افسانےزعیم ارشدلکھاری

زعیم ارشد کا افسانہ : بفاتی بھائی اور ان کی چوملی

آج لطیف آباد کے محلے غریب نواز کالونی کا ہر مکین شرمندہ، پریشان اور خجالت کا شکار تھا، وہ ایک دوسرے سے نظریں بھی نہیں ملا رہے تھے اور ایک دوسرے کی جانب دیکھنے سے کترا رہے تھے مباد آنکھیں چار ہوجائیں، یوں تو ان کے ہمسائے بخت افراہیم عرف بفاتی بھائی کے انتقال کو چار مہینے ہوگئے تھے، مگر آج پورے محلے پر جیسے ایک بم سا آگرا تھا، اور پورا محلہ خود کو بفاتی بھائی کا اخلاقی مجرم سمجھ رہا تھا۔
یہ ایک پرسکون اور سماجی طور پر آپس میں سختی سے جڑے لوگوں کا محلہ تھا یہاں عمومی طورپر پرانے رہائشی آباد تھے جو ایک دوسرے سے رشتہ داروں سے زیادہ قربت و انسیت رکھتے تھے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے سانجھی، بھرپور میل ملاپ، سب کچھ نہایت عمدگی سے چل رہا تھا علاوہ بفاتی بھائی کے۔ یہ محلے کا واحد ایسا گھر تھا جو پرانا آباد ہونے کے باوجود سماجی طور پر محلے کا حصہ نہ تھا، کوئی بھی محلہ دار بفاتی بھائی سے ملتا جلتا نہ تھا۔ وہ تنہا رہتے تھے، ان کے ساتھ ان کی ایک لیبرڈر نسل کی کالے رنگ کی کتیا چوملی رہتی تھی۔ جس کی وجہ سے بھی بفاتی بھائی خاصے بدنام تھے اور ہمیشہ ہی افواہوں کی زد میں رہتے تھے۔ بفاتی بھائی خود بھی لوگوں سے زیادہ میل جو رکھنے کے شائق نہ تھے۔ لہذا تم روٹھے ہم چھوٹے کے مصداق لوگوں نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ رکھا تھا اور خود اپنی دنیا میں مگن تھے۔
بفاتی بھائی صبح کہیں کام پر جاتے تھے اور شام کو لوٹ آتے تھے، وہ عموما ًذ را دیر سے لوٹتے تھے، جب تک محلے کے مرد کام دھندے سے واپس آکر شام کی چائے پی کر چوک میں بچھی پتھر کی بنی نشستوں پر خوش گپیا ں کر رہے ہوتے تھے، ایسے میں بفاتی بھائی اپنی پرانی سائیکل پر قریب سے گزرتے تو زور سے سلام کرتے۔ تو آٹھ بیٹھے لوگوں میں سے چار جواب دیتے اور باقی چار صرف منہ بنا کر ہی رہ جاتے، اور ان کے گزرجانے کہ بعد کچھ دیر کیلئے محفل پر خاموشی چھا جاتی جیسے بفاتی بھائی کی تلخی ماحول میں گھل گئی ہو۔ حالانکہ وہ بالکل بے ضرر اور نہایت ہی منکسر المزاج آدمی تھے، ہاں ذ را آدم بیزار ضرور لگتے تھے اور لوگوں میں زیادہ گھلتے ملتے نہ تھے۔ وہ کب سے یہاں رہائش پذ یر تھے کچھ کہنا مشکل تھا وہ یہاں کے ابتدائی لوگوں میں سے تھے مگر اکیلے ہی رہتے تھے بس ان کی واحد دوست بلیک لیبرڈر چوملی تھی۔
بفاتی بھائی کا گھر اشفاق کے گھر کے بالکل برابر تھا، یعنی دیوار سے دیوار ملی ہوئی تھی۔ اشفاق ان سے بہت ڈرتا تھا کیونکہ بچوں کیلئے وہ ایک ڈراؤنے بھاؤ جیسی کوئی شے تھے، ان کا گھر بھی عجیب تھا بغیر پلستر شدہ لال اینٹوں سے بنا سادہ سا گھر تھا جو عام گھروں کی قطار سے ذ را پیچھے ہوکر بنا ہوا تھا، دائیں بائیں کے گھروں کے آگے بنے ہوئے حصوں کی وجہ سے وہ ایسا لگتا تھا جیسے پیچھے رہ گیا ہو۔
پھر جیسے عمومی گھروں کی گیلریز اور برآمدے تھے ان کا گھر ایسا نہ تھا بلکہ ان کا گھر نظریہ ضرورت کے تحت تعمیر کیا گیا تھا، جو ایک چھوٹے لکڑی کے دروازے اور کمرے سے شروع ہوتا تھا کمرے میں ایک کھڑکی تھی جس میں لکڑی کی چوکھٹ اور درمیان میں موٹی موٹی لوہے کی سلاخیں لگی ہوئی تھیں، جب بفاتی بھائی گھر میں نہیں ہوتے تھے تو بچے اس خالی پڑی کچی جگہ پر خوب دھینگا مشتی کرتے تھے، اندر سے چوملی مسلسل بھونک بھونک کر بچوں کو بفاتی بھائی کے احکامات یاد کرانے کی سر توڑ کوشش کرتی تھی، مگر بچے کہاں مانتے تھے لٹّو اور انٹّے گولیاں کھیلنے کا مزہ جو وہاں آتا تھا کہیں اور نہیں آتا تھا۔ مگر شام کے بعد یا چھٹی والے دن بچے یہاں سے تیزی سے گزر جاتے تھے۔ بفاتی بھائی سڑک کی جانب بنی کھڑکی میں بیٹھے کتاب پڑھا کرتے تھے۔ ساتھ ساتھ وہ آنے جانے والوں کا بنظر غائر جائزہ بھی لیتے رہتے تھے، محلے والے ان کی اس حرکت سے بھی بہت نالاں تھے۔ دوسرا وہ ان کی چوملی سے تنگ تھے وہ مسلسل گھر میں بند رہنے کی وجہ سے خاصی غصہ ور اور آدم بیزار ہوچکی تھی، بالخصوس بچوں سے اسے خاص نفرت تھی بچے دیکھتے ہی وہ ایسے جھپٹتی تھی جیسے شکار پر چیتا جھپٹتا ہے۔ جس دن چوملی گھر سے باہر آتی تھی محلے کے بچے گھر کا سودا لینے کیلئے بھی باہر نہیں نکلتے تھے۔
پھر یوں ہوا کہ ایک دن چوملی مر گئی، وہ دن محلے کے سب ہی بچوں کیلئے عید سے بڑھ کر خوشی کا دن تھا، جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا تھا وہ چوملی کی دہشت کا شکار تھے جس سے آج انہیں ہمیشہ کیلئے آزادی مل گئی تھی۔ اب بچے بفاتی بھائی کے ممنوعہ علاقے میں عموما ً نظر آنے لگے تھے اور بفاتی بھائی بھی انہیں جھڑک کر نہیں بھگاتے تھے، اگر بچے زیادہ ادھم مچاتے تو ہلکی سی جھڑکی سے میدان خالی کرالیا کرتے تھے۔ ایک دن اشفاق محلے کے ایک بزرگ کے گھر سے مانگ کر نیم کا پودا لے جارہا تھا کہ کھڑکی میں بیٹھے بفاتی بھائی نے اسے آواز دی کہ اے لڑکے یہاں آؤ یہ کیا ہے تمہارے ہاتھوں میں اشفاق ڈرتا ڈرتا ان کی کھڑکی کے پاس جاکھڑا ہوا اور ہاتھ ان کے سامنے کر دئیے، بفاتی بھائی نے حیرت سے دیکھا اور کہا واہ تمہیں پودے پسند ہیں، آؤ میرے گھر میں تمہیں دکھاتا ہوں کہ پھولوں کے پودے کیسے ہوتے ہیں، اشفاق سہم گیا، کہاں بفاتی بھائی کا گھر اور کہاں پودے، مگر اتنی دیر میں بفاتی بھائی دروازہ کھول چکے تھے، اشفاق ان کے پیچھے اندر بڑھ گیا، اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، اس ایک کمرے کے سوا پورا گھر پودوں سے بھرا پڑا تھا، جدھر دیکھو پھول ہی پھول پودے ہی پودے، سبزہ ہی سبزہ نہایت ہی سلیقے سے سنورے ہوئے اور سجے ہوئے، گھر کسی گلستان کا منظر پیش کررہے تھے اشفاق جیسے ہی حیرت کے اثر سے باہر آیا بفاتی بھائی نے کہا کہ اگر تمہیں یہ پسند ہیں تو میں تمہارے لئے چھوٹے چھوٹے پودے نکا ل کر رکھوں گا، تم مجھ سے لے جانا۔
مگر اشفاق کو پودے لینا نصیب ہی نہ ہوا، اس سے پہلے ہی ایک دن بفاتی بھائی کے گھر کے سامنے بہت سے لوگ جمع تھے، ایک ایمبولینس اور پولیس کی کچھ گاڑیاں بھی تھیں، کچھ اردگرد کے گھر والے بھی کھڑے تھے جو پولیس والوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ لوگوں نے بتایا کہ کئی دنوں سے انہوں نے بفاتی بھائی کو گھر سے نکلتے نہیں دیکھا، اگر وہ کہیں جاتے تھے تو باہر سے تالا لگا کر جاتے مگر کئی روز سے دروازے پر تالا نہ تھا بلکہ دروازہ اندر سے بند تھا جس نے محلے والوں کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا، اور انہوں نے پولیس کو اطلاع کردی تھی جس کے جواب میں یہ سب کارر وائی ہو رہی تھی، کافی کوششوں کے بعد جب اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو دروازہ توڑا گیا، لوگوں کو فوراً ہی اندازہ ہوگیا کہ بفاتی بھائی آج واقعی بفات یعنی وفات پاچکے ہیں، ہزار کاوشوں کے باوجود ان کا کوئی والی وارث یا رشتہ دار نہ مل سکا اور آخر ٹرسٹ والوں نے انہیں لاوارث قرار دے کر دفنا دیا، اور یوں معاملہ ٹھنڈا ہوا، بفاتی بھائی کی وصیت موجود تھی جو ان کے بستر سے ملی تھی، جسے محلے کے لوگوں کی موجودگی میں مسجد کمیٹی کے حوالے کردیا گیا تھا جس کی رو سے یہ مکان وہ مسجد کو وقف کرگئے تھے، پودے سارے اشفاق کو دے گئے تھے، بس اور کچھ تو تھا نہیں باقی جو کچھ تھا نہایت ہی بوسیدہ اور خستہ حالت میں تھا، مگر جس بات نے تمام اہل محلہ کو حیرت میں ڈال دیا وہ تھیں ان کے کمرے میں موجود سینکڑوں کتابیں، جن کے عنوان اور ضخامت بتا رہے تھے کہ انہیں پڑھنے اور سمجھنے کیلئے قاری کا نہایت ہی اعلی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے، کتابیں انہوں نے جمہوریہ لائبریری کو ہدیہ کردی تھیں۔ مسجد والوں نے گھر کا قبضہ حاصل کرلیا تھا اور وصیت کے مطابق جو جو چیزیں جس جس کو بھی دینا تھیں دے کر فارغ ہوگئے تھے۔ اب باری تھی گھر کی تو مسجد والوں نے کمیٹی کے مشورہ سے گھر کو گرا کر دوبارہ تعمیر کرانے کا ارادہ کیا تاکہ اسے کرائے پر دیا جا سکے جس سے مسجد کو مستقل آمدنی ہوتی رہے اور مسجد کے اخراجات میں فراخی ہو جائے۔ لہذا آج مزدور بلائے گئے تھے جو گھر میں کھدائی کا کام کر رہے تھے کہ جہاں بفاتی بھائی کا پلنگ تھا اس کے نیچے کھدائی جیسے ہی شروع کی گئی وہاں سے ایک صندوق برآمد ہوا، مزدوروں نے مسجد کمیٹی کو اطلاع دی اور مسجد والوں نے محلے والوں کو جمع کیا اور محلے میں سے کسی نے پولیس کو بلا لیا، یوں جب اس صندوق کا تالا توڑا گیا تو اندر صرف کاغذات اور تصاویر تھیں، لوگوں نے جیسے ہی ان کاغذات و تصاویر کا مشاہدہ کیا تو سب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، ارے یہ کیا یہ تو ملک کے مشہور و معروف ز رعی سائنسدان تھے، جو بہت پہلے افواہوں کا حصہ بنے اور پھر بھولی بسری یاد بن کر رہ گئے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں گئے، یہ سب کیا ماجرا ہے؟ لوگ ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے اور پریشان ہو رہے تھے
کہ وہ انہیں پہچان ہی نہ سکے دراصل انہوں نے اپنا حلیہ اس قدر بدل لیا تھا کہ کوئی انہیں آسانی سے نہیں پہچان سکتا تھا۔ ابھی لوگ ان سوالوں میں ہی الجھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب نے ایک ڈائری جو اسی صندوق سے انہیں ملی تھی اور ان کے ہاتھ میں تھی پڑھ کر سنانا شروع کی جس کے مطابق ڈاکٹر شہریار خان عرف بخت افراہیم عرف بفاتی بھائی ملک کے نامور زرعی سائنسدان تھے جو ملک کی ذراعت میں ایسی انقلابی تبدیلیاں لانے والے تھے جو ملک کو خطے میں ممتاز و آسودہ بنادینے والی تھیں اور ملک کی معیشت و ترقی پر زبردست مثبت اثرات مرتب کرنے کا سبب اور خوشحالی کی نوید ہوسکتے تھے، مگر چند اعلی عہدوں پر فائز مفاد پرستوں کو غیر ملکی دشمنوں نے خرید لیا تھا اور ڈاکٹر صاحب کی جان کے دشمن ہوگئے تھے جس کے نتیجہ میں ڈاکٹر صاحب کی مسلسل حیثیت عرفی کی جانے لگی اور انہیں طرح طرح سے تکالیف دی جانے لگیں، آخر کار ڈاکٹر صاحب کے کسی خیرخواہ نے مہربانی کرکے ڈاکٹر صاحب کو یہ اطلاع دی کہ آپ کی جان کو شدید خطرہ ہے اور ملک دشمن عناصر آپ کی جان کے درپے ہیں، لہذا انہوں نے اپنے اہل و عیال کو ملک سے باہر بھیج دیا اور خود بھیس بدل کر اس دور دراز علاقے میں گمنام زندگی گزارنے میں ہی عافیت سمجھی۔ محلے کے سارے چھوٹے بڑے اس بات پر اداس تھے کہ ملک کی ایک عظیم ترین ہستی اتنے طویل عرصہ تک ان کے درمیان رہی مگر وہ ان کی کچھ خدمت نہ کر سکے، جس کی متعارف کردہ ذرعی اصلاحات نے ملک میں ذراعت کے مستقبل کو تابناک بنا نا شروع کردیا تھا وہ نہایت کسمپرسی و تنہائی میں بے یار و مددگار مرگیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker