تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ اور مجبور پاکستان

پاکستان کو پوری امید تھی کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے فروری کے اجلاس میں پاکستان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کو تسلیم کرکے، اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ آج ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکوس پلئیر نے البتہ گروپ کے فیصلوں کے بارے میں بتاتے ہوئے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ پر رکھنے اور آئیندہ چار ماہ میں بقایا تین نکات پر بہتری کی رپورٹ پیش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
اجلاس میں پاکستان کی نمائیندگی کرنے والے وفاقی وزیر حماد اظہر نے پیرس سے سامنے آنے والے اعلان کے بعد کہا ہے کہ ’پاکستان نے نوے فیصد کام مکمل کرلیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے تسلیم کیا ہے کہ 27 میں سے 24 نکات پر بڑی حد تک عمل کیا جاچکا ہے جبکہ باقی ماندہ تین نکات پر جزوی طور سے کام ہؤا ہے‘۔ حماد اظہر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستانی سیاسی قیادت کی کمٹمنٹ کا اعتراف کیا اور یہ بھی مانا ہے کہ 2018 سے پاکستان نے ٹیرر فنانسنگ کے خلاف تندہی سے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک ایسے جامع اور مشکل ایکشن پلان پر عمل کرنے کے لئے کہا گیا تھا جس کا اس سے پہلے کسی ملک سے تقاضا نہیں کیا گیا ۔ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پیش آنے والی سفارتی ہزیمت کی روشنی میں وفاقی وزیر کا یہ بیان قابل فہم ہے۔ وہ اسی طرح اپنی حکومت کی پالیسی اور کارکردگی کا دفاع کرسکتے ہیں۔ تاہم اس بیان کو چند روز پہلے وزارت خارجہ کے ترجمان زاہد چوہدری کے بیان کی روشنی میں پرکھنا چاہئے کہ ’پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے سخت محنت کی ہے۔ اگر میرٹ پر فیصلہ کیا گیا تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نہ نکالا جائے‘۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان نے دیانت داری سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کےحوالے سے ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کردی ہیں۔ اور میرٹ پر پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے گرے لسٹ سے نکال دیاجائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کے فیصلہ کو اگر اس ’کسوٹی‘ پر پرکھا جائے تو پاکستان کے ساتھ میرٹ کی بنیاد پر سلوک نہیں ہؤا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کسی نہ کسی انفرادی ضرورت یا سفارتی دباؤ کی وجہ سے پاکستان کے حق میں رائے دینے پر تیار نہیں تھے۔ اس سے ہٹ کر اگر اس معاملہ کو حماد اظہر کے بعد از کانفرنس اس ’اعتراف‘ کی روشنی میں دیکھا جائے کہ ’ہم نے 90 فیصد کام مکمل کرلیا ہے‘ تو حالات کی بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ یعنی پاکستانی حکومت کا نمائیندہ خود تسلیم کررہا ہے کہ پاکستان ان 27 نکات پر پوری طرح عمل درآمد نہیں کرسکا ہے جن کی نشاندہی جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے بعد سے کی جاتی رہی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر نے بھی تین ایسے نکات کی نشاندہی کی ہے جن پر مکمل کارکردگی دکھانا ضروری ہے۔ گویا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اعلامیہ وفاقی وزیر کے بیان کی سو فیصد تائد کررہا ہے۔ 27 میں سے تین نکات میں نامکمل کارکردگی کا یہی مطلب ہے کہ پاکستان نے 24 نکات پر عمل کیا ہے یعنی 90 فیصد کام ہوگیا ہے باقی دس فیصد کاکردگی دکھانے کے لئے مزید چار ماہ دیے ہیں۔ اب یہ گروپ جون میں پھر سے پاکستان کے معاملہ پر غور کرے گا۔
وفاقی وزیر اور وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیانات کا تضاد دیکھتے ہوئے یہ فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ وزارت خارجہ کا بیان اجلاس سے پہلے پاکستانی عوام میں سرکاری حکمت عملی کے بارےمیں امید پیدا کرنے کے لئے جاری ہؤا تھا جبکہ حماد اظہر کا بیان ایف اے ٹی ایف کا حتمی فیصلہ سامنے آنے کے بعد اس اعتراف کا اظہار ہے کہ پاکستان کو ابھی کچھ سفر طے کرنا ہے۔ پاکستانی وزارت خزانہ نے بھی ایف اے ٹی ایف کے بظاہر ’غیر متوقع‘ فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور پاکستانی کوششوں کی تحسین کو ایک خوشگوار سگنل قرار دیا ہے۔ اس سرکاری رویہ کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ پاکستان، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اسے بہر حال ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرکے گرے لسٹ سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی مالیاتی اداروں اور منڈیوں کے ساتھ اس کے مالی و تجارتی تعلقات متاثر نہ ہوں۔
امید اور حقیقت حال کے اس دوراہے پر عام فہم کے لئے البتہ اسے آسان الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے مناسب قانون سازی بھی کی ہے اور عملی طور سے ایسے گروہوں و افراد کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے جنہیں اس سے پہلے ’ریاست کے اثاثے‘ کہا جاتا تھا۔ لیکن وہ اس سفارتی مہارت اور اثر و رسوخ کا مظاہرہ نہیں کرسکا کہ ایف اے ٹی ایف میں شامل 37 ممالک کی اکثریت پاکستانی کی وضاحت کو تسلیم کرلیتی۔ بھارتی لابی اب بھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی ہے جو دنیا کے ہر قابل ذکر فورم پر پاکستان کو نیچا دکھانے اور شرمندہ کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کرتی ہے۔ بھارت میں انتہاپسندی کے فروغ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقلیتی گروہوں میں پائے جانے والے ہیجان کے باوجود پاکستان کسی بھی عالمی فورم پر بھارت کےلئے مشکلات پیدا نہیں کرسکا۔ آج بھی مارکوس پلئیر نے بھارت کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ ’ابھی اس کا وقت نہیں آیا‘۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس بلاشبہ ایک ایسا ادارہ ہے جو دنیا میں ٹیرر فنانسنگ کی نگرانی کرتا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے رکن ممالک اپنی حکومتوں کی سفارتی ضرورتوں اور سیاسی پوزیشن کے مطابق کسی ملک کو سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایران اور شمالی کوریا کو مسلسل بلیک لسٹ پر رکھنا، گروپ کی اسی مجبوری کا آئینہ دار ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو بھارتی لابی کی شدید کوشش و خواہش کے باوجود بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جاسکا۔ کیوں کہ اس گروپ میں شامل تین ممالک چین ، ترکی اور ملائشیا بہر حال پاکستان کو اس فہرست سے محفوظ رکھنے کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ اس تناظر میں ایف اے ٹی ایف کے ساتھ معاملات کو ملک کی خارجہ پالیسی اور سفارتی کوششوں سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
پاکستان نے گزشتہ دو برس کے دوران منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کے مالی تعاون کی روک تھام کے لئے متعدد قوانین بنائے ہیں اور بعض دہشتگرد گروہوں کے بارے میں اپنی دیرینہ پالیسی پر نظر ثانی بھی کی ہے۔ تاہم اس بار ایف اے ٹی ایف نے جن تین نکات کی نشاندہی کی ہے، وہ اس حوالے سے مبسوط اور ٹھوس عملی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ یعنی پاکستان اس بات کا ثبوت فراہم کرے کہ اس نے صرف قانون سازی پر ہی اکتفا نہیں کیا اور عالمی طور سے پہنچانے جانے والے چند افراد و گرہوں کے خلاف کارروائی ہی کو کافی نہیں سمجھا بلکہ وسیع پیمانے پر ہر اس گروہ اور فرد کی گرفت کی جارہی ہے جو ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہے۔ گویا بالواسطہ طور سے پاکستان سے کہا جارہا ہے کہ اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی صلاحیت اور عدالتی نظام کی کارکردگی میں بہتری کے ثبوت فراہم کئے جائیں۔ اس نشاندہی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف مجموعی طور پر پاکستانی حکومت اور اداروں کی عملی کارکردگی پر سوال اٹھا رہا ہے۔
ایف اے ٹی ایف نے اصلاح کے لئے جو تین نکات بیان کئے ہیں وہ یہ ہیں:
1) پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے عملی مظاہرہ کریں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق جرائم کی نشاندہی کر کے نہ صرف اس کی تحقیقات کر رہے ہیں بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد ، کالعدم دہشت گرد تنظیموں اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔
2) اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جو قانونی کارروائی کی جائے اس کے نتیجے میں انہیں سزائیں ہوں تاکہ ان جرائم کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔
3) اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد دہشت گردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ انہیں فنڈز اکھٹا کرنے سے روکا جا سکے ۔ ان کے اثاثوں کی نشاندہی کر کے منجمد کیا جائے اور ان تک رسائی روکی جائے۔ ایف اے ٹی ایف نے اس حوالے سے 1267 نامزد دہشت گرد وں اور ان کے 1373 معاونین کا ذکر کیا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایسے تمام فلاحی اداروں یا این جی اوز پر پابندی لگوانا چاہتی ہے جن کا تعلق کسی بھی طرح کالعدم گروہوں اور تنظیموں سے ہے اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کا تقاضہ کررہی ہے۔ نامزد دہشت گردوں اور ان کے معاونین کی تعداد بتا کر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکام ان لوگوں اور اداروں سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن ان کے خلاف عملی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے میرٹ کی امید کرنے سے پہلے اپنا ہوم ورک مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی پرچے کے نوے فیصد سوالوں کا جواب دے کر سو فیصد نمبروں کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker