تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : غداری، دہشت گردی اور درست فیصلے: کون کتنا سچا ہے؟

غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتی اور ملک دشمنی کے الزامات عائد کرتی حکومت ، اب اپنے ہی وزیروں کے متضاد اور بے مقصد بیانات کے چنگل میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ ابھی سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری کی قومی اسمبلی میں تقریر کا معاملہ تھما نہیں تھا کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ نے ننکانہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر ممکنہ دہشت گرد حملوں کا ذکر کیاہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان ’چوروں کو نہیں چھوڑوں گا‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے گلگت پہنچے تو وہ آرمی چیف کی آڑ میں پناہ لیتے دکھائی دیے۔
اپوزیشن لیڈر ہوں یا حکومت کے نمائیندے، بدنصیبی سے ان کے بیانات کو بھارت میں بہت دلچسپی اور غور سے سنا جاتا ہے۔ میڈیا کے علاوہ سیاست دان بھی ان کا مکمل فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ مزاج دونوں ملکوں میں یکساں ہے کیوں کہ پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ اپنے لوگوں کی سیاسی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف دشمنی کا ماحول پیدا کیا اور اس نفرت کو اپنی سیاسی طاقت بنانے کی کوشش کی ہے۔ شاید اسی منفی سیاسی طرز عمل کا نتیجہ ہے کہ اس وقت دونوں ملکوں میں ایسی انتہا پسند حکومتیں موجود ہیں جو سیاسی ہمدردی کے لئے ہمسایہ ملک کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کرنے میں ہی عافیت سمجھتی ہیں۔ برصغیر کے دونوں بڑے ملکوں میں اس وقت اس نفرت انگیزی کے مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں۔
حال ہی میں یہ معاملہ سابق اسپیکر اور مسلم لیگ (ن) کے لیڈر ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں ایک بیان سے شروع ہؤا۔ چند روز پہلے ایک بیان میں انہوں نے فروری 2019 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی جھڑپ کے نتیجہ میں گرفتار ہونے والے پائیلٹ ابھی نندن کی رہائی کے معاملہ پر تبصرہ کیا تھا۔ اس بیان کا مقصد تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان پر بھارت کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام لگا کر انہیں شرمندہ کرنا تھا۔ ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پارلیمانی لیڈروں کے ایک اجلاس میں وزیر اعظم تو شریک نہیں ہوئے لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید موجود تھے۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی کے پسینے چھوٹ رہے تھے اور انہوں نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ وہ ابھی نندن کی رہائی کا فیصلہ کرنے سے اتفاق کرلیں ورنہ بھارت آج رات 9 بجے حملہ کردے گا۔
بھارتی میڈیا نے اس بیان کو نریندر مودی حکومت کی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ دعوے کرنا شروع کئے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کو دھمکی دے کر ابھی نندن کو رہا کروایا گیا تھا۔ پاکستانی حکومت حتیٰ کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اس بھارتی پروپیگنڈا کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے اور اسے بھارتی میڈیا کی سنسنی خیزی تک محدود رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ شبلی فرازکی سربراہی میں حکومتی ترجمانوں نے اس بیا ن کو ایاز صادق اور اپوزیشن جماعتوں کی ملک دشمنی سے محمول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن دراصل فوج کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے۔ اور ایسے جھوٹے بیان ملک سے غداری کے مترادف ہیں۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے قومی اسمبلی میں کی گئی ایک تقریر کو اپنے ’دائرہ کار‘ سے باہر سمجھنے یا اس کے بارے میں محکمانہ ذرائع سے وضاحت کرنے کی بجائے ایک پریس کانفرنس کرنا ضروری سمجھا جسے ایک نکاتی ایجنڈے پر مشتمل پریس کانفرنس کا نام دیا گیا۔ وہ ایک نکتہ قومی اسمبلی میں کی گئی ایک تقریر تھی ، جس میں جنرل افتخار کے بقول حالات کی غلط تصویر سامنے آئی تھی۔ میجر جنرل بابر افتخار نے 26 فروری 2019 کو بھارت کے ساتھ ہونے والی فضائی جھڑپ کا تفصیل سے ذکر کرکے اس میں پاکستان کی شاندار کامیابی کو تاریخی واقعہ قرار دینے کے بعد بتایا کہ تقریر میں حالات کو درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس وضاحت میں البتہ یہ بتانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ پارلیمانی اجلاس میں بھارتی حملے کے اندیشے کے بارے میں وزیر خارجہ سے منسوب کئے گئے بیان کی کیا حقیقت تھی۔ کیا اس معاملہ میں بھی ایاز صادق کا تاثر سراسر غلط تھا؟
آئی ایس پی آر نے پارلیمنٹ میں ایک منتخب رکن کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں صورت حال کو پیچیدہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ پارلیمنٹ ملک کا سب سے بااختیار ادارہ ہے اور وہاں کی جانے والی باتوں یا فیصلوں کا فوج سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ اور نہ ہی اس حوالے سے فوج کے ترجمان کو میڈیا میں بیان جاری کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ ملک میں اس وقت اپوزیشن نے جو سیاسی مکالمہ شروع کیا ہے، اس کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ افواج پاکستان کو سیاست سے دور رہنا چاہئے اور اس حوالے سے ماضی میں ہونے والی غلطیوں کا تدارک ہونا چاہئے۔ آئی ایس پی آر کو اگر یہ محسوس ہؤا تھا کہ پاک ائیرفورس نے 26 فروری کو بھارتی فضائیہ کا فائٹر مار گرا کر جو کامیابی حاصل کی تھی لیکن قومی اسمبلی میں اس پر مناسب طریقے سے روشنی نہیں ڈالی گئی یا بیان میں کوئی واقعاتی غلطی ہوئی تھی تو بھی اسے محکمہ وارانہ مواصلت میں تو بیان کیا جاسکتا تھا لیکن ایک سیاسی لیڈر کے بیان پر خصوصی پریس کانفرنس صریحاً سیاسی عمل ہے۔ فوجی ترجمان کو اس سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ایاز صادق کے بیان پر تبصرہ میں معلومات کی غلط ترسیل کی بات تو کی ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ ابھی نندن کی رہائی کے لئے پاکستان پر دباؤ کے بارے جو معلومات سامنے آئی ہیں ، ان میں کس حد تک صداقت ہے۔ اسی طرح حکومت کے ترجمانوں نے غداری اور ملک دشمنی کا شور مچاکر بیان بازی کا طوفان تو برپا کیا ہے لیکن اس نکتہ کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کیا شاہ محمود قریشی نے ممکنہ بھارتی حملے کو ٹالنے کے لئے ابھی نندن کی رہائی کی تجویز پیش کی تھی؟ اور کیا حکومت کے پاس اس وقت بھارتی جارحیت سے بچنے کا یہی واحد طریقہ تھا؟
جس بھارتی میڈیا پروپیگنڈے کا ذکر کرکے پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسی کا تقاضہ ہے کہ حکومت فروری 2019 میں ابھی نندن کی رہائی کے وقت موجود صورت حال کے بارے میں حقائق سامنے لاتی۔ ایک فضائی جھڑپ کے بعد خیرسگالی کے طور پر جنگی قیدی بنائے گئے پائیلٹ کی رہائی ایک مثبت اور قابل تعریف اقدام ہے ۔ پاکستانی حکومت کو اس پر فخر کرناچاہئے۔ تاہم اس پہلو کی وضاحت اہم ہے کہ یہ فیصلہ کسی دباؤ میں نہیں کیا گیا تھا ۔ حکومت کی طرف سے یہ وضاحت دوٹوک انداز میں سامنے آنی چاہئے تھی۔
اس کی بجائے آئی ایس پی آر کے بیان کی آڑ میں سیاسی دھول اڑانے سے کوئی قومی مقصد حاصل نہیں ہوسکے گا۔ اب وزارت خارجہ ، فواد چوہدری کے زیادہ خطرناک اور افسوسناک بیان کی وضاحت کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ اس سے حکومت کو اندازہ کرنا چاہئے کہ سیاسی مقاصد کے لئے اسمبلی اور اس سے باہر دیے گئے بیانات سے نہ صرف حکومت بلکہ ریاست کی پوزیشن بھی کمزور ہوتی ہے۔ فواد چوہدری نے ایاز صادق کے بیان کو رد کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں جو خطاب کیا تھا اس میں جذبات کی رو میں وہ پلوامہ میں ہونے والی دہشت گردی کو ’ہم نے انڈیا میں گھس کر مارا‘ جیسے غیر ذمہ دارانہ الفاظ استعمال کررہے ہیں اور اس کا کریڈٹ عمران خان اور ان کی حکومت کو دیتے سنائی دیتے ہیں۔ اگرچہ منجھے ہوئے سیاست دان کی حیثیت سے انہیں خود ہی اپنے بیان کی غلطی کا اندازہ ہوگیا تھا ۔ اسی لئے بعد کے فقروں میں وہ اپنے بیان کو فضائی جھڑپ سے جوڑنے کی کوشش کرتے بھی سنے جاسکتے ہیں۔
دوسری طرف یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ 26 فروری کو ہونے والی فضائی جھڑپ کے بارے میں یہ بتایا گیا تھا کہ بھارتی فائٹرز نے پاکستان پر حملہ کیا تھا ۔ پاک فضائیہ نے اس کا بھرپو ر جواب دیا اور دو بھارتی طیارے مار گرائے جن میں سے ایک آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا تھا۔ اس مؤقف سے بھی ’انڈیا میں گھس کر مارنے‘ کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ وزیر اعظم کو نوٹ کرنا چاہئے کہ داخلی سیاسی چپقلش میں جب دشمن ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کو موضوع بنانے کی کوشش کی جائے گی تو غلطی بھی ہوگی اور اس کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ فواد چوہدری کے غیر ذمہ دارانہ بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں پاکستان کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ اس کے باوجود وفاقی وزرا اپنی بیان بازی میں اپوزیشن کو ہی دشمن کا ایجنٹ ثابت کرنے میں زور بیان صرف کررہے ہیں۔
وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا تازہ بیان اس غیر ذمہ داری کا ایک نیا نمونہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈروں نے دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا جس کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان نے ان کے لیڈروں پر حملے کئے اور ان کے کئی لیڈر مارے گئے۔ اسی سانس میں انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے تازہ بیانات بھی اسی قسم کے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیڈروں پر بھی ایسے ہی حملے ہوسکتے ہیں۔ اس بیان میں ملک کا وزیر داخلہ یہ بتارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں کو اسٹبلشمنٹ کے خلاف بیان دینے کی پاداش میں دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیا وفاقی وزیر داخلہ یہ کہنے کی کوشش کررہا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کی سرکاری سرپرستی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے؟ یہ مؤقف اور طرز بیان حکومت کے متفقہ سرکاری بیانیہ سے متصادم ہے۔
آج دورہ گلکگت بلتستان کے دوران وزیر اعظم نے بظاہر آرمی اور آئی ایس آئی کے سربراہوں کی حمایت میں یہ کہا ہے کہ ان پر نواز شریف کی نکتہ چینی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ میرا یہ انتخاب درست تھا۔ کیا عمران خان کے بیان سے یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ نواز شریف کے اس دعویٰ کی تائد کررہے ہیں کہ جنرل باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے اور 2018 میں تحریک انصاف کے لئے راہ ہموار کی تھی؟
عمران خان اگر کچھ اور کرنے کی صلاحیت نہیں بھی رکھتے تو کم از کم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ غور تو کرسکتے ہیں کہ کون سے بیان خود انہی کے راستے میں کانٹے بچھانے کا سبب بنیں گے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker