وزیر اعظم کے علاوہ متعدد وزیروں نے ایک بار پھر پاکستان جمہوری اتحاد پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ریاست کے تمام ستون اپنے دائرہ کار میں رہ کر ملکی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جمہوریت کے استحکام کے لئے اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
وزیر داخلہ شیخ رشید نے توپاکستان کی سیاسی تاریخ کو دوبارہ بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج پوری طرح غیر سیاسی ہے۔ وہ کبھی سیاست میں ملوث نہیں رہی، نہ ہے اور نہ ہی ہوگی‘۔ قباحت صرف یہ ہے کہ اسی سانس میں پی ڈی ایم پر تلوار سونتتے ہوئے شیخ رشید کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ یہ سب سیاست دان جنرل ضیاالحق کے بوٹ پالش کرتے رہے تھے اور جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر4 کی پیداوار ہیں۔ عام شہری کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ شیخ رشید کی کون سی بات کودرست اور کس کو غلط قرار دے۔ البتہ کورس کے طرز پر آج وفاقی وزرا نے جیسے اپوزیشن لیڈروں پر تنقید کی اور ہتک آمیز انداز میں گزشتہ روز گڑھی خدا بخش میں کی گئی تقریروں کو مسترد کیا ہے ، اس سے حکومت کی بدحواسی اور پریشانی ضرور ظاہر ہوتی ہے۔ حکومتی نمائیندے اپنا زور بیان اس ایک نکتہ پر صرف کررہے ہیں کہ سیاست میں فوج کی غیرآئینی مداخلت کا الزام جھوٹا ہے اور ان کا اصل ہدف نیب ہے تاکہ ان کے خلاف قائم مقدمات واپس لئے جائیں اور انہیں ’این آر او‘ مل جائے۔
حیرت یہ ہے کہ اگر سیاست کے سارے ستون صرف اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کررہے ہیں تو وزیر اعظم کو باقی کام چھوڑ کر صرف اس ایک نکتہ کی وضاحت پر صلاحیت اور وقت برباد کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے۔ وہ عوام کو درپیش مشکلات پر غور کرنے اور جن امور حکومت کو ڈیڑھ دو سال بعد سمجھ پائے ہیں ، انہیں درست کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ اگر اپوزیشن صرف کرپشن کے مقدمات سے بچنے کے لئے شور مچا رہی ہے تو اس ہنگامہ آرائی کا جواب ٹھوس عدالتی فیصلوں کی صورت میں آنے کی بجائے وزیروں کی پریس کانفرنسوں میں کیوں دیا جارہا ہے۔ ایسے میں تو حکومت کو خاموش تماشائی بننا چاہئے تھا تاکہ احتساب کا نظام قانون کے مطابق کام کرسکے۔ اور اس کے اعتبار کو بھی ضعف نہ پہنچے۔ کسی بھی احتساب کے لئے شفافیت بنیادی شرط ہوتی ہے۔
یہی مقصد حاصل کرنے کے لئے پاکستان میں بھی احتساب بیورو کے نام سے قائم ادارے کو ’آئینی تحفظ‘ دے کر خود مختار بنایا گیا تھا۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے پہلے دن سے اسے ’گود لے کر‘ نیب کی خود مختاری اور غیر جانبداری کو مشکوک بنادیا ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس کی گونج صرف سیاسی جلسوں میں ہی نہیں بلکہ عدالتی ایوانوں میں بھی سنی جاتی ہے۔ بطور وزیر اعظم جب عمران خان کی ناکامیوں کا حساب کیا جائے گا تو اس میں سر فہرست احتساب کو داغدار بنانا شامل ہوگا۔ بدنصیبی سے سیاسی مخالفین کو انجام تک پہنچانے کے لئے جس طرح اداروں کو استعمال کیا جارہا ہے، وہ شفافیت اور انصاف کی سربلندی کے دعوؤں پر سب سے بڑا داغ ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن کو اپنی طاقت بنایا جاتا ہے۔ تنقید سے سبق سیکھ کر غلطیاں درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مناسب مشوروں کو سرکاری پالیسی کا حصہ بنا کر اپوزیشن کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب حکومت پارلیمنٹ کو طاقت کا محور سمجھتی ہو۔ لیکن جب وہ اسمبلیوں کے نصف ارکان کو لٹیرے قرار دے کر خود ایمانداری کا پرچم بلند کرلے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے بے بہرہ ہوجائے تو وہ حکومت اسی انجام کو پہنچتی ہے جس کا سامنا اس وقت تحریک انصاف کو ہے۔
عمران خان ، شیخ رشید و دیگر کی یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ ماضی میں بھی سیاسی لیڈروں نے عسکری اداروں کی چھتری تلے ہی سیاسی سفر کا آغاز کیا ۔ لیکن تحریک انصاف اور دوسری پارٹیوں میں یہ واضح فرق دکھائی دینے لگا ہے کہ ان پارٹیوں نے اقتدار تک پہنچنے کے بعد سیاسی بنیاد پر دشمنی نبھانے کے ساتھ پارلیمنٹ میں تعاون کی فضا کو تباہ نہیں کیا۔ اپوزیشن کو کسی حد تک سپیس فراہم کی جاتی رہی ہے تاکہ پارلیمانی کام چلتا رہے۔ 2014 میں جب عمران خان نے اپنے سیاسی کزن علامہ طاہر القادری کے ساتھ مل کر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو نواز شریف نے پارلیمنٹ میں سیاسی مخالفین کے تعاون ہی کی وجہ سے اس کوشش کو ناکام بنایا تھا۔ یہ سچائی عمران خان باقی سب لوگوں سے بہتر جانتے ہوں گے کہ وقت کون ان کا دست و بازو بنا ہؤا تھا۔ تاہم جاوید ہاشمی نے بھری محفل میں اس خفیہ سرپرست کا پول کھول دیا تھا اور تحریک انصاف کی طرف سے استعفے دینے کے فیصلے پر بھی صرف جاوید ہاشمی نے ہی عمل کیا تھا۔ عمران خان سمیت تحریک انصاف کے باقی سارے اراکین قومی اسمبلی پارلیمنٹ پر دشنام طرازی کے بعد نہ صرف ایوان میں اپنی نشستوں پر واپس آگئے تھے بلکہ دھرنے کے دنوں سمیت پوری مدت کا مشاہرہ اور مراعات بھی وصول کی گئی تھیں۔
تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کو ان قوتوں یا ادارے کی حمایت حاصل تھی جنہیں اس وقت آئین کا پابند اور جمہوریت پسند ثابت کرنے کے لئے حکومتی زعما زور بیان صرف کررہے ہیں۔ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو صرف اس لئے نہیں گرایا جاسکا کیوں کہ تحریک انصاف کے علاوہ تمام پارلیمانی سیاسی قوتیں اس اصول پر متحد و متفق تھیں کہ سیاست میں اداروں کی مداخلت بند ہونی چاہئے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا یہ درخشدہ باب ہے ۔ ا س کی تکمیل سے ملک میں جمہوری روایت کو راسخ کیا جاسکتا تھا۔ لیکن عمران خان نے اقتدار کی ہوس میں عوام دوستی کے نام پر ملکی جمہوریت پر حملہ کیا ہے۔ تاریخ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ عمران خان کی سیاست سے ملک میں کرپٹ نظام کس حد تک کمزور ہؤا یا جمہوریت کے مقابلے میں اداروں کو بالا دست کرنے کے طریقہ کو کیسے ’جمہوری حکومتی انتظام‘ کا حصہ بنانے پر اصرار کیا گیا۔
اپوزیشن کے سیاست دانوں نے ماضی میں ضرور غلطیاں کی ہوں گی۔ انہوں نے ذاتی اقتدار کے لئے سمجھوتے بھی کئے ہوں گے اور اداروں کی مداخلت کو بھی قبول کیا ہوگا لیکن انہی جماعتوں نے اٹھارویں ترمیم کو آئین کا حصہ بنا کر چھوٹے صوبوں کی شکایات دور کرنے اور پارلیمنٹ کو جزو معطل بنانے کی غیر جمہوری روایت کا خاتمہ بھی کیا۔ اب عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف جب اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو ناقص اور مرکزی حکومت کے اختیار کے لئے چیلنج قرار دینے کا مقدمہ پیش کرتی ہے تو انہیں بتانا چاہئے کہ دلائل کے یہ انبار کن قوتوں کی غیر جمہوری خواہشات کی تکمیل کے لئے جمع کئے جاتے ہیں؟ اور کیا اس بات کا جائزہ لے لیا گیا ہے کہ اس ترمیم کو چھیڑنے اور صوبوں کے سیاسی یا مالی اختیار کم کرنے سے پہلے سے کمزور وفاقی انتظام کو کس قدر شدید نقصان پہنچ سکتا ہے؟
حکومت کے نمائیندے اس بات پر شدید ناراض ہیں کہ گڑھی خدا بخش کے جلسے میں کل کے سیاسی دشمن آج مل کر سیاسی تبدیلی لانے کی بات کیوں کررہے ہیں۔ شبلی فراز، فیصل واوڈا ور فواد چوہدری نے اس اجتماع کو ملک میں بحران پیدا کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت دہشت گرد فوجی جوانوں پر حملہ کرکے انہیں شہید کررہے تھے ، اپوزیشن لیڈر فوج کے خلاف تقریریں کررہے تھے۔ شبلی فراز نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ مریم نواز کو گڑھی خدا بخش کے جلسہ میں بلا کر پیپلز پارٹی نے درحقیقت بے نظیر بھٹو کو مار دیا ہے۔ کیوں کہ یہی لوگ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی دینے اور بے نظیر کو مارنے والوں کے سہولت کار تھے۔ تاہم وہ یہ بتانا بھول گئے کہ بے نظیر نے ہی نواز شریف کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے۔ ملک میں جمہوری استحکام کے لئے سیاسی قوتوں کا شکوے دور کرکے باہمی تعاون کو فروغ دینا تو خوش آئیند اقدا م ہے۔ درحقیقت تحریک انصاف کو بھی فوج کی وکالت ترک کرکے جمہوری قوتوں کے ساتھ بات چیت کا سلیقہ سیکھنا چاہئے۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان اور ان کے ساتھی اس زعم سے بھی باہر نکل آئیں کہ وہی فوج کے ’محافظ‘ ہیں۔
حکومت اگر واقعی فوج کو غیر متنازعہ بنانا چاہتی ہے تو اس کے ارکان پریس کانفرنسوں میں آئی ایس پی آر کا کردار ادا کرنا بند کردیں۔ فوج کے ترجمان اپنی پوزیشن واضح کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اپنے رویہ سےخود اسی کا کام آسان کررہی ہے۔ پی ڈی ایم کا سادہ سا مطالبہ ہے کہ فوج کا سیاسی کردار ختم ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم اور ان کی حکومت اگر اس بات کو جائز سمجھتی ہے تو پھر پی ڈی ایم سے ان کا کیا جھگڑا ہے؟ تنازعہ کی بنیاد ہی یہ طرز عمل ہے کہ تحریک انصاف خود کو عوام کا ہی نہیں فوج کا بھی جائز نمائیندہ سمجھتی ہے۔ یہ مؤقف لیتے ہوئے وہ فوج کو قومی ادارہ سمجھنے اور تسلیم کرنے کی بجائے ایک ’پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی‘ بنانے پر اصرار کررہی ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

