تجزیےسید مجاہد علیکشمیرلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : کیا ہم آزاد کشمیر کو کشمیر کی آزادی کا نمونہ بناسکتے ہیں ؟

پاک فوج نے بھارتی قیادت کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے اور بھارتی لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کیا ہے۔ راولپنڈی میں کور کمانڈر اجلاس کے بعد جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق پاک فوج کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور قوت سے جواب دیا جائے گا۔
اگرچہ فوج کی طرف سے بھارتی لیڈروں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر پاک فوج کا مختصر بیان اور ملک کے دفاع کے لئے غیر متزلزل عزم کااظہار بھارتی لیڈروں کو چوکنا کرنے اور پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے باز رکھنے کے لئے کافی ہونا چاہئے تھا تاہم اس کے باوجود وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میر پور میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک جلسہ عام میں پرجوش تقریروں کے ذیعے گلا پھاڑ کر بھارت کو للکارا ہے ۔ اور واضح کیا ہے کہ تاریخ ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ کوئی بھی انتہا پسند لیڈر کبھی اپنی مہم جوئی میں کامیاب نہیں ہؤا اور اسے شکست کھانا پڑی۔ اس حوالے سے عمران خان نے خاص طور سے نریندر مودی کی حکمت عملی کا موازنہ نپولین اور ہٹلر سے کرتے ہوئے انہیں ان کے انجام سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا۔
وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ اس وقت پوری دنیا مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے آگاہ ہوچکی ہے اور نریندر مودی نے گزشتہ برس اگست میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے دراصل کشمیر کی آزادی کو یقینی بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں جب بھی کرفیو ختم ہؤا تو اسی وقت کشمیری عوام کا ایک سیلاب گھروں سے نکلے گا اور آزادی آزادی پکارتا گلیوں بازاروں میں پھیل جائے گا۔ اس صورت میں نریندر مودی کے پاس کشمیر کو آزادی دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس تقریر میں اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کی توصیف کرتے ہوئے وزیراعظم نے عالمی لیڈروں کا نام لے لے کر یہ واضح کیا ہے کہ انہوں نے کس کس لیڈر سے مل کر کس طرح کشمیر کی صورت حال کے بارے میں انہیں آگاہ کیا ہے۔ اس سے عمران خان اور ان کے وزیر خارجہ کو یہ گمان پیدا ہوگیا ہے اور وہ کشمیریوں کے علاوہ اہل پاکستان کو بھی یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اب کشمیر کا مسئلہ ’تقریباً‘ حل ہوچکا ہے کیوں کہ اب دنیا اس مسئلہ پر غور کررہی ہے۔
پرجوش عمران خان البتہ یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ جن لیڈروں کی شکست سے وہ نریندر مودی کو ڈرانا چاہتے ہیں، انہیں بھلے بالآخر شکست ہی ہوگئی ہو لیکن ان کی جنگ جوئی اور انتہاپسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے عام لوگوں کو دہائیوں تک خوں ریزی، تعصب اور تباہ کاری کا سامان کرنا پڑا۔ انہوں نے حالیہ تاریخ میں ویت نام اور افغانستان میں امریکی جنگ جوئی کی مثال بھی دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان دونوں جنگوں میں امریکہ کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس مؤقف کو درست مان لینے کے بعد اگر ایک نظر جنگ کے بعد تباہ حال ویت نام یا افغانستان کی صورت حال پر نگاہ ڈال لی جائے تو ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جنگ کبھی بھی مسائل حل نہیں کرتی اور کسی بڑی طاقت کی جنگ کی قیمت بہر حال غریب اور کمزور ملکوں کو ہی ادا کرنا پڑتی ہے۔ امریکہ کی جن جنگوں سے عمران خان بھارتی وزیر اعظم کو ڈرانا چاہتے ہیں ، ان کے نتیجے میں امریکہ کی بجائے ویت نام، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی وسیع آبادیوں کو اب تک مشکلات ، خانہ جنگی، بدامنی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
بھارتی وزیراعظم کا یہ دعویٰ بجائے خود کسی جواز کے بغیر ہے کہ بھارت ہفتہ دس دن میں پاکستان کو شکست دے سکتا ہے۔ اسی طرح بھارتی آرمی چیف جنرل نراوانے کا یہ دعویٰ زمینی حقائق سے مماثلت نہیں رکھتا کہ اگر پارلیمنٹ نے حکم دیا تو بھارتی فوج پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کو ’واگزار‘ کروانے کے لئے اقدام کرے گی۔ یہ بات اپنی جگہ تاسف اور پریشانی کاسبب ہونا چاہئے کہ بھارتی فوجی قیادت بھی اب ملک کی ہندو انتہاپسند قیادت کی خوشنودی کے لئے جنگ جویانہ بیانات دینا ضروری سمجھتی ہے۔ حالانکہ پروفیشنل فوجیوں سے زیادہ کون اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ کسی بھی جنگ میں تباہی و بربادی کا سامان تو کیا جاسکتا ہے لیکن اسے جیتنا یا کسی بڑے علاقے پر قبضہ کرلینا ممکن نہیں ہے۔ بھارتی فوجی قیادت کی طرف سے پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کے دعوؤں سے لے کر لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی تک کے اقدامات دراصل اپنے سیاسی لیڈروں کو یہ بنیاد فراہم کرنے کے لئے کئے جاتے رہے ہیں کہ بھارت بڑا اور طاقت ور ملک ہے اور وہ کسی بھی وقت پاکستان کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے۔ حالانکہ یہ دعوے خود کو دھوکہ دینے کےسوا کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
بھارت کی طاقت اس کی فوج یا عسکری صلاحیت میں نہیں ہے بلکہ اس کی پروان چڑھتی معیشت اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں ترقی کی وجہ سے تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہؤا۔ ذرائع پیداوار بڑھے، لوگوں کو روزگار ملنے لگااور ایک ایسا پڑھا لکھا متوسط طبقہ مضبوط ہؤا جو معاشرے میں مثبت اور حوصلہ افزا تبدیلیوں کا سبب بنا ہے۔ تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ نریندر مودی اور بی جے پی کی پالیسیوں نے خاص طور سے اسی متوازن اور غیر متعصب سوچ کو کچلنے کی کوشش کی ہے جو کسی ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ میں اضافہ کی وجہ سے پروان چڑھتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب بھارت کی کثیر آبادی اور وہاں غریب لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ بھارتی سیاست دان جب ان لوگوں کی معاشی اور سماجی ضروریات پوری نہیں کرسکتے تو انہیں مذہبی انتہا پسندی اور پاکستان دشمنی کے نعروں سے بہلانا چاہتے ہیں۔ یہ کام یوں تو کانگرس کے دور حکومت میں بھی ہوتا رہا ہے تاہم نریندر مودی نے مذہبی انتہا پسندی کو بنیادی سیاسی ڈاکٹرائن یا ہتھکنڈے کے طور پر اختیار کیا ہے۔
اس صورت حال پر غور کرنے یا اسے سمجھنے کے بعد اس کا جواب ویسے ہی نعروں سے دینے یا جنگ جوئی کی خواہش کے اظہار کو مسترد کرنے کے لئے اس سے بڑھ کر اشتعال انگیز انہ بیانات صورت حال تبدیل نہیں کرسکتے۔ بدقسمتی سے نریندر مودی کی جو حکمت عملی مسائل اور مشکلات کا سبب بن رہی ہے ، پاکستانی قیادت اس سے سبق سیکھ کر جنگ جوئی سے گریز، انتہا پسندی سے پرہیز اور مذہبی تعصب سے اجتناب کی پالیسیاں بنانے کی بجائے نریندر مودی کو اسی طرح جواب دینا ضروری سمجھتی ہے۔ میر پور میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی تقریریں اس کی بہترین مثال ہیں۔ عمران خان کا یہ کہنا درست ہے کہ دھمکیاں دے کر دراصل شکست خوردگی کا اعتراف کیاجاتا ہے۔ لیکن اگر یہ اصول بھارتی لیڈروں کے طرز عمل کے بارے میں درست ہے تو اس کا اطلاق پاکستانی لیڈروں کے رویہ پر بھی ہونا چاہئے۔ جنگ کے جواب میں خون کے آخری قطرے تک لڑنے کا اعلان یا ایک فضائی جھڑپ میں بھارتی ہزیمت کو پاکستانی عسکری برتری کا علم بنانے سے ماحول میں جنگ ہی کی آواز گونجے گی ۔ ایسے میں امن اور بقائے باہمی کا مقصد پیچھے رہ جائے گا۔
بدقسمتی سے اگر نریندر مودی اپنے عوام کے مسائل دور کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اب مذہبی انتہا پسندی کو سیاسی ہتھکنڈا بنائے ہوئے ہیں تو پاکستان میں عمران خان کی حکومت بھی وہی کام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ منفی سیاسی مزاج کے اس مقابلہ میں بھارت یا پاکستان کے عوام کی خوشحالی کا کوئی پیغام پوشیدہ نہیں ہے۔ پاکستان کا مقصد بھارت کو تباہ ہوتے دیکھنے کی بجائے اسے خوشحالی کی طرف بڑھتے دیکھنا ہونا چاہئے تاکہ خطے کے دوسرے ملک بھی اس سفر پر روانہ ہوسکیں ۔ خاص طور سے پاکستان میں معیشت کے احیا کے کام کا آغاز ہوسکے۔ سیاست میں نعرہ ، غصہ اور نفرت کو پروان چڑھانے کا کبھی بھی اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اس لئے پاکستانی قیادت کو بھارتی لیڈروں کی منفی سوچ کے جواب میں کوئی مثبت طریقہ اختیار کرنے اور امن کے لئے ٹھوس منصوبہ پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارتی حکومت نے جو ظلم کیا ہے وہ واقعی قابل مذمت ہے لیکن کیا اس سے یہ سبق سیکھنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیری علاقوں میں ویسا یا اس سے ملتا جلتا رویہ اختیار نہ کرے۔ کیا جس کشمیر کو ’آزاد کشمیر‘ کہا جاتا ہے ، وہ واقعی آزاد ہے یا حکومت پاکستان کے زیر قبضہ ایک علاقہ ہے جہاں پر اسلام آباد میں کئے گئے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ نریندر مودی کی جابرانہ کشمیر پالیسیوں کے جواب میں پاکستان، آزاد کشمیر کو زیادہ خود مختاری دے کر اس کی حکومت کو کشمیر کاز کا ذمہ دار بنا کر جوابی سفارتی وار کرسکتا تھا۔ لیکن عمران خان تو خود ہی کشمیریوں کے سفیر بن بیٹھے اور اپنی ناکامیوں کو عالمی لیڈروں کے ساتھ ملاقاتوں کا حوالہ دے کر کامرانی میں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔
کشمیر کاز کے لئے بہتر ہوگا کہ یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ جنگ کشمیریوں کو خود ہی لڑنی ہے۔ نہ عالمی لیڈر کشمیر کو آزادی دلوا سکتے ہیں اور نہ پاکستانی فوج اپنی تمام تر قوت و صلاحیت کے زور پر کشمیر کو فتح کرسکتی ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ جو کشمیر ی پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں آباد ہیں ، انہیں تو مکمل آزادی دی جائے تاکہ وہ دنیا کو بتا سکیں کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے اپنے بھائی بندوں کے لئے کس قسم کی آزادی چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کو کشمیر کی آزادی کا ماڈل بنانے سے ہی کشمیر یوں کو حوصلہ ملے گا اور دنیا کو پتہ چلے گا کہ پاکستان کے لئے یہ معاملہ مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کی خواہش نہیں ہے بلکہ وہ واقعی کشمیریوں کی خود مختاری کا حامی ہے اور انہیں اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہتا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker