تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔تحریک انصاف ، حکومت کرنے کا جواز کھوچکی ہے

وزیر اعظم عمران خان کے اس اعلان کے ایک روز بعد کہ وہ کورونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کے لئے لاک ڈاؤن کا حکم نہیں دے سکتے ، ان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ صوبائی حکومتیں اپنی صوابدید کے مطابق کرسکتی ہیں لیکن وفاقی حکومت، سندھ میں لاک ڈاؤن کے فیصلہ سے متفق نہیں ہے۔ اس وقت وفاق کے علاوہ تین صوبوں پر تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ پنجاب اور خیبرپختون خوا میں ڈمی وزرائے اعلیٰ بٹھائے گئے ہیں تاکہ عوام کا بھلا ہو یا برا، عمران خان کی شخصیت اور لیڈری کا بت بنا رہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے لاک ڈاؤن کے خلاف دلائل کے ’انبار ‘ کے بعد کون سا عثمان بزدار یا محمود خان ہوگا جو اپنی کرسی کو داؤ پر لگائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور ملک کو درپیش اندیشوں اور خطرات کے مقابلہ میں قوم کو متحد و متفق کرنے کی بجائے اس میں تفریق، انتشار اور نفرت پھیلا کر موجودہ حالات میں عمران خان اور تحریک انصاف خود اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ اب کورونا وائرس کی آفت اور بحران کا سامنا کرنے کی بجائے بے حوصلگی اور لاتعلقی کی وجہ سے عمران خان اور ان کی پارٹی حکومت کرنے کا اخلاقی جواز کھو چکی ہے۔ ہر گزرنے والا لمحہ اور ہر آنے والا دن کورونا وائرس کی شکل میں موت و تباہی کو پاکستانی عوام کے قریب تر لانے کا سبب بن رہا ہے لیکن ملک کا وزیر اعظم اب بھی مولانا طارق جمیل کی دعاؤں میں اپنی توصیف سن کر، اس گمان میں مبتلا ہے کہ اس کی ایک تقریر لوگوں کو مسحور کردے گی اور وہ اپنے مسائل بھول کر ان کی پرفریب باتوں سے حذ اٹھائیں گے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران قوم سے دو ٹیلی ویژن خطابوں اور سینئر صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں عمران خان نے کورونا کے مقابلے میں اپنی بے بسی بیان کرنے کے علاوہ اس بحران کے دوران بے حسی اور قومی ذمہ داری سے گریز کی بھیانک مثال قائم کی ہے۔
کربناک اور سرعت سے نافذ ہونے والی موت کی خبر لانے والے وائرس سے بچاؤ کا بند وبست کرنے اور ریاست پاکستان کو دستیاب سارے وسائل ، عوام کی امداد کے لئے وقف کرنے کی بجائے عمران خان نے علما سے دعاؤں اور عوام سے ’گھبرانا نہیں ہے ‘ کی اپیل کرکے دراصل اپنی قیادت کے کھوکھلے پن کو عیاں کیا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ مشکل وقت میں کوئی لیڈر کس طرح اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور ان کی ڈھارس بندھاتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے طاقت ور ترین ملک امریکہ کے مغرور صدر ٹرمپ سمیت مہذب دنیا کا لگ بھگ ہر لیڈر روزانہ کی بنیاد پر میڈیا کے ذریعےعوام سے رابطہ رکھے ہوئے ہے، عمران خان اپنی حکومت کی پالیسی اور فیصلےبیان کرنے کے لئے فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر ظفر مرز کو آگے کرتے ہیں۔ انہیں ایک بار بھی پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا کے روبرو ہونے اور عوام سے براہ راست مواصلت کی توفیق نہیں ہوئی۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہےکہ انہیں نہ تو کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی اور نوعیت کے بارے میں معلومات حاصل ہیں اور نہ ہی ان کی حکومت کے پاس اس عفریت کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی ہے۔
عمران خان صرف اس نعرے کی بنیاد پر برسر اقتدار آنے میں کامیاب ہوئے تھے کی سابق لیڈر بدعنوان تھے اور عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے خود اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف رہے تھے۔ یہ ایک ایسا سیاسی نعرہ تھا جسے نیب کی سو فیصد اطاعت شعاری کے باوجود ایک بھی معاملہ میں اب تک ثابت نہیں کیا جاسکا۔ اس کے برعکس شفافیت اور کڑے احتساب کا جو معیار وہ کسی جمہوری حکومت کی بنیادی خاصیت بتاتے رہے ہیں ، خود ان کااپنا دامن ان خوبیوں سے خالی ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت کی پالیسی ناقص اور ناکارہ ہونے کے علاوہ بدنیتی پر مبنی ہے جس میں خود احتسابی کا کوئی عنصر دکھائی نہیں دیتا۔
ایرانی حکومت نے کورونا وائرس پھیلنے کے بعد جب وہاں موجود پاکستانی زائرین کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تو حکومت نے ان کی باحفاظت واپسی اور دیکھ بھال کے مناسب اور ضروری انتظامات کرنے کی بجائے پہلے تو ایرانی حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ ان لوگوں کو کچھ عرصہ ایران میں ہی ٹھہرنے دے۔ جب ایرانی حکام نے خود اپنے عوام کی ضرورتوں اور عالمی پابندیوں کے سبب کم تر وسائل کی وجہ سے پاکستانیوں کو ذبردستی تافتان کی طرف دھکیل دیا تو وفاقی یا بلوچستان حکومت کے پاس اس ’ناگہانی‘ صورت حال سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ افراتفری میں ان لوگوں کو ذبردستی تافتان میں ہی روکنے کا فیصلہ کیا گیا اور اسے قرنطینہ کا نام دیا گیا۔ اس دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرز ا یہ اہتمام بھی نہ کرسکے کہ پہلی قسط میں وہاں آنے والے تین ہزار کے لگ بھگ زائرین کو واقعی قرنطینہ کی سہولتیں حاصل ہوں۔ اور ان کے علاج ، دواؤں اور کھانے کا مناسب انتظام کیا جائے۔
دو ہفتے گزرنے کے بعد کسی مناسب اسکریننگ اور کورونا ٹیسٹ کے بغیر ایران سے آنے والے زائرین کو ان کے آبائی صوبوں میں بھیج دیا گیا۔ ملک کے ہر حصے میں اس وقت کورونا کی وبا پھوٹ پڑنے کی سب سے بڑی وجہ یہ زائرین بنے ہیں جنہیں حکومت کوئی سہولت دینے میں ناکام رہی۔ عمران خان نے اس لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کی سرزنش کرنے اور بد انتظامی اور ناقص فیصلوں کا سبب بنے والے مشیروں اور وزیروں کی جوابدہی کرنے کی بجائے ، اپنی تقریروں میں ان کی نااہلی کو حکومت کی کامیابی بنا کر پیش کرنا ضروری سمجھا۔ عمران خان میں اگر ذمہ داری کا معمولی سا بھی احساس ہوتا اور وہ یہ اندازہ کرسکتے تھے کہ ڈاکٹر ظفر مرز کی سربراہی میں ان کی حکومت میں صحت کے نگران کیا گل کھلا رہے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو نہ صرف کابینہ سے علیحدہ کرتے بلکہ مجرمانہ غفلت کے جرم میں ان کے خلاف فوجداری مقدمے قائم کئے جاتے۔
وزیر اعظم کے طرز عمل اور طریقہ حکومت سے واضح ہوگیا ہے کہ احتساب ا ور شفافیت سیاسی نعرے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ عمران خان نے اقتدار تک پہنچنے کے لئے ان نعروں کو سیڑھی کے طور پر استعمال کیا اور اب اپنی اور اپنے ساتھیوں کی نااہلی اور کم علمی پر جذباتی نعروں کے ذریعے پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے آج 23 مارچ کو یوم پاکستان کے حوالے سے کوئی تقریب منعقد نہیں ہوسکی۔ اسلام آباد میں روائیتی فوجی پریڈ کا اہتمام بھی نہیں ہوسکا۔ بلکہ آج کے دن صوبائی حکومتوں کی درخواست پر فوجی دستے لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لئے شہروں قصبوں کے گلی کوچوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن وزیر اعظم کا ایک ہی پیغام ہے کہ ’ یہ قوم کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم اس بحران سے بھی فتح مند نکلیں گے‘۔ حکومت اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جلد شروع ہونے والے لاک ڈاؤن سے وائرس کو پھیلنے سے روکنے کا جو کام لیا جاسکتا تھا، عمران خان کی کم نگاہی کی وجہ اسے ضائع کیا جاچکا ہے۔
کورونا کی روک تھام کے لئے اب اس سے بھی زیادہ سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ناواقفیت اور ناقص معلومات کی وجہ سے ملک کی کثیر آبادی میں اس وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔ حکومت البتہ اس چیلنج کے مقابلے میں مکمل طور سے جزو معطل بن چکی ہے۔ حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان اب بھی لاک ڈاؤن اور کرفیو کا فرق بتانے پر اپنی صلاحیتیں صرف کررہی ہیں تاکہ کسی طرح سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو غلط ثابت کیا جاسکے۔
لاک ڈاؤن کے خلاف عمران خان کی سب سے بڑی دلیل یہ رہی ہے کہ حکومت، ملک کی بیس پچیس فیصد غریب ترین آبادی کو گھر بیٹھے خوراک فراہم نہیں کرسکتی۔ یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا جب سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ لاک ڈاؤن کے دوران صوبے کے غریب گھرانوں کو ایک ماہ کے لئے کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے کا منصوبہ سامنے لارہے تھے۔ وزیر اعظم نے تواتر سے حکومت کے بے وسیلہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ کوروونا وائرس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی کا براہ راست فائدہ پاکستانی حکومت کو ہی ہؤا ہے۔ اس اضافی آمدنی کے علاوہ متعدد مدات میں موجود وسائل عوام کی سہولت کے لئےصرف کئے جاسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ورلڈ بنک اور ایشیا ترقیاتی بنک نے کورونا وائرس کی وجہ سے سامنے آنے والی مشکل سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو 590 ملین ڈالر کی فوری امداد دی ہے۔ یہ رقم 87 ارب 75 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔ اسے اگر ملک کے 4 کروڑ غریبوں میں مساوی تقسیم کیا جائے تو ہر شخص کو 2200 روپے مل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ احساس پروگرام کے تحت بجٹ کی خیراتی مدات میں رکھے گئے ساڑھے چار سو ارب روپے کو بھی اس مقصد کے لئے صرف کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح حکومت اگر چاہے تو ایک دو ماہ کے لئے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کو بنیادی ضرورت کی چیزیں فراہم کرکے لاک ڈاؤن کا اہتمام کرسکتی تھی تاکہ کووڈ۔19 کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔
مان لینا چاہئے کی عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت موجودہ بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اپوزیشن کو حکومت سے مؤثر ہونے کا مطالبہ کرنے اور آل پارٹیز کانفرنس کے اعلان کی بجائے پارلیمنٹ میں حکومت کی نااہلی کا بھانڈا پھوڑنا چاہئے۔ یہ وقت ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔ ملک میں ایسی متبادل قومی حکومت قائم کرنے کا اہتمام کیا جائے جو اگر مسائل حل نہ بھی کرسکے تو کم از کم مصیبت میں گھرے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی اہل تو ہو۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker