تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:اعتماد کا ووٹ ملنے کے بعد

پاکستان جمہوری اتحاد کے اس اعلان کے بعد کہ اپوزیشن کے ارکان ہفتہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے، اب یہ بات تقریباً طے ہے کہ عمران خان حسب خواہش اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ اجلاس کے دوران معمول کی گرما گرمی اور الزام تراشی کا ماحول دیکھنے میں نہیں آئے گا۔ تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد عمران خان اطمینان سے حکومت کرسکیں گے یا ان پر سیاسی دباؤ جاری رہے گا۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں اغلب قیاس یہی ہے کہ عمران خان کے لئے سیاسی بحران کا ابھی آغاز ہی ہؤا ہے۔ انہوں نے حکومت میں اپنا ’گولڈن پیریڈ‘ یعنی پہلے ڈیڑھ دو برس اپوزیشن کو للکارنے، مخالفین کی پکڑ دھکڑ اور اس گھمنڈ میں بتا دیے کہ ان کا ’کلہ‘ مضبوط ہے اور کوئی ان کی سیاسی پوزیشن کو چیلنج نہیں کرسکتا۔ اپوزیشن دو وجوہات کی بنا پر اسمبلیوں میں بھاری بھر کم نمائیندگی کے باوجود کوئی مزاحمت نہیں کرسکی۔ ایک تو عمران خان بڑی امیدوں و توقعات کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے ۔ یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ کچھ کرکے دکھائیں گے اور ملکی معیشت میں قابل ذکر تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ اگر اپوزیشن کے الزامات کو درست مان لیا جائے تو عمران خان کو 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے مسلط کیا گیا تھا۔ جزوی طور سے اس وجہ سے بھی اپوزیشن انتظار کرنے پر مجبور تھی۔ انتظار کا دوسرا اہم سبب یہ تھا کہ کسی بھی نئی حکومت کے خلاف فوری طور سے احتجاج منظم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ پہلے دیکھنا پڑتا ہے کہ حکومت کہاں ٹھوکر کھاتی ہے ، پھر اس غلطی کو پکڑ کر اپوزیشن کسی بھی حکومت کے خلاف کوئی تحریک شروع کرتی ہے۔
سیاسی اپوزیشن نے عمران خان کو کام کرنے کا موقع دیا اور اسمبلیوں میں تعاون بھی فراہم کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سیاسی طور سے زد پر آنے کے باوجود ، اس بات سے آگاہ تھیں کہ ملک میں سیاسی عمل کا جاری رہنا ہی سیاسی پارٹیوں کے لئے اہم ہے۔ کوئی حکومت خواہ عسکری اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی سے ہی اقتدار تک پہنچی ہو، محض اس بنیاد پر پاکستان جیسے کسی ملک میں ایسی کسی حکومت کے خلاف تحریک چلانا ممکن نہیں ہوتا۔ ملک کی دونوں بڑی پارٹیاں کئی دہائی تک اس کھیل کا حصہ رہنے کے بعد یہ سمجھ چکی تھیں کہ ملک میں جمہوری نظام چلانے کے لئے طاقتور حلقوں کے ساتھ کسی نہ کسی حد مفاہمت قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فعال پارلیمنٹ اور قومی اسمبلی سے منتخب وزیر اعظم بہر حال کسی فوجی آمر سے بہتر ہوتا ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں کوئی ایسا ماحول پیدا کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں جس میں فوج کو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا موقع مل جائے اور جمہوریت کی از سر نو جد و جہد کرنا پڑے۔
یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں میمو گیٹ اسکینڈل اور مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ڈان لیکس کے نام سے مشہور ہونے والے واقعات کے باوجود ان دونوں پارٹیوں نے اقتدار میں پانچ پانچ برس کی مدت پوری کی۔ 2014 میں جب عمران خان اور طاہر القادری کے ذریعے جمہوری سیٹ اپ کو اپ سیٹ کرنے کا ڈرامہ رچایا گیا تو دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں نے بڑی حکمت سے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کرکے اس بحران پر قابو پایا۔ البتہ بعد کے برسوں میں نواز شریف اور پھر آصف زرداری سے ایسی سیاسی غلطیاں سرزد ہوئیں کہ اس سیاسی اشتراک عمل کو شدید نقصان پہنچا۔ اور میثاق جمہوریت کے تحت اصولوں کے لئے تعاون کرنے کا وعدہ پورا نہ کیا جاسکا۔ اس کی بھاری قیمت مسلم لیگ (ن) نے زیادہ ادا کی ہے لیکن پیپلز پارٹی کو بھی اس کا شدید نقصان ہؤا ہے۔ اس پس منظر میں تحریک انصاف کی حکومت کو ’نامزد ‘ سمجھنے کے باوجود یہ کوشش کی گئی تھی کہ اسے چلنے دیا جائے تاکہ ملک میں جمہوری عمل جاری و ساری رہے۔
عمران خان اپوزیشن پارٹیوں کے اس رویہ کو ان کی کمزوری اور بدعنوانی کے الزامات کا دباؤ سمجھنے کی غلطی کرتے رہے اور ابھی تک اس گمان سے باہر نہیں نکل سکے کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام، معیشت کی بحالی اور عمومی آسودگی و اطمینان کے لئے جس ایک پیج کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ سیاسی قوتوں کا دائرہ عمل ہے۔ یعنی کوئی سیاسی لیڈر خفیہ رابطوں، اداروں کے تعاون اور مخالفانہ رائے کو طاقت سے دبانے کے ہتھکنڈوں سے کامیاب نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ طریقہ ملک میں جمہوری اداروں کی بالادستی کے لئے کوئی اچھی خبر ہوسکتی ہے۔ باہمی تنازعات اور اختلافات کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سیاسی قوتوں کے اشتراک عمل کو ضروری سمجھتی ہیں۔ عمران خان نے تحریک انصاف کو اس وسیع جمہوری مزاج کا حصہ نہیں بننے دیا ۔ حالانکہ انہیں اقتدار میں لانے کے لئے ایسے عناصر کی تائد و حمایت حاصل ہے جو ملک میں جمہوری جد و جہد کی اونچ نیچ کا حصہ رہے ہیں اور سیاسی قوتوں کی مواصلت اور باہمی احترام کی اہمیت کو جانتے ہیں۔
عمران خان اپنے اقتدار کی نصف مدت کے دوران نہ تو عوام کی ضرورتیں پوری کرسکے اور نہ ہی سیاسی مفاہمت کا کوئی مناسب راستہ تلاش کرسکے۔ اس کی بجائے انہوں نے سیاسی تعاون اور ہم آہنگی کو ’این آر او ‘ کا نام دے کر سیاسی و پارلیمانی تعاون کا ہر راستہ مسدود کیا۔ انہی حالات میں اپوزیشن کو بہ امر مجبوری پاکستان جمہوری تحریک کی چھتری تلے جمع ہوکر عمران خان کے خلاف سیاسی جد و جہد کا آغاز کرنا پڑا۔ یہ تحریک ایک سنگین مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے۔ ایسے موقع پر اپوزیشن پارٹیاں عمران خان کے خلاف ’عدم اعتماد‘ کو کامیاب بنا کر اپنی جد و جہد کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ ان کے لئے سب سے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ حکومت کو دباؤ میں رکھا جائے اور عمران خان کو وزیر اعظم کے طور پر کام کرنے دیا جائے۔ ان کی ناکامیاں ہی دراصل پی ڈی ایم کی کامیابی کا راستہ ہموار کریں گی۔
اس حکمت عملی کو آصف زرداری یوں بیان کرتے ہیں کہ یہ حکومت خود اپنے بوجھ سے گرے گی۔ بلاول بھٹو زرداری یہ کہہ کر اس پالیسی یا سوچ کی تائد کرتے ہیں کہ ’عدم اعتماد کب اور کیسے لانی ہے، اس کا فیصلہ ہم کریں گے‘۔ اس سے پہلے نواز شریف مسلسل یہ اشارے دیتے رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کو گرانا کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ اس کی ناکامیوں کو نمایاں کرنے سے ہی مسلم لیگ (ن) مستقبل کے کسی بھی انتخاب میں کامیابی حاصل کرے گی۔ یہ آرا اس حد تک درست ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے لئے مہم کے دوران حکومت کے ’حامی‘ متعدد ایم این ایز نے آئیندہ انتخابات میں اپوزیشن پارٹیوں کا ٹکٹ ملنے کے وعدہ پر گیلانی کو ووٹ دینے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
عمران خان نے حفیظ شیخ کی ناکامی کی بعد اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کرکے دراصل پی ڈی ایم کو ایک مشکل سیاسی چیلنج کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح اپوزیشن کو انگیج کرکے قومی اسمبلی میں سرخرو ہوں گے اور حزب اختلاف کی موجودہ تحریک کا زور ٹوٹ جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کو کوئی نئی حکمت عملی بنانے اور نئی مہم منظم کرنے میں سال ڈیڑھ سال لگ جائے گا جس کے بعد نئے انتخاب کا وقت بھی قریب آچکا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے آج جب قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تو وہ دراصل اپوزیشن کی طرف سے جواب آں غزل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو سیاسی دباؤ عمران خان اپوزیشن پر ڈال کر اسے غیر مؤثر کرنا چاہتے تھے، بائیکاٹ کرتے ہوئے پی ڈی ایم نے دراصل خود کو اس دباؤ سے نکالا ہے اور واضح کیا ہے کہ سینیٹ انتخاب میں اپنے ’سٹار امیدوار‘ کے لئے اکثریت کی حمایت لینے میں ناکامی کے بعد دراصل حکومت کی قانونی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ اپوزیشن یہ دلچسپ نکتہ بھی استعمال کررہی ہے کہ صدر مملکت نے آئین کی شق 91(7) کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اسے صرف اس وقت استعمال میں لایاجاسکتا ہے جب صدر کو یقین ہو کہ وزیر اعظم ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، اس لئے انہیں اعتماد کا ووٹ لینا چاہئے۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس طرح حکومت اور صدر نے تسلیم کرلیا ہے کہ عمران خان کو قومی اسمبلی کا اعتماد حاصل نہیں ہے۔
اپوزیشن کے لئے بہترین صورت یہی ہے کہ عمران خان بدستور وزیر اعظم رہیں اور ان کے خلاف سیاسی گھیرا تنگ کیا جاتا رہے۔ اس مرحلہ پر عمران خان کو اقتدار سے محروم کرکے دراصل انہیں ’سیاسی شہید‘ بننے کا موقع فراہم کر دیا جائے گا۔ عمران خان گزشتہ روز قوم کے نام خطاب میں اس کا اظہار بھی کرچکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم نہ رہے تو وہ عوام کو سڑکوں پر لائیں گے۔ اپوزیشن عمران خان کو یہ موقع نہیں دینا چاہتی۔ تاہم عمران خان کو ہفتہ کے روز اعتماد کا ووٹ ملنے کے بعد اپنے سیاسی طرز عمل اور حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ اگر وہ بدستور جارحانہ اور غیر مفاہمانہ طریقے سے حکومت کرنا چاہیں گے تو ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور ان کی حکومت عوام کو مطمئن کرنے کا کوئی منصوبہ بھی پورا نہیں کرسکے گی۔ یہ صورت حال آئیندہ انتخابات میں تحریک انصاف کے لئے شدید مسائل کا سببب بنے گی۔
سینیٹ انتخاب میں اسلام آباد سے ملنے والی ہزیمت سے نکلنے کا واحد باعزت راستہ یہی ہو گا کہ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد عمران خان گزشتہ اڑھائی برس کے دوران کی جانے والی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کریں اور ملک کے سیاسی ماحول میں تلخیاں پیدا کرنے کی حکمت عملی ترک کی جائے۔ ورنہ اعتماد کا ووٹ بھی ان کی مشکلات کا خاتمہ نہیں کرے گا۔ ابھی سینیٹ میں چئیرمین کا انتخاب درپیش ہے اور کسی اگلے مرحلے پر عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر وفاق میں تحریک انصاف کو جھٹکا دیا جاسکتا ہے۔ اپوزیشن نے نہایت چالاکی سے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کا آپشن بھی کھلا رکھا ہے جبکہ لانگ مارچ کی تیاری بھی ہورہی ہے۔
قومی اسمبلی میں معمولی اکثریت کی بظاہر حمایت عمران خان کو طاقت ور نہیں بنائے گی۔ انہیں ہر وقت یہ باور کروایا جاتا رہے گا کہ ’اعتماد‘ کا ووٹ دینے والوں میں وہ پندرہ سولہ ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں جن کے بارے میں عمران خان خود کہتے ہیں کہ انہوں نے پیسے لے کر یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیے تھے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker