ہم میں ساتھی شبیر بھٹی سُر کے ارتقا کو سمجھتے ہیں اور این ایس ایف کے ساتھ اُن کی نظریاتی وابستگی کُچھ ایسی ہے کہ 14 ائیر لائین لاہورمیں منعقدہ ایک اجلاس میں کرسی سے فرش پر گر گئے اور آنکھیں موُند لیں۔ ضیا بیطس اب ’’ضیا بیتی‘‘ کی حد کو چھونے کو تھی۔ مگر انقلابی ساتھی بہت ظالم ہیں۔ مرنے بھی نہیں دیتے۔ جانے آصف چودھری اور ساتھی مشتاق نے کیا کیِا کہ کُچھ ہی دیر میں وہ پھر اجلاس میں تھے۔ انہوں نے معذرت کی
’’سوری یار، ذرا شوگر ودھ گئی سی‘‘
مگر کُچھ اِس ڈھنگ سے کہ ۔۔۔
’’ساتھیو معذرت چاہتا ہوں۔ میں ذرا مرنے والا تھا‘‘۔
الفاظ یقیناّ یہ نہیں مگر معنی یہی تھے۔
ایسے ہی ایک مرتبہ ہمیں ایک معقول وجہ سے لاہور ہی میں رانا طارق محمود سے ملنا تھا مگر شہر کی تمام سڑکیں کسی کرکٹ میچ کے باعث بند تھیں۔ ساتھی آصف چودھری نے کہا کہ اب موٹر سائیکل کے سِوا کوئی حل نہیں اور وہ ہمیں ہونڈا 125 موٹر سائیکل پہ بٹھا کر نکل کھڑے ہوُئے۔ فُٹ پاتھوں اور گلیوں اور چوراہوں پر بھیڑ کو چیرتے ہوُئے جائے مقررہ پر پہنچ گئے۔
یہ سرفروش کہاں رُکتے ہیں؟؟ کبھی واٹس ایپ پر سٹدی سرکل لے رہے ہوتے ہیں اور کبھی سازشی عناصر سے نبرد آزما نظر آتے ہیں۔ لوگوں کی تقاریر یاد رہتی ہیں مگر ہم آصف چودھری کی ایک خاموشی کبھی نہیں بھوُل پائے۔ ہم اُس دِن جانے کہ خاموشی بھی طاقتِ اِبلاغ رکھتی ہے۔ ایک 9فروری کو سب نے12 ایف 1 جوہر ٹاؤن میں اکٹھا ہونا تھا مگر موسم کے جبر کے باعث بہت سے این ایس ایف کے ساتھی نہ پہنچ سکے۔ جی، یہی واقعہ ہے جب ساتھی آصف چودھری نے کُچھ نہیں کہا مگرآنکھوں کے شعلے سب کچھ بیان کر گئے۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تُم کو میِر سے صحبت نہیں رہی
صاحبو، کِسی شوریدہ سر کو ایسی خوش اسلوبی سے تنظیمی معاملات سنبھالتے دیکھا ہے؟ بس جب سُرمئی نیلگوں آسمان تلے بھیگی ہوئی کچی مٹی میں سُرخ پھولوں سے طائر مِل رہے ہوں تو ساتھی بہت یاد آتے ہیں۔ مگر کیا کیجے کہ ماہ دسمبر کی سرد رات، جب دھند نے آنکھوں کی روشنائی کو گروی رکھ لیا تو ساتھی آصف چودھری نے کہا میں ساتھیوں کو جی ٹی روڈ سے لاہور پہنچاؤں گا۔ سو، نکل پڑے ۔۔۔۔ جی ٹی روڈ گویا گرینڈ ٹرنک روڈ کے بارے میں روایت ہے کہ شیر شاہ سوُری کے عہد میں اِس سڑک کے ساتھ کوئی بھی دوشیزہ گہنے پہن کر گذر سکتی تھی مگر راوی نے یہ بیان نہیں کیا میانِ سڑک غیر دوشیزہ افراد کیسے منزلِ مقصود تک پہنچتے ہوں گے۔ اِس سے باور ہمیں ساتھی آصف چودھری نے کروایا۔ کبھی دائیں سے، کبھی بائیں سے اور کبھی میان ہی سے نکل جاتے۔ ستم یہ کہ ہمیں فرنٹ سیٹ پر احتراماّ ایستادہ کر دیا گیا۔
کُچھ دیر بعد ہم نے چائے کی گذارش کی جو فی الفور مان لی گئی تو ہم نے کہا کہ کیوں نہ آپ کی گاڑی ہم چلا لیں؟ اب ساتھی ساتھیوں کو انکار کہاں کرتے ہیں۔ سو ہم گاڑی چلانے لگے ۔۔۔ اتنے دھیرے کہ جب لاہور پہنچے تو ساتھی نے کہا ۔۔۔۔
’’ہنڑ میں گڈی چلا لواں؟ ذرا گھر چ وی کُش کم ہیں نے‘‘
ساتھی کا رویّہ بھی اُن کی ڈرایئونگ سا ہی ہے۔ چاہتے ہیں کہ دو گام چلیں اور سامنے منزل آ جائے۔ سپنا تو ہم سب کا یہی ہے۔ مگر کون اِس رفتار سے چلے؟ 25 کروڑ لوگ، یہ ہاری، یہ مزد آور (ہم نے مزد آور اس لیئے لکھا کہ مزد کا مطلب روزانہ کی اُجرت ہے)، کھیتوں میں زندگی کو ہانکنے والے، یہ اپنی آمدن سے زیادہ ٹیکس بھرنے والے، رینگنے والے اگر آصف چودھری کی رفتار کو چھو لیں تو عوامی جمہوری انقلاب بس اتنا ہی دور ہے جتنا اسلام آباد سے لاہور۔۔۔
فیس بک کمینٹ

