمنٹ ہو۔ یہ اتفاق رائے پیدا کرکے ہی وزیر اعظم کی اتھارٹی کو یقینی بنایا جاسکتا تھا جس کے لئے عمران خان اور حکومت نے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے معاملہ پر تماشہ لگانا ضروری سمجھا لیکن سیاسی اقتدار برقرار رکھنے کے لئے وہ بدستور ’ایک پیج‘ کو سلامت رکھنا چاہتے ہیں۔
ایسے دوغلے پن سے جمہوری روایت اور سول اختیار کو مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لئے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری ہونے کے باوجود موجودہ حکومت کے اختیار اور مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات ختم نہیں ہوں گے۔ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کے بعد پیدا ہونے والے حالات اشارہ کررہے ہیں کہ سیاسی تبدیلی کی یہ ہوا صرف کوئٹہ تک محدود نہیں رہے گی۔ اس طوفان کے تھپیڑے لاہور اور اسلام آباد میں بھی محسوس کئے جاسکتے ہیں۔

( کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker