تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

رائے ونڈ دھماکے کی جگہ اور وقت اہم ہے ۔۔ سید مجاہد علی

رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کے قریب واقع پولیس چیک پوسٹ پر دھماکہ کے نتیجہ میں چار پولیس افسروں سمیت سات افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے جبکہ دو درجن سے زائد افراد زخمی حالت میں ہسپتالوں میں منتقل کئے جا چکے ہیں۔ ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ یہ دھماکہ کیسے کیا گیا تاہم موقع واردات سے ایک تباہ شدہ موٹر سائیکل ملا ہے جس سے یہ اندازہ کیا جارہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اس موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا ہوگا اور اس کے پھٹنے سے پولیس چیک پوسٹ تباہ ہوگئی اور وہاں موجود پولیس افسران اور راہگیر اس کی زد میں آگئے۔ اگرچہ پولیس کے ذرائع یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس دھماکہ میں بظاہر پولیس کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن اس سانحہ کے مقام اور وقت کے انتخاب کی وجہ سے اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ حملہ آوروں کا اصل نشانہ تبلیغی اجتماع کے لئے جمع ہونے والے لاکھوں لوگ ہوں۔
رائے ونڈ میں ہونے والا دھماکہ دراصل اہل پاکستان اور حکمرانوں کو اس بات کا انتباہ ہے کہ وہ سیاسی جوڑ توڑ اور ملک میں اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف ہو کر اس اصل مسئلہ کو فراموش نہ کریں جو گزشتہ دو دہائیوں سے اہل پاکستان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنا ہؤا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں پاکستان کو دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ملک کی شہرت بھی حاصل ہوئی ہے۔ حکومت اور فوج کے ذرائع قومی اور عالمی سطح پر یہ دعویٰ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کہ ملک میں دہشت گردی پر قابو پالیا گیا ہے اور ملک میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے تباہ کردیئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ تاثر بھی عام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان میں تخریب کاری دراصل بھارتی ایجنسیوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جو امریکہ کی سرپرستی میں افغانستان میں پاؤں جمانے اور وہاں پر موجود پاکستان دشمن عناصر کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس مؤقف میں ضرور کچھ سچائی ہے لیکن بد قسمتی سے یہ مؤقف ملک میں انتہا پسندی اور تشدد کی صورت حال کے حوالے سے پوری تصویر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اب رائے ونڈ میں ہونے والے دہشت گرد حملہ سے ایک بار پھر یہ حقیقت ہمارے سامنے آئی ہے کہ دہشت گردوں کو شکست دینے کے دعوؤں کے باوجود پاکستان کے عوام کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں اور انتہا پسند گروہ اپنی مرضی سے جگہ اور وقت کا انتخاب کرکے انسانی جانوں کو تلف کرسکتے ہیں اور ملک کے عوام کے چین اور سکون کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ابھی تک اس دھماکہ کے حوالے سے نہ تحقیقات کا آغاز ہؤا ہے اور نہ ہی کوئی تفصیلات سامنے آئی ہیں لیکن یہ بات بھی ہمارے علم میں ہے کہ ملک میں کوئی سانحہ ہونے کے بعد جب تک وہ معاملہ خبروں میں رہتا ہے ، اس پر بیان بازی اور یقین دہانیوں کا سلسلہ جاری ریتا ہے لیکن جوں ہی یہ معاملہ خبروں میں آنا بند ہو جاتا ہے تو حکام بھی اسے فراموش کردیتے ہیں۔ دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ اصل مجرموں کا سراغ لگایا جائے گا اور قصور واروں کو سزا دی جائے گی ۔ واقعہ کے ذمہ داروں کا پتہ لگانے کے لئے مختلف النوع تحقیقاتی کمیٹیاں بھی بنائی جاتی ہیں لیکن شاذ ہی ان کمیٹیوں کی تحقیقات سے کوئی ٹھوس معلومات سامنے آتی ہیں یا ان سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کے لئے کوئی بہتر لائیحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے۔
یہ سانحہ رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کے موقع پر ہؤا ہے۔ ملک میں فرقہ واریت اور عقیدہ و مسلک کی بنیاد پر ایک دوسرے کا خون بہانے کی جو روایت پنپ رہی ہے ، اس کی روشنی میں یہ بے حد اہم ہوگا کہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ اس حملہ میں کون سا گروہ اور افراد ملوث ہیں۔ اگر یہ کارنامہ کسی نئے مذہبی گروہ کا ہے یا اس کا مقصد مذہبی عصبیت ہے اور دراصل اس دھماکہ کا نشانہ پولیس چیک پوسٹ کی بجائے تبلیغی اجتماع میں شریک ہونے والے لوگ تھے تو اس کی نوعیت اور سنگینی دو چند ہو جائے گی۔ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ایسے مسلک پر حملہ کرنے کی کوشش ہے جو اس سے پہلے نشانے پر نہیں تھا بلکہ اس مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی دراصل مختلف ناموں اور گروہوں سے دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ عام طور سے ملک میں سیکورٹی کے ذمہ داران اس قسم کی معلومات حاصل ہو جانے کے باوجود عام کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اسی لئے افواہوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ دراز ہوتا ہے۔ اس لئے نہ صرف اس واقعہ کی مکمل تحقیقت ہونی چاہیئں بلکہ حملہ آوروں کے مقاصد کو بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
مذہبی انتہا پسندی کے بطن سے ہی دراصل دہشت گردی نے جنم لیا ہے اور اس کی نت نئی قسمیں اور پہلو سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کے لئے اگر ایک طرف یہ ضروری ہے کہ وہ ملک میں ہونے والے واقعات میں غیر ملکی ہاتھ کو تلاش کرکے اس کی روک تھام کی کوشش کریں تو اس کے ساتھ ہی انہیں یہ بات بھی یقینی بنا ہوگی کہ ملک میں بھی اس مزاج اور رویہ کا تدارک کیا جائے جو عقیدہ و مسلک کی بنیاد پر نوجوانون کو مار دھاڑ، تشدد اور قتل و غارتگری پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب تک ملکی معاشرہ میں احترام اور ایک دوسرے کے لئے قبولیت کا چلن عام نہیں ہوگا ، ملک سے مذہبی تشدد اور بے راہروی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
یہ بات بھی ملکی تاریخ اور تجربہ کا حصہ ہے کہ ایک طرف ملک کے اہم اداروں نے بعض مذہبی عسکری گروہوں کو اپنے ’اثاثے‘ سمجھنے کی غلطی کی ہے تو دوسری طرف مختلف سیاسی رہنما بھی مختلف مذہبی گروہوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی لئے ان کے غلط ہتھکنڈوں کی مکمل طور سے بیخ کنی ممکن نہیں ہو سکی۔ اس طریقہ نے ملک میں ناپسندیدہ عناصر کو پنپنے اور قوت پکڑنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ایک طرف ملک میں مذبی تشدد مین اضافہ ہؤا تو دوسری طرف عالمی سطح پر ان گروہوں کی وجہ سے پاکستان کو دہشت گردوں کا حامی قرار دیا جانے لگا حالانکہ اس کے اپنے باشندے دہشت گردوں کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنے خون سے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ اب یہ رویہ مکمل طور سے ختم کرنے اور عسکریت کی طرف مائل مذہبی گروہوں کے مکمل ختمہ کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker