سید مجاہد علیکالملکھاری

بھارتی سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ/سید مجاہد علی

بھارتی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ میں ہم جنس پرستی کا حق تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے ساتھی کا انتخاب کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے جس سے گریز نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے اس متفقہ فیصلہ میں سپریم کورٹ ہی کے 2013 ایک فیصلہ کو تبدیل کردیا ہے جس میں بھارتی قانون کی دفعہ 377 کو ملک کے آئین سے متصادم قرار دیا گیا تھا۔ پانچ برس پہلے آنے والے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے اس دفعہ کے بارے میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہائی کورٹ قانون سازی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی کیوں کہ یہ پالیمنٹ کا حق ہے۔ تاہم اس دوران ہم جنس پرستی کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے سیاسی اور قانونی جد و جہد جاری رکھی۔ اس طرح آج بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ’کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے اور جنسی رجحان کی بنیاد پر کسی سے تفریق برتنا اس شخص کے آزادی اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘ عدالت نے قرار دیاہے کہ ’فرد کے انتخاب کا احترام آزادی کی روح ہے۔ ہم جنس پرست برادری کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح آئین کے تحت برابر کا حق حاصل ہے۔ دفعہ 377 کی شقوں کے تحت مرد اور مرد یا عورت اور عورت کے درمیان سیکس کو جرم قرار دیا گیا تھا جو کہ فرد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ‘
اس فیصلہ کو تاریخ ساز اور اہم قرار دیا جارہا ہے اور بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں ہم جنس پرستوں اور جنسی ساتھی کے انتخاب کا حق مانگنے والوں کی طرف سے سراہا جارہا ہے۔ بھارت میں ہم جنس پرستوں کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ اس قانون کی وجہ سے انہیں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے اور سماجی سطح پر ہی نہیں بلکہ انہیں قانونی امتیاز اور تعصبات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برطانوی دور میں 1861 میں بننے والے اس قانون کے تحت فطری اصول کے خلاف سیکس کے لئے ساتھی کا انتخاب کرنے کو جرم قرار دیتے ہوئے اس پر دس برس قید کی سزا مقرر کی گئی تھی۔ اگرچہ بھارت میں گزشتہ چند دہائیوں سے اس قانون کے تحت کسی شخص کو سزا نہیں دی گئی لیکن اس قانون کی موجودگی سے سماج میں تعصبات کے خلاف کام کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا اور ہم جنس پرست اس قانون کو ان شہریوں کے انسانی حقوق کے خلاف قرار دے رہے تھے جو روائیتی یا فطری قرار دئیے گئے طریقہ سے اپنا ساتھی چننے کے اصول کی پابندی سے انکار کرتے ہیں۔ اب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے قرار دیاہے کہ ’کوئی بھی معاشرہ اکثریت کی اخلاقیات سے نہیں چلتا ۔ ایک آئینی معاشرہ تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد سماج کو ایک روشن خیال معاشرے میں تبدیل کرنا ہے۔‘ سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلہ سے پہلے ہم جنس پرستوں کی طرف سے ساتھی کے انتخاب میں مساوی حق کا مطالبہ کرتے ہوئے دفعہ 377 کو تبدیل کروانے کی جد و جہد کی جارہی تھی۔ لیکن ملک کے سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں سماجی اور مذہبی دباؤ کی وجہ سے اس قانون کو تبدیل کرنے کے لئے کوئی مؤثر کوشش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں۔ ہم جنس پرستوں کے حق انتخاب کے لئے ابھرنے والی منظم اور طاقت ور تحریک بھی سیاست دانوں کو قائل کرنے نہیں کرسکی تھی۔ لیکن ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے واضح کیا ہے کہ ملک کا آئین ہر فرد کو مساوی حق دیتا ہے اور جو قانون اس انفرادی حق کو سلب کرنے کا باعث بن رہا ہے اسے جدید معاشرہ کی ضرورت اور آئین کی روح سے متصادم سمجھا جائے گا۔
بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے اہل پاکستان کے لئے بھی سیکھنے کے بہت سے سبق ہیں۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہونے سے لے کر ہر شعبہ میں بھارت کا مقابلہ کرنے کی سعی و کوشش کرتا رہتا ہے۔ ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں بہتر قرار دیتے ہوئے ہر حد سے گزرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ یا کم از کم ہر سطح پر پاکستان کو بھارت کے مقابلے پر رکھ کر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دو ملکوں یا قوموں کے درمیان اس قسم کی مقابلہ بازی اگر مثبت بنیادوں پر ہو اور اس سے معاشرہ کو بہتر بنانے کی کوشش مطلوب ہو تو اس کی قدر افزائی کی جانی چاہئے۔ لیکن پاکستان اور بھارت کا رشتہ چونکہ دشمنی پر استوار ہے اس لئے ان دونوں کی مقابلہ بازی میں بہتری کی طرف قدم بڑھانے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا رویہ حاوی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ کئی برس سے دونوں ملکوں کے لیڈر ایٹمی طاقت ہونے کے زعم میں ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ اس قسم کی اشتعال انگیز بیان بازی سے پہلے یہ سوچنے یا سمجھنے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی کہ اگر ایک ملک ایٹم بم استعمال کرے گا تو دوسرے کا اسلحہ اس کی آبادی اور سرزمین کو جہنم بنا دے گا۔ اس لئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے والے ملکوں نے دھمکیاں دینے کی بجائے ، ان ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی سے بچنے کے لئے معاہدے اور تعاون کی کوششیں کی ہیں۔ تاہم پاکستان اور بھارت اس معاملہ میں یکساں طور سے اوچھے اور غیر حقیقی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔
دونوں ملکوں کے معاشروں میں ایک سی سماجی برائیاں بھی پائی جاتی ہیں ۔ پاکستان میں اگر انتہا پسندی پنپی ہے اور اقلیتوں کا جینا حرام کیا جاتا ہے تو بھارت میں بھی ہندو توا کی تحریک نے ملک کو شدھ کرنے کی جد و جہد کا آغاز کیا ہؤا ہے جس کے تحت تمام غیر ہندو عقائد ماننے والوں کو ختم کرنے یا انہیں دوبارہ ہندو بنانے کی بات کی جاتی ہے۔ پاکستان میں اگر مذہب اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر تعصبات سے بڑھ کر اقلیتوں کا ناطقہ بند کرنے کے رجحان کو تقویت حاصل ہوئی ہے تو بھارت میں بھی اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف خوں ریز کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ لیکن آج بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلہ سے دونوں ملکوں کے معاشروں میں پائی جانے والی مماثلت کے باوجود ایک فرق واضح ہؤا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ بھارت کا نظام تعصبات اور تشدد آمیز اقدامات کی سرپرستی کرنے سے انکار کرتا ہے۔ وہاں انسان کے مساوی حق کی بات کو بنیادی سماجی خوبی اور آئینی ضرورت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں بھی آئین سب طبقوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور یہاں پر بھی حکومت اور عدالتیں یکساں طور سے ملک کی آبادی سے برابری کا سلوک کرنے اور انہیں عقید ہ اور اظہار رائے کے علاوہ روزگار اور مساوی معاشرتی احترام کا مواقع فراہم کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں ا ن اصولوں کا اظہار کتابوں یا بیان بازی تک محدود ہو چکا ہے جبکہ بھارت کی سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ وہاں ادارے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے غیر جذباتی فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں خواہ سماجی طور سے اس قسم کے فیصلہ کو کسی قدر بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔ پاکستان میں حکومت کے علاوہ عدالتیں بھی مقبول فیصلے کرنے کی لت میں گرفتار ہو چکی ہیں۔
بھارت سے اگر ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لئے فیصلہ سامنے آیا ہے تو پاکستان کے چیف جسٹس نے گزشتہ دنوں ایک ہسپتال میں چھاپہ مار کر اور ایک سیاست دان کے کمرے سے مبینہ طور پر ’شراب‘ کی بوتلیں برآمد کرکے اور اس کے بعد اس کا اعلان کرکے شراب پینے کے معاملہ پر اخلاقیات کی بحث چھیڑنے میں کردار ادا کیا ہے۔ بھارت میں اقلیتی ارکان کو کوئی بھی اعلیٰ ترین عہدہ دینا فطری سمجھا جاتا ہے اور اس پر کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آتا لیکن پاکستان میں وزیر اعظم اگر امریکہ کے ایک عالمی شہرت یافتہ ماہر معیشت کو کسی مشاورتی کمیٹی میں نامزد کرتا ہے تو پوری قوم مل کر اس عقیدہ اور اس کے ماننے والوں کے خلاف ایک منظم مہم کا حصہ بننے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتی۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں اپنے گریبان میں جھانکنے یعنی سول سرچنگ کی ضرورت ہے تاکہ اپنے ہمسایہ ’دشمن ‘ ملک کے بارے میں جانا جاسکے کہ ایک جیسے حالات اور ایک ہی طرح کے لوگ ہونے کے باوجود بھارت کیوں ترقی کی منازل طے کررہا ہے اور پاکستان کیوں ہر شعبہ میں بھارت سے کوسوں دور ہے۔ اس فرق کو صرف آبادی کے فرق سے نہیں ماپا جاسکتا کیوں کہ پاکستان کی ناکامی اور زوال کا سفر صرف معاشی ناکامی تک محدود نہیں ہے بلکہ سفارتی، سیاسی اور سماجی لحاظ سے بھی پاکستان کو شدید خسارے کا سامنا ہے۔
بھارت میں ہم جنس پرستوں کے بنیادی انسانی حق کو تسلیم کرنے کے لئے فیصلہ کیا گیا ہےلیکن پاکستان میں ابھی اس موضوع پر بحث کا آغاز بھی نہیں ہو سکتا۔ یہاں تو اقلیتوں کے اس عالمگیر حق کے بارے میں بھی شبہات پیدا کئے جارہے ہیں کہ انہیں اپنے عقیدہ پر عمل کرنے اور اس کے احترام کا مطالبہ کرنے کا حق بھی حاصل ہے کہ نہیں۔ ملک کے احمدیوں کو ہی نہیں دیگر عقائد کو بھی مسلسل مطعون کیا جاتا ہے اور ان کے سماجی اور مذہبی اطوار کو مسترد کرتے ہوئے باہمی احترام کا کوئی اصول ہمارے پیش نظر نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اہل پاکستان کو یہ بات سمجھنے میں ابھی بہت وقت لگے گا کہ بھارت کیوں ان سے آگے ہے اور انہیں بھارتی سماج اور رویوں سے عقل کی کچھ باتیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker