رات کا دوسرا پہر تھاجب پرانی سول لائن خانیوال کی ایک گلی کے کونے میں بنے پرانے سے گھر میں الگ تھلگ سے بنے ہوئے کمرے میں ”وہ“ اور میں بیٹھے ہوئے تھے- اس کمرے کی تاریخ بھی بہت دلچسپ تھی۔ پہلے یہاں بھینسیں رہا کرتی تھیں اور ”وہ“ کے دادا ان بھینسوں سے باتیں کیا کرتے تھے پھر یہ کمرہ ”وہ“ کی بہن بینو نے لے لیا اور بینو کے لیے کمرہ بیڈروم، اسٹڈی روم، منی سنیما گھر سبھی کچھ تھا۔ اسے اس کمرے سے عشق ہوگیا اور پھر جب وہ جینیوا چلی گئی تو جب کبھی اس گھر میں آنا ہوتا تھا تو بھی وہ اسی کمرے میں ٹھہرا کرتی تھی۔
ویسے بینو کا یہ کمرہ واقعی کوئی طلسم رکھتا تھا اور طلسم بھی سب سے کٹ جانے اور گھنٹوں گھنٹوں وہاں بیٹھے رہنے کا۔ میں اور ”وہ“بھی پہروں ،پہروں اس کمرے میں بیٹھا کرتے تھے۔


”وہ“ میرے سامنے ایک کرسی پر بیٹھا تھا اور اس کے اور میرے درمیان ایک میز حائل تھی جس کو ہم دونوں اخبار کے لیے خبریں بنانے اور اپنی خواب کہانیوں کو لکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
”وہ“ ان دنوں میرے لیے آہستہ آہستہ فنتاسی میں بدلتا جاتا تھا اور یہ فنتاسی روز ایک نیا روپ دھارن کرکے میرے سامنے آجایا کرتی اور میں اس کے سحر میں ڈوبا جاتا تھا۔
”وہ“ سے پہلے میری اس کے اباّ سے دوستی تھی۔ ایک دن ہم اکٹھے بیٹھے تھے تو وہ کہنے لگے کہ میں ان کے بیٹے کو سمجھاؤں کہ گھر واپس آجائے اور بچوں کے ساتھ یہاں رہےاور میں ”وہ“ کو سمجھانے کی نیت سے ملتان چلا گیا۔
”وہ“ ان دنوں نقشبند کالونی کے اندر بہت الگ سے بنے ایک گھر میں رہ رہا تھا۔ جب میں گھر میں داخل ہوا تو ”وہ“ سر پر رومال لپیٹے ہوئے تھا۔ مجھے بتانے لگا کہ اس کو بخار ہے۔ایک طرف کیتلی میں گرم پانی تھا تو دوسری طرف اس کی کرسی کے پائے کے ساتھ وہسکی کی بوتل تھی۔ تھوڑی دیر میں گرم پانی کے ساتھ وہ وہسکی ملا کر پینے لگا۔ سخت سردی تھی مگر ماسکو کے سرد موسم کا عادی میں اس سردی کو انجوائے کررہا تھا۔ اس نے کافی کا ایک بڑا مگ میرے سامنے رکھا تھا جس سے چسکیاں لیتے ہوئے میں بات کرنے کے لیے تمہید باندھ رہا تھا۔ بیٹھے بیٹھے شام ہونے لگی۔ دن زوال پذیر ہوا تو سورج کی کرنیں بھی جھجھکنے لگیں اور سورج مغرب میں غروب ہونے کو تھا۔ ”وہ“ نے کیا باتیں کی تھیں مجھے یاد نہیں بس اتنا یاد ہے کہ مجھے یوں لگا کہ مجھے ”وہ“ سے کچھ نہیں کہنا چاہئیے۔ سو میں بنا کچھ کہے وہاں سے چلا آیا۔
پھر کافی عرصہ گزر گیا ”وہ“ سے کوئی ملاقات نہ ہوئی۔ اس کے اور میرے مشترکہ ملنے والوں سے اس کے سفر مسلسل کا پتاچلتا رہتا تھا۔ کبھی خبر آتی ”وہ“ لاہور ہے کبھی خبر آتی ”وہ“ اسلام آباد ہے اور کبھی پیرس ۔ پھر ایک دن وہ مجھے سول لائن کے قریب بنے ایک پان سگریٹ کے کھوکھے کے پاس مل گیا۔ بتایا کہ وہ اب دوبارہ یہاں آگیا ہے۔
کیوں آگیا؟ نہ میں نے پوچھا نہ ”وہ“ نے بتایا۔
سول لائن کے اس پرانے سے گھر میں ”وہ“ اور اس کی باقی بہنیں پیدا ہوئیں تھیں۔اس گھر میں ”وہ“ کی واپسی میرے لیے تعجب خیز تھی- مجھے تجسس تو تھا لیکن ہمارے درمیان ایک فاصلہ بدستور قائم و دائم تھا۔
”وہ“ واپس آکر کیا کررہا تھا؟ اس کی خبر مجھے ہمارا مشترکہ ملنے والا دیا کرتا تھا۔ ”وہ“ یہاں کیا کررہا تھا؟
کیا بتایا جائے۔ مگر جو کررہا تھا اس کے ”کرنے“سے پتا چلتا تھا کہ ”وہ“ خود کو نہ سمجھنے والوں سے انتقام لے رہا ہے جو اس کی زمین زادگی کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔پستی کو بلندی اور کمینگی کو حکمت خیال کرنے والوں کو اس نے یہ بتانے کی ٹھان لی تھی کہ ”حیلہء خواجگی“ اس کو خوب آتا ہے اور وہ ”ہوس زر“ کی کھال کو پہننے کو تیار نہیں تھا۔
”وہ“ جو تھا خود کو کھلونا بناکر پیش کرتا اور دوسروں کو چابی دینے والا مگر اس سارے کھیل کی ابجد تو اس نے سب سے مبغوض اور معتوب شخص کی کتاب ”کمیونسٹ مینی فیسٹو “پڑھ کر ہی سیکھ لی تھی۔ اب وہ معلم تھا، متعلم نہیں مگر اس سے ناواقف درمیانے طبقے کے معلق لوگ اپنی تنگ جیل میں اس کو مبتدی خیال کرتے تھے۔
ایک مرتبہ کسی نے مجھے کہا کہ ”وہ“ تو طفل مکتب ہے۔ میں اس کی خود فریبی پر دل ہی دل میں ہنس پڑا اور سوچتا رہا کہ کاش اس شام وہ میرے ساتھ نقشبند کالونی کے اس الگ تھلگ گھر میں باہر لان پر ”وہ“ کی آنکھوں میں چھپے جنون،بغاوت اور انارکی کو دیکھ لیتا۔
مجھے اب تک اس لمحے کی تلاش ہے جب ”وہ“ اور میں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہمیں روز سول لائن میں اس کے قدیمی گھر کے اس طلسمی کمرے میں اکٹھا ہونا چاہئیے۔ ہم اس گھر میں اکٹھا ہونے لگے اور طلسمی کمرے میں اپنا وقت بتانے لگے۔
بہت سے قصے اور کہانیاں تھیں ہمارے پاس ایک دوسرے کو سنانے کے لیے سو ”وہ“ بھی اور میں بھی ایک دوسرے کو خوب قصّے اور کہانیاں سناتے مگر ان کہانیوں اور قصّوں کا ہم حاشیائی کردار ہوتے۔ ہمارے قہقہے مصنوعی تھے۔ کہانی اور قصے نہ جانے کیوں میرے اور ’’وہ‘‘ کے گرد مرتکز نہ ہوپاتے اور کبھی کبھی جب ہم سارے کرداروں کو بالائے طاق رکھ ڈالنے کا سوچتے تو جانے کا وقت ہوجاتا تھا-
یہ سلسلہ جانے کب تک چلتا رہتا۔یوں ہوا کہ ایک شب جب میں، پشاور چرچ دھماکوں کے احتجاج کے سلسلے میں سول لائن کے سینٹ جوزف کتھولک چرج میں گیا تو وہاں ”وہ“ بھی آگیا اور ہماری ملاقات ایک کردار سے ہوئی جو اپنی آزادی کی تلاش میں ویسے ہی سرگرداں تھا جیسے کبھی ہم تھے۔ اس کردار نے آکر گویا ہماری تکون مکمل کرڈالی۔ اس تیسرے کردار کی درون ذات کو کھوجتے کھوجتے ”وہ“ ایک رات گویا ہوا اور مجھ کو اپنی ذات کا سراغ دینے پر آمادہ نظر آیا۔
کہانی انٹرکامیکس میں نوکری سے شروع ہوئی اور انٹرنیشنل ٹریڈنگ تک پہنچ گئی۔
”وہ“ جو ایک کاشتکار پنجابی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا جو ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ چلے آنے والے مشنری اداروں کی تبلیغ سے عیسائی ہوگیا تھا، اپنے بچپن میں گاؤں میں سود خور بنیوں کے آکٹوپس سے متنفر ہوکر ”زر پرستی “ کے خلاف ہوگیا تھا اب ایک کپڑے کی مل کی پروڈکٹس کو بین الاقوامی منڈی میں بیچنے کے لیے اپنی کمیونیکشن سکلز کو پوری طاقت سے بروئے کار لارہا تھا۔ اس دوران وہ مل کے گارڑز سے لیکر ڈائینگ ماسٹر اور ڈیزائینر تک سب محنت بیچنے والوں سے بھی ایکتا بنائے ہوئے تھا۔ اس کے اندر کا کرانتی کاری ”سرمایہ دار مل اونر“ کی دولت اور ورتھ میں اضافہ کرنے کے دوران بھی مرا نہیں تھا۔بغاوت اس کے پور پور میں رچی بسی ہوئی تھی۔ یہاں بھی اسی بغاوت نے اسے ایک کمپنی سے دوسری کمپنی میں جانے پر مجبور کئے رکھا اور وہ یہ سب اپنی فطرت کے خلاف کررہا تھا۔ پھر جب ایک کمپنی کے مل اونر نے اس کے واجبات ادا نہ کئے تو اس نے کمپنی کی گاڑی اپنے گھر لاکر کھڑی کردی۔کمپنی کے مالک نے علاقہ ایس ایچ او سے اس کو دبانا چاہا تو اس کے اندر کا صحافی دوبارہ بیدار ہوگیا۔ فرنٹیئر پوسٹ میں دوبارہ کرائم رپورٹر بھرتی ہوا۔ اپنا حق کمپنی سے وصول کیا اور علاقہ ایس ایچ او کو معطل کراڈالا پھر ”وہ“ کبھی دوسری طرف نہیں گیا اور دن رات بس خبر کے پیچھے بھاگنے لگا۔
اس رات ”وہ“ نے ساری کہانی مجھے سناتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ ایک دن اس کے بابا نے اسے فون کیا کہ آج انہوں نے سول لائن میں بنے گھر میں اوپر والے پورشن میں ایک عرصہ سے بند پڑے اس کے بیڈ روم کو کھولا اور سامنے الماری کے پٹ کھول کر اپنے پوتے، پوتیوں کی آوازوں کو تلاشنا چاہا تو ناکامی ہوئی اور بیڈ روم میں چھائی خاموشی نے ان کا دم گھونٹنا شروع کرڈالا۔
”وہ“ کہنے لگا کہ اس نے کوئی جواب دئے بغیر فون بند کرڈالا اور اپنا اور بچوں کا سامان سمیٹنا شروع کردیا اور پھر واپس سول لائن کے اسی قدیمی گھر میں چلا آیا اور اپنے باپ کو ان کے پوتوں اور پوتیوں کی آوازیں لوٹا دیں۔
اس کی آواز طلسمی روم میں پراسرار طور پر گونج رہی تھی۔
دوست! یہ کردار، ان کی زندگی کی جزئیات میرے دل و دماغ میں آکر ایسے بیٹھ جاتی ہیں کہ ان کو نکالنا میرے بس میں نہیں رہتا۔یہ مجھے اپنا معمول بناتی ہیں اور خود ہی فنتاسی میں ڈھلنے لگتی ہیں۔
”وہ“ مجھے جو بھی بیان کرتا مجھے ایک طویل کہانی لگتی جس میں وہ اپنے کردار کی مرکزیت کو چھوڑ کر حاشیے پر موجود کرداروں پر بہت بات کرتا تھا۔مشتاق چودھری، عابد علی شاہ، اس کی یونیورسٹی میں پڑھنے والی، ۔۔۔۔۔۔ مسعود سرور گوندل، عمران ظفر گیلانی، رؤف کلاسرہ اور ایک ترقی پسند پروفیسر کی بیٹی جو پسند کی شادی کرنے لگی تو اس کا باپ ایک دم رجعت پسند بن گیا اور اچانک اس کی کہانی میں در آنے والے جماعت کے غنڈے اور بار بار در آنے والا ۔۔۔۔۔ جو این ایس ایف سے سپاہ صحابہ پاکستان تک کا سفر کسی خلش کے بغیر کرگیا تھا اور پھر شہر کی قیام پاکستان کے بعد ابھرنے والی اشرافیہ کے گھرانے سے تعلق رکھنے والا شیعہ نواب مسرور احمد خان بختیاری، احمدی شیخ مشہود اور چپکے سے اس کے ساتھ ہوجانے والا عمران دھوُل جو اس کی محفل مئے ناؤ نوش چھوڑکر ایک ایس ایچ او کے ساتھ مملکت خداداد پاکستان کے ایک تھانے کو مئےکدہ میں بدل چکا تھا اور شہر کے پرانے گنجان آباد علاقے کو چھوڑ کر سول لائن میں آباد ہونے کا خواہاں تھا تاکہ سٹیٹس کو بلند کرڈالے اور اپنی ہونے والی بیوی کا ابّا جس کو اس نے اس وقت اپنی پسند بارے بتایا جب اگلے روز اس کے رشتے کی بات کسی اور سے پکی ہوجانے کا اندیشہ ہوچلا تھا۔ یہ سارے کردار اس طویل کہانی میں دھم سے چلے آتے تھے اور ایک کانسٹیبل افضال بھی اس کہانی میں سموجاتا تھا۔مجھے لگتا جیسے ”وہ“ کی کہانی میں ”میں “ بھی کہیں نہ کہیں فٹ ہوتا جارہا ہوں۔ ان تمام کرداروں کو بیان کرنے کے دوران مجھے اس کہانی میں اس کی بیوی جو اس کی محبوبہ بھی ہے ایک گیسٹ کریکٹر لگتی تھی اور ایسے میں جب کبھی گیتو جو اپنے آپ میں مست رہنے والا لڑکا تھا دروازہ کھول کر چائے کی ٹرے اٹھائے اندر داخل ہوتا تو وہ بھی حاشیئے سے بھی پرے کا کوئی کردار لگتا تھا۔
”وہ“ کی بیٹی طمانیت ایسا کردار تھی جو اپنی مرضی کا رول آپ چن لیتی تھی اور اس کو حاشئے پر رکھنا ”وہ“ کے بس کی بات نہ تھی- کبھی کبھی 77 سال کا ایک بوڑھا ہاتھ میں پائپ پکڑے،کاندھے پر شال لٹکائے سفید کھچڑی ہوتے بالوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتا تو مجھے لگتا کہ وہ ایسا کردار ہے جسے ”وہ“ اپنی کہانی میں کہیں رکھنا نہیں چاہتا مگر یہ کردار خود سے اس کہانی کا حصّہ بنا ہوا ہے مگر ایک بات تھی کہ ”وہ“ اپنے اندر اس بوڑھے کی تمام تر ایروگینس رکھتا تھا اور ”پدرم سلطان است “کا عملی مظاہرہ کرتا تھا۔ اس کمرے سے باہر کبھی کبھی ایک بہت دلکش،سوبر بوڑھی خاتون عصاء کے سہارے سے چلتی ہوئی آتیں اور ٹہلنے لگتی تھیں۔ مجھے وہ برگد کی طرح لگتی تھیں جس کی چھاؤں سے پھوٹنے والی ٹھنڈک اپنے من میں اترتی محسوس ہوتی تھی۔
”وہ“ کی مسلسل بيان ہونے والی کہانی میں ایک کردار جس کی تصویر اس کی میز کی دراز میں پڑی رہتی تھی اکثر آجاتا تھا۔مجھے تو اس کردار کی پرچھائیں اس گھر کے تمام درودیوار پر اپنا سایہ کئے لگتیں تھیں- بوڑھا آدمی اسے ”نروان“ کہہ کر بلاتا تھا۔ ”وہ“ مجھے نروان سے ملانے ایک ہسپتال کے ”کینسر وارڈ“ میں لے جاتا تھا۔
کیسی جنت ہے جہاں معصوم پری کو جانے کے لیے کینسر وارڈ سے گزرنا پڑا تھا۔ جنت کے لیے زمین پر جہنم کا نظارہ کرنا کیا لازم ہے؟
”وہ“ کہتا کہ ”نروان کا کینسر وارڈ سے موت کا سفر اور اسے بلاوہ کہنے والوں کی تاویلوں نے ”انکار“ کی منزل سے آشنا کیا اور پھر وہ ناانصافی کے خلاف احتجاج کرتے کرتے مسیح بے صلیب، کلیم بے تجلی تک واپس لے گیا جس کے بغل میں ڈاس کیپٹل تھی اور اس کو یہ کتاب فیری ٹیلز سے کہیں زیادہ ہوش ربا لگی تھی۔
”وہ“ کی اس مرتبہ جب سالگرہ آئی تو میں نے اس کو لکھا
”سرخ کامریڈ ”وہ“ کے نام جو ذات پات کے زندان کا قیدی ہے اور کالونیل و پوسٹ کالونیل کوڑے دان کو بطور سزا سرپر اٹھائے ہوئے ہے مگر اس کے باوجود غیرطبقاتی سماج کے خواب بھی بنتا ہے۔“
”وہ“ اپنی کہانی میں کب اپنے مرکزی کرداروں کی طرف پلٹے گا۔باطن کی تاریکیوں اور خارج کے سورج دیوتا کی داب سے کب دھرتی کو آزاد ہوتا دیکھے گا مجھے معلوم نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ ”وہ“ کبھی بھی اس جنگ سے دست بردار ہوکر، منطق کے ہتھیار پھینک کر، اندھے عقیدوں کے بھالے اٹھاکر پیران کلیسا کی امامت میں کروسیڈ لڑنے نہیں جانے والا۔جیسے میں ”سرخ شیعت“ سے مہاجنی شیعت کی طرف مراجعت نہیں کرنے والا کیونکہ میں نے بھی اپنے حسین کو ایک بار کربلا میں مقتول ہونے کے بعد وہاں پڑا رہنے نہیں دیا تھا میں اسے شریکۃ الحسین کی طرح اپنے ساتھ اٹھا کر ہر ایک کوفے، ہر ایک شام، ہر ایک مدینہ میں لئے پھرتا ہوں جیسے ”وہ“ اپنے مصلوب مسیح کو اپنے کاندھےپر لادھے یروشلم سے باہر قریہ قریہ لئے پھرتا ہے۔ ”وہ“ اور ”میں “ آج کل مصلوب و مقتول زندگی کو حیات نو بخشنے کا منتر ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔

