اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتتونیو گوئیتریس نے سلامتی کونسل کو متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں ہونے والی لڑائی عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اقوم متحدہ کے چارٹر کی شق 99 کے تحت انہوں نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ ’ہمیں ایسے بحران کا سامنا ہے جس میں پورا انسانی نظام تباہ ہو سکتا ہے۔ صورت حال اس حد تک خطرناک ہو چکی ہے کہ اس میں فلسطینیوں کے حالات میں ابتر ہوجائیں اور علاقے کا امن خطرے میں پڑ جائے‘ ۔
انتونیو گوئیتریس نے یہ پیغام اس امید کے ساتھ سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان کو بھیجا ہے کہ وہ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کریں گے اور اسرائیل کی بربریت روکنے کے لیے کسی منصوبہ پر اتفاق رائے کیا جا سکے گا۔ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا واحد با اختیار ادارہ ہے جہاں منظور کی جانے والی قرار داد کو طاقت کے زور پر نافذ کروایا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بڑی اکثریت سے اسرائیلی بمباری کو مسترد کرچکی ہے لیکن اس قرار داد کی حیثیت ایک بیان سے زیادہ نہیں ہے۔
7 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ کو اب دو ماہ بیت چکے ہیں لیکن نہ تو اسرائیل غزہ جیسے محدود علاقے پر بمباری اور فوجی کارروائی سے باز آنے پر آمادہ ہے اور نہ ہی امریکہ اور دیگر طاقت ور ممالک نے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ اب ہزاروں انسانی جانوں کے ضیاع اور غزہ میں مچائی گئی سنگین تباہی کی صورت حال پر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نہایت ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور مسلسل اس بھیانک جنگ جوئی کو اسرائیل کا حق دفاع قرار دے کر غزہ میں رونما ہونے والے انسانی المیے کو جاری رکھنے میں معاونت کی جا رہی ہے۔
اس دوران میں سلامتی کونسل کا کوئی باقاعدہ اجلاس بھی منعقد نہیں ہوسکا کیوں کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کسی بھی ایسی قرار داد کو ویٹو کرنے پر تیار ہیں جس میں اسرائیل کی جنگی کارروائی کو روکنے اور نہتی آبادی پر تباہی مسلط کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے کہا جائے۔ تنازعہ کے شروع میں روس نے سلامتی کونسل کے سامنے ایک متوازن قرار داد پیش کی تھی جس میں اسرائیل اور حماس کو یکساں طور سے جنگ بندی کے لیے کہا گیا تھا لیکن امریکہ نے ایسی کسی بھی قرار داد کو منظور کرنے سے انکار کیا ہے۔ اسی لیے دو ماہ کی دل ہلا دینے والے انسانی المیہ کے باوجود سلامتی کونسل کی طرف سے خاموشی ہے اور جنگ بندی کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں ہوسکا۔
اس دوران میں قطر کی کوششوں سے اسرائیل اور حماس میں عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ تین روز کے لیے شروع ہونے والی اس جنگ بندی میں دو روز کی توسیع کردی گئی تھی۔ اس طرح دنیا بھر کے امن پسند شہریوں کو امید پیدا ہوئی تھی کہ اس جنگ بندی کو پائیدار کیا جا سکے گا لیکن 30 نومبر کو یہ عارضی معاہدہ ختم ہو گیا۔ اس وقفے میں حماس نے اسرائیل کے 100 یرغمالیوں کو رہا کیا جبکہ اسرائیلی جیلوں سے اڑھائی سو کے لگ بھگ فلسطینی رہا کیے گئے۔
اس دوران میں مصر کی سرحد رفح سے امدادی سامان روانہ کرنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ البتہ یکم دسمبر سے جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے جنگ کی شدت اور دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔ پہلے غزہ شہر پر مشتمل جنوبی علاقہ خالی کروایا گیا تھا اور دس بارہ لاکھ شہری گھر بار چھوڑ کر جنوب کی طرف کوچ کرنے پر مجبور ہوئے تھے لیکن اب جنوب کے مرکز خان یونس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز اس وقت خان یونس میں فوجی کارروائی کر رہی ہیں۔
اسرائیل کی طرف سے غزہ سے خبروں کی ترسیل روکنے کے لیے مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔ جو لوگ یا صحافی سوشل میڈیا کے ذریعے وہاں رونما ہونے والے حالات کی اطلاع بیرونی دنیا تک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے، وہ بھی اب کوئی خبر عام نہیں کر سکتے۔ اسرائیلی بمباری سے غزہ کا کوئی علاقہ، کوئی گھر یا عمارت اور انسان محفوظ نہیں ہے۔ یوں تو اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے جنگجوؤں کا تعاقب کرتے ہوئے مختلف عمارات کو نشانہ بنانے پر مجبور ہے اور اس کی کوشش ہے کہ عام شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
لیکن یہ بیان حقیقی صورت حال سے متضاد ہے۔ اسرائیلی فوجوں نے خاص طور سے ہسپتالوں کو حماس کے جنگی ٹھکانے بتاتے ہوئے نشانہ بنایا لیکن اب تک وہ اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں لا سکا کہ وہاں سے اس نے حماس کا کون سا جنگی نظام ناکارہ کیا ہے۔ غزہ کے الشفا ہسپتال پر قبضہ کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کے نیچے حماس کی سرنگیں ہیں اور اس دعوے کے ’ثبوت‘ میں جو ویڈیو جاری کی گئی تھی، وہ جعلی ثابت ہوئی۔ لیکن اسرائیلی حکومت یا فوج کے علاوہ اس کی پشت پناہی کرنے والے امریکہ نے بھی کوئی شرمساری محسوس نہیں کی۔
اس وقت تک غزہ پر بمباری میں 17 ہزار کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے ٹارگٹ کر کے متعدد صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس وقت تک غزہ میں اسرائیلی بمباری یا فوجی کارروائی سے مرنے والے صحافیوں کی تعداد 100 تک پہنچ چکی ہے۔ اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں بلند بالا عمارات زمین بوس ہو چکی ہیں۔ اس لیے اندیشہ ہے کہ ان عمارات کے ملبے میں کئی ہزار خاندان دبے ہوئے ہیں۔
جنگ کے خاتمہ پر جب یہ ملبہ ہٹایا جائے گا تو اس ہولناک جنگی کارروائی میں مرنے والے فلسطینیوں کی حقیقی تعداد معلوم ہو سکے گی۔ اسرائیلی کارروائی کا مقصد فلسطینیوں کی نسل کشی ہے۔ وہ اس دوران میں متعدد مواقع پر جنگی جرائم کا ارتکاب کرچکا ہے لیکن دو سو سے زائد ممالک پر مشتمل دنیا اور ان کی نمائندہ اقوام متحدہ، اس ہولناک تباہ کاری اور انسانیت سوز ظلم کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
عرب یا مسلمان ممالک بھی انفرادی یا اجتماعی طور سے کسی بھی طرح امریکہ پر اسرائیل کو جنگ سے باز رکھنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ مسلمان آبادیوں کی طرف سے اپنے لیڈروں کی ناکامی پر نکتہ چینی دیکھنے میں آ رہی ہے لیکن یہ احتجاج تو امریکہ اور یورپ کے شہری بھی اپنی حکومتوں کی بے حسی کے خلاف کرتے آرہے ہیں۔ تاہم فی الوقت کوئی احتجاج یا کوشش غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی داد رسی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ساڑھے تین سو کلو میٹر پر محیط اس چھوٹی سی پٹی میں 25 لاکھ لوگ سہولتوں سے محروم، بے سر و سامانی کے عالم میں اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچانے کے لیے دربدر ہیں لیکن انہیں کوئی جائے امان میسر نہیں ہے۔
یہ صورت حال کسی جذباتی نعرے بازی یا اشتعال انگیز موقف اختیار کرنے سے تبدیل نہیں کی جا سکتی بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کو مل کر اپنی حکومتوں کو اس ناروا ظلم کا راستہ روکنے کے لیے آواز اٹھانے مجبور کرنا چاہیے۔ جنگ کے خاتمہ کے ساتھ ہی ضروری ہے کہ فلسطین کے مسئلہ کا کوئی پائیدار حل تلاش کیا جا سکے اور فلسطینیوں کے علاوہ اسرائیل کو بھی اسے ماننے پر مجبور کیا جائے تاکہ فلسطینی اپنے گھروں میں ہلاکت خیزی کے خوف سے محفوظ امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ تاہم پاکستان جیسے ممالک میں بعض عناصر اس صورت حال کو نفرت پھیلانے اور بے بنیاد نعروں کے سہارے بدگمانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان طریقوں سے بعض حلقوں کے مختصر المدت مفادات کا تحفظ تو ہو سکتا ہے لیکن فلسطینیوں کی مدد کا کوئی راستہ ہموار ہونا ممکن نہیں ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ آج اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ’حرمت مسجد اقصیٰ کانفرنس‘ تھی جس کا اہتمام ’مجلس اتحاد امت‘ نامی کسی تنظیم نے کیا تھا۔ اس کانفرنس سے حماس کے سیاسی لیڈر اسماعیل ہانیہ نے بھی خطاب کیا اور یہودیوں کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ایک مضبوط ملک ہے۔ اگر پاکستان اسرائیل کو دھمکی دے تو جنگ رک سکتی ہے۔ پاکستان سے ہمیں بہت امیدیں ہیں کہ پاکستان اسرائیل کو پسپائی پر مجبور کرے گا‘ ۔
حماس کو امریکہ اور متعدد دوسرے ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔ اس نے غزہ میں ایران کی ذیلی عسکری تنظیم کے طور پر فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ آزادی فلسطین کے حوالے سے حماس کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ آزادی کی تحریک سب فلسطینی مذہبی تخصیص کے بغیر مل کر چلا رہے تھے اور ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ فلسطین شناخت کی بنیاد پر کیا جاتا تھا۔ لیکن حماس نے اپنے پشت پناہوں کے ساتھ مل کر اسے مسلمانوں اور اسلام کی ’جنگ‘ بنا کر اسرائیل کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کا ہر راستہ مسدود کر دیا۔ اب حماس کو اپنی زندگی کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے لیکن وہ خود یہ جنگ لڑنے کے لیے بے بس فلسطینی شہریوں کو قربانی کا بکرا بنا رہا ہے اور اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستان اسرائیل سے کافی فاصلے پر آباد ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کے پاس اپنی حفاظت اور عوام کی ضرورتیں پورا کرنے کے وسائل بھی نہیں ہیں لیکن دن رات بمباری کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں سے دور دوحہ میں پرتعیش زندگی گزارنے والے اسماعیل ہانیہ سادہ لوح پاکستانیوں کو یہ جھوٹ بیچنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان چاہے تو اسرائیل جنگ جوئی سے باز آ جائے گا۔ حقیت حال سے واقف لوگ اس بیان کی سطحیت اور بودے پن سے ضرور آگاہ ہوں گے۔
لیکن اگر کچھ تنظیمیں اپنے پلیٹ فارم سے اس قسم کی باتوں کو عام کرنے کا اہتمام کریں گی تو پاکستانی عوام بھی گمراہ ہوں گے اور دنیا میں پاکستان کے لیے حالات مزید دشوار ہو جائیں گے۔ اسرائیل کو جنگ جوئی سے روکنے کا واحد طریقہ جنگ سے گریز کا راستہ ہے۔ موجودہ تنازعہ میں اسرائیل ہی نہیں حماس بھی جنگ سے باز رہنے پر آمادہ نہیں ہے۔ تنازعہ کی بنیاد ہی حماس کا یہ موقف ہے کہ اسرائیل کو تباہ کر کے فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔ کوئی زی شعور تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانے کا خواب نہیں دیکھ سکتا۔ فلسطینیوں کے علاوہ مسلمانوں کو بھی اس سراب سے باہر نکلنا چاہیے۔
اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نام نہاد ’مفتی اعظم‘ تقی عثمانی نے دو ریاستی حل کو مسترد کر دیا اور مشورہ دیا کہ ایسی بات کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل کسی صورت قابل قبول نہیں۔ کوئی بھی مسلمان اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد کہتے ہیں، یہی معاملہ کشمیریوں کے ساتھ بھی رہا ہے۔ انہوں نے حماس کو سیاسی قوت اور اسرائیل کو دہشت گرد قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بانی پاکستان نے اسرائیل کو کبھی تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کبھی اس وعدے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ انہوں نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے جہاد کا پیغام دہراتے ہوئے پیغام دیا کہ جس حد تک ممکن ہو مسلمان فلسطینیوں کی مدد کو پہنچیں۔
ایک دینی عالم کا یہ پیغام مغالطوں سے لبریز، پاکستان کی سرکاری پوزیشن کے برعکس اور زمینی حقائق سے متصادم ہے۔ مفتی تقی عثمانی جیسے خود ساختہ مذہبی پیشواؤں کے اعلان جہاد نے ہی پاکستان کو ان مشکلات اور مسائل سے دوچار کیا ہے جو اس وقت ملک کے وجود کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کو جہاد کے اس ناجائز اعلان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں گمراہ کن بیانات دینے والے عناصر کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

