تجزیے

سید مجاہد علی کا تجزیہ : آرمی چیف کی توسیع اور محمود و ایاز کی صف بندی

قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں نے نئے آرمی ایکٹ کی منظوری دے دی ہے ۔ غالب امکان ہے کہ ہفتہ کے روز اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور بھی کروالیا جائے گا۔ اس طرح ملک کی سب سیاسی پارٹیوں نے ملک و قوم سے گہری محبت اور پاک سرزمین سے وفاداری کا ثبوت بہم پہنچا دیا ہے۔ اب اطاعت گزاری میں محمود و ا یاز ایک ہوئے۔ کسی کو کسی پر برتری حاصل نہیں رہی۔
ترمیم شدہ آرمی ایکٹ کو خواہ کوئی بھی نام دیاجائے اور اگرچہ اس میں فوج کے علاوہ بحریہ اور ائیرفورس کے سربراہان کی تقرری اور توسیع کے علاوہ چئیر مین جوائینٹ چیفس کمیٹی کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے تعین اور توسیع کا معاملہ بھی شامل کیا گیا ہے لیکن اس بارے میں کسی کو بھی شبہ نہیں ہے کہ یہ اہتمام جنرل قمر جاوید باجوہ کو موجودہ عہدے پر برقرار رکھنے کے لئے کیا گیا ہے۔ یہ سوال ہمیشہ جواب طلب رہے گا کہ ملک کے ایک باوقار عہدے کو ایک شخص کے ساتھ منسلک کرنے سے کون سا قومی مفاد حاصل کیا گیا اور کیوں اپوزیشن پارٹیاں اس سوال پر کسی قسم کی مزاحمت کرنے میں ناکام رہیں۔ حتیٰ کہ بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے بل کی حمایت کے ساتھ ہی یہ کہا گیا تھا کہ’ اگر پارلیمانی طریقہ پر عمل کیا گیا تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی‘۔
یہ تو پارلیمانی امور کے ماہرین ہی بتا سکتے ہیں کہ ایک ہی دن میں بل پیش کرنے کے بعد قائمہ کمیٹیوں سے اس کی متفقہ منظوری کون سے مسلمہ پارلیمانی طریقہ کار کی تصویر پیش کرتی ہے؟ البتہ اس دوران نواز شریف سے موسوم ایک نام نہاد خط کے حوالے سے خبریں پاکستانی میڈیا میں گشت کرتی رہی ہیں جس میں مبینہ طور پر مسلم لیگ کے قائد نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی ہے کہ کوئی بل چوبیس یا اڑتالیس گھنٹے میں منظور کرنا پارلیمنٹ کے وقار کے مطابق نہیں ہوگا۔ البتہ اگر اسے دس بارہ دن کی ’مشقت‘ اور پروسیجر کے بعد منظور کرلیا جائے تو یہ اس پارلیمنٹ اور اس کے ارکان کی عزت و وقار کی سربلندی کا سبب بنے گا ۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی طرف سے منظوری کے بعد یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ یا تو یہ خط اور اس کے مندرجات جھوٹے ہیں یا مسلم لیگ (ن) کے اراکین پارلیمنٹ نے نواز شریف کی باتوں پر کان دھرنا چھوڑ دیا ہے۔
یہ الگ بحث ہے کہ حکومت کو غیر مشروط حمایت کا یقین دلانے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے کیوں اس قسم کے خط یا ہدایت نامہ کے مندرجات عام کرنے کی ضرورت محسو س کی۔ اس سے نہ تو غلط سیاسی فیصلہ درست ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس طرح پارلیمنٹ کو مؤثر اور باوقار ادارہ ثابت کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ جس ووٹر اور پارٹی کارکن کو بدھو اور عقل سے پیدل سمجھ کر نواز شریف کے علاوہ دیگر تمام سیاسی لیڈر قلابازیاں کھاتے ہیں ، وہ ابھی اب جمہوریت اور قومی مفاد کے نام پر رچائے گئے اس ٹوپی ڈرامہ سے باخبر ہوچکے ہیں۔ یہ سوال تمام بڑی پارٹیوں کے کارکنوں کی طرف سے اٹھایا جارہا ہے کہ آخر آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کیوں اتنی اہم تھی کہ اس کے لئے بنیادی پارلیمانی و جمہوری اصولوں کو کچلنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں میں پروان چڑھنے والی یہ رائے ہی دراصل وہ قوت ہے جو اس ملک کے جمہوری سفر میں روشنی کی واحد کرن ہے۔ اسی رائے سے خوفزدہ لیڈر اب پارلیمانی طریقہ کار کو عذر بنانے کی کوشش کررہے ہیں یا یہ کہا جارہا ہے کہ فوج کے ادارے کو متنازعہ بنانا قومی مفاد کے خلاف اقدام ہوتا۔ اگرچہ کسی کے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے کہ ایک آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ کیوں کر فوج کے وقار اور قومی مفاد سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر یہی امر واقعہ ہے تو خود جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس وقار و مفاد کی حفاظت کرنے کا خیال کیوں نہیں آیا۔ انہوں نے کیوں کر یہ برداشت کرلیا کہ سپریم کورٹ میں اس معاملہ پر درخواست کی سماعت کے دوران تین روز تک حکومتی فیصلہ کے بخیے ادھیڑے جائیں لیکن وہ آخری لمحے تک سپریم کورٹ کے کسی ’مثبت ‘ فیصلہ کا انتظار کرتے رہیں۔ انہوں نے خود ہی اس عہدہ سے اپنے وقت پر یعنی 29 نومبر 2019 کو علیحدہ ہونے کا اعلان کرکے فوج کو پریشانی اور قوم کو خسارے سے کیوں نہیں بچا لیا؟
جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے خاموشی اور عدالتی طریقہ کے بعد پارلیمانی عمل کو برداشت کرنے کا فعل اس بات کی دلیل ہے کہ اس معاملہ میں قومی مفاد اور فوج کے وقار کی دلیل دراصل سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے دی جارہی ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ جنرل باجوہ اپنے نامکمل ایجنڈا کی تکمیل کے لئے ہر قیمت پر آرمی چیف کے عہدہ پر متمکن رہنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے حکومت کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو دو ٹوک پیغام دیا گیا تھا۔ ورنہ سپریم کورٹ سے سابقہ حکم پر نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ کا انتظار کئے بغیر یوں یک بیک نئے سال کا سورج طلوع ہوتے ہی ایک ایسے نئے پاکستان کے ابھرنے کی نوید نہ سنائی جاتی جس میں عوامی حاکمیت کے بنیادی جمہوری تصور کو تباہ کرنے کا ہر سامان بہم پہنچایا گیا ہے۔ المیہ مگر یہ ہے کہ جنرل باجوہ کو توسیع تو مل جائے گی اور وہ مزید تین برس تک پاک فوج کے سربراہ بھی بنے رہیں گے لیکن اس عہدہ کے ساتھ وابستہ وقار اور احترام آلودہ ہوچکا ہے۔ اسی لئے باجوہ ڈاکٹرائن نام کا اگر کوئی ایجنڈا موجود ہے بھی تو فوج کی پوری قوت بھی اس کی تکمیل کا اہتمام نہیں کرسکے گی۔ توسیع کے سوال پر انہی عناصر سے سمجھوتے کئےگئے ہیں جن سے قوم کو نجات دلوانے کے لئے عمران خان نام کا ’چاند‘ چڑھایا گیا تھا۔
پھر بھی اصرار کیا جاسکتا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ خود مختار اور سیاسی جماعتیں اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔ اور جنرل باجوہ اپنی مدت میں توسیع صرف اس مجبوری میں قبول کررہے ہیں کہ حکومت قومی اہمیت کے متعدد عسکری مفادات کی وجہ سے اس وقت نیا آرمی چیف لانا مناسب نہیں سمجھتی۔ اور فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ تو آئین کی پابند اور ہر کام دستور کے مطابق کرنے کو عین راحت اور نصب العین سمجھتی ہے۔ اور آرمی چیف کی تقرری سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ یہ وزیر اعظم کا اختیار ہے۔ وہ کسی جونیئر جرنیل کوبھی آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کرلے تو باقی سینئر جنرل منتخب وزیر اعظم کے اس فیصلہ کے سامنے سر جھکا کر مستعفی ہوجاتے ہیں اور گھر چلے جاتے ہیں۔
فوج ایک منظم ادارہ ہے جو اپنے ضابطہ کار اور مقررہ اصولوں کا پابند ہے۔ چین آف کمانڈ کا تابعدار ہے۔ اسی لئے اگر کوئی عدالت یہ حوصلہ کرلے کہ ایک سابق آرمی چیف کی بے اعتدالی کو آئین شکنی قرار دے تو فوجی ترجمان کو اسے مسترد کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ عدالت کا احترام واجب نہیں ہے بلکہ اس لئے کہ فوج میں چالیس سال خدمات سرانجام دینے والا کوئی شخص کیسے ’غدار‘ ہوسکتا ہے۔ اس بارے میں کوئی جج نہیں بلکہ فوج کا ترجمان ہی درست رائے پیش کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ اسی لئے اس شبہ کی تصحیح کے لئے فوج کے ترجمان کو میدان میں آنا پڑا۔
لیجئے صاحب ! مان لیتے ہیں کہ فوج کا سربراہ بس اتنا ہی بااختیار ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کا فرض پورا کرے اور دشمن کی میلی آنکھ نکالنے کے لئے عقاب کی مانند جھپٹنے کو تیار ومستعد ہو۔ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وزیر اعظم کو اہم سیکورٹی معاملات پر اپنی ماہرانہ رائے اور ’عاجزانہ‘ مشورہ ‘ پیش کر نے کے بعد زور دار سلیوٹ مارے اور عرض کرے کہ’ جو حکم میرے آقا‘۔ اب اگر وزیر اعظم ہر معاملہ پر رائے کے لئے آرمی چیف سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرے تو ایک ’ماتحت‘ کا اس کے سوا کیا کام ہے کہ حکم بجا لائے۔ اس کا جواب تو وزیر اعظم ہی دے سکتے ہیں کہ وہ ہر اہم قومی بحران میں پارلیمنٹ میں جانے کی بجائے آرمی چیف کی ’بغل‘ میں کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
اس خوشنما تصویر میں یہ پہلو بھی دیکھنا چاہئے کہ ایک دوسرے کی دشمن سیاسی جماعتیں جب یوں شیر و شکر ہوجائیں کہ ایک دن کے نوٹس پر پارلیمنٹ کا اجلاس طلب ہو اور چوبیس گھنٹے کی مشاورت کے بعد اہم ترین قومی معاملہ پر اتفاق رائے پیدا ہوجائے اور قائمہ کمیٹیوں سے قانون کی منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ کی حتمی منظوری کے لئے تیار کرلیا جائے ۔۔۔تو سمجھ جانا چاہئے کہ یہ ساری جماعتیں شدید اختلاف کے باوجود اہم ترین قومی مقصد یعنی ’پارلیمنٹ کی خود مختاری کے احترام‘ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتیں۔ اب دل جلے خواہ اسے جمہوریت دشمنی قرار دیں یا ’ووٹ کو عزت دو‘ کو بوٹ کو عزت دو کے طور پر پڑھنا شروع کردیں، سیاسی لیڈر ان معمولی اعتراضات کی وجہ اپنے قومی فریضہ سے کیسے پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟
یہ ساری باتیں آنے والے دنوں میں ٹاک شوز کے پرجوش قوم پرست اینکرز اور دور کی کوڑی لانے والے تجزیہ نگاروں کے منہ سے قوم کو ازبر کروائی جائیں گی۔ سیاہ کو سفید قرار دینے والے جب اس بولعجبی پر اصرار کرتے ہیں تو دراصل وہ اپنی بات کی تکرار میں خود ہی سیاہ کو سفید دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس سے سیاہ رنگ سفید نہیں ہوجاتا۔ مسئلہ اگر صرف ایک اصول کا تھا ۔ پارلیمنٹ کو اگر سپریم کورٹ کو یہ پیغام دینا مطلوب تھا کہ قانون سازی اور قومی معاملات پر فیصلے کرنا اس کا اختیار ہے ۔ اگر یہ مسئلہ ایک شخص کو خوش کرنے کی بابت نہیں ہے اور اگر آرمی چیف کا عہدہ ایک عسکری ادارے کی ذمہ داری سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تو اس میں کیا مضائقہ ہے کہ ساری پارٹیاں مل کر آرمی ایکٹ میں ترمیم کریں لیکن یہ بھی قرار دیں کہ اس کا اطلاق 29 مئی 2020 کو مقرر ہونے والے نئے آرمی چیف کے عہد سے ہوگا۔
اگر یہ بھاری پتھر پارلیمنٹ کی ساری طاقت بھی مل کر بھی نہیں اٹھا سکتی تو سمجھ لیا جائے کہ اس ملک میں ایک ہی عہدہ اختیار و فیصلوں کا محور ہے۔ اور اس عہدے کا نام چیف آف آرمی اسٹاف ہے۔ اسی لئے اس عہدے پر فائز رہنے کے لئے سیاسی بیانیہ اور قومی مفاد کی توضیح و تشریح تبدیل ہوجاتی ہے۔

( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker