Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, مارچ 3, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ایران کے 11 بحری جہاز ڈبو دیے : امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ : لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 52 ہو گئی
  • آیت اللہ خمینی کے دور میں ایرانی دانشوروں اور فنکاروں پر زندگیاں کیسے تنگ ہوئیں
  • خامنہ ای : دیدہ ور جسےدنیا ہزاروں سال دنیا روئے گی: شگفتہ بھٹی کا کالم
  • پاکستان میں پُرتشدد مظاہروں میں کم از کم 23 افراد کی ہلاکت ، گلگت،سکردو میں کرفیو ، فوج طلب
  • پاکستان کو تیل فراہم کرنے والی سعودی آئل ریفائنری ڈرون حملے کے بعد بند
  • ایران۔اسرائیل تصادم: پاکستان کے لیے خطرات، چیلنجز اور ممکنہ مواقع ۔۔۔ شہزاد عمران خان کا تجزیہ
  • علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر حملہ 9 افراد جاں بحق
  • علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر : اینکر آبدیدہ ، سٹوڈیو میں سسکیوں کی آوازیں
  • ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر نیا حملہ کردیا
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تازہ ترین»سید مجاہد علی کا تجزیہ : فوجی عدالتوں کے فیصلے۔۔سیاسی و سفارتی مضمرات
تازہ ترین

سید مجاہد علی کا تجزیہ : فوجی عدالتوں کے فیصلے۔۔سیاسی و سفارتی مضمرات

ایڈیٹردسمبر 27, 202410 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
hassan niazi GHQ attack
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فوجی عدالتوں نے سانحہ 9 مئی کے باقی ماندہ 60 افراد کو بھی سزائیں سنا دی ہیں۔ سزا پانے والوں میں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی بھی شامل ہیں جنہیں دس سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ یہ حکمت عملی ملک میں بحران اور عدم اعتماد میں اضافہ کرے گی۔
سزاؤں کا اعلان ہونے کے بعد فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے تمام مقدمات کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔ تاہم یہ فیصلے اس مشکوک بنیاد پر استوا ر ہیں کہ سپریم کورٹ اس اصول پر کیا فیصلہ کرتی ہے کہ کیا کسی سویلین کا معاملہ فوجی عدالت میں بھیجا جا سکتا ہے ۔ ماہرین قانون کی رائے میں یہ درست طریقہ نہیں ہے کیوں کہ فوجی عدالتوں کی کارروائی میں شفافیت نہیں ہوتی ۔ اگرچہ فوج کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ تمام شواہد اور ثبوتوں کی روشنی میں سزائیں دی گئی ہیں ۔
تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ بند دروزاوں کے پیچھے کی گئی کارروائی میں کوئی پبلک سکورٹنی نہیں تھی ۔ کوئی دیکھنے والا نہیں تھا ۔ جیسا کی پہلے ہی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سانحہ 9 میں ملوث ہونے پر جن 105 لوگوں کے معاملات فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے تھے ، ان میں سے سب کو سزائیں ہوئی ہیں۔ پچھلے سال اٹانی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا جن 20 ملزموں کو ایک سال سے کم سزا ملی تھی ، انہیں سزا پوری ہونے پر یا معاف کرکے رہا کردیا گیا ہے۔ باقی لوگوں کے مقدمے سپریم کورٹ کےکنفیوژن اور ججوں کے باہمی اختلاف کی وجہ سے مسلسل زیر التوا تھے ۔ پہلے سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ کیا تھا کہ کہ شہریوں کے مقدمےفوجی عدالتوں میں نہیں چلائے جاسکتے۔ انہیں عام عدالتوں میں منتقل کیا جائے۔ اس فیصلہ کے خلاف وزارت دفاع اور تین صوبوں کی طرف سے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی ۔ ایک نئے چھ رکنی بینچ نے پانچ ایک کے تناسب سے فیصلہ دیا کہ فوجی عدالتیں مقدموں کی کارروائی مکمل کرلیں لیکن عدالت عظمی کا حتمی حکم آنے تک ان کا اعلان نہیں ہوسکتا۔
26 ویں آئینی ترمیم کے بعد معاملہ آئینی بینچ کے پاس چلا گیا ہے ۔ حکومت کی درخواست پر آئینی بنچ نے حکم دیا تھا کہ سزا ؤں کا اعلان رکردیا جائےلیکن یہ فیصلے اس بارے میں سپریم کورٹ کے حتمی حکم سے مشروط ہوں گے۔ حالانکہ یہ بڑی حیرت انگیز بات ہے کہ کسی عدالت کو کوئی ایسا فیصلہ کرنے کا حق دے دیا جائے جس کے بارے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت یہ بھی طے نہیں کر پائی ہے کہ وہ اس کی مجاز ہے بھی یا نہیں ۔مثال کے طور پر اگر یہ قیاس کر لیا جائے کہ کل کو سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آتا ہے کہ فوجی عدالتوں میں یہ مقدمے نہیں بھیجے جا سکتے تھے اور ان سارے معاملات پر سزائیں قبول نہیں کی جاسکتیں۔ یوں یہ سارے مقدمے دوبارہ چلاناپڑیں گے۔
اس معاملہ کے دوسرے پہلو کے بارے میں ماہرین قانون، انسانی حقوق کی تنظیمیں حتیٰ کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین بھی یہ کہہ رہی ہے کہ اس طریقے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ پاکستان نے چارٹر آف ہیومن رائیس پر دستخط کیے ہوئے ہیں، اس کے تحت پاکستان یہ طریقہ اختیار نہیں کرسکتا۔ بیرونی ملکوں نے اسی لیے ان فیصلوں کو قابل افسوس قرار دیا ہے ۔ دیکھنا ہوگا کہ اعلیٰ عدالتیں ان پر کیا فیصلے کرتی ہیں۔ البتہ اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ اس معاملے میں پکڑے گئے لوگوں کے خلاف مقدموں کی ساری کارروائی ابھی تک مشتبہ اور مشکوک ہے۔ اپیل پر اگر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سزاؤں کو غلط دیتی ہے تو عدالتی کارروائی کے دوران میں قید رہنے والے افراد کو مقید رکھنے کا کیا جواز ہوگا ۔ کون جواب دے گا کہ کسی بھی شہری کو بغیر کسی قانونی جواز کے سزا دلوائی، قید رکھا گیا اور اس کے بعد عدالتی نظام نے اس کو بری کر دیا ۔
فوجی عدالتوں کی عدم شفافیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہاں جوبھی مقدمہ جائے گا، اسے لازمی سزا دی جائے گی ۔کہا تو یہ جا رہا ہے کہ عدالتوں نے تمام شواہد دیکھتے ہوئے فیصلے کئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ 105 لوگوں کے مقدمے وہاں گئے تھے۔ ان میں سے کس ایک کو بھی ثبوت نہ ہونے یا شبے کی وجہ سے بری نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوجی عدالت میں جو جج بیٹھے ہوتے ہیں، انہوں نے یہ فرض کیا ہوتا ہے کہ جو مقدمہ ان کے سامنے پیش ہو اسے لازمی سزا دیں۔ اسی سے یہ کارروائی مشتبہ ہو جاتی ہے۔ اسی لیے قانونی حلقے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں انہیں ماننے پر آمادہ نہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس صورتحال میں حکومت کی کیا مجبوری تھی کہ وہ سانحہ 9 مئی کے مقدمے لازمی طور سے فوجی عدالتوں میں بھیجنا چاہ رہی تھی۔ ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت فوج کو خوش کرنا چاہ رہی تھی ۔ اس وقوعہ پر فوج سخت ناراض ہے۔ اس روز تحریک انصاف کے کارکنوں نے متعدد ایسے مقامات پر حملے کیے جو عسکری تنصیبات ہیں ، شہداکی یادگاریں ہیں یاسیکورٹی کے لیے ضروری جگہیں ہیں۔ انہیں حساس مقامات کہا جاتا ہے۔ سیاسی احتجاج میں اگر عسکری اداروں کو ملوث کیاجائے گا تو اس سے فوج کو تکلیف ہوگی۔ اسی لیے فوج نے اس پر بہت سخت رد عمل دیا تھا ۔
فوج کے شدید رد عمل کا ایک سبب یہ بتایا جاتا رہا ہے فوج کے اندر سے بہت سے لوگ اس میں ملوث تھے۔ جس پر فوج کو بہت شدید تشویش ہے ۔ فوجی اہلکار یا ریٹائر فوجی، سویلین سیاسی کارکنوں کے ساتھ مل کر فوجی تنصیبات پر حملے کروانے کے ذمہ دار تھے ۔ حالانکہ ان کی وفاداری فوج کے ساتھ ہونی چاہئے تھی۔ فوجی ناراضی کے باوجود سویلین سیاسی حکومت کے لیے یہ غور کرنا ضروری تھا کہ ایک طرف فوج کو مطمئن کرنا ہے تو دوسری طرف ملک کے نظام انصاف کو بھی چلانا ہے۔ تاہم واضح ہورہا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت نے سانحہ نو مئی کے بعد یہ طے کیا کہ یہ اس واقعہ کی تمام سزا تحریک انصاف کو ملنی چاہئے ۔ اس روز کے واقعات کو بنیاد بنا کر تحریک انصاف ، اس کے قیادت کو سخت سزا دی جائے تاکہ سیاسی میدان صاف ہوجائے اور مد مقابل میدان سے ہٹ جائے۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ گزشتہ فروری میں ہونے والے انتخابات میں حکومت کی خواہش کے باوجود ایسا نہیں ہو سکا کہ وہ کلین سویپ کر لیتی ۔ مسلم لیگ (ن) بہت سے دعوے کرتی آ رہی تھی کہ اپریل 2022 کے عدم اعتماد اور حکومتی تبدیلی کے بعد معیشت بہتر ہوئی ہے۔ جب دوبارہ اقتدار میں آئیں گے تو تحریک انصاف کی پیدا کردہ ساری معاشی پریشانی ختم کر دیں گے۔
شہباز شریف حکومت تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے میں کسی حد تک کامیاب ہے۔ لیکن اس کے نتیجے میں عوام میں بے چینی پیدا ہوئی ، عدالتی نظام پر اعتماد کمزور ہؤا اور حکومت کے علاوہ بالواسطہ طور سے فوج کے ارادوں کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ ان سوالات کا کوئی جواب کسی کے پاس نہیں ہے ۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف حکومت فوجی عدالتوں کے فیصلوں سے انصاف کے تقاضے پورے ہونے کا اعلان کر رہی ہے ۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ دنیا چاہے جو بھی کہے، ہم نے بالکل قانون و انصاف کے مطابق فیصلے کرائے ہیں۔ البتہ مسئلہ یہ ہے کہ ان فیصلوں کو ملک کا نظام یعنی سول سوسائٹی اور وکلا کی اکثریت بھی جائز طریقہ نہیں مانتی ۔ اکثر سیاسی کارکن بھی یہی کہیں گے یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کا رویہ دیکھا جائے تو وہ بھی متوازن نہیں ہے۔ انہوں نے ابھی تک اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی کہ یہ ایک سیاسی غلطی تھی۔ 9 مئی کو جو بھی مظاہرے ہوئےئ اور وہ کسی کی بھی غلطی تھی، وہ غلط اقدام تھا۔ عین ممکن ہے کہ اس دن فوجی تنصیبات پر حملوں کا فیصلہ کہیں اوپر سے نہ آیا ہو، پہلے سے کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی ہو بلکہ جس طرح ہوتا ہے کہ فوری طور سے جوش میں کارکن نکلے اور ایسے میں کچھ غلط واقعات ہوگئے۔ سیاسی بلوغت کا تو یہی تقاضہ تھا کہ وہ غلطی مان لی جاتی اور اس پر معافی مانگ لی جاتی ۔ اس طریقہ کی مذمت کی جاتی اور ان واقعات میں ملوث کارکنوں کو خود پارٹی سزا دیتی۔ تحریک انصاف نے البتہ زوال کے بعد صرف اقتدار میں آنے کے لڑائی لڑی ہے ۔ عمران خان کی قیادت میں پارٹی نے سیاست بہتر بنانے اور نظام میں اصلاحات کے لیے کوئی کام نہیں کیا ۔ انہوں نے قیاس کرلیا کہ اگر ہم الٹا فوج پر الزام لگائیں گے یعنی کہ اسے فالس فلیگ آپریشن کو کہیں گے تو ہمیں اس میں کامیابی ہوگی۔
دیکھا جا سکتا ہے کہ پہلے بھی اور فیصلے آنے کے بعد بھی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے 9 مئی کو فالس فلیگ آپریشن کہتے ہوئے انہیں انصاف کا خون کہا گیا۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ جب تک ویڈیو فوٹیج نہیں دکھائی جائے گی اور کھلی عدالت میں الزام ثابت نہیں ہوتا ، ہم ان مقدموں کو نہیں مانتے۔ پارٹی واقعہ کو فالس فلیگ آپریشن کہنے کے باوجود پارٹی ان میں ملوث لوگوں سے اظہار لاتعلقی نہیں کرتی۔ اگر یہ سارا آپریشن یا احتجاج فوج نے ہی منظم کیا تھا تو پھر پی ٹی آئی کے لوگ کیسے اس میں ملوث ہوئے؟ یہ مان لینا بہت مشکل ہے کہ اس روز کے واقعات کے ثبوت نہیں ہیں۔ کچھ نہ کچھ شواہد اور ثبوت موجود ہیں ۔ یہ ایک بالکل الگ بات ہے کہ سویلین عدالتوں میں وہ شواہد کس حد تک قبول کیے جا سکتے ہیں۔سیاسی لحاظ سے نظام انصاف کے حوالے سے یا انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا جائے تو فوجی عدالتوں کے فیصلوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی شہرت متاثر ہوئی ہے۔ ان فیصلوں سے سیاسی نظام کمزور ہوا ہے، شہریوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں، عدالتی نظام پر شکوک و شبہات بڑھے ہیں اور عالمی سطح پر بھی پاکستانی انصاف کے بارے میں سوال اٹھے ہیں۔ یہ کہنا مقصود نہیں ہے کہ امریکہ ، یورپ یا برطانیہ کے کہنے سے پاکستان گھٹنے ٹیک دے گا اور ان ملکوں کی بات ماننے پرمجبور ہو جائے گا۔ لیکن پاکستان کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ مہذب دنیا میں ایک مہذب قوم کے طور پر زندہ رہنے کے لیے ایک شفاف جمہوری نظام کو آگے چلانا ہوگا۔ جو ملک کے آئین کا مطابق ہو۔
فوجی عدالتوں سے ہونے والی سزاؤں کو حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ ایک طرف مل بیٹھ کر مسئلے حل کر نے کی بات کی جارہی ہے، دوسری طرف تحریک انصاف کے لوگوں کو قانونی نظام کے تحت سزائیں دلانے کی بجائے فوجی عدالتوں سے سزائیں دلا کر زبردستی جیلوں میں بند رکھا جارہا ہے۔ اس میں اگر توازن تلاش نہیں کریں گے اور یہ تضاد دور نہیں کیا جائے گا تو بحران سے نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔ اسی طرح تحریک انصاف مسئلہ کا سیاسی حل چاہتی ہے تو فالس فلیگ آپریشن جیسے الزامات سے اعتماد سازی نہیں ہوسکتی۔ اس مؤقف سے تحریک انصاف کو صرف نقصان ہوا ہے۔دونوں طرف سے معاملات پر از سر نو غور ہوناچاہیے۔ لیکن سب سے پہلے سپریم کورٹ فوری طور پر اس معاملے میں اصولی فیصلہ جاری کرے تاکہ طے ہوسکے کیا فوجی عدالتوں کے فیصلے لاگو ہو بھی سکتے ہیں۔ ملک کو آگے لے جانے ، قوم کو سکون فراہم کرنے اور موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے اعتماد سازی کی فضا پیدا کی جائے۔ عام شہریوں کو اس تنازعہ میں آلہ کارنہ بنایا جائے
( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

فوجی عدالتیں
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعطاء الحق قاسمی کا کالم : میری کہانی (19 ) عارف نظامی کے لیے چائے لاؤ
Next Article کشور ناہید کا کالم :وقت دا بیلی ہر کوئی بندا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ مجرمان کو اپیل کا حق دینے اور اس کیلئے 45 دن میں قانون سازی کریں : سپریم کورٹ کا حکم

ستمبر 22, 2025

فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف ایک اور نظرثانی درخواست دائر

جون 5, 2025

عمران علی خان کا تجزیہ : فوجی عدالتیں ۔۔۔ انصاف کا قتل عام یا فوری نتائج کا بہانہ ؟

دسمبر 25, 2024

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد : سید مجاہد علی کا تجزیہ مارچ 3, 2026
  • ایران کے 11 بحری جہاز ڈبو دیے : امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ : لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 52 ہو گئی مارچ 3, 2026
  • آیت اللہ خمینی کے دور میں ایرانی دانشوروں اور فنکاروں پر زندگیاں کیسے تنگ ہوئیں مارچ 3, 2026
  • خامنہ ای : دیدہ ور جسےدنیا ہزاروں سال دنیا روئے گی: شگفتہ بھٹی کا کالم مارچ 2, 2026
  • پاکستان میں پُرتشدد مظاہروں میں کم از کم 23 افراد کی ہلاکت ، گلگت،سکردو میں کرفیو ، فوج طلب مارچ 2, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.