اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کے ایک خط نے ملک بھر میں تہلکہ مچایا ہوا ہے۔ یہ پر اسرار طور سے منظر عام پر آیا اور تحریک انصاف نے اس کی بنیاد پر قرار دیا عمران خان کے ساتھ نا انصافی اور ظلم ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس معاملہ پر غور کرنے کے لئے آج فل کورٹ اجلاس طلب کیا، جس میں دو گھنٹے سے زائد اس معاملہ پر غور کیا گیا۔ اب وزیر اعظم شہباز شریف جمعرات کو چیف جسٹس سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
6 ججوں کے خط کی بنیاد درحقیقت دو نکات پر ہے :
ایک: سپریم کورٹ نے 22 مارچ کے فیصلہ میں جسٹس شوکت صدیقی کو برطرف کرنے کی سزا کو غلط قرار دیا تھا۔ اور انہیں عہدے پر بحال کر دیا تاہم چونکہ اب وہ جج رہنے کی عمر سے گزر چکے ہیں، لہذا انہیں ریٹائر جج تسلیم کرتے ہوئے تمام مراعات دینے کا حکم دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کو یقینی بنانا چاہیے کہ عدالتوں پر اثر انداز ہونے کے جو طریقے شوکت صدیقی کے ساتھ روا رکھے گئے تھے، کیا اب وہ ترک کیے جا چکے ہیں یا اب بھی ان پر عمل ہو رہا ہے۔ اور اگر اب بھی سرکاری اہل کار یا ایجنسیاں ججوں کو غیر جانبداری سے کام کرنے سے روک رہی ہیں تو ان کا تدارک ہونا چاہیے۔
دوئم: ان چھے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل سے استفسار کیا ہے کہ اگر کچھ عناصر ججوں پر دباؤ ڈالتے ہیں یا انہیں ہراساں کرتے ہیں تو کیا ججوں کو انفرادی طور سے ان ہتھکنڈوں سے نمٹنا ہو گا یا جوڈیشری ادارے کے طور پر ان کی پشت پر کھڑی ہوگی۔ چیف جسٹس سمیت سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ارکان کو لکھے گئے اس خط کا آغاز اس درخواست سے کیا گیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ اگر کچھ عناصر ججوں کے کام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں تو ایسے جج کو اس معاملہ کی رپورٹ کیسے کرنی چاہیے کیوں کہ ان ججوں کے خیال میں اس معاملہ میں قواعد واضح نہیں ہیں۔
خط کے پیرا نمبر 7 میں جسٹس شوکت صدیقی کی شکایات اور اب سپریم کورٹ کی طرف سے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو کالعدم قرار دینے کے تناظر میں استفسار کیا گیا ہے کہ اس معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ان ججوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ تو طے کر دیا کہ شوکت صدیقی نے کوئی غلطی نہیں کی تھی لیکن انہوں نے عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے حوالے سے جو شکایت کی تھی، اس پر تحقیقات کا حکم نہیں دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کا کہنا ہے کہ اس معاملہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو صورت حال جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو درپیش تھی کیا اب وہ بدستور موجود ہے اور کیا اب بھی ایجنسیوں کے ایجنٹ ججوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے خط میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد میڈیا میں شوکت صدیقی کے اس مطالبہ کی حمایت کی گئی ہے کہ جو کچھ ان کے ساتھ پیش آیا تھا، اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کا خیال ہے کہ اس طرح موجودہ صورت حال کی درست تصویر بھی سامنے آ سکے گی۔
اسی پیرا میں البتہ ضمنی طور سے 7 ایسے نکات درج کیے گئے ہیں جن سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ جیسے ان ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایت کی ہے کہ انہیں اپنے پیشہ ورانہ کام میں دباؤ کا سامنا ہے اور انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال خاص طور سے ایسے معاملات میں دیکھنے میں آتی ہے جن کے سیاسی مضمرات ہوں۔ ان سات نکات میں عمران خان کے خلاف محمد ساجد نامی شخص کی پٹیشن کا حوالہ دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے چیف جسٹس کی قیادت میں تین رکنی بنچ نے اس درخواست کے قابل غور ہونے پر سماعت کی تھی۔ بعد میں چیف جسٹس نے اس درخواست کو قابل سماعت قرار دینے کی رائے دی لیکن بنچ کے دو ارکان نے اس رائے سے اختلاف کیا۔ خط کے مطابق اختلاف کرنے والے ججوں کو بعد میں شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اس کی شکایت کی گئی جنہوں نے آئی ایس آئی کے ڈی جی کے ساتھ بات کر کے یقین دیا کہ کوئی شخص ججوں سے رابطہ نہیں کرے گا۔ لیکن دباؤ کا سلسلہ جاری رہا۔
دیگر نکات میں بتایا گیا ہے کہ ایک جج کے برادر نسبتی کو اغوا کر کے اس سے زبردستی بیان ریکارڈ کروایا گیا جس کی بنیاد پر بعد میں جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت درج کروا دی گئی۔ ایک نکتے میں ایک ایسے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا حوالہ دیا گیا ہے جس کی شکایت تھی کہ اسے ہراساں کرنے کے لیے اس کے گھر میں پٹاخے پھینکے گئے تھے۔ البتہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے شکایت کرنے والے جج کا تبادلہ کر دیا۔ انہی نکات میں 10 مئی 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط کا حوالہ بھی ہے جس میں عدالتی کام میں مداخلت کی شکایت کی گئی تھی۔ لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ نتیجتاً 19 مئی 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے اس وقت کے چیف جسٹس سے ملاقات کی اور انہیں شکایات سے آگاہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ (سابق ) چیف جسٹس ساتھی ججوں سے مشورہ کے بعد کوئی کارروائی کریں گے۔ اس معاملہ میں یہ جج اس وقت سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے بھی ملے تھے اور انہیں بھی صورت حال کے بارے میں بتایا تھا۔
چھٹے نکتے میں ایک ایسے جج کا ذکر ہے جسے سرکاری رہائش ملی تو اس کے ڈرائنگ روم کی ایک لائٹ کے پیچھے چھپائے گئے کیمرے اور سم کارڈ کا پتہ چلا جو ڈرائینگ روم میں ہونے والی گفتگو کو کہیں بھیجتا تھا۔ آخری نکتہ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے ایسی باتیں سنیں کہ ججوں کے کام میں مداخلت کی جاتی ہے جس پر ان ججوں نے 12 فروری 2024 کو چیف جسٹس کو ایک خط میں عدلیہ کی خود مختاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فل کورٹ کا اجلاس بلانے کی درخواست کی لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔
ججوں کے خط میں ابتدائی طور سے سپریم جوڈیشل کونسل سے رہنمائی اور قواعد کی وضاحت مانگی گئی ہے لیکن آخری پیرا میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان 6 ججوں نے خود ہی یہ بھی طے کر لیا کہ اس مسئلہ کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ فوری طور سے جوڈیشل کنونشن بلایا جائے تاکہ جانا جا سکے کہ اس ناگوار صورت حال کا سامنا صرف اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج ہی کر رہے ہیں یا دیگر ہائی کورٹس کے ججوں کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔ یہ کنونشن سپریم کورٹ کو مشورہ دے سکے گا کہ ان مسائل کو کیسے حل کیا جائے تاکہ اعلیٰ عدلیہ کے جج آزادانہ طور سے اپنا کام کرسکیں۔
عدلیہ کی خود مختاری کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے میں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے اور اس پر کسی طور سے بھی مفاہمت نہیں کی جا سکتی۔ لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے خط کو میڈیا میں لیک کر کے اچانک مباحثہ کا آغاز کروایا گیا۔ 25 مارچ کو لکھا گیا خط چیف جسٹس کی کارروائی سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر مباحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے بظاہر سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان سے رہنمائی اور مدد طلب کی تھی لیکن خود اسی خط کے اندراج کے مطابق اس کی نقل سپریم کورٹ کے سب ججوں کو بھی روانہ کردی گئی۔ اس طریقہ سے یہی واضح ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی عملی اقدام سے زیادہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے یہ فاضل جج حضرات درحقیقت اس موضوع پر عمومی مباحث کا آغاز چاہتے تھے۔ تاآنکہ یہ 6 جج حلفاً یہ یقین دلوا سکیں کہ انہوں نے دانستہ یہ خط میڈیا کے حوالے نہیں کیا تھا۔ یہ خط عام کرنے ہی کا نتیجہ ہے کہ تحریک انصاف نے فوری طور پر سیاسی مہم جوئی شروع کردی اور عمران خان کے خلاف تمام عدالتی فیصلوں کو بوگس قرار دیا۔ ایکس پر ایک پیغام میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ اس خط سے واضح ہو گیا ہے کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ بیرسٹر گوہر علی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ججز کا خط چارج شیٹ ہے۔ ججز نے خط میں لکھا ہے کہ سیاسی مقدمات میں مداخلت کی گئی۔ عمران خان کے خلاف جتنے کیسز کے فیصلے آئے، وہ اس خط کے بعد ختم ہو گئے‘ ۔
یوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے خط میں درج کی گئی شکایات سے زیادہ اس بات کی اہمیت بڑھ گئی ہے کہ اسے کسی کارروائی سے پہلے ہی میڈیا تک پہنچانے اور چیف جسٹس کے خلاف مہم جوئی کا آغاز کرنے کا سبب کون بنا تھا۔ چیف جسٹس نے فوری طور سے فل کورٹ اجلاس بلا کر اس مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن اس مرحلے پر اس سوال کا جواب تلاش کرنا ملک میں جمہوریت اور عدلیہ کی خود مختاری کے لیے اہم ہو گا کہ کیا سیاسی رائے کی بنیاد پر فیصلے دینا کسی بھی جج کو زیب دیتا ہے اور کیا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اپنے کام کے سلسلہ میں درپیش مشکلات کی شکایت کرتے ہوئے محکمہ جاتی خط و کتابت عام کر کے عوام میں نظام حکومت اور ریاستی اداروں کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بنیں۔
یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کو 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت کے ریفرنس پر برطرف کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ چھ سات سال تک انصاف حاصل کرنے کے لیے جد و جہد کرتے رہے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے کسی جج کو اس دورانیہ میں ان کی حمایت میں کوئی یادداشت یا درخواست چیف جسٹس کو بھیجنے کی توفیق نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس دوران میں ان شکایات کی تصدیق کے لیے کوئی دوسرا جج بھی آواز بلند کرتا۔ البتہ سپریم کورٹ کی طرف سے شوکت صدیقی کی اپیل منظور ہونے کے بعد اچانک اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کو یہ یاد آیا کہ شاید ان کے کام میں مداخلت ہو رہی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس خط میں ججوں نے اجتماعی طور سے مختلف واقعات کا ضمناً تذکرہ کیا ہے لیکن کسی ایک جج نے واضح طور سے یہ شکایت نہیں کی کہ اسے کیسے اور کس موقع پر کس اہلکار یا کس ایجنسی کے افسر نے ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے برعکس جسٹس شوکت صدیقی نے راولپنڈی بار میں تقریر کر کے متعلقہ افسر کا نام لے کر مخصوص واقعات کا حوالہ دیا تھا جن میں ان سے تعاون طلب کیا گیا تھا۔
6 ججوں کے خط کو میڈیا مباحث اور وکلا تنظیموں کے بیانات میں عدلیہ کی آزادی کو لاحق شدید خطرہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن ان مباحث میں اس ججوں کی خود مختاری اور خالصتاً قانونی بنیاد پر شواہد و دلائل کی روشنی میں فیصلہ کرنے کی کمٹ منٹ کا ذکر مفقود ہے۔ اگر کسی اعلیٰ عدلیہ کے جج اپنی آئینی پوزیشن کی آڑ میں سیاسی ہتھکنڈے آزمائیں گے یا سیاسی گروہوں کو عدلیہ پر حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کریں گے تو اس سے عدلیہ مضبوط ہونے کی بجائے مزید کمزور اور بے اعتبار ہوگی۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

